مسئلہ۲۰۰: از انبالہ چھاؤ نی صدر بازار محلہ پلیداران مرسلہ ننے خاں نبیت ۱۵رمضان المبارک ۱۳۳۶ھ
ایک شخص نے بخوشی چار آدمیوں کے سامنے اپنی عورت کو طلاق دی اب وہ کہتا ہے کہ میں نے نہیں دی۔ یہ طلاق ہوئی نہیں یانہیں؟
الجواب
اگرواقع میں تین طلاقیں دی ہیں عنداﷲعورت اُس پر حرام ہوگئی بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔
قال اﷲتعالٰی :
فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۲؎۔
مطلقہ ثلاثہ عورت خاوند کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرلے۔(ت)
(۲؎ القرآن ۲ /۲۳۰)
اور اس کا انکار اﷲعزّوجل کے یہاں کچھ نفع نہ دے گا ان گواہوں پر فرض ہے کہ گواہی دیں اگر اُن میں دومرد یا ایک مرد دو عورتیں ثقہ عادل شرعی ہوں طلاق ثابت ہوجائے گی اور اس کا انکار دُنیا میں بھی نہ سُنا جائے گا اور اگر ان میں ایسے گواہ نہ ہوں اور عورت کے سامنے طلاق نہ دی ہو تو عورت اس سے حلف لے اگر وہ حلف دے کہ میں نے طلاق نہ دی تو عورت اپنے آپ کو اس کی زوجہ سمجھے اگر اُس نے حلف اُٹھاجُھوٹا کیا تووبال اس پرہے اور اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملت تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے اگر چہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر، اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضیہو پھر وبال اس پر ہے،
لایکلّف اﷲنفسا الا وسعھا۱؎
(اﷲتعالی وسعت کے مطابق ہی کسی جان کو تکلیف دیتا ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۱: از گنج مراد آباد ضلع اوناؤ مرسلہ چیخ حرمت علی صاحب ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عرصہ قریب دوسا ل کہ ہوتا ہے کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے بارےمیں بکر اور عمر کو خط لکھے ہیں کہ میں ہندہ کو طلاق دی اُس کو اب اختیار حاصل ہے،ل اب زید آیا اور وُہ حلفیہ بیان کرتا ہے میں نے بکر اور عمر کو خط نہیں لکھے اور وُہ خط ہندہ کے پاس بکر نے رکھ دئے تھے اب گم ہوگئے اور اسی دریافت میں زید نے بکر سے کہا تم نے خود خواہش ظاہر کی تھی کہ ہندہ کو طلاق دو تب میں نے طلاقی نہیں دی ہندہ بھی اقرار کرتی ہے کہ زید سے بکر نے خواہش ظاہر کی تھی فقط، بینواتوجرواباحسن الثواب۔
الجواب
ایسے خطوط سے ثبوت طلاق دوامر پر موقوف یا تو شوہر اقرار کرے واقعی میں نے یہ خط لکھا تھا یا دو۲ مرد خواہ ایک مرد دو۲ثقہ شرعیہ دیں کہ ہمارے سامنے شوہر نے خط مذکور لکھا، اشباہ وغیرہا ہے:
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدار معنویا وثبت ذلک باقرارہ او بالبیّنۃ فکالخطاب۲؎۔
اگر خاوند نے تحریری طلاق کو طلاق نامہ کے انداز سے معنون کرکے ارسال گیااور اس کے اقرار یا گواہوں سے ثابت ہوجائے کہ طلاق دی ہے تو زبانی طلاق کی طرح نافذ ہوگی۔(ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکامالکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۹۸۔۵۹۷)
(ردالمحتار کتاب القاضی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۵۳)
