Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
81 - 155
مسئلہ ۱۷۴تا۱۸۰: ازجھر یا ضلع مان بھوم محلہ گوالہ ٹولی مسئولہ محمد یوسف صاحب۲۹ جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :

(۱) زید کاہندہ کو تین بار طلاق دینا ایک طلاق کا حکم رکھتا ہے یا تینوں طلاق واقع ہوگئیں اور حلالہ کی ضرورت ہوگی یا نہیں؟

(۲) باوجود ممانعت زید کا نہ ماننا اور صریح لفظوں میں تین بار یہ کہنا کہ میں نے طلاق دیا، ایسی صورت میں نیت پر طلاق کا مدار رہے گا یا نہیں؟ اور زید کا یہ قول کہ لوٹانے کی نیت تھی معتبر ہوگا۔

(۳) بہ نیت حلالہ خالد و ہندہ کو سمجھا کر راضی کرنا اور بدون اجازت ولی ہر دو کا برضاایجاب وقبول کرلینا یہ نکاح جائز ہوا یا ناجائز؟

(۴) اگر خالد کا نکاح درست ہے توبغیر خالد کے طالق دئے یا بغیر صحبت کئے وعدت گزارے شوہر اوّل سے ہندہ کا نکاح کرادینا اور میاں بیوی کی طرح دونوں کا اکٹھا رہنا کیسا ہے اور نکاح کرانے والے حضرات او رجو لوگ اس نکاح سے راضی ہیں اور جوایسے آدمی سے میل جول رکھتے ہیں ان کے لئے وعید اور حکمِ شرعی ہے؟

(۵) بالفاظِ مر قومہ بالاحلالہ کی ترغیب دلانے والے کے لئے کیاحکمِ شرعی ہے؟

(۶) خلافِ واقع جُھوٹی باتیں کہہ کر حق کو ناحق بنانے اور رسمِ قدیم نہ ٹوٹنے اور اپنی مونچھ کزتار رکھنے کےلئے اور حلال وحرام کی پرواہ نہ کرنے والے کے واسطے حکمِ شرعی کیا ہے؟

(۷) لڑکی ولڑکا حدِ بلوغت کو کتنے برس کے بعد ہوتے ہیں، اور جب بالغ دونوں ہیں تو اپنے نکاح کے مختار ہیں کہ نہیں کہ اس میں بھی ولی کی ضرورت ہے کہ نہیں؟

الجواب

(۱) بلاشُبہہ باجماعِ ائمہ اربع تین طلاقیں ہوگئیں اور بے حلالہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوسکتی
قال اﷲ تعالی:

فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجھاغیرہ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر تیسری طلاق دے دی تو بیوی اس کے بعد حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۰)
 (۲) اس صورت میں لوٹانے کی نیت حکمِ الٰہی کو بدلنا ہے اور یہ الفاظ صریح ہیں صریح میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی، جس نے یہ فتوٰی دیا ہے کہ رجعت کی نیت تھی تو ایک رجعی ہوئی وہ گمراہ ہے۔ 

(۳) اگر خاوند ہندہ کا کفو تھا یعنی مذہب یا نسب یا چلا چلن یا پیشہ میں ایسا کم نہ تھا کہ ہندہ کا اُس سے نکاح اس کمی کے سب اولیائے ہندہ کے لئے ننگ وعار ہو اور انہوں نے دو۲ گواہوں کے سامنے جو سُنتے اور سمجھتے تھے ایجاب و قبول کرلیاتو صحیح ہوگیا اجازتِ ولی کی کوئی حاجت نہ تھی، 

اذلاولایۃ مجبرۃ علی البالغین لما نصوا علیہ فی الکتب قاطبۃ۔

کیونکہ بالغ حضرات پر کسی کو جبری ولایت نہیں ہے جیسا کہ تمام کتب میں نصوص ہیں (ت)

