Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
82 - 155
مسئلہ۱۸۱: ازڈھاکہ پٹی ضلع نوگانوں ملک آسام مرسلہ عبد السبحان صاحب ۱۰ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تمیزالدّین اپنی منکوحہ سراج النساء کی حقیقی بہن پر عاشق ہوکر ایک رات مولوی اسرائیل علی صاحب ومحمد اسرافیل بیوپاری اور تمیزالدّین بیوپاری ار عبدالغفار خیاط کو اپنے گھر میں بلالے جاکر کہا کہ آپ لوگ میری سالی کے ساتھ میرا عقد پڑھا دیجئے، تب یہ لوگ پُوچھے کہ تم اپنی بی بی کی موجودگی میں اس کی حقیقی بہن کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتے ہو اس وقت تمیز نے کہا تین روزقبل میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا کسی نے ان میں سے تمیزالدین کو پُوچھا تم نے کس طرح پر طلاق دیا وہ جواب دیا کہ میں اپنی منکوحہ کو اس طرح پر طلاق دیا کہ تم کو ایک طلاق دو طلاق تین طلاق بائن دیا اس وقت اس کا بیوی پسِ پردہ حاضر تھی شاہد مذکورین نے اس سے سوال کیا تجھ کو طلاق مِلا وہ صاف جواب دی کہ مجھ کو طلاق ملا اس کے بعد مولوی صاحب مذکور وغیرہم عقد پڑھا کر چلے آئے اور تمیزالدین کی ساس نے صبح کو اپنی لڑکی جس پر تمیز الدین نے عاشق ہو کر عقد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تمیزالدین کے گھر سے اپنے گھر میں لے گئی کئی روز بعدتمیزالدین جو اپنی بیوی کو علیحدہ رکھا تھا اُس سے ہمبستر ہونا شروع کیا تب لوگوں نے پُوچھا تم اپنی منکوحہ کو طلاق دے کر حاضرانِ محفل میں اقرار بھی کرچکے اب حرامی کیوں کرتے ہو تب تمیزالدین نے جواب دیا موافق شرع کے میں اپنی منکوحہ کو طلاق نہیں دیا بلکہ ایک کاغذ میں لکھ کر الماری پر رکھا تھا اس کو میری بیوی مکان صاف کرنے کے وقت پائی اور وُہ عوام الناس میں شور مچائی فی الحقیقت میں نے زبان سے طلاق نہیں دیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگا یاکہ نہیں اگرواقع ہو تو کس روز طلاق واقع ہوگا۔ بینواتوجروا۔

