Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
77 - 155
مسئلہ ۱۵۰: طلاق کتنے مرتبہ دینے سے عورت نکاح سے باہر ہوسکتی ہے؟



الجواب

تین مرتبہ ہوجائے تو عورت ایسی نکاح سے باہر ہوتی ہے کہ بے حلالہ پھر اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور تین مرتبہ سے کم کے لئے کچھ الفاظ مقرر ہیں کہ ان سے نکاح جاتا ہے مگر بے حلالہ نکاح پھر کرسکتا ہے،اور ابھی عورت سے خلوت کی نوبت نہ پہنچی ہوتو کسی لفظ سے ایک ہی طلاق دینے سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے، واﷲتعالٰی اعلم۔



مسئلہ ۱۵۱تا۱۵۲: از اندور چھاؤنی ریزیڈنسی گورنمنٹ پریس سنٹرل انڈیا مسئولہ عبد الکریم پسر سکندر خاں پہلواں ۱۶ جماد ی الآخرہ ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایک شخص نے اپنی زوجہ کو واقعی طلاق نہیں دی تھی کسی مقدمہ میں برسراجلاس فریق ثانی کے سوال کے تردید میں جس نے کہ اس کی زوجہ کا بوجہ نوع بنوع تکالیف کے اس کے یہاں سے فرار ہونا ظاہر کیا تھا یہ جواب دیا کہ اس کی زوجہ فرار نہیں ہوئی بلکہ میں نے اس کو طلاق دے دی تھی لیکن بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ شخص مذکور الصدر نے محض اپنی آبروریزی کے خیال سے نیز اپنی بات کوبالارکھنے کی وجہ سے طلاق کا اظہار کچہری کے رُوبرور کیا تھا، آیا ایسی صورت میں جیساکہ اس نے کچہری کے رُبرو ظاہر کیا طلاق ہونا جائز ہے کیا؟

(۲) شخص مذکور الصدر ہی نے ایک دعوٰی بازیابی زوجہ اپنی زوجہ کے خلاف کچہری مجاز میں دائر کیا، کچہری نے بعد انفصال مقدمہ ایک نوٹس میعادی آٹھ یوم بایں مضمون بنام مدعی جاری کیا کہ میعاد مقررہ کے اندر مدعی اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جائے ورنہ بعد انقضائے میعاد مذکور سمجھاجائے گا کہ مدعی مذکور کی جانب سے طلاق ثلاثہ ہوگئی، چنانچہ نوٹس مجریہ بعد بعد اطلاع یابی مدعی بلاکسی اطلاع کے کہ مدعی اپنی زوجہ کو اتنے روز میں لے جائے گا موصول کچہری مجاز ہوگا، بعد اختتام میعادِ مذکور وکیل مدعا علیہا نے ازروئے قانون مروجہ ہدایت کی کہ مدعا علیہا اب اپنا عقد ثانی کرسکتی ہے، اس صورت میں اگر خلاف مدعا علیہا کسی قسم کا دعوٰی مدعی کی طرف سے ہوگا تو اس کا ذمّہ دارمیں ہوں،لہذا عرض ہے کہ اس صورت میں بھی کہ جو یہاں کی گئی تحریر فرمائیں ازروئے شرع شریف طلاق ہوگئی یا نہیں؟



الجواب

پہلی صورت میں ایک طلاق ہوجانے کا حکم دیا جائے گا اگر چہ عنداﷲنہ ہو، جبکہ جُھوٹ کہا ہو کما فی الخیریۃ فیمن اقربالطلاق کاذبا(جیساکہ خیریہ میں طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے والے کی بحث میں ہے۔ت)

