مسئلہ۸: از اٹاوہ قریب کچہری منصفی مرسلہ مولوی حبیب علی صاحب علوی ۲۰ذی الحجہ ۱۳۰۷ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اس صورت میں کہ زید نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح شرعی دوہزار روپے مہر پر بکر بالغ کے ساتھ کیا، قضارا دختر مذکورہ بعد نکاح کے ایامِ نابالغی میں زید کے گھر مرگئی اب زید پدر ودیگر وارثانِ شرعی متوفاۃ مذکورہ کو دعوی مہر مذکور کا بکر شوہر دختر متوفاۃ پر شرعاً پہنچتا ہے تو کس قدر کا، بحوالہ کتب معتبرہ فقہ حنفی جواب مرحمت ہو، گو اس مسئلہ کا جواب اصول سے بہت صاف دیاجاسکتا ہے مگر مستفتی کو اصرار کہ بحوالہ کتاب اس صورت خاص میں حکم دیا جائے۔ میرے پاس جو کتابیں ہیں ان میں باوصف تلاش یہ صورتِ خاص نہ ملی، چونکہ آپ کا کتب خانہ بہت بڑا ہے اور نظر کی اکثر کتب پر بہت وسیع ہے اس واسطے صورتِ مسئلہ تحریر کی جاتی ہے، جواب سے جس قدر جلد مشرف فرمائے گا ممنون ہوں گا۔ بینو اتوجروا۔
الجواب
اگر چہ موت احد الزوجین کے سبب مہر کا متأکدہوجانا اور تمام وکمال لازم آنا یونہی علی وجہ الاطلاق جمیع کتبِ مذہب متون وشروح وفتاوٰی میں مبین جس میں بالغ ونابالغ ودخول وعدمِ دخول کی اصلاً کوئی تقیید وتخصیص نہیں اور صرف اسی قدر جواب مسئلہ میں قطعاً بس تاہم اگر یہ صورت خاص معیّنہ ہی درکار ہے کہ عورت نابالغہ ہو اور ولی اس کا نکاح ایک مہر پر کردے اور وُہ قبل بلوغ شوہر نا دیدہ مرجائے تو یہ جزئیہ بھی بہت کتب میں صاف صاف مصرح اور حکم اس کا وہی کہ بوجہ موت کل مہر لازم بلکہ علماء نے اس صورت میں اس کی تصریح فرمائی کہ ولی مزوج غیر اب وَجد ہو جہاں نکا ح لازم نہیں ہوتا اور بعدبلوغ صغیر وصغیرہ کو اختیار طلب فسخ دیا جاتا ہے تو شاید کسی کو عدمِ تأکد کا توہم ہوتا نہ کہ تزویج پدر کہ قطعاًلازم وناقابلِ فسخ ہے یہاں کسی کو بھی اُس کا وہم گزرنا اصلاً معقول نہیں۔
ملتقی الابحر اور اُس کی شرح مجمع الانہر میں ہے :
للولی انکح الصغیرہ والصغیرۃ فان مات احدھما ورثہ الاٰ خر بلغا اولا ویجب المہر کلہ وان مات قبل الدخول اھ۱؎ ملتقطا قلت و معلوم ان ضمیر مات الی احدھما الشامل للزوج والزوجۃ کما لایخفی۔
ولی کو نابالغہ لڑکے اور لڑکی کے نکاح کردینے کا اختیار ہے۔ پھر اگر دونوں میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے تو دوسرا وارث ہوگا اور پورا مہر واجب ہوگا بالغ ہوں یا نابالغ، اگر چہ وہ دخول سے قبل ہی فوت ہوگیا ہو اھ ملتقطا قلت مات کی ضمیر دونوں سے ایک کے لئے ہے جو خاوند بیوی دونوں کو شامل ہے، جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے (ت)
(۱؎ مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر باب الاولیاء والاکفاء داراحیاء التر اث العربی بیروت ۱ /۳۲۵)
درمختار میں ہے :
یتورثان فیہ
(یعنی الصغیر والصغیرۃ)
ویلزم کل المھر۲؎۔
