| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۳۸: از کیمپ میرٹھ لال کورتی بازار کوٹھی خان بہادر صاحب مرسلہ شیخ میر محمد صاحب ۴شعبان ۱۳۳۶ھ زید اور عمرو(برادر منکوحہ زید) کی ایک روز کسی بات پر باہم سخت حجت ہوئی اور عمرو نے زید اپنے بہنوئی س کہا کہ مہربانی کرکے اس طرف کاارادہ نہ کیجئے جس کا مقصد یہ تھا کہ میرے(عمروکے) مکان پر نہ آئے گا۔ اس کے جواب میں زید نے غصّہ کی حالت میں کہا میں اس کو طلاق دے چکا،یا یہ کہا میں تو اس کوطلاق دے چکا، اسی طرح تین چار مرتبہ یہی الفاظ کہے، اس سے قبل اپنی زوجہ سے لفظِ طلاق کبھی نہ کہے تھے، کیا اس صورت میں زید کی منکوحہ پر طلاق ہوگئی یا نہیں؟ الجواب عمرو کی مراد اس طرف سے کچھ بھی سہی جبکہ زید اپنی زوجہ کی نسبت سمجھا اور اُسے تین بار کہا میں اس کو یا میں تو اس کو طلاق دے چکا، تین طلاقیں ہوگئیں، زید گنہگار ہوا اور عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔
قال اﷲتعالٰی فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ۔۲؎
اﷲتعالٰی نے فرمایا:تیسری طلاق کے بعد اس خاوند کے لئے دوبارہ حلال نہیں ہوسکتی تا وقتیکہ وُہ مطلقہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔(ت)اور غصّہ کا عذر بیکار ہے طلاق اکثر غصّہ ہی میں ہوتی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم
(۲؎ القرآن الکریم ۱ /۲۳۰)
مسئلہ۱۳۹: از پالی مارواڑ متصل دروازہ جھالر باڑ مسئولہ بنی بخش صاحب ۷شوال ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی رمضانی ولد گگا نداف نے اپنی عورت جنابنت محمد بخش قوم نداف ساکنہ پالی کو۲۳ربیع الاول ۱۳۳۹ھ کوحسب ذیل تین طلاقیں دیں اور نکال دیا' پانچ روز بعد مولوی سیّد احمد علی صاحب کے پاس جاکر اپنا حال کہا، انہوں نے جواب دیا میں شام کو فریقین کے بیان سنوں گا، بعد عشاء آئے اور فریقین اور گواہوں کے بیان لے کر طلاق کا زبانی فیصلہ دے کر بیان میں چلے گئے وہ بیانات درج ذیل ہیں: بیان گواہ اوّل مسمّی رحمان علی شاہ درویش: اس طلاق سے میں واقف ہوں اس نے اپنی عورت کو طلاق دی اور یہ لڑکی اپنے باپ کے مکان چوترے پر بیٹھی تھی تب میں نے اُس سے کہا کہ آبیٹی! میں تجھ کو تیرے مکان پرلے چلوں تب وُہ میرے ساتھ ہولی اُس وقت رمضانی نے ایک پتّھر پھینکا اور کہا کہ شاہ صاحب اس کو کہاں لے جاتے ہو میں اس لڑکی کو باپ کے گھر جانے کو کہہ دیا اور میں نے اپنی جگہ جابیٹھا تب رمضانی مذکور سے کہا گیا کہ بیأان سچ ہے یا نہیں، کہاہاں سچ ہے۔ بیان گواہ ثانی مسمی بنی بخش ولد حسن جی نداف: میں ایمان سے بیان کرتا ہوں کہ یہ (رمضانی) واہی تباہی بکتا تھا، میں نے کہا کہ اگر اس کورکھنا منظور نہ ہوتو اس کو چھوڑدے یعنی طلاق دے دے، تب اس نے کہا کہ میں اس کو کل طلاق دے چکاہوں، اور باقی رہا مہر چار روپیہ تو اس کے باپ سے میں مانگتا ہوں باقی پانے برتن بیچ کردے دُونگا۔ رمضانی صاحب سے کہا گیا یہ سچ بیان کرتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر ایک قرآن مجید منگوا کر اس سے کا گیا اگر تُونے طلاق نہیں دی ہے تو قرآن شریف ہاتھ میں لے کر قسم کھالے، جواب دیا: میں قسم نہیں کھاتا اس عورت کو قرآن دے دو اگر قسم کھالے گی سچّی ہوگی، شاید وہ بھی طلاق چاہتی ہو اور چھٹکارے کے واسطے قسم کھالے تو پھر کوئی علاج نہ ہوگا، اس نے پھر یہی جواب دیا اگر یہ قسم کھالے تو یہ سچّی ہے، تب لڑکی سے کہا گیا تجھ کو اگر اس نے طلاق دے دی ہو تو قرآن شریف ہاتھ میں لے کر قسم کھالے اس نے دونوں ہاتھ قسم کیلئے قرآن شریف لینے کو بڑھائے لیکن اس خیال سے کہ شاید حیض سے ہو قرآن اس کے ہاتھ میں نہ دیا اور کہا تُو خدا کی قسم کھاکر بیان کر کہ کس طرح طلاق دی ہے تب اس نے قسمیہ بیان کیا کہ ہمارے باربار لڑائی رہتی ہے اس رات کو بھی ہوئی اوراس نے کہا کہ میں تجھ کو صبح ٹھیک کروں گا ، جب صبح میں اُٹھی تو اس نے کہا کہ آٹا ہے یا نہیں؟ تومیں نے کہا کہ آٹا تھوڑاہے زیادہ نہیں، تب اس نے کہا بندولے کے واسطے کہا تھا تونے کیوں نہیں پیسا؟ اب میں نے کہا کہ اب پیسنے لانی ہوں، تب اس نے کہا اب کوئی ضرورت نہیں تو روٹی بیکر، تب اس کے کہنے سے روٹی بیکرنے لگ گئی، تو اس نے کہ تجھ طلاق ہے تو چلی جا،تب اٹھ کر اپنے باپ کے گھر چلی آئی تو تھوڑی دیر بعد چچا مجھ کو بلواکر لے گئے تو ہم دونوں کو سمجھا کر بٹھا آئے تب میں نے روٹی پکائی تو اس نے مجھے کہا کہ تو کیوں آئی تجھ کو طلاق ہے تُوچلی جا، تو پھر میں وہاں سے چلی آئی، باقی شاہ صاحب گواہ اول اور پتھر وغیرہ کا قصہ بیان کیا، تب مسمّی رمضانی سے دریافت کیا کیا یہ عورت سچ کہتی ہے؟ اس نے کہا ہاں سچ ہے فقط، لہذا عرض یہ ہےکہ ان بیانوں پر طلاق ہوگی یانہیں؟بینواتوجروا الجواب گواہوں کے بیان ناقص ہیں اور ان میں تین طلاقوں کا کہیں ذکر نہیں اورعورت کا قسم کھانا محض نامعتبر ہے کہ وُہ مدعیہ ہے مدعی کا حلف نہیں سُنا جاتا اس سے گواہ مانگے جاتے ہیں گواہ نہ دے سکے تو مدعا علیہ پر حلف رکھا جاتا ہے۔ رمضانی نے جوگواہوں کے بیان کی تصدیق کی اس سے صرف طلاق ثابت ہوگی تین طلاقوں کا ثبوت نہیں کہ اس کا ذکر بیان شاہدانِ میں خود نہ تھا، ہاں اگر ثابت ہوکہ عورت کا بیان مذکور سُن کر رمضانی نے اس کی تصدیق کی تو بیشک تین طلاقیں ثابت ہوگئیں تصدیق بیان عورت کا اگر رمضانی کو اقرار ہے تو بہتر ورنہ اس تصدیق پر دو۲ گواہ لینے ہوں گے جو''گواہی دیتا ہوں'' کہہ کر پوری صحیح شرعی شہادت ادا کریں، اگر شہادت سے یہ تصدیق نہ ثابت ہوتو تین طلاقوں کا حکم نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر اُن میں کسی