Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
86 - 155
مسئلہ۱۹۲: ازامریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ مظفر علی خاں۳محرم ۱۳۳۶ھ 

زید نے اپنی منکوحہ محمودہ کے حق میں مضمون طلاق مندرجہ ذیل بہ شہادت دوشخصوں کے تحریر کردیا طلاق بائنہ ہوئی یارجعی

مضمونِ طلاق

میں نے محمودہ منکوحہ کو طلاق دے دی اور چھوڑدیا اور مجھ کو اب اس سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور زبان سے تین بار طلاق ادا نہیں کیا صرف کاغذ پر تحریر کردی۔

الجواب

صورتِ مذکورہ میں زید سخت گنہگار ہوا، عورت اس کے نکاح سے نکل گئی، اس پر تین طلاقیں ہوگئیں، اب بے حلالہ اس سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، زبان سے کچھ کہنا ضرور نہیں تحریر کافی ہے جبکہ بلاوجہ واکراہ شرعی ہو جیسا کہ یہاں ہوا، اشباہ میں ہے : الکتاب کالخطاب۱؎(تحریر، خطاب کی طرح ہے۔ت) لفظ اوّل ودوم دونوں صریح طلاق ہیں اور تیسرا لفظ اگر چہ کنایہ تھا مگر تقدمِ طلاق نے اسے بھی طلاق کےلئے معین کردیا،
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث احکام الکتابۃ         ادارۃ القرآن کراچی     ۲ /۱۹۶۔۵۹۷)
ردالمحتار میں ہے :
دلالۃ الحال المراد بھا الحالۃ الظاہرۃ المفیدۃ للمقصود،ومنھا تقدم ذکر الطلاق بحر عن المحیط۱؎۔
دلالت حال سے مراد، وُہ حالت جو ظاہر طور پر مقصود کو مفید ہو۔ اس کی ایک صورت، پہلے طلاق کا ذکر ہونا ہے، محیط سے منقول بحر میں ۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار      باب ا لکنایات     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۶۳)
اسی میں ہے : فی النھر دلالۃ الحال تعم دلالۃ المقال فتفسرالمذاکرۃبسؤال الطلاق او تقدیم الایقاع کما فی اعتدی ثلاثا ۲؎۔
نہر میں ہے کہ دلالتِ حال، دلالتِ قول کو شامل ہے، لہذا اس کی تفسیر یُوں درست ہے کہ طلاق کے مطالبہ کے طور مذاکرہ، یا پہلے طلاق واقع کرنا، مثلاً عدّت پوری کر  تین کی۔(ت)اسی طرح اور مواقع میں ہے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔
 (۲؎ ردالمحتار     باب ا لکنایات     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۶۳)
مسئلہ ۱۹۳: از شاہ گڈھ ڈاکخانہ شب نگر     ضلع پیلی بھیت مرسلہ عبدالرحمٰن صاحب ۱۲رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہمیں کہ زید بیوہ مسمّاۃ ہندہ سے بدیں شرط انکار کیا کہ وُہ اپنے ناجائز متعلق سے قطع تعلق کرلے، اس نے منظور کیااور نکاح ہوگیا، ہندہ مذکور نے گواس ناجائز متعلق سے قطع تعلق کرلیا لیکن زید نے اس سے گفتگو کرتے دیکھ لیا اور غصّہ میں زید نے ایک لکھے پڑھے شخص سے کہا کہ تم مضمون لکھ دو جس سے میں ہندہ سے دست بردار ہوجاؤں اور وہ تحریر بذریعہ رجسٹری مسمّاۃ کے پاس بھیج دوں۔ یہ وہ الفاظ بعینہٖ تھے جوادا کئے گئے تھے، لکھے پڑھے شخص نے ایک تحریر لکھی جس میںہندہ کو تحریر کیا کہ تم نے شرط پوری نہیں کی لہذاتم میری نہیں رہیں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں، اب مسمّاۃ ہندہ کہتی ہے کہ گو میں نے شخص متعلق سے تمہاری مرضی کے خلاف گفتگو کی ہے لیکن اب کوئی واسطہ نہیں ہے نہ اب گفتگو کروں۔ چونکہ زید کو طلاق رجعی یابائن کا کچھ علم نہیں تھا لیکن زید کے ذہن میںقطعاً قطع تعلق نکاح نہ تھازید نے مضمونِ طلاق سُن لیا تھا اب مسمّاۃ پشیمانی کے ساتھ طالبِ معافی ہے اور زیدبھی چاہتا ہے کہ مسمّاۃ ہندہ مذکور میرے نکاح میں رہے۔ واضح رائے عالی ہو کہ مسمّاۃ ہندہ کو شخص متعلق سے گفتگو کرتے دیکھ کر اس کے دوسرے تیسرے دن تحریر رجسٹری طلاق کی بھیجی تھی اور جس روز تحریری طلاق بھیجی اسی روز ہندہ اور زید میں گفتگو ہوکر خواہشمند بقائے نکاح ہوئے ہیں کہ نکاح رہا یانہیں؟

الجواب

اس نے اس کی درخواست سے لکھا اور اس نے لکھنے کے بعد سُن بھی لیا اور عورت کو بھیج دیا عورت پر تین طلاقیں ہوگئیں، اب بے حلالہ اُس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ ذہن میں ہونے نہ ہونے وغیرہ کے عذر بیکار ہیں۔
قال اﷲ تعالٰی : فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر تیسری طلاق دے دے تو اس کے بعد عورت حلال نہ ہوگی تا وقتیکہ وُہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ واﷲتعالٰی  اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن ۲ /۲۳۰)
مسئلہ۱۹۴: ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ عطاء اﷲخاں سوداگر جفت ۱۵صفر ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی زوجہ سے عرصہ سے ناراض ہے اس کو زوجہ کی جانب بدگمانی ہے وُہ عرصہ سے اس سے تقریر وتحریری ذرائع سے واقعات کو دریافت کررہا ہے اب اس نے ایک خط اپنی زوجہ کے نام پردیس تقریری وتحریری ذرائع سے واقعات کودریافت کررہا ہے اب اس نے ایک خط اپنی زوجہ کے نام پردیس سے تحریر کیا ہے جس کی عبارت طول طویل ہے اس میں سے بقدر ضرورت عبارت ذیل میں نقل کی جاتی ہے، یہ ثابت ہے کہ یہ خط زید کا ہے کیونکہ وُہ اپنے والد کو لکھتا ہے کہ میرے لڑکے کو اور میرے سامان کو زوجہ سے لے لو اور زید اپنے سالے کو بھی لکھتا ہے کہ تم میرے والد کو میرا سامان دے دو اور اپنی ہمشیرہ کے جہیز کا سامان پانی ہمشیرہ کو دے دو اور میرے لڑکے کو بھی والد کو دے دو ، اسی خط اور بہت سی بیہودہ باتیں اپنی زوجہ کے متعلق تحریر کی ہیں اور کوئی اجنبی شخص ان کو نہیں لکھ سکتا اور زید کی بہت سے تحریریں انہیں قرائن کو ظاہر کرتی ہیں، زید کے خط کی عبارت یہ ہے: ''تونے جس قدر جُھوٹ سے کام لیا تیرے دل کو معلوم ہے مگر تونے اب بھی پوشیدہ حال رکھا ہے اب میں اپنے دل سے طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہُوں طلاق دیتاہوں اگر کوئی بات پوشیدہ رکھی، میں اس وجہ سے وہاں سے چُپ ہوکر چلا آیا ہُوں کہ تُوڈر کے مارے نہیں بتاتی۔'' دریافت طلب امر یہ ہوا کہ زید نے جو یہ کلمات اپنے خط میں لکھے ہیں کیا اس کی زوجہ مطلّقہ ہوگئی یا نہیں اگرچہ اس کی زوجہ نے کوئی راز پوشیدہ ہی رکھا ہو یا نہ رکھا ہو۔

الجواب

ثبوت خط کے لئے اُس کا اقرار ہو یا گواہانِ عادل کی شہادت، اگر وُہ انکار کرے اور گواہ نہ ہوں تومجرد خط ملنے یا اُن قرائن سے ثبوت نہیں ہوسکتا، علماء نے فرمایا ہے : لایعمل بالخط(خط پر عمل نہ کیاجائے گا ۔ت) اورفرمایا ہے :

الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم۱؎۔

خط دوسرے خط اور مُہر دوسری مُہر کے مشابہ ہوتی ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     باب ۲۳کتاب القاضی الی القاضی     نورانی کتب خانہ پشاور     ۳ /۳۸۱)
پھر وُہ لفظ کہ اس نے لکھے ہیں محتمل ہیں کہ پوشیدہ رکھی بیائے معروف یا بیائے مجہول، اگر عورت کو وثوق ہے کہ یہ خط اسی کا ہے تو جب تک وُہ انکار نہ کرے اس پر کاربندی کرسکتی ہے، اگر یائے معروف ہے تو تین طلاقیں سمجھ سکتی ہے اگر کوئی بات پوشیدہ رکھی تھی، اور یائے مجہول ہے تو اب تین طلاقیں سمجھ سکتی ہے اگر کوئی بات اس خط کے بعد پوشیدہ کرے لیکن اگر وُہ اس خط سے منکر ہوتو عورت کو بے شہادت عادلہ بالائی وثوق کام نہ دے گا۔ 

مسئلہ۱۹۵: ازمحمود آباد ضلع سیتاپور     مرسلہ مولوی محمد اسمٰعیل صاحب سُنی حنفی محمود آباوی ۱۶ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ 

