Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
87 - 155
مسئلہ ۱۹۷: از شہر کہنہ ۱۲صفر ۱۳۲۱ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ کو جس کوعرصہ قریب تین سال کے ہوا طلاق دے دی، طلاق ہوجانے کا اقرار بکر نے زبانی عورت مطلّقہ اور نیز عورت مذکورہ کے بھائیوں کی زبانی سُنا ہے، اب بکر مذکور اپنا نکاح اس عورت سے کیا چاہتا ہے، لہذا شرع کا کیا حکم ہے؟بینواتوجروا

الجواب

سائل نے بیان کیا کہ عورت اور اس کے بھائی تین طلاقیں اُتنی مدّت سے ہونا بیان کرتے ہیں اور اب زید سال بھر غائب ہے اس صورت میں بکر کو چاہئے کہ اپنے دل کی طرف غور کرے، اگر عورت اور اس کے بھائیوں کا بیان دل پرجمتا ہو کہ یہ لوگ اس میں سچّے ہیں اور کوئی فریب نہیں کرتے تو بکر کو اختیار ہے کہ اس عورت سے نکاح کرلے جبکہ وہ اس طلاق کے بعد عدّت بھی گزرجانا بیان کرتی ہو یعنی طلاق کے وقت اگر حاملہ ہونا کہے جب تو ظاہر ہے کہ تین سال کے قریب زمانہ گزرا ضرور وضعِ حمل ہوکر عدّت، گزرگئی، اور اگر حمل نہ تھا تو عورت یہ بیان کرے کہ طلاق کے بعد اسے حیض تین بار شروع ہوکر ختم ہوچکا ہے، اور اگر بکرکے دل پر اُن کا سچ نہ جمے فریب معلوم ہوتا ہوتوہرگز نکاح نہ کرے،
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ لوان امراۃ قالت لرجل ان زوجی طلقنی ثلثا وانقضت عدتی فان کانت عدلۃ وسعہ ان یتزوجھا وان کانت فاسقۃ تحری وعمل بما وقع تحریہ علیہ۱؎۔
ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے، اگر ایک عورت نے کسی مرد کو کہا کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں اور عدّت بھی گزرچکی ہے، تو اگر عورت عادلہ ہے تو اس شخص کو اس پر اس عورت سے نکاح کرناجائز ہے ،اور اگر وُہ عورت فاسقہ ہے  تو پھر وُہ شخص غورفکر کرے اور غوروفکر کے نتیجہ پر عمل کرے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثانی فی العمل بخبرالواحد فی المعاملات     نورانی کتب خانہ پشاور     ۵ /۳۱۳)

اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ آج کل عادل شخص کا ملنا دشوار ہے ورنہ اگر عورت عادلہ ہو تواس کا صرف اتنا بیان ہی کہ مجھے طلاق ہوگئی اور عدّت گزرگئی جواز کے لئے کافی ہے واﷲتعالٰی  اعلم۔ 

مسئلہ ۱۹۸: قاضی عبدالغنی صاحب از ڈیڈوانہ مارواڑ محلہ قاضیخان 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور بسبب دلی رنجش کے بہ رُوبرو دوتین شخص کے حرفِ طلاق مکررسہ کرر زبان پر لایا، ہندہ کے پاس ایک طفلِ شیر خوار تھا اس وجہ سے اُس نے اس کی پرورش کی درخواست کی جس کا زید نے اقرار کیا کہ ۴/ماہوار دودھ خرچ کے دیا کرے گا، چند عرصہ کے بعد ہندہ طالب مہروز ہوئی، اب زید نے دیکھا کہ روپیہ ہاتھ سے جاتا ہے انکاری ہوگیا کہ میں نے طلاق نہیں دی اس غرض سے کہ ہندہ نہ تو کسی دوسرے سے نکاح کرسکے گی اور نہ گھر سے خرچ ہوگا۔ اب امر دریافت طلب یہ ہے کہ آیا یہ طلاق جائز ہے یا نہ جائز ، طلاق کن کن امور سے ہوتی ہے کیا ہندہ مستحق پرورش خرچ مہر ہے؟

