مسئلہ ۱۵۶: ۲۸ربیع الثانی شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے کسی کے جبر وظلم سے محض ناچار ومجبور ہوکر اپنی عورت کو طلاق دے دی اور طلاق نامہ لکھ دیا اس صورت میں طلاق پڑے گی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
طلاق بخوشی دی جائے خواہ بجبر واقع ہوجائے گی۔ نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ، شیشہ پر پتّھر خوشی سے پھینکے یا جبر سے یا خود ہاتھ سے چھٹ پڑے شیشہ ہرطرح ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہ زبان سے الفاظِ طلاق کہنے میں ہے،اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خطرہ میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظِ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی۔
تنویرالابصار میں ہے :
ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولومکرھا اومخطئا۱؎ وفی ردالمحتار عن البحران المراد الاکراہ علی تلفظ بالطلاق فلواکرہ علی ان کتب طلاق امرأتہ فتکتب لاتطلق لان الکتابہ اقیمت مقام العبارۃ باعتبارالحاجۃ ولاحاجۃھنا۲؎۔
ہر عاقل بالغ خاوند کی طلاق نافذ ہوجائیگی اگر چہ مجبور کیا گیا یا خطاء سے طلاق کا کہہ دیا ہو، اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ جبر سے مراد لفظ طلاق کہنے پر جبر کیا گیا ہو، اور اگر اس کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا تو اس نے مجبور ہوکر لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی، کیونکہ کتابت کو تلفّظ کے قائم مقام محض حاجت کی بناء پر کیا گیا ہے اور یہاں خاوند کو حاجت نہیں ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۷)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۲۱)
مگر یہ سب اس صورت میں جبکہ اکراہ شرعی ہوکہ اُس سے ضرر رسانی کااندیشہ ہوا اور وُہ ایذاء پر قادر ہو صرف اس قدر کہ اُس نے اپنے سخت اصرارسے مجبور کردیا اور اس کے لحاظ پاس سے اسے لکھتے بنی، اکراہ کے لئے کافی نہیں یُوں لکھے گا تو طلاق ہوجائے گی کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷: از ڈاک خانہ راموچکما کول ضلع چٹاگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ مفیض الرحمٰن ۱۰جمادی الآخر ۱۳۳۶ھ
کسی نے ایک شخص کو جبراًنشہ پلایا وُہ حالتِ بیہوشی میں اگر عورت کو طلاق دے تو کیا طلاق واقع ہوگئی؟
الجواب
لوگ کسی کے اصرار کو بھی جبر کہتے ہیں، یہ جبر نہیں، اگر ایسے جبر سے نشہ کی چیز پی اور اس نشہ میں طلاق دی بلاشبہہ بالاتفاق ہوگئی، ہاں اگر جبر واکراہِ شرعی ہو۔ مثلاً قتل یا قطع عضو کی دھمکی دے جس کے نفاذپر یہ اسے قادر جانتا ہو، یایُوں کہ کسی نے ہاتھ پاؤں باندھ کر منہ چیرکر حلق میں شراب ڈال دی تو یہ صورت ضرور جبر کی ہے، اورتحقیق یہ ہےکہ اس نشہ میں اگر طلاق دے نہ پڑے گی۔ درمختار میں ہے : اختلف التصحیح فیمن سکر مکرھا اومضطرا۱؎۔
جس شخص نے مجبور ہوکر یا اضطراری حالت میں نشہ آور چیز کو استعمال کیا اور اسی نشہ میں اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو ایسے شخص کی طلاق میں تصحیح مختلف ہے(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۷)
ردالمحتار میں ہے :
صحح فی التحفۃ وغیرھا عدم الوقوع وفی النھر عن تصحیح القدوری انہ التحقیق۲؎۔ملخصاً۔واﷲتعالٰی اعلم۔
تحفہ وغیرہ میں طلاق واقع نہ ہونے کو صحیح قرار دیاگیا ہے، اور نہر میں قدوری کی تصحیح بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہی تحقیق ہے ، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۲۴)
مسئلہ ۱۵۸ : ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارےامام اعظم رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ کے نزدیک اگر طلاق جبراً دلوائی جائے تو اگر خوفِ جان سے مجبوراً اگر کوئی عورت اپنی کو طلاق دیوے تو طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں اور اگر لفظِ نفی آہستہ سے اپنی دبی زبان سے کہہ لیوے کہ وہ نہ سمجھے اور نہ سُنے تو بھی واقع ہوجاوےگی یانہیںِ مثلاًیہ کہے میں نے اپنی عورت کو طلاق (نہیں) دی یا لفظ استثنا(اِن شاء اﷲ) آہستہ سے کہہ لیوے تو کیا حکم ہے، یا اور کوئی حیلہ ہوسکتا ہے یا نہیں جس سے طلاق واقع نہ ہو۔
الجواب
طلاق اگر دبی زبان سے دے کیسے ہی جبر واکراہ سے دی ہوجائے گی، اور استثناء یا الحاق نفی اگر ایسی آواز سے تھا کہ خود اپنے کان تک پہنچے کے قابل بھی نہ تھی توعنداﷲبھی معتبر نہیں طلاق ہوگئی، اور اگر اپنے کان تک آواز آئی اس مکرہ نے نہ سنی نہ اور حاضرین نے تو قضاءً طلا ق جائے گی عنداﷲنہ ہوگی۔ حیلہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس کے اکراہ پر کہے طلا ق طلاق طلاق، اور نیّت یہ کرے کہ مہمل مطالبہ کررہے ہو، لیکن مکرہ اگر ہوشیار ہے اور بے تصریح اضافت نہ مانے تو کوئی حیلہ نہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۹: از حافظ شمس الدّین شاہ آباد ضلع ہردوئی گگیانمی ۲۰محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص پندرہ سال سے دیوانہ ہوگیا ہے او اس کی عورت ہے اس کو اپنی عورت سے کوئی غرض واسطہ نہیں ہے، اس کاحق پورا نہیں کرسکتا کھانا کپڑا وغیرہ کچھ نہیں دے سکتا ہے، عرصہ آٹھ دس ماہ کا ہوا اس سے طلاق کے واسطے کہا گیا کہ اپنی عورت کو طلاق دے دے، تب اس نے دومرد اور ایک عورت کے سامنے طلاق دے دی، تین بار اپنی زبان سے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو طلاق دی، عورت کون ہے جس کے رُوبرو طلاق دی دیوانہ کی ماں ہے، مرد وہ کون ہیں جن کے رُوبرو طلاق دی ایک دیوانہ کابھائی ہے دوسرا بھانجا ہے یہ شخص ایسا دیوانہ نہیں ہے جو بالکل ہوش وحواس نہ رکھتاہو، کھاتا پیتا ہے مکان میں رہتا ہے اس کی کوئی جائداد ایسی نہیں جواپنا گزرکر سکے، اس کی عورت دوسرے سے نکاح کرنا چاہتی ہے آیا طلاق ہوئی یا نہیں؟ بینواتوجروا۔ برائے مہربانی جواب سے جلد مطلع فرمائے
الجواب
مجنون کی طلاق باطل ہے وُہ لاکھ دفعہ طلاق دے ہرگز نہ ہوگی، نہ عورت کو دوسرے سے نکاح جائز ہوگا نہ اس کی طرف سے اس کا ولی طلاق دے سکتا ہے لان الولایۃ للنظر لاللضرر(کیونکہ ولایت شفقت کے لئے ہوتی ہے ضرر کے لئے نہیں۔ت) کھانا پینا مکان میں رہنا منافی جنوں نہیں،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰: از شہر بریلی محلہ بہاری پور زوجہ عبدالرحمٰن صاحب ۴محرم الحرام ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ محبوبن کا نکاح مستری عبدالرحمٰن سے عرصہ نوسال کا ہوا جب ہوا تھابعد نکاح ایک سال تک باقاعدہ رہا پھر اس کے یہاں سے چلاگیا چونکہ مکان مسماۃ محبوبن کا تھا اس واسطے وُہ اکیلی مکان میں رہی محلہ والے اس کو سمجھا کر لائے غرضکہ اسی طرح کبھی وُہ چلاجاتا اور کبھی آجاتا یونہی عرصہ نوسال کا ہوا بعد نوسال کے وہ لوگ جونکاح کے گواہ تھے ان کے سامنے کہہ گیا تین بار کہ میں نے اپنی بی بی کو طلاق دی اور کہا نہ تُومیری بی بی نہ میں تیرا شوہر اب اس صورت میں نکاح جائز رہا یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب
سچ اور جُھوٹ کا حال اﷲجانتا ہے، یہ حلال وحرا م وقبر وحشر کا معاملہ ہے، بناوٹ سے حلال حرام نہ ہوجائے گا، نہ اﷲتعالٰی کے یہاں بناوٹ کام دے گی جولوگوں کی چھپی جانتا ہے، اگر واقع میں عورت جانتی ہے کہ وُہ تین بار اس سے یہ الفاظ کہہ گیا تو عدت کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر شوہر واپس آئے اورطلاق سے منکر ہو اور گواہوں میں دو۲ گواہ حامل قبول نہ نکلیں تو طلاق ثابت نہ ہوگی شوہر کے حلف کے بعد عورت اُسے جبراً واپس دلائی جائےگی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۱تا۱۶۳: از فتح پور ضلع شیحا واٹی درگاہ مسئولہ پیرجی محمد حنیف صاحب ۵شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کتنی بار طلاق دینے سے عورت خاوند پر حرام ہوسکتی ہے؟
(۲) جس شخص اپنی زوجہ کو دس۱۰ بار طلاق دے اوراس کے ثبوت میں تین بار خاص اپنے ہاتھ سے تحریر لکھ لکھ کر لوگوں پر ظاہر کرے تو کیا وُہ عورت بغیر حلالہ اس کے لئے بغیر نکاح حلال ہوسکتی ہے؟
(۳) اسی مطلقہ سے اُنہیں شرطوں پر بغیر حلالہ کئے رہی، طلاق دینے والا خاوند صحبت کرتا رہے اور اس کو بدستور اپنے عملدرآمد میں لاتا رہے ا س کا کیا حکم ہے ؟ اُس کی اولاد کیسی ہے اور اس کی جائداد کی مستحق ہوگی یانہیں اورایسا شخص قابلِ خلافت وسجادگی وخرقہ درویشی ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب
(۱)جب طلاقیں تین تک پہنچ جائیں پھر وُہ عورت اس کے لئے بے حلالہ کسی طرح حلال نہیں ہوسکتی،
قال اﷲتعالٰی فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا ہے: اگر تیسری طلاق دی تو مطلقہ اس کےلئے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وُہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن ۲ /۲۳۰)
(۲) جس نے دس۱۰ طلاقیں دیں، تین سے طلاق مغلظ ہوگئی اور باقی سات۷ شریعت سے اس کا استہزا تھیں، بلانکاح تو مطلقہ بائن بھی حلال نہیں ہوسکتی ہے اور یہ تو نکاح سے حرام محض رہے گی جب تک حلالہ نہ ہو طلاق دے یا مرجائے اور بہر حال اس کی عدت گزرجائے اس کے بعد اس پہلے سے نکاح ہوسکتا ہے ورنہ ہرگز ورنہ ہرگز نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳) وُہ صحبت زنا ہوگی اور اسے اگر مسئلہ معلوم ہے تو یہ زانی اور شرعاً سزائے زنا کا مستحق اور اولاد ولدالزناء اور ترکہ پدری سے محروم،اور ایسا شخص قابل ِ خلافت وسجادہ نشینی نہیں،
وقد قال فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار انہ زنا اذاعلم بالحرمۃ۲؎۔
ردالمحتاروغیرہ کتب میں فرمایا: جب حرام ہونا معلوم ہے تو یہ زنا ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۱۰، ۶۱۲، ۶۱۵)
اور اس میں برابر ہے کہ تین طلاقیں ایک ساتھ ہوں یا متفرق۔
درمختار میں ہے :
لاحدبشبہۃ الفعل ان ظن حلہ کوطء معتدۃ الثلاث ولوجملۃ۳؎۔(ملخصًا)
جب حلال ہونے کا گمان کیا تو یہ شبہہ فعل ہوگا جس پر حد نہیں، جیسا کہ اپنی مطلقہ ثلاثہ کی عدت میں جماع کیا اگرچہ اکھٹی تین طلاقیں ہوں(ملخصاً) (ت)
(۳؎ درمختار باب العطاء الذی لایوجب الحد الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۱۸)
ردالمحتار میں ہے:
ای ولوکان تطلیقۃ الثلاث بلفظ واحد فلایسقط عنہ الحدالاان ادعی ظن الحل وکذالو وقع الثلاث متفرقۃبالطریق الاولٰی اذلم یخالف فیہ احد لان القراٰن ناطق بانتفاء المحل بعد الثلاثۃ۱؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
یعنی ایک لفظ سے تینوں طلاقیں دے دی ہوں تو عدت میں وطی کرنے پر حد ساقط نہ ہوگی مگر ا س نے اس صورت میں حلال ہونا گمان ہوتو پھراس پر حد نہ ہوگی، او ریوں ہی اگر اس نے تین متفرق دی ہوں تو بطریق اولٰی حد ساقط ہوگی کیونکہ اس میں کوئی مخالف نہیں تین طلاقوں کے بعد بیوی کامحلِ وطیئ نہ رہنا قرآن کی نص ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الولی الذی یوجب الحد والذی لایوجبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۱۵۲)