(۴) بحالت صحت نکاحِ خالد ظاہر ہے کہ بے طلاق وہ کسی سے نکاح نہیں کرسکتی۔
قال تعالٰی والمحصنٰت من النسا۱؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: شادی شدہ(منکوحہ) عورت دوسروں کے لئے حرام ہیں(ت)
(۱؎ القرآن ۴ /۳۴)
اور اگر خالد بے صحبت کئے طلاق دے بھی دے جب بھی ہرگزشوہر اوّل کے لئے حلال نہیں ہو سکتی،
قال صلی اﷲتعالٰی علیہ لاتحلین لزوجک الاول حتی یذوق الاخر عسیلتک تذوقی عسیلتہ۲؎۔
حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے فرمایا اے عورت تو حلال نہیں پہلے شوہر کیلئے جب تک دوسرا خاوند تیرا اور تو اس کا مزہ نہ چکھ لے(یعنی جماع نہ کرلو)۔(ت)
 (۲؎ صحیح بخاری     باب لم تحرم مااحل اﷲلک     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۷۹۲)
جولوگوں نے دانستہ یہ نکاح کرادیا سب زنا کے دلال ہوئے اور زید ہندہ زانی زانی۔اور اُن سب کے لئے عذابِ شدید نارِجہنم کی وعیدہے، یُونہی وُہ جو اس سے نکاح پر راضی ہوئے، نکاح نہیں زنا پر راضی ہوئے۔
والرضابالحرام وقد یکون کفرا والعیاذاباﷲ تعالٰی۔
حرام فعل پر رضاحرام ہے اور کبھی یہ رضا کفر ہوتی ہے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔(ت)

ان سب سے مسلمانوں کو میل جول منع ہے،
قال تعالٰی : وامّا ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکرٰی مع القوم الظٰلمین۱؎۔
خبردار شیطان تجھے بُھلا دیتا ہے یاد ہونے پرظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶ /۶۸)
اُن سے میل جول کرنے والے اگر اُس نکاح پر راضی یا اُسے ہلکا جانتے ہیں تو اُن کےلئے بھی یہی حکم ہے۔

(۵) اگر اس نے زن وشو میں اصلاح اور اُن کی مشکل کشائی کی نیّت سے ترغیب دلائی تو اس پر الزام نہیں بلکہ باعثِ اجر ثواب ہے۔

(۶) جُھوٹی باتیں کہہ کر حق کو ناحق یا ناحق کو حق بنانا یہودیوں کی خصلت ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون۲؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: حق کو باطل سے خلط ملط نہ کرو اور دیدہ و دانستہ حق کو نہ چھپاؤ۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم     ۲ /۴۲)
رسمِ باطل کی پیروی کے لئے حلال وحرام کی پروانہ کرنا کافروں کی عادت ہے۔قالوا بل نتبع ماالفینا علیہ اٰبائنا۳؎(کفار نے کہا بلکہ ہم اپنے آباء واجداد کی پیروی کریں گے۔ت)
 (۳ القرآن الکریم         ۲ /۱۷۰)
 (۷) لڑکے اور لڑکی کو جب آثارِ بلوغ ظاہر ہوں مثلاً لڑکے کو احتلام ہو اور لڑکی کوحیض آئے اس وقت سے وُہ بالغ ہیں اور اگر آثار بلوغ ظاہر نہ ہوں تو پندرہ برس کی عمر پُوری ہونے سے بالغ سمجھے جائیں گے کما فی الدرالمختار وعامۃالاسفار(جیسا کہ درمختار اور عام کتب میں ہے۔ت) بالغ کواپنے نکاح میں ولی کی اصلاً ضرورت نہیں یُونہی بالغہ کو جبکہ نکاح کفو سے ہو یا غیرکفؤ سے ہوتواس کا کوئی ولی نہ ہو، ورنہ جب تک ولی قبل نکاح اس غیر کفؤ کو غیر کفؤجان کر صریح اجازت نہ دے گا بالغہ کا نکاح صحیح نہ ہوگا،
فی الدرالمختار ویفتی فی غیرالکفؤ بعدم جوازہ اصلالفساد لزمان۴؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے: زمانہ کے فساد کی بناء پر غیر کفؤ میں نکاح اصلاً جائز نہ ہونے پر فتوٰی دیاجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۴؎ درمختار    باب الولی     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۹۱)
اور ایک بات یہ بھی قابلِ بیان رہی کہ وُہ جس نے استہزا کہا تھا چھوٹی کتاب میں جائز لکھا وُہ بھی سخت گنہگار ہوا توبہ فرض ہے مسئلہ شرعیہ استہزا کا محل نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter