| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۶۸: از ڈھاکہ مرسلہ عبدالکریم میاں ۱۳شوال ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنی برادری میں کوئی بات لے کر آپس میں متنازع ہورہے تھے اس گفتگو میں وہ شخص کہنے لگا بھائی! میں ایک پریشانی اٹھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں اپنی زوجہ کی سبب سے ہمیشہ پریشان ہوں کیونکہ وہ عورت میری باتوں میں دخل دیا کرتی ہے لہذا میں شرمندہ ہوں اُس وقت اُن کی ز وجہ گھر میں تھی میاں نے جو اپنی زوجہ کی شکایت کیا زوجہ نے ازاول تا آخر سب سُنا زوجہ نے جواب دیا اگر میرے سبب تمہارے تکلیف اور ناگوار ہوتو مجھے نکال دو گے اور کیا کرو گے، زوج زوجہ کا کلام سُنتے ہی خفا ہوگیا اور کہا جا ایک طلاق دوطلاق تین طلاق دادم، آیا اس صورت مذکورہ میں وہ عورت تین طلاق سے مغلظہ ہوئی یا نہیں مگر طالق نہ مخاطب زوجہ کو ہوا نہ اُن کا نام لیا اور سوال میں جو لفظ''جا'' مقولہ طالق ہے یہ معنی امر کی مقصود نہیں ہے بلکہ وُہ اپنے کلام میں اکثر یہ لفظ بولاکرتے ہیں معنی امر کے نہیں ہوتے ہیں باوجود ان وجوہات کے کیا حکم؟ الجواب اگر ''جا'' سرے سے کلمہ خطاب نہ ہوتا یا حسب قول سائل یہ اُس کاتکیہ کلام ہے اس سے خطاب کا ارادہ نہیں کرتا اور کلام مُطلّق کہ جواب زوجہ میں ہے اُس کے جواب میں بھی نہ ہوتا ابتداءً ہو اتنا ہی کہتا کہ ''تین طالق دادم'' جب بھی بلاشبہہ حکم مغلظہ دیا جاتا کہ طلاق دینے سے ظاہر زوجہ ہی کا ارادہ ہے ہاں ازانجا کہ کلام زوجہ میں سوال طلاق نہ تھا نہ کلام زوج الفاظ ایک طلاق دو طلاق الخ عورت کی طرف اضافت ہے اور ''جا'' احتمال مذکور سائل کے علاوہ خود کنایات سے ہے صریح الفاظ سے نہیں کہ تقدم طلاق ہوکر خود مذاکرہ ثابت ہوجائے ان وجوہ سے عدم نیت کا احتمال باقی ہے اگر زوج بحلف شرعی کہہ دے کہ اُس نے نہ لفظـ''جا'' بہ نیت طلاق کہا نہ ''طلاق دادم'' سے زوجہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تو اس کا قول مان لیں گے اور اصلاً طلاق نہ ہونے کا حکم دیں گے اگر جُھوٹا حلف کرے گا اپنے زنا اور زوجہ کے زنا کا سخت شدید وبال اس کی گردن پر ہے، اور اگر ان میں سے کسی بات پر حلف نہ کرے یا صرف امر دوم پر حلف کرے تو تین طلاقیں ہوگئیں، بے حلالہ اُس کے نکاح میں نہیں آسکتی ۔ اور اگر امر دوم پر حلف کرلے کہ اس طلاق دادم سے عورت کو طلاق کی نیّت نہ تھی لیکن یہ حلف نہ کرے گا کہ لفظ''جا'' بہ نیت نہ کہا تو عورت اُسے حاکم کے یہاں پیش کرے اگر حاکم کے سامنے حلف کرلے گا کہ ''جا'' بھی طلاق کی نیت سے نہ کہا تو حکمِ طلاق نہ ہوگا، اور اگر وہاں بھی اس پرحلف سے باز رہا تو تین طلاق ہوجانے کا حکم دیں گے۔