حضرات علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کیا حکم فرماتے ہیں کہ زید نے ایک دن غصّہ میں اپنی منکوحہ عورت کے واسطے فار غ خطی تحریر کیااور لکھا کہ میں نے طلاقیں دیں مگر زبان سے کچھ نہیں کہا اور نہ عورت نہ کسی اوراس کو بابت کچھ معلوم ہوا محض لکھ کراپنے پاس رکھ لیا مگر عورت نے کسی طرح معلوم کرلیا لہذا ایسی صورت میں کیا حکم  ہے؟

الجواب

اگر فارغ خطی باضابطہ لکھی تھی کہ میں فلاں بن فلاں ساکن فلاں مَیں نے اپنی زوجہ فلاں کو تین طلاقیں دیں جیسا کہ لفظ فارغ خطی سے بھی ظاہر ہے۔ فارغ خطی باضابطہ کاغذ ہی کوکہتے ہیں تو بلاشبہ تین طلاقیں ہوگئیں،عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی عورت کو یا کسی کو خبر نہ ہونا شرطِ طلاق نہیں۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۱۹۶: از شہر محلہ کوہاڑاپیر    مسئولہ قمرالدین صاحب     ۲۰محرم ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک عقد نکاح کیا ہند کے ساتھ، مگربعدہ، حسب شرائط ذیل بوجوہ خانگی ومصالح خاندانی تجویز طلاق قرار پائی اور طلاقنامہ لکھا گیا مگرحسب اندراج دستاویز مذکور کلمات شرعیہ کہ طلاق دی طلاق دی طلاقی دی اور جلسہ عالم میں طلقت کہاوقوع میں نہیں آئی بلکہ سرپرستِ منکوحہ نے حکمتِ عملی سے زبرستی دستاویز حاصل کرلیا اور اس نے اس کو روک لیانیز مخفی نہ رہےکہ بعد ہنوز رخصتی کےرسم عمل میں نہیں آئی ہے، آیا بعد ملاحظہ بالاولحاظ شرائط تحت طلاق جائز ہے یاواقعی عمل میں بموجب شرع شریف نہیں آئی۔ 

شرائط جو عمل میں نہیں آئیں 

(۱) کھنڈوہ طلائی وزنی ۰۴ تولہ بوقتِ عقد منجانب ناکح چڑھائے گئے تھے واپس ہوں گی اور نیز مبلغ معہ / روپیہ لڑکی والا بابت خرچ ناکح کو ادا کرے گا۔

(۲) کل پارچہ پوشیدہ لڑکی والاناکح کو واپس کرے گا جو کہ بوقتِ عقد چڑھایا تھا۔

(۳) شرائط نمبر۱و۲کی تکمیل منجانب لڑکی والے کے ہونے کے بعد ناکح بروئے دستاویز مذکورہ طلاق دے گا جلسہ عام میں اس کا اعلان کرے گا۔

(۴) شرط نمبر۳ کی تکمیل کے ساتھ معافی مہر منجانب منکوحہ لازم تھی۔

الجواب

ایسے معاہدوں میں معرف یہ ہے کہ دستاویز کا لکھنا معاہدے کی تمہید ہوتا ہے نہ کہ تنفیذ۔ تنفیذ اُنہیں شرائط پرمشروط ہوتی ہے جو معاہدے قرار پائے، تو یہاں اگر چہ لفظاً تعلیق ہو عرفاً تعلیق ہوتی ہے والمشروط عرفاً کالمشروط لفظاً(عرف میں مشروط چیز، لفظوں میں مـذکور مشروط کی طرح ہے۔ت)

ولہذااگر شوہر عورت سے کہے کہ تو مہر معاف کردے تو میںتجھے طلاق دے دُوں گا، عورت نے کہا میں نے اپنا مہر معاف کیا، شوہر نے طلاق نہ دی، مہر معاف نہ ہوا کہ اگرچہ اس نے بلاشرط الفاظ معافی کہے، لفظوں، میں کوئی شرط نہ تھی مگر معنیً شرط موجود تھی اور وُہ نہ پائی گئی لہذامعافی نہ ہوئی، اسی طرح یہاں طلاق معنیً اُن شرائط سے مشروط ہے اور وُہ نہ پائی گئی لہذا طلاق نہ ہوئی، 

عالمگیریہ میں ہے :

 امرأۃ قالت لزوجھا کابین تُرابخشیدم چنگ ازمن بداران لم یطلقھالمیبرأعن المھر کذافی الظہیریۃ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔

بیوی نے خاوند کو کہا میں تجھے مہر بخشتی ہوں تو مجھے پر سے قبضہ ختم کردے یعنی طلاق دے دے، اگرخاوند نے طلاق نہ دی تو مہر معاف نہ ہوگاظہیریہ میں اسی طرح ہے۔واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     فصل الخلع بالفارسیہ     نولکشورلکھنؤ     ۱ /۲۵۸)
Flag Counter