پس صورتِ مستفسرہ اگر شہادت معتمدہ سے بروجہ کافی تحریر خط ثابت ہوتو الفاظ مذکورہ سوال ایک سے تین تک جتنے خطوں میں لکھنے کا ثبوت تا بقائے عدت ہو اسی قدر طلاقیں وقتِ تحریر سے پڑنے کا حکم دیا جائے گا مثلاً شہادت مقبولہ سے صرف ایک خط ایک ثبوت ہُوا تو جس وقت اُس نے یہ خط لکھا اُس وقت س ایک طلاق مانیں گے اور اگر ایک خط عمرو کے نام اور دوسرا عدّت کے اندر اُنہیں الفاظ یا اُن کے مثل سے بکر یا عمرو ہی کے نام لکھنا ثابت ہوتو دواور اگر اسی طرح کے تین یا زائد ایک ہی شخص خواہ متعدد اشخاص کے نام لکھے ثابت ہوں تو تین کہ الفاظ مذکورہ کہ صریح ہیں ان میں ہر شخص کو لکھنا ہر بارکا لکھنا جدا طلاق سمجھا جائیگا۔
لما نصواعلیہ من ان التاسیس خیر من التاکید وان الصریح یلحق غیرہ۔
کیونکہ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کلام سے نیافائدہ اخذکرنا پہلے ذکر شدہ فائدہ سے بہترہے اور یہ کہ صریح طلاق پہلی طلاق و لاحق ہوسکتی ہے۔(ت)
ہاں اگر بعض خطوط میں الفاظ مذکور اور باقی میں اس طرح کا مضمون مسطور ہوکہ میں فلاں کو ایسا لکھ چکا ہُوں یا میں نے پہلے ہی لکھ دیا ہے،
وامثال ذلک مما یتعین الاخبار عن ذاک السابق لایصلح للانشاء۔
اس کی مثل وُہ الفاظ جو پہلے خبر کے لئے متعین ہوں چکے تو وُہ الفاظ دوبارہ استعمال پر انشاء کی صلاحیت نہیں رکھتے۔(ت)
تو ان باقی خطوط کی تحریر اُسی طلاق سابق کا ذکر قرار پائے گی جُدا طلاق نہ ٹھہرے گی،
فی الھندیۃ عن الظہیریۃ لو طلقھا ثم قال لھا طلاق دادمت یقع اخری ولوقال طلاق دادہ است لایقع اخری،۱؎
ہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے اگر خاوند نے طلاق دینے کے بعدکہا تجھے میں نے طلاق دی، تو یہ دوسری طلاق شمار ہوگی، اور اگر کہا طلاق دی گئی ہے، تو یہ دوسری نہ ہوگی۔(ت)
اور اگر شہادت کافیہ نہ ہوتو ازانجا کہ زیدمنکرہے اصلاً ثبوت طلاق نہیں اگر چہ خطوط موجود اور اس کے خط سے بالکل مشابہ ہوتے کہ خط ملنا کوئی حجت شرعیہ نہیں،
لما صرحوا بہ فی عامۃ الکتب ان الخط یشبہ الخط فلایعبتر۲؎۔
کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ خط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے، جیسا کہ عام کتب میں ہے، لہذا خط کا اعتبار نہ ہوگا۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ باب ۲۳کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۸۱)
(الہندیہ باب ۲۳کتاب القاضی الی القاضی مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۳۹)
بکر وعمر کا بیان کہ ہمیں خط لکھے اگرچہ وُہ دونوں ثقہ عادل بھی ہون اگرچچ بکر پر اُس اظہار ِخواہش کے سبب اس امر میں کوئی اپنی غرض وتہمت بھی نہ ہو اصلاقابلِ التفات نہیں کہ کوئی کسی کو اسکے سامنے خط نہیں لکھا کرتا ڈاک میں آئے یا قاصد لایا بہر حال اُن کا یہ اظہار اسی مشابہت خط یا بیان ایلچی پر مبنی ہوگا اور یہ کوئی شہادت شرعیہ نہیں کما لایخفی علی ادنی خادم للفقہ وقد بیناہ فی رسالتنا الازکی الاھلال(جیسا کہ یہ بات علم کے ادنٰی خادم پر مخفی نہیں ہے اور اس کو ہم نے اپنے رسالہ ازکی الاھلال میں بیان کیا ہے۔