| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۶۴تا۱۶۶: جمادی الاولٰی ۱۳۱۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغ اور نابالغہ کا نکاح بذریعہ اُن کے ولی کے ہوسکتا ہے یانہیں؟ (۲) زید نے اپنی لڑکی نابالغہ عمر تقریباً دس۱۰سال کا نکاح ایک لڑکے چوبیس ۲۴سالہ کے ساتھ کردیا اپنی ولایت سے درست ہے یانہیں؟ (۳) اگر اس لڑکی نے کچھ اشارہ وقت لینے اقرارکے کر دیا ہوتوبھی نکاح درست ہے۔ اب عمرو نے ان تینوں صورتوں میں ایسی کسی صورت کو حاصل کرکے اپنی بی بی کو طلاق دے دی اس کے باپ کے کہنے سے، اور لڑکی بھی اپنی نادانی سے طلاق پر رضا مندتھی طلاق ہوگئی ، لفظ طلاق یوں کہا طلاق دی طلاق دی طلاق دی، تین دفعہ کہنے سے طلاق ہوگئی، اب بعد طلاق اس کا نکاح پھر پڑھا جاوے تو کس شرط کے بعد نکاح جائز ہوجائے گا؟بینواتوجروا(بیان کرکے اجر پاؤ۔ت) الجواب نابالغ نابالغہ کا نکاح بذریعہ ولی ہوسکتا ہے۔ (۲) باپ نے اپنی نودس برس کی لڑکی کانکاح چوبیس سالہ لڑکے کے ساتھ کردیا درست ہے،
وقد تزوج رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم امّ المومنین رضی اﷲتعالٰ عنھا وھی بنت ست سنین وبنی بھا وھی بنت تسع سنین۲؎۔
بیشک حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے نکاح فرمایا تو وہ چھ سال کی تھیں آپ نے رخصتی حاصل کی تو وہ نوسال کی تھیں۔(ت)
(۲؎ سنن ابن ماجہ باب نکاح الصفاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۶)
(۳) ولی جائز کے ہوتے نابالغہ کے اشارہ کی کوئی حاجت نہیںاور بغیر ولی کے نابالغہ کا اشارہ یا خود زبان سے صراحت ایجاب وقبول کرنا کافی نہیں، شوہر عاقل بالغ نے اگر اپنی زوجہ نابالغہ کو طلاق دی طلاق ہوجائے گی۔ زوجہ کا راضی یاناراض ہونا کچھ معتبر نہیں۔ زوجہ سے اگر خلوت صحیحہ خواہ فاسدہ ہوچکی تھی توصورتِ مذکورہ میں تین طلاقیں ہوگئیں، عورت پر اگرچہ نابالغہ ہو عدت لازم ہے، جسے حیض نہ آیا اس کی عدت تین مہینے ہے۔
قال اﷲتعالٰی فعد تھن ثلثۃ اشھرواللاٰئی لم یحضن۱؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا؛ نابالغہ اور جن کو حیض بند ہوگیا ہے ان کی عدت تین ماہ ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن ۶۵/۴)
اس کے بعد اس کا نکاح ہوسکتا ہے،
فی الدرالمختار العدۃ فی حق من لم تحض لصغر بان لم تبلغ تسعاً اوکبربان بلغت سن الایاس ثلثۃ اشھران وطئت فی الکل ولو احکما کالخلوۃ ولو فاسدہ مطلقا۲؎۔
درمختارمیں ہے: جن عورتوں کو نابالغی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہیں آتا، نابالغی سے مراد جو نوسال کو نہ پہنچی اور بڑھاپے سے مراد جن کا رِحم ناقابل ہوگیا، تو ان سب مدخولہ عورتوں کے لئے ہے اگر چہ حکماً مدخولہ ہوں جیسا کہ خلوت مطلقاً خواہ فاسدہ ہو۔(ت)
(۲؎ درمختار باب العدّۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۶)
ردالمحتار میں ہے :
المطلقۃ قبل الدخول لایلحقھا طلاق اخراذالم تکن معتدۃ بخلاف ھٰذہ۳؎۔
قبل از دخول مطلقہ کو دوسری طلاق ملحق نہ ہوگی بشرطیکہ عدت والی نہ ہو بخلاف عدت والی کے۔(ت) اور اگر ابھی خلوت نوبت نہ آئی تو ایک طلاق ہوئی اور عورت پر عدّت نہیںاسی وقت جس سے چاہے نکاح ممکن ہے۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
(۳؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۴۱)
مسئلہ۱۶۷: از پنڈی ضلع منڈلہ مرسلہ ولی محمد صاحب ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ محمد بخش نے اپنی عورت کو اس ترکیب سے ایک خطبہ میں طلاق دیا کہ طلاق طلاق طلاق، اور مہر بھی جو کچھ تھا ادا کردیا، اور طلاق دئے ہوئے عرصہ ایک سال کا ہوا، اور اب پھر دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں مطابق دوسرے پارہ کے، جیساکہ چودھویں رکوع میں اﷲتعالٰی ارشاد فرماتا ہے، مگر ہم لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا صورتِ بالا میں مطابق قرآن وحدیث کے جواب مرحمت فرمایا جائے۔ الجواب اگر اس نے اتنے ہی لفظ کہے کہ طلاق طلاق طلاق، نہ یہ کہا کہ دی، نہ یہ کہاکہ تجھ کو یا اس عورت کو، نہ یہ الفاظ کسی ایسی بات کے جواب میں تھے جس سے عورت کو طلاق دینا مفہوم ہو،تو طلاق اصلاً نہ ہوئی، وہ بدستور اس کی عورت ہے دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں، اور اگر اس کے ساتھ یا اس بات میں جس کے جواب میں یہ الفاظ تھے وُہ لفظ موجود تھے جن سے یہ مفہوم ہو کہ اس نے اپنی عورت کو طلاق دی یا وہ اقرار کرےکہ میں نے یہ الفاظ عورت کو طلاق دینے کی نیّت سے کہے تھے تو تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اُس کے نکاح میں نہیں آسکتی، واﷲتعالٰی اعلم۔