| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۴۱: از رامہ تحصیل گوجر خاں ڈاکخانہ جاتلی ضلع روالپنڈی مرسلہ تاج محمد صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین، ایک لڑکے نے اپنے باپ سے بولا کہ تم میری زوجہ کو طلاق دے دو، اس نے طلاق دے دی ہے، یہ طلاق واقع ہوسکتی ہے یانہیں؟ الجواب نابالغ نہ خود دے سکتا ہے نہ دوسرے کو وکیل کرسکتا ہے، نہ باپ بذریعہ ولایت اُس کی طرف سے طلاق دے سکتا ہےفانہ ضرر والولایۃ للنظر(کیونکہ یہ تو ضرر ہے جبکہ ولایت شفقت کے لئے ہوتی ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۱۴۲: ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ عورت چار ماہ کا حمل رکھتی ہے اورشوہر طلاق دے تو طلاق جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا الجواب جائز وحلال ہے اگر چہ حمل میں بلکہ آج ہی بلکہ ابھی ابھی اس سے جماع کر چکا ہو،
فی الدرالمختار حل طلاقھن ای الاٰیسۃ والصغیرۃ والحامل عقب وطی لان الکراھۃ فیمن تحیض لتوھم الحبل وھو مفقود ھھنا۱؎۔
درمختار میں ہے، بوڑھی عورت، نابالغہ اور حاملہ عورت کو جماع کے بعد بھی طلاق دینا حلال ہے کیونکہ مکروہ حیض والی عورت کو طُہر میں جماع کے بعد طلاق دینا اس لئے تھا کہ وہاں حمل ٹھہرنے کا احتمال ہوتا ہے جبکہ یہ احتمال یہاں نہیں ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار فصل ویجہرالامام مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۶)
مگر ایک طلاق رجعی دے، اگر دوتین دے گا گنہگار ہوگا،
فی الدر البدعی ثلث متفرقۃ اوثنتان بمرّۃ اومرتین۲؎الخ۔
درمختار میں ہے :
بدعی طلاق یہ ہے کہ تین طلاقیں خواہ متفرق ہوں یا دو طلاقیں ایک مرتبہ یا متفرق دی جائیں الخ(ت) یُوں ہی طلاق بائن ایک ہی دے جب بھی ظاہر الروایۃ میں گناہ ہے،
(۲؎ درمختار شرح تنویرالابصار فصل ویجہرالامام مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۶)
فی ردالمحتار الواحدۃ البائنۃ بدعیۃ فی ظاہرالروایۃ۳؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے: ایک بائنہ طلاق، بدعی طلاق ہے، ظاہرروایت کے مطابق ۔ واﷲتعالٰی اعلم (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۱۸)
مسئلہ۱۴۳: از یریواڈاک خانہ امریا ضلع پیلی بھیت مسئولہ جناب محمد بخش صاحب وذوالفقار خاں صاحب ۴شعبان ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین، ایک شخص نے حالتِ غصّہ میں بہ سبب ملامت برادران زوجہ اپنے کے اپنی بیوی کو طلاق دی اور زمانہ طلاق میں عورت کو ۵۵ماہ کو حمل تھا بعدطلاق اورپورا ہونے مدت حمل کےعورت کے لڑکا پیدا ہوا اور تین چار روز زندہ رہ کر مرگیا یہ طلاق جائز ہے یاناجائز، اور ایسی صورت میں جو حکم مسئلہ ہو اطلاع دی جائے اس عورت کا دوسری جگہ نکاح ہوسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا الجواب عورت کوحمل ہونا مانع وقوعِ طلاق نہیں، اگر طلاق بائن تھی تو مطلقاً اور اگررجعی تھی اور بچّہ پیدا ہونے تک نہ زبانی رجعت کی نہ زوجہ کو ہاتھ لگایا تو بعد ولادت عورت نکاح سے نکل گئی اب اسے اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے، اور اگر طلاق رجعی تھی اور قبل ولادت قول یا فعل کے ذریعہ سے شوہر نے رجعت کرلی تو عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی، وھوتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۴: از موضع بلہری ڈاکخانہ صفدر گنج ضلعبارہ بنکی مرسلہ مہدی حسن صاحب ۴رجب ۱۳۱۹ھ کیا فرمائتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص درمیان فساد باہمی کے بحالتِ غیظ وغضب اپنی بی بی سے تین باریُوں کہے کہ میں نے تجھے طلاق دیامیں نے تجھے طلاق دیا، اور بروقت دینے کے یہ بھی اپنے دل میں ارادہ کر لیا کہ میں ٹھیک ٹھیک اور صحیح عقل سے کہتا ہوں باوجود درمیان جھگڑے باہمی کے غصّہ میں یہ سب باتیں وقوع میں آئی ہوں تو اس حالت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟ اور اگر طلاق ہوگئی تو پھر چند ساعت کے بعد غصّہ فروہوگیا اور میاں اپنے ان افعال قبیحہ پر منفعل ہو کر بی بی کو رجعت کرنا چاہے اور بی بی بھی رجعت پر آمادہ ہو تو کس صورت سے بی بی، میاں پر حلال ہے فقط۔ بینواتوجروا الجواب صورت مذکورہ میں تین طلاقیں ہوگئیں، عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی یعنی اس کی عدت گزرے پھر عورت دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس سے ہمبستری بھی ہو، پھر وہ اسے طلاق دے یا مرجائے اور عدت گزرجائے اس کے بعد اس شخص کو عورت سے نکاح جائز ہوگا۔