ت) یہ جو کچھ گزرا دربارہ حکم قضا ہے یعنی جب تک اُن دوجوہ شہادت واقرار میں کسی وجہ سے ثبو ت نہ ہو حکمِ طلاق نہ دیا جائے گا، عورت کو حرام ہے کہ باوصت انکار شوہر ایسی مہمل خبر پر، اپنے آپ کو مطلّقہ سمجھ کر کوئی کاروائی آزادی کرے، مردوں کا حرام ہے کہ اسے مطلّقہ ٹھہرا کر قصدِ تزوّج کریں، مگر فی الواقع اگر زیداس انکر میں جھوٹا ہے تو اس کا حساب لینے والا خدا ہے عورت اس وبال سے پاک وجد ہے خدا سے ڈرے اور حق ظاہر کرے واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۲۰۲: مرسلہ حکیم حسین خاں از بریلی محلہ فراشی ٹولہ ۲۰رجب ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حامی شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے عرصہ ساڑھے تین سال سے رنڈی کے ساتھ نکاح کرلیا اور ہندہ قدیمہ زوجہ کو اذیّت و تکلیفر دیتا رہا حتی کہ ایک روز سال گزشتہ ۱۴مئی ۱۹۱۶ء کو بمواجہہ دو شخص عاقل وبالغ مسلم عمروبکر جو کہ اس کے قرابت دار ہیں زید نے ہندہ سے کہا کہ مجھے(۱) دو۲عورت کی استطاعت نہیں ، میں(۲)اپنے پسند سے رنڈی لے آیا اور تو(۳) میرے مطلب کی نہیں، میں(۴) تجھ کو رکھنا نہیں چاہتا ہوں، تجھ (۵) کو میں نے طلاق دی، تو(۶) میرے پاس سے چلی جا، تجھ (۷) کو اختیار اپنا ہے جو چاہ سوکر، مجھ(۸) کو اپنا اختیار ہے کہ میںنے رنڈی سے نکاح کرلیا اب زید طلاق سے انکار کرتا ہے اور نہ بلاتا ہے اور نہ آتا ہے اور نہ روٹی کپڑا دیتا ہے اور وُۃ دونوں شخص مقر ہیں اور زید کہتا ہے کہ میں ہندہ کو خوب دق کرونگا، اور ہندہ صبر وتحمل سے عاجز ہوکر نکاح ثانی کرنا چاہتی ہے پس بحکم شرع شریف طلاق ہوئی یا نہیں، اور الفاظ مذکور ہ سے کتنے طلاق واقع ہوئے اور ہندہ بعد عدّت نکاح ثانی کرسکتی ہے یانہیں، شمارِ عدّت کب سے ہوگا اور دین مہر کی مستحق ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
جاہلوں سے فتوٰی لینا حرام ہے، مخالفانِ دین کو طرف رجوع کرناسخت اشد حرام ہے، اس طلاق کو رجعی سمجھنا سخت جہالت ہ، اور عدّت اس وقت سے شروع نہ جاننا اگر یہ طلاق بحالت حیض ہوبلکہ جب یہ حیض ختم ہو اس کے بعد کا طُہر ختم ہو جدید حیض شروع ہو اس وقت سے عدّت کا آغاز لینا دوسری جہالت ہے
بلہ حکم شرعی یہ ہے کہ صورت مستفسرہ میں اگربیانِ مذکور صحیح ہے عورت پر دو۲ طلاقیں بائن پڑگئی،عورت سے نکل گئی، شوہر کو رجعت کا کچھ اختیار نہ رہا،
فان اللفظ الخامس طلاق صریح ولاسادس لکنہ یحتمل الردان توقف علی النیۃ حتی فی المذاکرۃ فالسابع لایحتملہ وقد صارت الحالۃ بالطلاق حالۃ المذاکرۃ فوقع بلانیۃ لان البائن یلحق الصریح ولکونہ بائنا عاد الاول ایضا مثلہ لاستحالۃ الرجعۃ بعد البینونۃ فطلقت تطلیقتین بائنتین۔
کیونکہ پانچوان لفظ صریح طلاق ہے اور چھٹا لفظ جواب کا احتمال رکھتا ہے اس لئے اس میں نیّت کی ضرورت ہے حتی کہ مذاکرہ طلاق میں نیت پر موقوف ہے، اور ساتواں لفظ رَد کا احتمال نہیں رکھتا پہلے طلاق کہنے کی بنا پر مذاکرہ طلاق ہوجانے کی وجہ سے یہ طلاق بھی بغیر نیّت واقع ہوگئی، کیونکہ یہ بائنہ طلاق ہے، اور بائنہ، رجعی طلاق کولاحق ہوجاتی ہے اور بائنہ پہلی کو بھی جیسی بنادیتی ہے اس لئے کہ بائنہ کے بعد رجوع ناممکن ہوجاتا ہے، لہذا مذکورہ سوال میں دو۲ بائنہ طلاقیں ہوگئی ہیں۔(ت)
عدّت اسی وقت سے لی جائیگی جب سے یہ طلاق دی اگر چہ حالتِ حیض میں دی ہوتمام احکامِ عدّت مثلاً عورت پر گھر سے باہر جانے کی حرمت وغیرہ اسی وقت ثابت ہوجائیں گی نہ یہ کہ حیض جدید کے بعد آغاز ہوں، ہاں صرف یہ حیض شمار میں نہ آئے گا بلکہ اس کے بعد تین حیض کامل درکار ہوں گے، جس وقت سے یہ طلاق پڑی عورت کا مہر واجب الادا ہوگیا۔ واﷲتعالٰی اعلم