صورت دوم میں ہرگز طلاق نہ ہوئی، نوٹس میں دوسرے کا یہ لکھ دینا اور شوہر کا جواب نہ دینا محض مہمل ہے، ہرگز اس سے عورت کو دُوسری جگہ نکاح کا اختیار نہیں ہوسکتا، حدیث میں ہے : الطلاق لمن اخذبالساق۱؎(طلاق کا حق صرف خاوند کو ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ سنن ابن ماجہ     باب الطلاق         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۱۵۲)
مسئلہ ۱۵۳: از شہر رجمٹ اکاکور ۶۳چھاؤنی مسئولہ محمد حسین صاحب سہارنپوری ۲۰ربیع الآخر۱۳۳۶ھ

عمرو کو عشق ہوگیا تھا اور ہروقت خیالِ معشوق رہتا تھا اور فکر دل رہتا تھا اور خلش بہت تھی عمرو نے گھبراہٹ میں طلاق دے دی، اس کلمہ کو دن میں بار بار جنون کی حالت میں بیان کرتا تھا۔



الجواب

فقط گھبراہٹ یا دماغ پر گرمی کا نام جنون نہیں ، اگر واقعی مجنون نہ تھا تو طلاق ہوگئی، اگر تین بار کہی تو تین بار، وُہ الفاظ جو اس نے بار بار کہے سائل نے بیان نہ کئے کہ اُن کا مفصل حکم دیا جاتا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔



مسئلہ ۱۵۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میں لڑائی ہوئی،زید نے حالتِ غیظ وغضب میں ہندہ کو طلاق نامہ لکھ دیا اور اپنے مکان سے نکال دیا،اُسے مدت گزری یہاں تک کہ عدت گزرگئی، اب زید کہتا ہے کہ مجھے طلاق منظور نہ تھی  میں نے شدتِ غضب میں وہ طلاق نامہ لکھا تھا اور زبان سے کوئی لفظ طلاق نہ کہا تھا، پس اس صورت میں زید کا یہ عذر قابلِ سماعت ہے یا نہیں؟ ہندہ پر طلاق ہوئی یا نہیں؟ اور اگر ہوئی تو اب زید اس سے نکاح کرسکتا ہے یانہیں؟ اور ہندہ کا ہر زید پرواجب الادا ہوگیا یانہیں؟ بینواتوجروا



الجواب

غصّہ مانع وقوعِ طلاق نہیں بلکہ اکثر وہی طلاق پر حامل ہوتا ہے، تو اسے مانع قرار دینا گویا حکمِ طلاق کا راساً ابطال ہے، ہاں اگر شدّتِ غیظ وجوشِ غضب اس حدکو پہنچ جائے کہ اس سے عقل زائل ہوجائے، خبر نہ رہے کیا کہتا ہوں زبان سے کیا نکلتا ہے، توبیشک ایسی حالت کی طلاق ہرگز واقع نہ ہوگی، پس صورت مستفسرہ میں اگر زید اس حالت تک نہ پہنچا تھا تو صرف غصّہ ہونا اسے مفید نہیں اور طلاق جس طرح قول سے واقع ہوتی ہے یونہین تحریر سے، پس وہ طلاق واقع ہوگئی اور بہ سبب مرور عدت کے اب رجوع بھی نہیں کرسکتا، ہاں اگر تین طلاقیں نہ تھیں تو نکاحِ جدید بے حلالہ کے کرسکتا ہے ورنہ حلالہ کی ضرورت ہےکما ھوالحکم المعروف(جیسا کہ حکم مشہور ہے۔ت) اور مہر ہندہ اس صورت میں بیشک زید پر واجب الادا ہے، اور اگر وہ دعوٰی کرے کہ اس تحریر کے وقت میرا غصہ ایسی ہی حالت کو پہنچا ہوا تھا کہ میری عقل بالکل زائل ہوگئی تھی اور مجھے نہ معلوم تھا کہ میں کیا کہتا ہوں کیا میرے منہ سے نکلتا ہے، تو اطمینانِ ہندہ کےلئے اس کا ثبوت گواہانِ عادل سے دے کہ اگر چہ عنداﷲوہ اپنے بیان میں سچا ہواور اسے عورت کے پاس جانا دیانتاً روا ہو مگر عورت کو بے ثبوت بقائے نکاح اس کے پاس رہنا ہرگز حلال نہیں ہوسکتا، توضرور ہوا کہ زید اپنے دعوٰی پر گواہ د ے یا اگر معلوم ومعروف ہے کہ اسے پہلے بھی کبھی اس کی ایسی حالت ہوگئی تھی تو گواہوں کی کچھ حاجت نہیں مجرد قسم کھا کر بیان کرے ورنہ مقبول نہیں(جواب ناقص ملا)