قال اﷲتعالٰی فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۱؎،وقال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لاتحلّین الزوجک الاول حتی یذوق الاٰخر عسیلتک وتذوقی عسیلتہ۲؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: اگر تیسری طلاق دی تو اس کے لئے مطلّقہ دوبارہ حلال نہیں ہوگی تاوقتیکہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے۔ اور رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اے عورت تو حلال نہ ہوگی پہلے شوہر کے لئے جب تک تو دوسرے خاوند کا مزہ اوروہ تیرا مز ہ نہ لے لے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)(۱؎ القرآن الکریم ۲/۲۳۰)
(۲؎ صحیح البخاری باب لم تحرّم ما احلّ اﷲلک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۹۲)
مسئلہ۱۴۵: ازشاہجہان پور محلہ باڑوزئی مسئولہ حفیظ اﷲصاحب ۱۲ ربیعالاول شریف ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ درباب طلاق فتوٰی مولانا عبدالحی صاحب لکھنو کا کہ مجموعۃ الفتاوٰی جلد دوم صہ۵۳ میں واقعہ اور پیش خدمت نقل اُس کی اخیر تحریر میں موجود ہے کیا عندالضرورت ہم لوگ اس پر عمل کرسکتے ہیں یا نہیں؟ بینواتوجروا نقل فتوٰی مولاناعبد الحی صاحب لکھنوی قدس سرہ الولی کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت کو حالتِ غضب میں کہا کہ میں نے طلاق دیا میں نے طلاق دیا میں نے طلاق دیا، پس اس تین بارکہنے سے تین طالق واقع ہونگی یا نہیں؟ اور اگر حنفی مذہب میں واقع ہوں اور شافعی میں مثلاً واقع نہ ہوں تو حنفی کوشافعی مذہب پر اس صورت خاص میں عمل کرنے کے رخصت دی جائے گی یا نہیں؟ ھوالمصوّب الجواب:اس صورت میں حنفیہ کے نزدیک تین طلاق واقع ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح نہ درست ہوگا مگر بوقتِ ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور احتمال مفاسد زائدہ کا ہو تقلید کسی اور امام کی اگر کرے گا تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا، نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوجہ مفقود وعدّت ممتدۃ الطہر موجود ہے کہ حنفیہ عند الضرورت قول امام مالک پر عمل کرنے کو درست رکھتے ہیں، چنانچہ ردالمحتار میں مفصّلاً مذکور ہے لیکن اولٰی یہ ہے کہ وُہ شخص کسی عالم شافعی سے استفتاء کرکے اس پر عمل کرے، واﷲاعلم حررہ عبدالحی عفی عنہ۱؎۔
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی عبد الحی لکھنوی کتاب الطلاق مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۴۸۔۳۴۷)
الجواب یہ فتوٰی گمراہ گری ہے، اس پر عمل حرام قطعی ہے ، ان کے مجموعہ فتاوٰی میں این وآں وزید وعمر کے فتوی بھی بھرےہیں یہاں تک کہ غیر مقلدوں کے بھی، یہ فتوی بھی کسی غیر مقلّدکا ہوگا اور وُہ بھی نرے جاہل اجہل کا، جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایک جلسہ میں تین طلاقیں ہوجانے پر جمہور صحابہ وتابعین وائمہاربعہ رضی اﷲتعالٰی عنہم کااجماع ہے، ہرگز امام شافعی یا کوئی امام اس کے خلاف کے قائل نہیں، اور اگر وُہ یہ جانتا ہے پھر امام شافعی و مخالف مانتا ہے تو سخت کذّات مکّار ہ اور عوام کو دھوکے دینے والا۔ امام اجل ابوزکریا نووی شافعی شرح صحیح مسلم شریف میں فرماتے ہیں : قال الشافعی ومالک ابوحنیفۃ واحمد وجماھیرالعلماء من السلف والخلف یقع الثلث۲؎۔ امام شافعی، امام مالک، امام ابوحنیفہ،امام احمد اور پہلے اور پچھلے جمہور علماء علماء نے فرمایا تین طلاقیں واقع ہوں گی۔(ت)
(۲؎ شرح صحیح مسلم للنووی باب طلاق الثلاث قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۷۸)
یعنی امام شافعی وامام مالک وامام ابوحنیفہ وامام محمد وجمہور علمائے سلف وخلف کا یہی مذہب ہے کہ صورت مذکورہ میں تین طلاقیں ہوگئیں معہذااسے ضرورت ماننا صراحتًا مذہب کا ڈھانا ہے، کون نہیں کہہ سکتا کہ عورت کا علیحدہ ہونا مجھ پر دشوار ہے، کون نہیں کہہ سکتا کہ احتمال مفاسد ہے، احتمال کو ضرورت جاننا عجب جہالت ہے نہ کہ فقط نفس پر شاق ہونے کو تمام تکلیفاتِ شرعیہ کا ہدم کرے گا وہ سب نفس پر شاق ہونا ضرورت ٹھہرا والضرورات تبیح المحظورولاحول ولا قوۃ الّاباﷲ(ضروریات، ممنوعات کو مباح کرتی ہیں ولاحو ولاقوّۃ الاباﷲ۔ت) مسئلہ مفقود وامتداد طہر پر اس کا قیاس کرنا صریح وسواس ہے پھر رفع سراسر بطالت وجہالت کرخمیر ہے کسی طرح یقین نہیں کہ مولوی لکھنوی صاحب کی ہواگر چہ غلطی کاتب سے ان کانام لکھا گیا ہواور اگر واقعی اُن کی ہے تو اتباع حق کا ہے، نہ غیر۔ واﷲتعالٰی اعلم