Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
83 - 155
مسئلہ۱۸۴: از موضع گیلانی ڈاکخانہ بربگھ ریلوے اسٹیشن لکھی سرائے مرسلہ ضمیرالحسن صاحب۲۱شوال۱۳۱۵ھ

تمامی علمائے ہند کی خدمت میں گزارش ہے کہ برابر بزرگان سے سنتے چلے آتے تھے کہ تین طلاق ایک جلسے میں دی جائے یا جلساتِ متفرقہ میں، طلاق مغلظہ پڑے گی، لیکن بالفعل لوگوں نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر جلسے میں تین طلاق دی جائے رجعی پڑے گی، جو لوگ بیچارے مسکین عمر کی تائید کرتے ہیں گمراہ کرتے ہیں۔ 

الجواب (عہ)
المجیب مصیب فی الواقع مذہبِ منصور ومشربِ جمہو روقول ائمہ اربعہ رضی اﷲتعالٰی عنہم یہی ہے کہ صورتِ مذکورہ میں تین طلاقیں واقع ہوں گی، ائمہ کرام وعلمائے اعلام شکراﷲ تعالٰی  مساعیہم بحث تمام فرماچکے، اب باتباعِ ابن قیم ظاہری المذہب فاسد المشرب سواد اعظم امّت وحق واضح کی مخالفت نہ کرے گا الّا من سفہ نفسہ(مگر وہ جس نے پانے آپ کو بیوقوف بنایاہو۔ت) اورامیر المومنین غیظ المنافقین امام العادلین حضرت سیّدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کی شان اجل دارفع میں کلمات ِ گستاخی بکنے اور ان کے موید کو گمراہ کہنے والا کھلا رافضی ہے
خذلھم اﷲتعالٰی، وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۱؎
 (اﷲتعالٰی  ان کو ذلیل کرے، اور عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے وہ کس طرف پلٹے ہیں۔ت) واﷲ تعالٰی  اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم       ۲۶ /۲۲۷)
عہ: بااوجواب مولوی ابوالنصر گیلانوی بود این دوحرف درتصویبش نوشتہ شد ۱۲(م)
یہ جواب بیعینہٖ وہی جواب ہے جوابونصر گیلانوی نے دیا ہےیہ دوحرف اس کی درستگی سےمتعلق لکھےگئے ہیں۱۲(ت)
مسئلہ ۱۸۵: از رامپور متصل مراد آباد محلہ ملاظریف مرسلہ مولوی ریاست حسین خان صاحب ۴رمضان ۱۳۱۵ھ 

بخدمت شریف جناب مولوی صاحب دامت فیوضہم بعد سلام مسنون التماس محزون اینکہ برائے جواب مسئلہ اشد ضرور تست اگر بزدد تحریر فرمودہ عنایت فرماینداز عنایت واحسن بعید بخواہد شد ومرد مان بسیار دعا سازند فیصلہ دریں باب درمیان فریقین بتحریر آنجناب قرار یافتہ است وعبارت خلاصۃ التفاسیر منقولہ از تفسیر احمدی

بخدمت شریف جناب  مولوی صاحب دامت فیوضھم بعد سلام، مسنون  پریشان حال کا التماس یہ ہے کہ ایک مسئلہ کا اشد ضروری ہے، اگر جلدی تحریر فرماویں تو مہر بانی ہوگی، یہ آپ کی مہربانی اور احسان سے بعید نہ ہوگا، اور لوگ بہت دعائیں دیں گے، اس بارے میں فریقین میں فیصلہ آپ کی تحریرطے ہوا ہے ، اور تفسیر احمدی سے منقول خلاصۃ التفاسیر کی عبارت یہ ہے :(چونکہ عدد طلاق کے جاہلیت میں مقرر نہ تھے جس قدر چاہتے طلاق دیتے یہاں تک کہ ایک عورت ام المومنین عائشہ کے پاس آئی اور اپنے شوہر کے باربار رجوع کرنے کی شکایت کی یعنی طلاق دی جب عدت پوری ہونے آئی رجوع کیا پھر طلاق دی یونہی اسے معلّق چھوڑدیا تھا حضرت صدیقہ نے حضور میں عرض کیا حق سبحانہ، وتعالٰی  نے نازل فرمایا
الطلاق مرتٰن الخ)
بباعث اردو قابل تسلیم فریقین دریک مسئلہ ہم قرار نیافتہ۔ اگر عبارت شیر احمدی مرقوم بودے قابل فیصلہ شدے اکنوں امید دادم کہ آنحضور بتحریر عبارت کتب سرفراز نمودہ فیصلہ فرمایند، والسّلام
اردو کی وجہ سے فریقین ایک مسئلہ پر متفق نہ ہوسکے اگر تفسیر احمدی کی اصل عبارت ہوتی تو فیصلہ کے قابل ہوتی، اب آپ سے امید کہ جناب کتب کی عبارت تحریر فرماکر سرفراز فرمائیں گے، والسلام(ت)

زید زوجہ خودرایک طلاق رجعی دادہ درعدت رجوع کردہ بااودو سال زندگانی کردبازیک طلاق رجعی دادہ عدت رجوع کردہ سہ سال اورابخانہ خود داشت بعدہ بازدیک طلاق رجعی داد اکنوں زید زوجہ مذکورہ را بلا تحلیل تئس مستعار درنکاح خود تواں آورد یانہ؟بینواتوجروا

زید نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی، اور عدت میں رجوع کرلیا، اور دو سال گزارنے کے بعد پھر ایک طلاق رجعی دی اور عدت میں رجوع کرلیا، تین سال گھر رکھنے کے بعد پھر ایک طلاق دی اب زید مذکورہ بیوی کونئے شخص سے نکاح اور حلالہ کے بغیر نکاح میں دوبارہ لاسکتا ہے یانہیں؟بیان کرواور اجر پاؤ۔(ت)
الجواب

حرام ست بالنص والاجماع تابنکاح شوہرے دیگر در آید و شہد اوراذوق نماید واوطلاقش دہد میردوعدتش فراغ پذیرد قال تعالٰی الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تصریح باحسان۱؎الٰی قولہ عزوجل فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ فان طلقھا فلاجناح علیھا ان یتراجعا۲؎الآیۃ، قال رسول اﷲصلی تعالٰی علیہ وسلم لاتحلین لزوجک الاول حتی یذوق الاٰخر عسیلتک وتذوقی عسیلتہ۳ ؂۔
دوسرے شخص سے نکاح اور پھر جماع کے بعد طلاق ہو یا دوسرا شخص فوت ہوجائے اور اس کی عدت پوری ہوجانے کے بغیر دوبارہ زید کا مذکورہ بیوی سے نکاح حرام ہے یہ حرمت نصِ قرآن اور اجماع سے ثابت ہے۔ اﷲتعالٰی  نے فرمایا دو۲ طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو بھلائی کرتے ہوئے روک لے یا احسان کرتےہوئے چھوڑدے۔ تا۔ اگر تیسری طلاق دی تو مطلقہ بیوی اس کے بعد حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ مطلقہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے، پس اگر اس نے طلاق دے دی تو دونوں پر رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے الآیۃ۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا اے عورت تو پہلے خاوند کیلئے حلال نہ ہوگی حتی کہ تو دوسرے خاوند کا اور وہ تیرا مزہ نہ چکھ لے یعنی جماع نہ کرلے''۔
 (۱؎القرآن الکریم۲ /۲۲۹)(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۰)

(۳؎ صحیح بخاری     باب لم تحرم مااحل اﷲلک     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۷۹۲)
و فی العالم عن عروۃ کان الناس فی الابتداء یطلقون من غیر حصرولاعدد وکان الرجل یطلق امرأتہ فاذا قاربت انقضاء عدتھا راجعھا ثم طلقھا کذلک ثم راجعھا یقصد مضارتھا فنزلت ھذہ الآیۃ الطلاق مرتٰن یعنی الطلاق الذی یملک الرجعۃ عقیبہ مرتان فاذا طلق ثلثا فلاتحل لہ الابعد نکاح زوج غیرہ۱؎ اھ والمسئلۃ اوضح من ان توضح۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلم جل مجدہ اتم واحکم۔
اور معالم التنزیل میں عروہ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء میں لوگ بے حساب او ر لاتعداد طلاقیں دیاکرتے تھے، اور مرد بیوی کو طلاق دتا تو جب عدّت پورا ہونے کے قریب ہوتی تو پھر طلاق دیتااور یونہی بار بار کرتا اور مقصد بیوی کوپریشان کرنا ہوتا تھا، تو اس واقعہ پر قرآن پاک کی آیہ کریمہ الطلاق مرتٰن الآیۃ نازل ہوئی، یعنی وہ طلاق جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے، دو طلاقیں ہیں، تو جب تیسری طلاق دے دے تو اب دوسرے سےنکاح کے بغیر اس کے لئے حلال نہیں ہے اھ، اور مسئلہ وضاحت کا محتاج نہیں۔(ت)واﷲتعالٰی  سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
 (۱؎ معالم التنزیل علٰی  ھامش تفسیر الخازن     تفسیر آیۃ الطلاق مرتان     مصطفی البابی مصر    ۱ /۲۲۷)
Flag Counter