| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۹۰: از پیلی بھیت محلہ محمد واصل مرسلہ خلیق احمد صاحب ۳ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مہلک مریض نے اپنیہ زوجہ کی نافرمانی کے سبب جو اس کی زوجہ نے اپنی ماں کے اشتعال کی وجہ سے اپنے زوج کو تکلیف دی اور ہر قسم کی خبرگیری شوہر سے حسب ذیل تحریر کے ذریعہ سے طلاق لکھ بھیجی، مسمّاۃ فلاں بنت فلاں کو واضح ہو کہ تم نے اپنی ماں کو اشتعال کے باعث جو کچھ میرے ساتھ برتاؤ کیا اور اسباب متفرق معہ بکس محمولہ پارچہ وغیرہ میرا رکھ لیا بہت اچھا کیا یہ ایک عمدہ طریقہ حصولِ مالیّت کا ہے اس طور سے بہت کچھ جمع ہوسکتا ہے اس وجہ سے تم میرے لائق نہیں ہو، لہذا میں تم کو طلاق دیتا ہوں، مسمّاۃ فلاں بنت فلاں جومیرے نکاح میں تھی آج کی تاریخ میں نے طلاق دی، مسمّاۃ فلاں بنت فلاں جو میرے نکاح میں تھی آج کی تاریخ میں نے اس کوطلاق دی، مسماۃ فلاں بنت فلاں جومیرے نکاح میں تھی آج کی تاریخ میں نے اس کو طلاق دی۔ عورت کے بھائی کے نام کارڈ کا پتہ اس طور سے لکھا تھا جو ناخواندہ ہے بمقام فلاں محلہ فلاں پاس فلاں پہنچ کر مسمّاۃ فلاں بنت فلاں کوملے۔ اب چونکہ شوہر کئی ماہ بعد صحت یاب ہوالوگ طرفین پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طور طلاق نہیں ہوئی اگر تحریر پوسٹ کارڈ کسی دوسرے کے نام جاتی جواس کام کے واسطے مقررکیا جاتا اس کو لکھا جاتا کہ تم میری طرف سے بطور وکیل دے دو تب طلاق ہوجاتی، دوسرے یہ کہ وہ عورت حاملہ تھی کسی صورت میں بھی طلاق نہیں ہوئی، لہذا آنجناب فیض مآب کو ا طلاع دی جاتی ہے کہ اس بارہ میں جو حکم شرع شریف ہو بدلائل اس سے سائل کو جلد مطلع فرمائیے۔ الجواب شخص مذکور تین طلاقیں ایک ساتھ دینے سے گنہگار ہوا اور عورت پر تین طلاقیں پڑگئی وُہ نکاح سے نکل گئی، اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا، عورت کا حاملہ ہونا یا کسی کو طلاق دینے کا وکیل نہ کرنا کچھ منافی طلاق نہیں، یہ محض جاہلانہ خیال ہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱ : ازبھموری ڈاک خانہ بھیکم پور ضلع علی گڑھ مرسلہ عبدالرزاق صاحب ۲۳جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ زید نے بذریعہ خطوط اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پہلا خط جو کہ اپنے خسر کو لکھا یہ ہے کہ میں اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہتا ہوں، مگر آپ کی رائے کامنتظر ہوں، امید کہ مجھ کو اظہار خیالات کی جازت دی جائے گی مگر خسرنے جواب نہیں دیا، اس پر دوسرے خط میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نے اپنے اظہارِ خیالات کی اجازت چاہی تھی مگر قبلہ نے سکوت اختیار فرمایا اب میں جرأت کرتا ہوں کہ میری شادی آپ کی لڑکی سے محض والد صاحب کی خواہش تھی مجھ کو منظور نہ تھی ورنہ مجھ کو آپ کی صاحبزادی سے کسی قسم کا تعلق رہا اور نہ آئندہ رکھنا چاہتا ہوں آج کی تاریخ سے آپ کی لڑکی کو طلاق طلاق طلاق دیتاہوں آپ جانیں والد صاحب جانیں۔ اب اُس خط سے جس میں طلاق ہے اول میں انکار تھا اظہار جرأت والے خط میں اقرار تھا اس کے تین سال بعد زید کا خسر زید کے پاس گیا اور کہا میری لڑکی کے ساتھ تمہارا کیا ارادہ ہے، اس نے کہا میرا کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ میرے ساتھ سرائے تک چلو تاکہ تمہارے بیان کا سرائے میں کوئی گواہ بھی ہوجائے، چنانچہ وُہ سرائے میں آیا اور دو۲ آدمیوں کے سامنے جن کا نام مرزا محمد صدیق بیگ ساکن خورجہ ضلع بلند شہر اور دوسرے کانام حافظ فخرالدین ساکن آنوامحلہ پٹھان، چنانچہ دونوں گواہوں کے بیانات ایک عالم محمد عبدالرشید سہسوانی ہیڈ مولوی گورنمنٹ ہائی اسکول فرخ آباد کے سامنے بیان ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے یعنی زید نے کہ پہلے خطوط میں بھی اپنی بی بی کو طلاق دے چکا ہوں، اوراب بھی طلاق مکررسہ کردیتا ہوں، چنانچہ وہ دونوں خطوں کی نقل اور تینوں کاغذات کی نقل دوکاغذ بیانات گواہ اور ایک کاغذ مولوی عبدالرشیدصاحب موصوف کے ہمرشتہ سوال یہ ہے کہ اس صورتِ بالا میں زید کی بی بی کو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟اگر ہوئی ہے تو عدّت خطوظ کے وقت سے شروع ہوگی یا گواہی دینے گواہان مذکور سے؟ نقل خط اوّل قبلہ وکعبہ مدظلہ، تسلیم بصد تعظیم، عرصہ سے خیریت دریافت نہیں ہوئی تردد ہے، امید کہ مطلع فرمایا جاؤں، نیاز مندکسی قدر اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہتا ہے جو میری دانست میں ضروری ہیں لیکن بلااستخراج رائے جرأت نہیں کرسکتا،مجھے امید ہے کہ آپ میری اس قسم کی گزارش کو ضرور منظور فرمائیں گے جس کی شاہدات میری نظروں میں نہایت خوش آیند ودلفریب ہیں، زیادہ نیاز۔ احقر ازلی سیّد عابد علی۔ خط دوم بعدکا قبلہ نعمت و کعبہ کرامت مدظلہ العالی تسلیم بعد تکریم، نیاز مند قبل اس کے اظہار خیالات اپنے کی اجازت چاہی، قبلہ نے سکوت اختیار فرمایا، نیاز مند خاموش ہورہا، اب جرأت کرتا ہوں عرض کرنے کی، جس کو جناب منظور فرمائیں گے۔میری شادی جناب کی دختر کے ساتھ ہوئی محض والد صاحب کی خواہش تھی مجھ کو منظور نہ تھی، نہ مجھ کو آپ کی صاحبزادی سے کسی قسم کا تعلق رہا اور نہ آئندہ رکھنا چاہتاہوں، بموجب شرع کے آپ کی لڑکی کو آج کی تاریخ سے طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں،آپ جانیں والدصاحب جانیں ۔ بیان مرزا صدیق بیگ گواہ جن کے سامنے عابد علی نے پانی زوجہ کو طلاق دینے اقرار کیا ۔ عابد علی نے ہمارے سامنے عبدالرزاق سے سرائے بلہور میں یُوں کہا کہمیں نے تمہاری لڑکی کو ایک عرصلہ گزرا کہ بذریعہ تحریرکے طلاق دے چکاہوں تم اسی میری تحریر پر عملدرآمد کرو اور مکرر سہ کررکہتا ہوں کہ میں نے طلاق دی طلاق دی طلاق دی اور یہ لوگ مسافر مسلمان ہیں ان کے سامنے کہتا ہوں یہ لوگ شرعی گواہ ہوچکے ہیں، یہ اشارہ اُن کا ہم مسافروں کی طرف تھا۔ بقلم مرزا صدیق بیگ ساکن خورجہ ضلع بلند شہر مہر بیان حافظ فخرالدین ولد حافظ قیام الدین صاحب ساکن قصبہ آنولہ محلہ پٹھاناں عابد علی نے ہمارے سامنے عبدالرزاق صاحب سے سرائے بلہور میں یُوں کہا کہ میں نے تمہاری لڑکی کو ایک عرصلہ گزرا بذریعہ اپنی تحریر کارڈ رجسٹری کے طلاق شرعی دے چکا ہوں تم اسی میری تحریر پر عملدر آمد کرواور اب مررسہ کررکہتا ہوں کہ میں نے طلاق دی طلاق دی طلاق دی، اور یہ لوگ مسافر مسلمان ہیں ان سے کہتا ہوں یہ لوگ شرعی گواہ ہوچکے ہیں، یہ اشارہ ہم مسافران کی طرف تھا۔ العبد حافظ فخرالدین ولد حافظ قیام الدین ساکن آنولہ محلہ پٹھاناں بقلم خود مہر
12_1.jpg
آج تاریخ دو جولائی ۱۹۱۷ء مطابق ۱۱رمضان المبارک ۱۳۳۵ھ
سیّد عبدالرزاق صاحب سکنہ بھموری میرے یہاں تشریف لائے اور تین صاحب اور اُن کے ہمراہ تھے، سید عبدالرزاق صاحب نے میر عابد اپنے داماد کا اُن کی لڑکی کو بذریعہ رجسٹرڈ تحریر موجودہ کے طلاق دینا اُن تینوں ہمراہیوں میں سے دو۲صاحبوں کو میر عابد علی مذکور کے طلاق مذکور کے اقرار زبانی کا گواہ بیان کیا۔ گواہان مذکور الصدر نے میرے زبانی طلاق بدستخط اپنے اپنے بیان تحریر کئے رجسٹر تحریر موجود کا خود میر عابد علی کی تحریر ہونا اور نیز زبانی طلاق مکررسہ کردینا بخوبی ثابت ہے، بیانات مذکور ہمرشتہ تحریر ہذا ہے۔
الراقم خادم الاطباوالعلماء ابو محمد عبدالرشید ظہور الاسلام سہسوانی ہیڈمولوی گورنمنٹ ہائی اسکول فرخ آباد۔
مہر ودستخظ سے آج تاریخ ۲ جولائی ۱۹۱۷ء کوروانہ کیا گیا۔
فہرست اوراق {تحریر راقم ایک، بیان مرزا صدیق بیگ ایک،بیان حافظ فخرالدین صاحب ایک}کُل تین اوراق۔الجواب کوئی تحریر بے شہادت یا اقرار کاتب مسلّم نہین ہوسکتی اگرچہ خط اسی کا معلوم ہوتا ہو،علماء فرماتے ہیں:
الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم کما فی الھندیۃ۱؎وغیرہا۔
خط دوسرے خط اور مُہر دوسری مُہر کے مشابہ ہوتی ہے جیساکہ ہندیہ وغیرہا میں ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ باب ۲۳کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۸۱)
یہاں عابد علی اس خط سے منکر ہے تو شہادت درکار، اُن دوگواہوں نے جوگواہی دی ناقص وناتمام ہے وہ اپنے بیانوں میں، عابد وعبدالرزاق کہتے ہیں ملک میں اس نام کے ہزاروں ہوں گے۔ شرطِ شہادت یہ ہے کہ اگر وُہ حاضرہوں تو ان کی طرف اشارہ کرکے گواہی دے کہ اس عابد علی نے اس عبدالرزاق کی بیٹی زوجہ کی نسبت یہ کہا اور اگر حاضر نہ ہوں تو اُن کا نسب پاک دادا تک بیان کرے کہ عابد علی بن فلاں بن فلاں نے اپنی زوجہ فلاں بنت فلاں کی نسبت یہ کہا اور صحیح یہ ہے کہ دادا کا ذکر بھی ضرور ہے کمافی العٰلمگیریۃ(جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔ت) یعنی جبکہ فقط باپ کی طرف نسبت سے تمیز کامل نہ ہوجاتی ہو،
فان المقصود التعریف لاتکثیر الحروف کما فی جامع الفصولین والدرالمختار۔
کیونکہ معرفت مقصود ہے حروف کی کثرت مقصود نہیں ہے، جیسا کہ جامع الفصولین اور درمختار میں ہے۔(ت) اگر دو۲گواہ ثقہ عادل اگر چہ یہی دو۲ ہوں اس طرح شہادت ادا کریں تو ضرور تین طلاقیں ثابت ہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