Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
73 - 155
مسئلہ۱۳۷: از ستار گنج     ۳جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے زید سے نکاح کیا مگر صحبت نہ ہوئی، صبح کو بوجہ اغوائے چند اشخاص ہندہ نے مہر معاف کیا اور زید نے طلاق دے دی، اس صورت میں اُسی روز شام کو نکاحِ ہندہ عمرو کے ساتھ جائز ہے یانہیں    بینواتوجروا

الجواب 

صورتِ مستفسرہ میں اگر زوج وزوجہ تنہائی کے مکان میںیکجا ہولئے ہوں اور اُن میں کوئی مانع حقیقی ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے وطی اصلاً نہ ہوسکے اس کے بعد زید نے طلاق د ی تو بیشک ہندہ پر عدت واجب ہے اگرچہ مبا شرت نہ ہوئی خلوۃالصحیحۃ فی النکاح الصحیح مثل الوطی فی ایجاب العدّۃٰ وصحۃ الخلوۃ ھٰھنا العدم المانع الحقیقی وان جد مانع شرعی کالصوم۔

عدت کو واجب کرنے میں صحیح نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ وطی کے حکم میں ہے اور یہاں خلوت کی صحت سے مراد جماع سے مانع کا موجود نہ ہونا ہے اگرچہ شرعی مانع مثلاً روزہ پایا جائے تو خلوتِ صحیحہ ہوجائیگی(ت)

شرح نقایہ میں ہے: العدۃ للطلاق بعدالدخول او الخلوۃ الصحیحۃ فانہ طلقھا قبل الدخول اوبعد الخلوۃ الفاسدۃ والفساد لعجزہ عن الوطی حقیقۃ لم تجب العدۃ، ولو لامر شرعی کصوم الفرض تجب کما فی قاضیخان وذکر فی المحیط انہ لاعدۃ بخلوۃ الرتقا ۱؂اھ ملخصًا۔

طلاق بعد دخول یا خلوت صحیحہ ہوتو عدّت ہے کیونکہ اگر دخول سے قبل یا خلوت فاسدہ کے بعد طلاق ہو تو عدّت واجب نہ ہوگی، خلوت کا فساد یہ کہ جماع سے کوئی حقیقی مانع موجود ہو، اگر شرعی مانع مثلاً فرضی روزہ ہوتو وہ مانع موجود ہو، اگر شرعی مانع مثلاً فرضی روزہ ہووتو وہ مانع نہیں ہے اور اس پر عدت لازم ہوگی جیسا کہ قاضی خاں میں ہے اور محیط میں ذکر کیا کہ شرمگاہ میں ہڈی والی عورت سے خلوت پر عدت واجب نہ ہوگی، اھ، ملخصًا(ت)
 (۱؎ جامع الرموز    فصل فی العدۃ     المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران     ۲ /۵۷۸)
پس اگر عدت کے دوران کے بعد طلاق تین حیض کامل کا گزرنا ہے دوسرے سے نکاح کرے گی ہرگز صحیح نہ ہوگا اور حرام محض رہے گا۔
عالمگیریہ میں ہے :
لایجوز للرجل ان یتزوج زوجۃ غیرہ وکذا المعتدہ کذافی السراج الوھاج سواء کانت العدّۃ عن طلاق اووفات او دخول فی نکاح فاسد او شبھۃ نکاح کذافی البدائع۲؎۔
کسی شخص کو یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے کی منکوحہ یا دوسرے کی عدت والی سے نکاح کرے۔السراج الوہاج میں ایسے ہی ہے، عدتِ طلاق ہویا عدتِ وفات ہو، یا نکاح فاسد میں دخول یا شبہہ نکاح میں دخول کی وجہ سے ہو(سب میں دوسرے کا نکاح حرام ہے) بدائع میں یونہی ہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب النکاح     القسم السادس المحرمات التی یتعلق بہا حق الغیر     نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۸۰)
ہاں اگرخلوت بھی نہ ہوئی اور ویسے ہی طلاق دے دی تو ہندہ پر عدت نہیں، اسے اختیار ہے کہ اسی وقت جس سے چاہے نکاح کرلے۔
درمختار میں ہے :
سبب وجوبھا (یعنی العدۃ) عقد النکاح المتأکد بالتسلیم وما جری مجراہ من موت او خلوت الخ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
وجوبِ عدت کا سبب وہ نکاح ہے جس میں بیوی سپرد کردی گئی ہو یا وُہ جو اس کے قائم مقام ہو مثلاً موت یا خلوت ہو، الخ، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ درمختار     باب العدّۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۵۵)
Flag Counter