وذلک لان المطلوب فی اللفظ الثانی لعدم الحکم بالطلاق وجود الحلف بانہ لم ینوبہ الطلاق فاذا لم یوجد حکم بہ قال فی الخانیۃ والبزازیۃ قال لہا لاتخرجی من الدارالا باذنی فانی حلف بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ۱؎اھ وفی ردالمحتار یفھم منہ انہ لو لم یقل ذلک (ای لم یحلف انہ لم یرد بہ طلاقھا بل طلاق غیرھا) تطلق امرأتہ لان العادۃ ان من لہ امرأۃ انما یحلف بطلاقھا لابطلاق غیرھا فقولہ انی حلفت بطلاق ینصرف الیھا مالم یرد غیرھا لانہ یحتمل کلامہ۲؎اھ وتمام تحقیقہ فیما علقناء علیہ، والمطلوب فی الفظ الاول لحکم الطلاق بہ نکولہ عن الحلف بانی لم ینوبہ الطلاق والنکول لایکون الاعند القاضی فاذا نکل عندہ حکم بالطلاق بہ فحصلت الاضافہ فی کلامہ فحمل اللفظ الثانی من دون حاجۃ الٰی اقرارہ بالنیۃ لکنونہ صریحا۔
یہ اس لئے کہ دوسرے لفظ میں طلاق نہ ہونے کا حکم، اس قسم پر کہ اس نے اس لفظ سے طلاق کا ارادہ نہیں کیا، مطلوب ہے، تو جب قسم نہ پائی گئی تو طلاق کا حکم دیا جائے گا، خانیہ اور بزازیہ میں فرمایا خاوند نے بیوی کو کہا کہ میری اجازت کے بغیر باہرمت نکلو کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے تو بیوی باہر نکل گئی، اس پر طلاق نہ ہوگی کیونکہ بیوی کی طلاق کا قسم میں ذکر نہیں ہے اور اس میں کسی غیر عورت کی طلاق کا احتمال بھی ہے، اس لئے خاوند کی بات معتبر ہوگی اھ،اور ردالمحتار میں یوں ہے کہ اس سے معلوم ہورہا ہے اگر خاوند یہ بات نہ کہے، یعنی اپنی بیوی کی طلاق کا ارادہ نہ کرنے اور غیر کا ارادہ کرنے کی قسم نہ کھائے، تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی، کیونکہ عادت یہ ہے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی،کیونکہ عادت یہ ہے کہ بیوی والا اپنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا ہے کسی دوسری عورت کی قسم نہیں کھاتا تو خاوندکی قسم طلاق کے متعلق اسکی اپنی بیوی کےلئے ہی ہوگی جب تک دوسری عورت کے ارادے کو ظاہر نہ کرے، کیونکہ دوسری کا بھی احتمال ہے اھ، اس کی مکمل تحقیق ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ اور پہلے لفظ یعنی''جا'' میں طلاق کا حکم لگانے کےلئے، اس کا قسم سے انکار مطلوب ہے کہ میں نے بیوی کی طلاق نہیں مراد لی، جبکہ قسم سے انکار صرف قاضی کے ہاں معتبر ہوتا ہے تو جب قاضی کے سامنے قسم سے انکار کردے گا تو قاضی طلاق کا حکم کردے گا، تو یوں انکار کی وجہ سے اسکے کلام میں اضافت حاصل ہوجائیگی، تو دوسرے لفظ کو طلاق پر محمول کرنے کے لئے اسکے اقرار بالنیۃ کی حاجت نہیں کیونکہ وہ اس میں صریح ہے۔
(۱؎ فتاوٰی بزازیۃ علٰی ہامش الفتاوی الھندیۃ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۷۰) (۲؎ ردالمحتار باب الصریح من کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۳۰)
قال فی الدرالمختار من الکنایات والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما مجتبی۱؎ قال ط ثم ش فان نکل ای عندالقاضی لان النکول عند غیرہ لایعتبر۲؎، واﷲتعالٰی اعلم۔
درمختار کے باب کنایات میں ہے کہ نیت ہونے سے متعلق خاوند کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی اور گھر میں ہی اس سے قسم لینا کافی ہے، اگر وہ قسم سے انکار کرے تو بیوی کو قاضی کے ہاں پیش کرنے کا حق ہوگا اگر وہ قاضی کے ہاں پیش کرنے کا حق ہوگا اگر وہ قاضی کے ہاں بھی حلف سے انکار کر دے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے گا، مجتبٰی اھ، طحاوی پھر شامی نے فرمایا کہ قسم سے انکار قاضی کے ہاں انکارمراد ہے کیونکہ غیر قاضی کے ہاں قسم سے انکارمعتبر نہیں ہوتا، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۴) (۲؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۵)
مسئلہ ۱۶۹: از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہر مرسلہ راحت اﷲصاحب امام مسجد جامع ۱۹ر مضان ۱۳۳۸ھ زید نے ہندہ کو طلاق دی، دس بارہ روز بعد نکاح کرکے اُسے پھر رکھ لیا برادری نے زید کو دبایا تو کہا میں نے طلاق رجعی دی تھی وُہ بھی ایامِ حیض میں، جوگواہ وقتِ طلاق موجود تھے وہ حلفی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے تین طلاقیں دیں اور زید بھی حلفی بیان کرتا ہے کہ ہاں طلاق دی مگر یہ نہیں کہتا کہ تین دیں یا ایک، مجھے یاد نہیں، قولِ زید ہے کہ عورت سے جو تکرار رہتی تھی اس لئے دھمکانے کو کاغذ تحریر کردیا تھا اب عورت ومرد نے کاغذدونوں چاک کر ڈالے، زید کہتا ہے کہ حشر کا بوجھ میں پنے ذمّہ لیتا ہوں گواہ غلط بیان کرتے ہیں برادری نے اس زید کو خارج کردیا ہے اور صہ عہ ۲۵ جرمانہ کردئے تو اب برادری میں اُسے ملالیں یا عورت کو الک کراکرملادیں اور جرمانہ برادری کا شرعاًجائز ہے یا نہیں؟ الجواب طلاق جب دی جائے واقع ہوجائے گی خواہ دھمکی مقصود ہو یا کچھ اور، صریح لفظ محتاجِ نیت نہیں ہوتے اُن سے نیّت کرے یا نہ کرے طلاق ہوجاتی ہے، اگر وُہ تین طلاقیں دینے یا لکھنے کامقر ہے اور عذر یہ بیان کرتا کہ دھمکی مقصود تھی طلاق کی نیت نہ تھی تو بلاشک تین طلاقیں ہوگئیں اور بغیر حلالہ اُسے رکھنا زنائے محض ہے، جب تک اُس عورت کو نکال نہ دے اور علانیہ تو بہ نہ کرے برادری میں ہرگز نہ ملایا جائے، یُونہی اگر وُہ مقر نہ ہو مگر دو۲ گواہ ثقہ متقی عادل شرعی اپنے سامنے تین طلاقیں دینے کی شہادت دیتے ہوں جب بھی تین طلاقیں ہوگئیں، اور حکم یہی ہے جو اُوپر گزرا، اگر نہ وُہ تین طلاقوں کا اقرار کرتا ہو نہ گواہوں میں دو۲شخص ثقہ قبول شرع ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مسودہ ناقص ملا) [تاہم خلاصلہ کلام متروکہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں زید کے اقرار پر فیصلہ ہوگا۔ مترجم] مسئلہ۱۷۰:از لمکن ضلع بریلی مرسلہ قاضی اشفاق حسین صاحب ۲۲صفر ۱۳۱۶ھ مع فتوائے شخصے غیر مقلد کہ تین طلاقیں ایک جلسہ میں ایک ہی طلاق حضرت ارشاد فرمائیں کہ یہ فتوٰی صحیح ہے یانہیں اور اس پر عمل جائز ہے یانہیں؟ ہمیں فقط حضرت پر اطمینان ہے جو حکم ہو اس پر عمل کریں۔ والسلام الجواب مکرمی کرم فرمائے قاضی محمد اشفاق صاحب اکرمکم اﷲتعالٰی! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔ یہ فتوٰی جس کی نسبت فقیر کا مسلک آپ دریافت فرماتے ہیں نظر سے گزرا یہ محض غلط حکم ہے اس پرعمل حرام ہے ،یہ نہ صرف ہمارے ائمہ بلکہ چاروں مذہب کے خلاف ہے، اس کی تفصیل علمائے کرام اپنی تصانیف میں اعلٰی درجہ پر فرما چکے انہیں باتوں کو جن کے جواب ہزار ہزار بار دے دئے گئے پھر پیش کردینا حضرات وہابیہ کاقدیمی داب ہے، لطف یہ ہے کہ امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نسبت صریح لکھا کہ انہوں نے فتوٰی دیا اور پھر یہ کہ حکمِ خداو رسول کے خلاف تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خدا و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا خلاف نہ کرنا چاہا، حکمِ خدا اور رسول خود بھی جانتے تھے کہ وُہ یہی ہے ، کیا فتوٰی اپنے گھر سے جوجی میں آئے کہہ دینے کا نام ہے یا خدا و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا حکم بتانا، ان کے اگلوں نے اسی معاملہ میں امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر صریح تبرا لکھے ہیں محمد ابن اسحٰق (عہ)کی نقل کی اور دعوٰی یہ کہ ہم کسی کے مقلّد نہیں، اگر مقلّد نہیں ہو تو امام بخاری کی بات ماننی کس آیت وحدیث نے فرض کی، امام بخاری سے پہلے جو ائمہ کرام اما م مالک وامام ہشام الدین بن عروہ کہ تبع تابعین تھے اور امام بخاری سے علمِ حدیث وعلمِ فقہ ہربات میں بدرجہا افضل واعلٰی تھے، اور ان کے سوا اور ائمہ نے جو قسمیں کھاکھا کر فرمایا کہ ابن اسحاق دجال کذّاب ہے، وہ کیوں نہ مانے۔ اس سے مقصود یہ کہ یہ حضرات جہاں جس کی بات مطلب کی دیکھتے ہیں اُس کا کلام وحی قرآن و حدیث ٹھہرالیتے ہیں ورنہ پھینک دیتے ہیں کہ ہم کسی کے مقلّد نہیں، والسّلام!
عہ: اصل میں بیاض ہے۱۲۔
مسئلہ ۱۷۱تا۱۷۳: از بلرام پور ضلع گونڈہ محلہ پور نیا تالاب متصل یتیم خانہ مرسلہ نذر محمد آتشباز۱۶صفر۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ: (۱) زیدنے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں ایک مجمع میں دیں۔ ہندہ عرصہ پانچ ماہ تک اپنے باپ کے گھر رہی، پانچ مہینے کے بعد پھر زید کے گھر چلی گئی اور عرصہ دراز تک زید کے گھر رہی ، ہندہ کو جب تین طلاق کا مسئلہ معلوم ہوا تو زید سے منہ موڑناچاہاتب زید قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نے ایک طلاق دی تھی اور ایک مہینہ کے بعد رجعت کرلی تھی، ہندہ رجعت کی منکر ہے اور تین طلاق پر گواہ رکھتی ہے، ایسے وقت میں ہندہ کے گواہ معتبر ہوں یا زید کی قسم معتبر ہوگی۔ (۲) اگر عورت نے شہادت پیش کرکے کچہری انگریزی سے ڈگری اپنی طلاق کی حاصل کرلے تو یہ عورت دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یا اب تک پہلے ہی شوہر کی منکوحہ رہے گی۔ (۳) تین طلاق یا طلاق کچہری انگریزی کی صورت میں اگر کچھ لوگ شوہر کی طرفداری کرکے عورت کو لوٹانا چاہیں تو کیا حکم ہے، ان لوگوں کے ساتھ میل جول جائز ہے یا نہیں؟ الجواب ایسی صورت میں ہندہ کے گواہ معتبر ہیں جبکہ قابلِ قبول شرع ہوں اور زید کی قسم پر کچھ لحاظ نہ ہوگا ہاں اگر گواہ ناقابلِ قبول ہوں تو زید کی قسم معتبر ہوگی پھر اگر ہندہ اپنے ذاتی یقینی علم سے جانتی ہے کہ زید نے اسے تین طلاقیں دی ہیں تو اسے جائز نہ ہوگا کہ زید کے ساتھ رہے ناچار اپنا مہر یا مال دے کر جس طرح ممکن ہوطلاق بائن لے اور یہ بھی ناممکن ہوتو زید سے دُور بھاگے اور یہ بھی ناممکن ہوتو وبال زید پر ہے جب تک کہ ہندہ راضی نہ ہو۔ واﷲتعالٰی اعلم۔