الجواب

صورتِ مذکورہ میں تمیزالدین اﷲ ورسول کےسخت گنہگار اور زانی حرامکاری ہے وہ صاف صاف تین طلاق کا اقرار کرچکا اب اس سے پھرنے کا اُسے کوئی اختیار نہیں، پہلی عورت اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئی جب تک حلالہ نہ ہو اُن مردوعورت  پر فرض ہے کہ فوراً جداہوجائیں اور اگر نہ مانیں تو مسلمان اُن کو چھوڑدیں کہ وُہ زانی اور زانیہ ہیں۔                                                                             ردالمحتار میں ہے :
لووطئ معتدتہ من الثلاث علما بحرمتھا فانہ زناًیحدبہ۱؎۔
اگر تین طلاق کے بعد بیوی سے عدت میں جماع کیا تو زنا ہوگا اور اس کو اس پر حد لگائی جائے گی بشرطیکہ خاوند کواس کے حرام ہونے کا علم ہو۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب العدّۃ     الطاعۃ المصریہ مصر    ۲ /۶۱۲)
اور دوسری سے جو نکاح کیا وُہ بھی حرام وباطل ہے کہ بہن کی عدت میں بھی دوسری بہن سے نکاح حرام ہے۔
درمختار میں ہے :
حرم الجمع بین المحارم نکاحاً وعدّۃ۱؎۔
محرم عورتوں کو جمع کرنا حرام ہے نکاح میں اور عدت میں۔(ت)وُہ لوگ کہ صر`ف طلاق سُن کر عدت میں نکاح پڑھا آئے سب گنہگار ہوئے سب پر توبہ فرض ہے۔
 (۱؎ درمختار     فصل فی المحرمات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۸۸)
مسئلہ ۱۸۲تا۱۸۳: از لکھنؤ محلہ چار باغ بانسمنڈی     مرسلہ شاہ نعیم اﷲفخری چشتی نظامی قادری سہروردی ۲۹جمادی الاولٰی  ۱۳۳۶ھ
کتاب ارشاد الطالبین فقیہ سیّد علی ترمذی رحمۃ اﷲتعالٰی  علیہ کا قول ہے جو بعینہٖ نقل کی جاتی ہے کہ:
بداں اے فرزند چہار مذہب حق اند ودانستن آں فرض سب واختلاف درمیاں ایشاں اختلاف برحمت ست نہ اختلاف بعداوت کہ الاختلاف راحت گفتہ اند وحنفی مذہب رانشاید کہ گوید مرابشافعی چہ کارست زیرا کہ درہنگام ضرورت رانشاید کہ گوید مرا بشافعی چی کارست زیرا کہ درہنگام ضرورت ازمذہبے بمذہبے انتقال کردہ شود چنانکہ بحج رفتن پیادہ بمذہب امام ابوحنیفہ روانیست، پس عالمان حاجی ماشی رابمذہب مالک می سیراندکہ درمذہب او رواست وچوں بعرفات حاضر شد باز بمذہب ابو حنیفہ میگردد ایضا چوں کسے مطلقہ ثلثہ راحیلہ بکند باید کہ اورا از احکام وارکان ایمان بپرسید تا بے تحلیل نکاح جدید کند واگر ہماں را نیز میداند باید کہ اورا مذہب امام احمد آرد کہ درمذہب او حق تعالٰی  را بذات وصفات شناختن فرض ست اگر آنرانمیداند نکاح جدید کند واگرآنرانیز میداندایں ہنگام تحلیل باید کرد۔ عبارت ارشاد الطالبین ختم۔
ارے بیٹے!چاروں مذہب حق ہیں، یہ عقیدہ فرض ہے۔ ان کااختلاف رحمت ہے، یہ اختلاف مخالفت پر مبنی نہیں ہے کیونکہ آسانی کے لئے اختلاف کرتے ہیں، کسی حنفی کو نہ چاہئے کہ وُہ کہے شافعی سے مجھے کیاکام، کیونکہ ضرورت کے وقت ایک مذہب چھوڑکردوسرے مذہب کی پیروی جائز ہے جس طرح کہ امام ابوحنیفہ کے مذہب میں پیدل حج جائز نہیں ہے، لہذا علماء حاجی کو امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ کے مذہب پر پیدل حج کا کہیں کیونکہ ان کے مذہب میں پیدل حج جائز ہے، اور جب عرفات میں پہنچ جائے تو پھر حنفی مذہب اپنالے، اور یونہی اگرکوئی شخص تین طالق دی ہوئی بیوی کے لئے حیلہ کرنا چاہے تو چاہئے کہ اس طالق دینے والے سے ایمان کے ارکان واحکام پوچھے جائیں اگر وہ بتادے تو پھر اس سے نماز کے احکام وارکان پوچھے جائیں اگر نہ بتا سکے تو وُہ بغیر حلالہً اپنی مطلقہ سے نکاح کرلے اگر وُہ بھی بتادے تو اس کو امام احمد کے مذہب پر پابند کریں کیونکہ ان کے مذہب پر اﷲتعالٰی  کی ذات وصفات کا جاننا ضروری، اور فرض ہے، اگر ذات وصفاتِ باری تعالٰی  نہ بتاسکے تو وُہ بیوی سے بغیرحلالہ دوبارہ نکاح کرلے، اور اگر وذاتِ باری تعالٰی  کو جانتا ہوتو پھر اس کو حلالہ کرنا ہوگا۔ ارشاد الطالبین کی کی عبارت ختم ہوئی۔(ت)

یہ کتاب (ارشاد الطالبین) مولوی حافظ محمد جان صاحب فرنگی محلی معلمِ مدرسہ مولوی عین القضاۃ صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی اُنہوں نے کہا کہ جو کچھ کہ لکھا ہے وُہ درست ہے عندالضرورۃ شرعی ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں انتقال کرنا جائز ہے، ایک جلسہ میں اگر تین طلاق دی جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کے نزدیک طلاق ہوجاتی ہے مگر اور ائمہ کے نزدیک طلاق نہیں ہوتی، لہذا عندالضرورۃ دوسرے مذہب میں انتقال کرنے سے طلاق نہیں ہوگی،اسی طریق پر اگر کسی عورت کا شو ہر مفقود الخبرہوجائے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک ۹۰ برس کے بعد اس کا دوسرا عقد ہوسکتا ہے مگر  اور ائمہ کے نزدیک چار برس کے بعد اُس کو عدت بٹھلا دیاجائے اور بعد گزرنے میعاد وعدت کے اس  کا دوسرا عقدکیا جاسکتا ہے پس عند الضرورۃ شرعی جو عورت کہ پابند مذہب امام ابوحنیفہ ہے دوسرے ائمہ کے مذہب میں انتقال کرکے اس طریق پر نکاح جدید کرسکتی ہے،پر انتقال کے معنی یہ ہیں کہ اپنے کو اس مذہب میں فرض کرلے، اور ضرورت شرعی اسے کہتے ہیں کہ مثلاً کا عقد نہ ہونے پر خوف ہے کہ وُہ ارتکابِ زنا کرے اور اس طرح سے مبتلائے گناہ ہوجائے، یا اس طرح کی کوئی اور خرابی پیش آئے،لہٰذا ایسی صورت میں مطلع صاف  مذہب امام احمد میں لاکر عقدِ جدید کرسکتا ہے۔

(۱) مولوی صاحب نے جو فرمایا کہ وُہ عورت جو کہ پابند مذہب امام ابوحنیفہ ہے اس کو دوسرے مذہب میں انتقال کرناجائز ہے،مولوی حافظ محمدجان اور مولوی فقیہ سیّدعلی کا قول کس مذہب کے اصول سے ہے اور اصل مقصد کیا ہے۔

(۲) جو عورت کہ پابند نہ ہوکسی مذہب خاص کی رُو سے کیا کرنا چاہئے حالانکہ وُہ اپنے آپ کو گروہِ اسلام سے سمجھتی ہے اور دعوٰی  مذہب حنفیہ، باوجود اس دعوٰی  کے سماع بالمزاامیرمذہب شافعیہ سے گروہِ خاصان میں سے انتخاب کرکے اپنے اُوپر روارکھا ہم بریں بالائے طاق وُہ گانا بجانا جس میں اشتعال نفسانی ہو اوہوس شیطانی پُرہیں اور ہر مذہب میں وہ سراسرحرام پایا گیا اس کا بھی وہ ارتکاب کرتی ہو اور جہالتِ زمانہ سے رسوم گراں وکافراں برتتی ہے کیسے پابندی مذہب حنفیہ ایسے پر نامزد ہوسکتی ہے، دعوی پابندی مذہب خصوصیت کا باطل، لہذا ایسی عورت کا مذہب امامِ احمد میں فرض کرلیناجائز ہے یا فی الواقع اتباع ضروری، چونکہ یہاں خدمت میں جناب مولٰنا عبدالکافی صاحب مدظلہ العالی کے پیش کیا گیا مولٰنا موصوف نے فرمایا:حضور میں مولٰنا احمد رضاخاں صاحب کے بھیجا جائے لہذا مستدعی کہ جواب سے سرفراز فرمایا جائے۔
الجواب

یہ مہملات ہیں اور شریعت پر جرأت اور ایک مسلمان کو خواہی نخواہی کفر میں دھکیلنا اور بہ چاہنا کہ جس طرح بنے اسے کافر کرلیں، ائمہ دین تو یہ تصریح فرماتے ہیں کہ جاہلوں سے اگر کوئی مسئلہ ذات و صفات عقائدِ اسلامیہ کے متعلق پوچھو تو جواب پہلے بتادو نہ کہ اس سے دقیق مسائلِ ذات وصفات پوچھے جائیں کہ کسی طرح اسے کافر بنالیاجائے، ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالٰی  عنہ وغیرہ ائمہ دین فرماتے ہیں جو کسی مسلمان کی نسبت یہ چاہے کہ اس سے کفر صادر ہو وہ کفر کرے یا نہ کرے یہ ابھی کافر ہوگیا کہ مسلمان کا کافرہونا چاہا اور یہاں سے ظاہر ہواکہ جس مصیبت کے واسطے یہ بلائے عظیم اوڑھنی چاہی وہ دو۲وجہ سے بدستور رہی ایک تو یہ محض کذب اور جُھوٹ اورشریعت پر افتراء ہے کہ تین طلاق کی مطلقہ اگر کفر کرے تو حلالہ کی حاجت نہیں اگر کفر کرے گی تو دوہری حُرمت ہوگئی ایک تو تین طلاق کی تھی وُہ خاص اسی کے لئے تھی اور دوسری مرتد ہونے کی ہوئی کہ اب وُہ جہان بھر میں کسی مسلمان کسی کافر کسی مرتد کسی آدمی کسی جانور کے نکاح کے قابلنہ رہی، مرتدہ کا نکاح جہان بھر میں کسی سے نہیں ہوسکتا، نہ مرتد کا جس سے ہوگا زنائے محض ہوگاکما فی العٰلمگیریۃ وغیرہا(جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہا میں ہے۔ت) اور اگر اسے کافرہ کرکے پھر مسلمان کیا جائے اور یہ سمجھاجائے کہ اب حلالہ کی حاجت نہ رہی تو یہ بھی محض ہوس رجیم ہے حلالہ ضرورکرنا ہوگا اور بغیر حلالہ قطعاًحرام، ایک تویہ بھاری مصیبت ہوئی دوسرے سے اس کا نکاح حلال نہ رہا، اگر اب مسلمان ہوا اور یہ سمجھے کہ اب مجھے حلالہ کی حاجت نہ ہوگی تویہ وہی ہوس ملعون حلالہ اُن کی دُم سے بندھا ہوا ہے ہرگز پیچھا نہ چھوڑے گا، تو کھایا اور کال بھی نہ کٹا،اور کھایا بھی کیساکہ آپ بھی مرتدعورت بھی مرتد، انّاالیہ راجعون (بیشک ہم اﷲتعالٰی  کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت) سیّد علی ترمذی کی کوئی کتاب ارشاد الطالبین ہمیں نہیں معلوم، اور ہو بھی تو حکم،علی ترمذی کا نہیں محمد مدنی کا ہےصلّی اﷲتعالٰی علیہ وسلم (اس کی تفاصیل میں کلام کثیر ہے مگر اس کے بعد زیادہ تطویل کی حاجت نہیں۔ درخانہ اگر کس است یک حرف بس است (اگر خانہ عقل میں کچھ سُوجھ ہوتو اشارۃً ایک حرف بھی کافی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی  اعلم۔
Flag Counter