اس صورت میں دونوں نابالغ لڑکا اور لڑکی باہم وارث بنیں گے اور پورا مہر لازم ہوگا(ت)
(۲؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۳)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقایق میں ہے :
وتوارثا قبل الفسخ لان النکاح صحیح والملک بہ ثابت فان مات احدھما فقد انتہی النکاح سواء مات قبل البلوغ اوبعدہ لان الفرقۃ بینھما لاتقع الالقضاء القاضی فیتوارثان ویجب المھر کلہ و ان مات قبل الدخول الخ ۱؎۔
قبل از فسخ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے کیونکہ نکاح صحیح ہے، اور اس سے ملکیت ثابت پس جب کوئی مرگیا تو نکاح تو مکمل ہو چکا، یہ موت بلوغ قبل ہویا بعد، کیونکہ ان میں فرقت ہوئی تو قضاء قاضی سے ہوتی، اس لئے آپس میں وارث بنیں گے اور پورا مہر لازم ہوگا اگر چہ دخول سے قبل مرا ہو الخ (ت)
(۱؎ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق باب الاولیاء والاکفاء مطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۲ /۱۲۵)
پس صورت مستفسرہ میں کل مہر مسمٰی ذمہ بکر لازم ہُوا جس میں نصف یعنی ایک ہزار روپئے کا وُہ خود وارث ہے بقیہ ورثاء ہزار روپے کا اس پر دعوٰی کرسکتے ہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹: ۲۰ رمضان المبارک ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زید بکر کی زوجہ منکوحہ کو اُس کی غیبت میں بھگا کرلے گیا اور اُس سے زناکر تا ہے اور واسطے براء ت الزام تعزیراتِ ہند کے دعوٰی دلاپانے دین مہر شرعی زوجہ بکر کی جانب سے بصیغہ دیوانی دائر کراکر بیان کرایا کہ مجھ کو بکر نے طلاق دے دی میرا مہر شرعی بکر زوج میرے سے دلایا جائے۔ اس صورت میں ازروئے شرع شریف زوجہ ہندہ مفرورہ وصول یابی مہر کا استحقاق ہے یا نہیں ،اور مہر ہندہ کا مؤجل ہے اور کوئی میعاد معیّن قرار نہ پائی اور بکر نے طلاق بھی نہیں دی۔ بینواتوجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں جب تک موت یا طلاق واقع نہ ہو عورت کو ہرگز مطالبہ مہر کا استحقاق نہیں کہ جب مہر مؤجل بندھا اور میعاد کی کوئی شرح بیان میں نہ آئی کہ سال بھر بعد ادا کیا جائے گا یا دس برس تو شرعاً اس کی میعاد موت یا طلاق قرار پاتی ہے،
فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
لاخلاف لاحد ان تأجیل المھر الی غایۃ معلومۃ نحو شھر او سنۃ صحیح وان کان لاالی غایۃ معلومۃفقداختلف المشائخ فیہ قال بعضھم یصح وھوا لصحیح وھذ الان الغایۃ معلومۃ فی نفسھا وھو الطلاق اوالموت الایری ان تاجیل البعض صحیح وان لم ینص علی غایۃ معلومۃ کذا فی المحیط ۱؎۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مہر کے لئے مدّت مقرر کی جاسکتی ہے مثلاً مہینہ یا سال وغیرہ، یہ صحیح ہے اور اگر مدّت معلوم نہ ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا صحیح ہے، اور یہی اصح ہے کیونکہ انتہا معلوم ہے کہ وہ طلاق یا موت ہے۔ دیکھا نہیں کہ بعض مہر کو مؤخر کرنا صحیح ہے اگر چہ اس کی انتہا ئی مدت معلوم نہ ہو، محیط میں یونہی ہے۔(ت)