مسئلہ ۱۵۵: از رامپورمحلہ پھول واڑہ مرسلہ محمد علی صاحب     مورخہ ۷ذی الحجۃ الحرام ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین بیچ اس مسئلہ طلاق کے کہ زید کی بیوی جب اپنے میکہ گئی تو علیل ہوگئی اورحاملہ بھی ہے جب کچھ فرست ہوئی تو سسرال میں آئی شام کے ۷بجے ماہِ رمضان میں ایک دورہ گرمی یا کسی دوسری بیماری کے سبب سے لاحق ہوا اور اس وقت کی حالت خطر ناک تھی زید اپنے مکان پر موجود نہ تھا کچھ عرصہ کے بعد جب زید مکان پر آیا اور اپنی کو ایسی حالت میں دیکھا فوراً واپس گیا تاکہ حکیم صاحب کو لائے جب حکیم صاحب کے یہاں وُہ جارہا تھا تو اس نے اپنی سسرال میں بھی اس واقعہ کی خبر کردی جس پر زید کے خسر اور ساس آگئے حکیم صاحب نے اپنی تشخیص سے یہ ثابت کیا کہ کسی چوٹ کی وجہ سے یہ دورہ پڑا ہے اس پر زید کے سالے نے یہ خیال کرکے کہ زید نے اس کی ہمشیرہ کو مارا ہے سخت وسُست کہنا شروع کیا جس پر زید بھی وہی کہنے کے لئے تیار ہوگیا، نوبت باینجار سید کہ ہاتا پائی شروع ہوگئی، زید کی والدہ نے زید کے پھوپھا زاد بھائی کو آوازدی اور وُہ زید کی زوجہ سے بھی یہ رشتہ رکھتے ہیں وہ فوراً  آگئے اور زید کو پکڑکرلے گئے۔ اس وقت زید کی حالت ایک دیوانے کُتّے کی تھی اس کو کسی بات کا ہوش نہ تھا،اسی رات میں اس نے یہ کہا جس عورت کی وجہ سے یہ بے عزّتی مجھ کو اٹھانا پڑی میں نے اس کو تین طلاق پر چھوڑا لیکن یہ کلمہ ایک مرتبہ اس کے منہ سے نکلا زید کے خسر اپنی بیٹی کو اسی وقت لے گئے جس کو اب تک دو۲ماہ اور کچھ دن گزرے اس پر کیا حکم ہے اورزید نے اپنی بیوی بلانے کےلئے کہا ہے۔



الجواب

تین طلاقیں ہوگئیں، بے حلالہ نکاح نہیں ہوسکتا مگر جبکہ گواہانِ عادل شرعی سے ثابت ہوکہ واقعی وہ اس وقت حالتِ جنون میں تھا  یایہ معلوم ومشہور ہوکہ اسے جب غصّہ آتا ہے عقل سے باہر ہوجاتا ہے اور حرکاتِ مجنونانہ اس سے صادر ہوتی ہے اس حالت میں اگر وہ قسم کھاکر کہہ دے گا کہ اس وقت میرا یہی حال تھا اور میں عقل سے بالکل خالی تھا تو قبل کرلیں گے اور بحکمِ طلاق نہ دیں گے، اگر جُھوٹا حلف کریگا وبال اس پر ہےوالمسئلۃ فی الخیریۃ وردالمحتار وغیرھا(یہ مسئلہ خیریہ اور ردالمحتار وغیرہما میں ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter