| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۳۰: ازمارہرہ شریف ضلع ایٹہ محلہ کمبوہ مرسلہ چودھری عبدالراحمٰن صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین، ایک عورت اپنے خاوند سے بہت تنگ ہو، اس کا خاوند اُسے ستاتا ہو تو وُہ لاچار ہوکر جواب طلب کرے تو وُہ جواب بھی ضد سے نہ دے اور حقوق بھی ادا نہ کرے تو پھر وُہ غصّہ میں جواب یعنی طلاق کا ارادہ کرے اور تنہائی میں جواب دے عورت کے سامنے، تو طلاق مانی جائے گی یا نہیں، دوسرے یہ کہ وُہ عورت مجبور ہوکر کسی مرد سے عقد کرلے اور اس پانچ ماہ تک میاں بی بی کا واسطہ رہے اور ایک اس مرد سے لڑکا پیدا ہوگیا، پھر اُس پہلے خاوند نے دعوٰی کیا کہ میں نے طلاق چار کے سامنے تو نہیں دی غرض یہ کہ وہ واپسی لینا چاہتا ہے تو وُہ عورت شرعاً پہلے خاوند پر جائز رہی یا نہیں؟ الجواب بیانِ سوال سے ظاہریہ ہے کہ شوہر اوّل دینے کامقر ہے مگر عذر صرف یہ کرتا ہے کہ طلاق خفیہ دی چار اشخاص کے سامنے نہ د، لہذا اپنی جہالت سے طلاق نہ ہونا سمجھتا ہے، اگر ایسا ہے تو اس کا دعوٰی باطل ہے، طلاق بالکل تنہائی میں دے جب بھی ہوجاتی ہے، اگر عورت نے عدت گزرنے کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح ہوگا اور پہلے شوہر کو اس پر کچھ دعوٰی نہیں پہنچتا،ہاں اگر شوہر سرے سے طلاق دینے سے منکر ہواور عورت کانکاح ثانی کرنا اور پانچ ماہ دوسرے کے پاس رہنا اور اس لڑکا پیداہونا، ان باتوں کی شوہر اوّل کو خبر نہ ہو کہ کسی دوسرے شہر میں ہُوئی ہوں، بعد اطلاع اس نے دعوٰی کیا تو ضرور اس کا دعوٰی قابل سماعت ہےاور عورت کا بیان کہ اس نے طلاق دے دی تھی بے گواہانِ شرعی ہرگز مسموع نہیں، عورت شوہر اول کو دلادی جائے گی، پھر اگر واقع میں اس نے طلاق دے دی تھی اور جُھوٹ انکار کیا تو عورت پر فرض ہے کہ جس طرح جانے اسے سے دور بھاگے یا مہر وغیرہ دے کر طلاق لے اور اگر کچھ نہ کرسکے وبال اس پر ہے، اور عورت جب تک راضی نہ ہو مجبور ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۱: از پیلی بھیت محلہ پکہریا مسئولہ عبدالرحمٰن گھڑی ساز ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے تنہا ایک گوشہ بیٹھ کر جس کو کسی نے نہیں سُنا اپنے دل کے اندر اپنی بیوی کو طلاق دی اس کے عرصہ پانچ ماہ کا گزرا اب وہ شخص رجوع کرنا چاہتا ہے اس کو کس طرح کرسکتا ہے؟بینواتوجروا الجواب اگر فقط دل میں طلاق دی تھی یُوں کہ زبان سے کچھ کہا ہی نہ تھا یا کہا مگر فقط زبان کو حرکت تھی اتنی آواز نہ تھی کہ اپنے کان تک آنے کے قابل ہو جب تو طلاق ہوئی ہی نہیں، اور اگر ایسی آواز سے کہا کہ اپنے کان تک آنے کے قابل تھی اگر چہ مینہ یا ہوا یا کسی غل شور کے سبب اپنے کان تک نہ پہنچی تو طلاق ہوگئی اگر رجعی تھی تو عدّت کے اندر رجعت کرسکتا ہے اور بائن تھی تو برضائے زوجہ اس سے نکاح کرسکتا ہے، اور مغلظ تھی تو بے حلال نکاح نہیں ہوسکتا، یہ ان الفاظ پر موقوف ہے جس اس نے کہا اور جتنی باز کہا، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۲: ازامریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ تاج الدین خاں صاحب۱۵ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسمّی زید نے غصّہ میں آکر پانی منکوحہ مسمّاۃ ہندہ کو ایک شخص مسلمان وایک عورت قوم ہنود کے رُوبرو طلاق دی۔ اور یہ بھی ہے شخص مسلمان کے رُوبرو دومرتبہ لفظ طلاق صاف طور سے کہا کہ وُہ سننے میں نہیں آیا، وُہ عورت اہل ہنود جو وہاں موجود تھی بیان کرتی ہے کہ میں نے سنا یہ لفظ طلاق نہیں کہا تھا، زید ایک شخص بالکل جاہلِ اور اُمّی ہے، اس وقت زید وہندہ دونوں راضی ہیں نکاح کس طرح ہو؟ الجواب اﷲعالم الغیب والشہادۃ ہے وہ ہر ایک کے دل کی جانتا ہے،اﷲسے ڈرے، اگر واقع میں اس نے تیسری بار بھی طلاق دی تھی تو عورت نکاح سے نکل گئی، اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا، اور اگر وُہ منکر ہے اور سوا اُس کافرہ عورت کے اور کوئی تیسری طلاق کا بیان نہیں کرتا تو کافرہ کی بات اصلاً معتبر نہیں، جب تک عدّت میں ہے وہ عورت کو رجعت کرسکتا ہے یعنی اتنا کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھرلیا وہ بدستور اس کے زوجہ رہے گی اگر پہلے کبھی ایک طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ ایک وُہ اور دو یہ مل کر تین ہوگئیں عورت نکاح سے نکل گئی حلالہ کی ضرورت ہوگی، یوں ہی اگر پہلے طلاق نہ دی تھی یہ دو دی ہیں تو آئندہ جب کبھی ایک طلاق دے گا عورت بے حلالہ کے نکاح میں نہ آسکے گی واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳ :از را مپور مسئولہ محمد سعید زید نے بحالتِ غضب اپنی زوجہ ہندہ کو یہ کہا کہ تجھ کو میں نےطلاق دیا، اب اس صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں؟ الجواب ایک طلاق رجعی ہُوئی، غضب مانع طلاق نہیں بلکہ غالباً طلاق بحالتِ غضب ہی ہوتی ہے والدھش شیئ اٰخربینہ فی الخیریۃ وردالمحتار وتحقیقہ فی فتاوٰنا (مدہوش اور چیز ہے، اس کو خیریہ اور ردالمحتار میں بیان کیا ہے، اور اس کی تحقیق ہمارے فتاوٰی میں ہے ت) واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۴: کیافرماتے ہین علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حالتِ غصّہ میں اپنی زوجہ مدخولہ سے د وبارہ کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی، آیا یہ کون سی طلاق واقع ہوئی اور اس کا کیا حکم ہے؟بینواتوجروا الجواب صورت مسئولہ میں دو طلاقیں رجعی واقع ہُوئیں، حکم ان کا یہ ہے کہ مابین عدّت کے رجعت کا اختیار ہے اور بعد انتضائے عدت اگر عورت چاہے اس سے نکاحِ جدید کرسکتا ہے اور ایامِ عدّت حرہ موطوہ میں تین حیض کامل ہیں اور اگر بوجہ صغر یا کبر کے حیض نہ آتا ہوتو تین مہینہ، اورلونڈی میں اگر حائضہ ہوتو دوحیض ورنہ ڈیڑھ مہینہ، اور طریق رجعتِ یہ ہے کہ مطلّقہ سے ایام عدت میں یہ الفاظ کہے کہ میں نے تجھے پھیر لیا یاردکیا یا روک لیا یا امثال اس کے کہے یا مابین عدت کس کرے یا بوسہ یا جماع کرے۔ بہتر طریق او ل ہے ،
فی تنویرالابصار وھی فی حرۃ تحیض بعد الدخول ثلث حیض کو امل، وفی من لم تحض بصغر اوکبر ثلثۃ اشھر، وفی امۃ تحیض حیضتان، وفی امۃ لم تحض نصف الحرۃ۱؎، ملخصاً، وفیہ ھی استدامۃ الملک القائم فی العدۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تنویرالابصار میں ہے وہ عدت وطی شدہ حیض والی کے لئے تین حیض کامل، اور جس کو نابالغی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو ان کے لئے تین ماہ، اور لونڈی حیض والی کے لئے دو حیض اور غیر حیض والی کےلئے ایسی آزاد عورت کی عدت کا نصف یعنی ڈیڑ ھ ماہ۔ اور اسی میں ہے : رجعت(رجوع کرنا) یہ عدت کے درمیان موجود ملکیت کوباقی قائم رکھنا ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب العدّۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۶۔ ۲۵۵)
مسئلہ ۱۳۵: ۲۳جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ زید نے غصہ میں اپنی عورت کو طلاق دی اس وقت ایک آدمی اور موجود تھا بعدہ جو شخص آیا اور پوچھا تو کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق دے دی،ڈیڑہ ماہ تک علیحدہ رہے، اس درمیان میں جس آدمی نے پوچھا تم کیسے علیحدہ ہوتو بار ہا یہی کہا کہ طلاق دے دی، تو طلاق ہُوئی یا نہیں؟ اگر ہوگئی تو نکاح کس طور پرہونا چاہئے؟ الجواب اگر اس وقت ایک بار طلاق دی تھی اور باقی بار اوروں کے پُوچھنے پرکہا اور وُہ قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے ان دفعوں میں طلاق دینے کا ارادہ نہ کیا تھا بلکہ اس کے پُوچھنے پر خبر دی تھی توصرف ایک طلاق ہُوئی اگر رجعی تھی رجعت کرسکتا ہے جب تک عدت نہ گزرے ورنہ دوبارہ اس سے نکاح کرلے ، واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۶؛ از شہر مسئولہ علی محمد برادر ہندہ جس کابیان ہے ۲۷شعبان ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرا شوہر تھا وہ اورمیں اور میرے ماں بھائی ایک ہی مکان رہتے تھے اور روٹی کپڑے پر لڑائی ہوتی تھی تو وہ مجھ کو مارتا اور برا بھلاکہتا تھا تومیں ماں نے یہ کہا کہ اب تیرا کیا کام ہے تونے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو اب یہاں مت آ۔ الجواب اگر یہ بیان سچ ہے تو ایک طلاق ضرور ہوگئی لیکن عورت ابھی نکاح سے نہ نکلی، ہاں اگر ہاں پہلے لفظ سے بھی کہ ''تم میرے کام کی نہ رہیں' ' اس نے طلاق کی نیت کی ہوتو دو۲ طلاقیں ہوگئیں اور عورت نکاح سے نکل گئی، رہا یہ کہ اس نے اس لفظ سے بھی نیت کی تھی یا نہیں، یہ اس کے بیان پر ہے، اس سے قسم لی جائے، نہ ہوں گی ایک ہی رجعی ہوگی کہ عدت کے اندر وُہ اپنے نکاح میں پھیرلے عورت بدستور اس کی زوجہ رہے گی واﷲتعالٰی اعلم ۔