گواہ کا بیان رمضانی کا تصدیق کرنا اس کے اقرار یا دو۲شاہدین عادلین کے اظہار سے ثابت ہو تو ایک طلاق ہوئی، اگر رجعت نہ کی اور عدّت گزرگئی تو عورت نکاح سے نکل گئی، اور عدّت کے اندر رجعت کرلی تھی تو عورت بدستور اس کی زوجہ مانی جائے گی، اور اگر کسی گواہ کی بھی تصدیق ثابت نہ ہوتو ایک طلاق کا بھی حکم نہ ہو ا لیکن عورت اگر جانتی ہے کہ اس نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں تو اس پر فرض ہوگاکہ جس طرح جانے اس سے بھاگے باعلانیہ طلاق حاصل کرے اگرچہ اپنے مہر کے بدلے اور مال دے کر۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ مسئلہ۱۴۰: از مقام دیپاسرائے پر گنہ سنبھل ضلع مراد آباد برمکان حاجی امیر حسین صاحب۳۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی طلاق کی نیت دل میں تو کی لیکن زبان سے کوئی طلاق کا لفظ نہیں نکالا اوردوبرس تک اس نے اس سے مجامعت بھی نہیں کی لیکن ہرطرح کا خلاملا اور خوردنوش اور کہلا انتظامات خانہ داری کا برتاؤ برابر اس کے ساتھ رکھا، آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور بی بی کا وہی نکاح سابق قائم رہا یا پھر اس کی تجدید کی جاوے۔ بینو اتوجروا الجواب نکاح سابق باقی ہے اس وجہ سے تجدید کی کوئی حاجت نہیں، نری نیت سے طلاق نہیں ہو سکتی اگر چہ دن میں سوبار نیت کرے، جب تک زبان سے لفظ نہ کہے گا طلاق نہ ہوگی بلکہ زبان کی خالی حرکت بھی کافی نہیں، جب تک اتنی آواز نہ ہو کہ اگر کوئی مانع نہ ہوتو اپنے کان تک پہنچے، زبان کو جنبش ہوئی اور آواز اتنی بھی نہ نکلی کہ اپنے کان تک پہنچ سکتی جب بھی صحیح مذہب میں طلاق نہ ہوگی۔
تنویرالابصار ودرمختار میں ہے :
ادنی المخافتۃ اسماع نفسہ ویحری ذلک فی کل مایتعلق بنطق کتسمیۃ علی ذبیحۃ وعتاق وطلاق وغیرھا فلوطلق ولم یسمع نفسہ لم یصح فی الاصح۱؎۔
مخفی آواز ادنٰی یہ ہے کہ خود کو سُنائے ، اور یہ حکم ان تمام میں جاری ہوگا جن کا تعلق نطق سے ہو، مثلاً ذبیحـہ پر بسم اﷲ، آزاد کرنا، طلاق دیناوغیرہا، تواگر طلاق کہی اور خود نہ سُن سکا، توصحیح قول میں طلاق نہ ہوگی(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار فصل ویجہرالامام مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۹)
ہاں اگر آواز اتنی تھی کہ اپنے کان تک پہنچ سکتی اگر چہ کسی مانع مثلاً غُل شور چکّی، مینہ، بہرے پن وغیرہا کے سبب نہ پہنچی طلاق ہوجائے گی،
ادنی الحد خروج صوت یصل الی اذنہ ولوحکما کما لوکان ھناک مانع من صمم اوجبلۃ اصوات اونحو ذٰلک۔واﷲتعالٰی اعلم۔ ادنٰی حد ہے کہ آواز اتنی ہو کہ اس کے اپنے کانوں تک پہنچے اگر چہ حکماً ایسا ہو مثلاً آواز پہنچ جاتی اگر وہاں بہرہ پن شوروغل وغیرہ نہ ہوتا۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم