| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۴۶ :ازرامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ل۲۷شعبان ۱۳۳۹ھ شمس العلماء رئیس الفضلائے خانخاں جناب احمد رضاخاں صاحب دام لطفہ، السّلامُ علیکم!اگر غضب کثرت سے ہو کہ ایسا غصہ ہوکہ کامل عقل نہ ہو اس حا لت میں اگر طلاق صریح وغیرہ دیوے تو واقع ہوگی یانہ؟ الجواب غضب اگر واقعی اس درجہ شدّت ہو کہ حدّجنون تک پہنچا دے تو طلاق نہ ہوگی اور یہ کہ غضب اس شدت پر تھا، یا تو گواہان عادل سے ثابت ہویا وہ اس کا دعوٰی کرے اور اس کی یہ عادت معہود معروف ہو تو قسم کے ساتھ اس کا قول مان لیں گے ورنہ مجرد دعوٰی معتبر نہیں، یوں تو ہر شخص اس کا ادعا کرے اور غصّہ کی طلاق واقع ہی نہ ہو حالانکہ غالباً طلاق نہیں ہوتی مگر بحالتِ غضب،
ردالمحتار میں خیریہ سے ہے :
الدھش من اقسام فلایقع واذاکان یعتادہ بان عرج ھذاالدھش مرّۃ یصدق بلابرھان اھ۱؎وتمام تحقیقہ فی فتاوٰنا۔
مدہوشی، جنون کی قسم ہے۔ لہذا طلاق نہ ہوگی۔ جب عادت بن چکی ہو اور ایک مرتبہ مدہوشی معلوم ہوچکی ہوتو خاوند کی بات بلادلیل مان لی جائے گی اھ اس کی تحقیق ہمارے فتاوٰی سے معلوم کی جائے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۲۷)
مسئلہ۱۴۷: از شہر پوربندر مقام کھاری مسجد مرسلہ مولوی محمد اسمٰعیل خاں صاحب ۴ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی عورت زینب سے حالتِ غصّہ میں کہا زینب طلاق طلاق طلاق یعنی بے شمار طلاق جس کا اندازہ معلوم نہین، اور زید کہتا ہے کہ مجھ کوحالتِ غصّہ میں خبر نہیں کہ میں نے کتنے دفع طلاق دیا ہے بحضور الشاہدین، اور زینب کے خویش واقارب کہتے ہیں کہ زید نے تین طلاقیں شرعاً دی ہیں اور اب زید اپنی عورت زینب سے رجعت کرنا چاہتا ہے اور عورت کے وارث انکار کرتے ہیں، اوریہ آدمی نمازی ہے اور غریب ہے، یہاں علماء نے فتوی دیا ہے کہ رجوع صحیح ہے مگر لوگ نہیں مانتے ، اب حق آپ کی جانب ہے جیساکہ حکمِ شریعت ہو، اگر آپ جواب نہ دوگے تو غریب کا حق ماراجائے گا اور دوسرا کوئی ہندوستان میں آپ جیساعالم نہیں، آپ کا فتوٰی اطراف میں جاری ہے۔بیتواجروا
الجواب جبکہ زید ان الفاظ سے طلاق دینے کا اقرار کرتا ہے، گنتی میں سہو بتاتا ہے، اگر ثابت ہو کہ یہ لفظ تین بار کہے تین طلاقیں ہوگئیں رجعت ناممکن ہے بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا۔
قال اﷲتعالٰی فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: تیسری طلاق کے بعد عورت حلال نہیں تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۰)
مسئلہ۱۴۸: ازکلکۃ دھرم تلہ اسٹریٹ نمبر۱۶۲مرسلہ عزیز الرحمٰن صاحب پیش امام مسجد ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کئی آدمیوں نے مل کر ایک شخص سے کہا کہ تو اپنی اہلیہ کو طلاق دے دے۔پس اس کی زبان سے بلانیّتِ طلاق کے نکل پڑا''ہاں ہاں'' تو اس صورت میں اس کی اہلیہ پر طلاق ہوگا یا نہیں؟ جواب کُتب دینیہ سے ارشاد ہو۔بینواتوجروا۔ الجواب جبکہ اُن اشخاص نے اس سے طلاقِ زن کی درخواست کی اوراس کے جواب میں اس نے ''ہاں ہاں'' کہا طلاق اصلاً نہ ہوئی اگر چہ نیت طلاق ہی کہتا کہ لفظ''ہاں'' جب امر کے جواب میں واقع ہوتو اس کا حاصل وعدہ ہوتا ہے یعنی ہاں طلاق دے دُوں گا اور اس سے طلاق نہیں ہوسکتی اگر چہ نیت کرے کہ طلاق کے لئے نیت بے لفظ کافی نہیں، ہاں اگر وہ یوں کہتے کہ تُونے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، تو یہ اخبار یا بتقدیر لفظ کیا استخبار ہوتااس کے جواب میں اگر وہ ہاں کہتا ضروروقوع کا حکم دیا جاتاکہ اب وہ تصدیق واقرار ہے اس صورت کی تصریح کی ضرورت یہ بھی تھی کہ بعض اطرافِ ہند کے بلاد میں فاعل فعل متعدی کے ساتھ بھی لفظ (نے) نہیں کہتے مثلاً تو کہا یا آپ فرمائے، بولتے ہیں اگر ان لوگوں کا یہی محاورہ معلومہ معروفہ ہیے اور ''دے دی'' بیائے معروفہ کہا تھا اور زید نے یہی معنٰی سمجھ کر ''ہاں'' کہا تو حکماً طلاق واقع مانی جائے گی، اگر چہ عنداﷲ طلاق نہ ہوئی جبکہ واقع میں نہ دی تھی اور جھوٹ اقرار کردیا۔
تاج العروس میں ہے :
فی التھذیب قد یکون نعم تصدیقا ویکون عدۃ وحاصل مافی المغنی وشروحہ انہ یکون حرف تصدیق بعد الخبر ووعدہ بعدافعل ولاتفعل۱؎الخ۔
تہذیب میں ہے کہ نعم(ہاں) کا لفظ تصدیق ہوتا اور وعدہ ہوتا ہے، اور مغنی اور اس کی شروح میں مذکور کا ماحصل یہ ہے کہ نعم خبرکے بعد تصدیق اور کر (امر) اور نہ کر (نہی) بعد وعدہ ہوتا ہے الخ(ت)
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
سئل نجم الدّین عن رجل قال لامرأتہ اذھبی الٰی بیت امّلک فقالت طلاق دہ تا بردم فقال تو برومن طلاق دادم فرستم قال لاتطلق لانہ وعدکذافی الخلاصۃ۲؎۔
ردالمحتار میں ہے:
فی البحر عن البزازیۃ والقنیۃ لوارادالخبر عن الماضی کذبالایقع دیانۃ وان اشھد قبل ذلک لایقع قضاء ایض۳؎اھ واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
بحر میں بزازیہ اور قنیہ سے منقول ہے کہ مذکور ہ صورت میں اگر خاوند نے ماضی کے بارے میں جُھوٹی خبر دیتے ہوئے کہا ہوتو طلاق نہ ہوگی، اور اگر پہلے سے گواہ بنالئے ہوں تو قضاءً بھی طلاق نہ ہوگی اھ واﷲسبحانہ، وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ تاج العروس فصل النون من باب المیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۹ /۸۲) (۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۴) (۳؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۲۸)
مسئلہ ۱۴۹: از کلکتہ امر تلہ لائن نمبر۲۶ مسئولہ رحمت اﷲآدم غنی ۲۸ شعبان ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح ثابت رہا یا طلاق ہوا، ہماری بی بی سے اور ہماری والدہ سے جھگڑا ہوا، اس رنجش سے ہماری والدہ دوسرے مکان پر چلی گئی ایک ہفتہ بعد جمعرات کو سب لوگ گئے، بی بی سے دریافت کیا کہ ہماری والدہ رنج ہوکر چلی گئی تم اُن کر راضی کرکے لاؤ، بی بی نے انکار کیا، میں نے بہت سمجھایا مگر وُہ راضی نہ ہوئی، میں نے کہا جب تک میری والدہ کو راضی نہیں کروگی ہم بھی تمہارے شریک رنج ملال کے نہیں ہوں گے، اس پر بی بی نے جواب دیا ہم تم کو اور تمہاری ماں کو نہیں چاہتے ہیں تم چلے جاؤ، میں مکاان آئے لگا، بی بی نے کہا ایسے کیوں جاتے ہو صفائی کرکے چلے جاؤ ہم نے جواب دیاکہ کس کو صفائی کے لئے بلاؤں اپنے دل میں ارادہ کیا کہ روزانہ جھگڑے سے اس کو طلاق دینا ہی بہتر ہے، چلے آئے، بستی والوں نے پوچھا کہ کسی کے نزدیک اس کو طلاق دیا، ہم نے جواب دیا کہ اپنے دل سے طلاق اس کو دے دیا جس کو آٹھ نو مہینے کا زمانہ گزرتا ہے اس تاریخ سے آج تک ہم سے اس سے ملاقات نہیں ہے بعد پانچ چھ ماہ کے ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ تم اپنی بی بی سے کیونکہ نہیں ملتے، جواب دیا کہ ہم نے اس کو طلاق دے دیا بجواب اس کے تم نے کس کے نزدیک طلاق دیا، ہم نے اس کو کسی کے سامنے طلاق نہیں دیا اپنے دل سے اس کو ترک کردیا بجواب اس کے ان نے کہا کہ گھر بیٹھے طلاق طلاق طلاق نہیں ہوتا ہے کسی کے سامنے طلاق دینا چاہئے، اس پر اس نے کہا کہ ایسے طلاق نہیں ہوتا ہے، نہ ہوا، اس پر ہم نے کہا ایک طلاق دو طلاق تین طلاق یہ کہہ کر کہا اب ہوا یانہیں؟ان نے کہا ہوگیا۔
الجواب دل میں طلاق دینے سے نہیں ہوتی جب تک زبان سے نہ کہے، بل بصوت یسمع نفسہ لولامنع کما ھوالصحیح لامعتمد فی کل ماھو قول کما فی الدرر وغیرہ۔ بلکہ ایسی آواز سے جس کو مانع نہ ہونے پر خود سُن سکے، جیسا کہ یہی صحیح اور قابل اعتماد قول ہے ہر قولی معاملہ میں جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے(ت) پہلے شخص کے جواب میں اگر یُوں کہتا کہ اپنے دل میں طلاق دے دی تو اس سے بھی طالق نہ ہوتی لانہ اقرار بالباطل (کیونکہ یہ باطل کا اقرار ہے۔ت) مگراس نے کہا کہ اپنے دل سے اس کو طلاق دے دی یہ ایک طلاق رجعی ہوئی، عبارتِ سوال سے ظاہر یہ ہے کہ اس گفتگو کے پانچ چھ مہینہ بعد دوسرے شخص سے گفتگو ہوئی ، اور اگرایسا ہے اور اس پانچ چھ مہینے میں گفتگو ئے شخص اول کے بعد سے اب تک عورت کی تین حیض شروع ہوکر ختم ہوچکے تو یہ تین طلاقیں نہ ہوئیں لفوات المحل بالبینونۃ (بائنہ طلاق کی وجہ سے اب طلاق کا محل نہ رہی۔ت)عورت اسی پہلی طلاق پر نکاح سے نکل گئی اب بلا حلالہ اس سے نکاحِ جدید کرسکتا ہے اور اگر اس پانچ چھ مہینے میں عورت کو تین حیض آکر ختم نہ ہوئے تو اب تین طلاقیں ہوگئیں، بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا، واﷲتعالٰی اعلم۔