(۱؎فتاوٰی ہندیہ فصل الحادی عشر فی منع المرأۃ نفسہا نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۱۸)
فتاوٰی قاضی خاں میں ہے :
رجل تزوج امرأۃ بالف علی ان کل الالف مؤجل ان کان الاجل معلوما صح التاجیل وان لم یکن لایصح واذا لم یصح التاجیل یؤمر الزوج بتعجیل قدرما یتعارفہ اھل البلدۃ فیؤخذ منہ الباقی بعد الطلاق او بعد الموت ولایجبرہ القاضی علی تسلیم الباقی ولایحبسہ۲؎۔
ایک شخص نے عورت سے نکاح کیا ہزار مہر پر، اور مکمل ہزار مؤخر کیا، تو اگر انتہائی مدّت معلوم ہے تو صحیح ہے، اگر معلوم نہیں توصحیح نہیں، تو جب صحیح نہ ہو تو خاوند کو کہا جائے گا کہ عرف کے لحاظ سے جتنا ہوسکے فوری ادا کرو اور باقی اس سے طلاق یا موت کے بعد وصول کیا جائے گا،اور قاضی اس پر باقی کی وصول پرجبر نہ کرے گا اور نہ ہی اس کو قید کرے گا۔(ت) پس میعاد سے پہلے دین کا مطالبہ ہرگز روا نہیں ، نہ ایسا دعوی مسنوع ہوسکے ۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰: از سجول ضلع بہڑائچ مرسلہ شیخ عبد العزیز صاحب تاجر لٹھا ۷ رمضان ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے بلاوجہ شرعی اپنی زوجہ ہندہ کوطلاق دیدی، جب ہندہ کے ولی یعنی خالد اس کے باپ نے زید سے مہر طلب کیا تو زید مدعی اس امر کا ہوا کہ میرا مہر دس درم کا تھا، اور صورت یہ واقع ہوئی ہے کہ تعداد مہر کی نہ ہندہ اور نہ اُس کے ولی خالد کو یاد ہے اور نہ قاضی نکاح خواں اور نہ وکیل کو یاد ہے اور نہ یہ امر یا د ہے کہ وقتِ نکاح کون کون گواہ مقرر ہُوئے تھے لیکن اُس قوم میں ادنٰی ادنٰی عورتوں کا بھی مہر کم درجہ پانچ سو روپے اور دو ۲دینارسُرخ اکثر ہیں اور دس۱۰ درہم مہر جیسا کہ دعوٰی زید کا ہے اُس قوم میں کسی کا نہیں بلکہ غالباً اُس شہر میں بھی جہاں یہ دونوں طلاق دہندہ اور مطلّقہ رہتی ہے شاید کسی کا بھی نہ ہو اور اسی اعتبار سے کہ اکثر عرف قوم میں ادنٰی درجہ پانچ سوروپے اور دو۲دینار سُرخ ہے، خالد ولی ہندہ مدعی اور طالب پانچ سوروپے اور دو۲ دینار سُرخ کا ہے پس ایسی شکل میں ہندہ بقول اپنے زوج طلاق دہندہ کے دس۱۰ درم پائے گی یا بموجب عرف اپنی قوم کے حسبِ دعوٰی اپنے ولی خالد کے پانچ سو روپیہ اور دو۲ دینار سُرخ پانے کی مستحق ہوگی۔ بینواتوجروا
الجواب
عبارتِ سوالِ سے واضح کہ یہ طلاق بعد رخصت وخلوت زن وشو واقع ہوئی، پس اگر واقع ایساہی ہے توصورتِ مستفسرہ میں زوج وزوجہ میں جو اپنے دعوے پر گواہان عدول شرعی قائم کردے گا اُسی کے موافق فیصلہ کردیا جائے گا اور اگر دونوں اپنے اپنے مطابق گواہ شرعی دے دیں تو عورت کے مہر مثل پر نظر کرینگے اگر وہ پانچ سوروپے دو۲ دینار سُرخ کی اور اگر دس۱۰ درم سے زائد اور پانچ سوروپے دو۲ دینار سے کم ہوتو جتنا مہر مثل ہو اسی قدر دلایا جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی اپنے دعوے پر گواہ نہ لاسکے تو بھی مہر مثل کو دیکھیں گے، اگر پانچسو روپے دو۲ دینار یا اس سے زائد ہوا تو عورت سے قسم لے گیں واللہ میرا نکاح اس سے دس درم نہ ہوا ، اگر قسم کھالے گا دس۱۰ درم کی ڈگری ہوگی، اور انکار کیا تو پانچسو روپے دینے ہوں گے، اور اگر دس۱۰ درم سے زائد پانچسو روپے دو۲ دینار سے کم ہوا تو مرد وزن دونوں سے قسم ہائے مذکورہ لیں گے، اور اولٰی یہ کہ شوہر سے ابتدا کریں، اگر وُہ قسم سے انکار کرے پانچسو روپے دو۲ دینار دلائیں اور قسم کھائے تو عورت سے قسم لیں اگر وُہ انکار کرے دس درم پائے اگر وُہ بھی کھالے تو مہر مثل دلائیں۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ان اختلفا فی قدرہ حال قیام النکاح (ای قبل الدخول اوبعدہ کذا بعد الطلاق والدخول رحمتی) فالقول لمن شھد لہ مھر المثل بیمینہ وایّ اقام بینۃ قبلت سواء شھد مھر المثل لہ اولھا اولا وان اقاما فبینتھامقدمۃ ان شھد لہ وبینتہ ان شھد لھا، لان البینات لاثبات خلاف الظاھر وان کان مھرالمثل بینھما تحالفا (والاولی البداء ۃبتحلیف الزوج فایھما نکل لزمہ دعوی الاخر) فان حلفا اوربرھنا قضی بہ(ای بمھر المثل) ۱؎اھ ملتقطا قلت وفی عبارۃ الدر ھٰھنا تقصیرنبہ علیہ الشامی وایضاح المسئلۃ فی الخانیۃ والھندیۃ وغیرھما۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر خاوند بیوی کا مہر کی مقدار میں اختلاف ہوا، یہ اختلاف قیامِ نکاح کے دوران ہوا ہو (یعنی قبل از دخول یابعد از دخول اور یوں ہی یہ اختلاف طلاق ودخول کے بعد ہوا ہو، رحمتی) تو دونوں میں سے جس کی مہر مثل تائید کرے اس کی بات معتبر ہوگی اور ساتھ قسم بھی لی جائیگی، اور دونوں میں سے جس نے گواہ پیش کئے تو گواہی قبول کرلی جائے گی خواہ مہر مثل زوج یا زوجہ کی موافقت کرے یا نہ کرے اور اگر دونوں نے گواہ پیش کئے تو بیوی کے گواہ مقدم ہوں گے اگر مہر مثل خاوند کی تائید کرے اور خاوند کے گواہ مقدم ہوں گے اگر مہر مثل بیوی کی تائید کرے کیونکہ گواہی خلافِ ظاہر کو ثابت کرنے کے لئے ہوتی ہے، اور اگر مہر مثل دونوں کے دعووں کے بین بین ہے تو دونوں سے قسم لی جائے گی (بہتر ہے کہ پہلے خاوند کی قسم لی جائے، تو جو قسم سے انکار کرے اس پردوسرے کا دعوٰی لازم ہوجائے گا) اور اگر دونوں نے قسم دے دی یا گواہ پیش کردئے تو پھر قاضی مہر مثل پر فیصلہ دے اھ ملتقطا قلت(میں کہتا ہوں کہ) یہاں دُر کی عبارت میں کوتاہی ہے جس پر علامہ شامی نے توجہ دلائی ہے اور مسئلہ کی وضاحت خانیہ اور ہندیہ وغیر ہما میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳- ۲۰۲)
( ردالمحتار باب المہر دارا حیاء التراث العربی بیروت ۲/۶۲-۳۶۱)