الجواب

طلاق کے مسئلے ایسے گول لکھنے کے نہیں ہوتے ،حرف طلاق مکرر سہ کرر زبان پر لایا اس سے کیا معلوم ہُوا کہ اس نے کیا الفاظ کہے حرف طلاق لاکھ بار زبان پر لانے سے بھی طلاق نہیں ہوتی اور ایک ہی بار کہنے سے ہوجاتی ہے، اس کے پُورے الفاظ لکھے جائیں جن پر اصلاً کم وبیش تغیر نہ ہو اور یہ بھی کہ اس کے گواہ کون کون لوگ ہیں کہ اُس نے یہ لفظ کہے ۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۱۹۹:  ازٹانڈہ ضلع فیض آباد مسئولہ حکیم سیّد حاضر علی ۸شوال ۱۳۳۹ھ 

رہبر شریعت وطریقت جناب مولانااحمد رضاخاں صاحب،السلام علیکم!ایک شخص سلیمان نےکئی آدمیوں کےسامنے طلاق دے کر طلاق پر انگھوٹھے کانشان ثبت کردیا۔ اس طلاق نامہ کے وصول پر مسمّاۃ صغرٰی  بی بی بالغ کے باپ نے اس کاعقد چھ ماہ ہوا ایک متمول خوبصورت شخص سے کردیا اب سلیمان چند مفسدوں کے بہکانے سے کہتا ہے میں نے طلاق نہیں دیا ہے، مفسدوں کا منشا ہے کہ شوہر ثانی سے ناجائز طور پر کثیر رقم وصول ہو۔ نقل طلاق نامہ یہ ہے: ''۱۲/ماہ جمادی الثانی ۱۳۳۸ہجری بروز شنبہ منکہ سلیمان بن عبدالرزاق حافظ، رُوبرو پنچوں کے لکھوادیا ہوں کہ میری طبیعت خراب رہتی ہے میرے سر پر گرمی چڑھتی ہے تو تین تین چار چار روز ہوش نہیں رہتا اس وقت طبیعت بہت ٹھیک ہے اس لئے میں چار گواہی دے کرکے میری منکوحہ مسمّاۃ صغرٰی  بنت حیدر اس کو تین طلاق دے کر اپنے نکاح سے دور کردیا اگر مجھ کو کوئی دیوانہ گردانے تو واقعی دیوانہ ہوں لیکن اس وقت دیوانہ نہیں ہُوں اور مسمّاۃ مذکور کی جانب سے ولی محمد ابن امام الدین مختار ہو کر مہر وعدّت معاف کردیاجب میں طلاق دیا ہوں''۔ 

ٹکٹ۱۔(نشان انگوٹھا سلیمان ولد عبدالرزاق حافظ)

الجواب

صورت مستفسرہ میں اگر سلیمان کو اس تحریر کا اقرار ہے یا گواہان عادل سے ثابت ہے تو بیشک صغرٰی  پر تین طلاقیں ہوگئیں اس کا نکاح اگر عدّت گزرنے کے بعد دوسرے شخص سے کیا گیا تو وہ نکاح صحیح ہےاور اگر عدّت کے اندر کردیا کہ سوال میں انقضائے عدّت کا کوئی ذکر نہیں اور طلاق نامہ میں عدت کا معاف کرنا جاہلانہ لکھا ہے تو یہ دوسرا نکاح بھی باطل ہوا مگر سلیمان کو اب بھی صغرٰی  پر کوئی دعوٰی  نہیں پہنچتا نہ وہ صغرٰی  سے نکاح کرسکتا ہے کہ اس نکاح ثانی کے باطل ہونے کے سبب حلالہ صحیح نہ ہوا۔ 

درمختار میں ہے :
لاینکح مطلقۃ بالثلاث حتی یطأھا غیرہ بنکاح نافذ خرج الفاسد والموقوف۱؎۔ (ملخصاً) واﷲتعالٰی اعلم۔

تین طلاقوں سے مطلقہ عورت سے دوبارہ اس وقت تک نکاح نہیں ہوسکتا جب تک دوسرا خاوند صحیح اورنافذ نکاح کے ساتھ اس عورت سے جماع نہ کرلے، صحیح اور نافذ نکاح کی قید سے نکاح فاسد اور نکاح موقوف خارج ہوگیا(ملخصاً) واﷲتعالٰی  اعلم(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الرجعۃ         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۴۰)
Flag Counter