Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
71 - 155
مسئلہ ۱۲۶: موضع مانیا والہ ضلع بجنور     از کفایت علی صاحب وحمایت علی صاحب ۲ شوال ۱۳۳۹ھ 

حضورِوالا! بعد سلام عرض ہے کہ غلام کی بیوی اطاعت نہیں کرتی، سمجھا اثر نہیں کرتا، والدین بھی ناخوش ہیں والدین کی خوشی ہے کہ طلاق دے دو تو حضور اس کو کس طریقہ سے طلاق دی جائے خاکسار اور والدین میں ایک کوڑی مہر دینے کی طاقت نہیں مہر دوسو پانچ ۲۰۵ اشرفیاں میں نے قبول کرلیا تھا، عورت معاف نہیں 

کرتی مگر مہر کی ایک کوڑی کا گونرنمنٹی کاغذ اسٹامپ نہیں ہے کچہری سے بھی عورت کا ولی ایک کوڑی نہیں لے سکتا، یہاں کے مولوی سے دریافت کیا تو یہ کہا کہ شرعاًاسے ساڑھے بارہ روپے دینے چاہئے۔بینواتوجروا

الجواب

اگر آپ طلاق دینا چاہیں تو عورت جب حیض سے فارغ ہو اس کے بعد قبل جماع اس سے ایک بار کہئے کہ میں نے تجھے طلاق دی، پھر اسے چھوڑے رہئے اور اس سے بالکل الگ رہئے یہاں تک کہ طلاق کے بعد تین حیض شروع ہرکر ختم ہوجائیں اس وقت وہ نکاح سے نکل جائے گی،اور مہر وہ معاف نہ کرے تو بہر حال دوسوپانچ اشرفیاں دینا لازم ہوں گی، وہ کوئی جاہل شخص تھا جس نے ساڑھے بارہ روپے بتائے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۲۷: از بچناتھ باڑہ ضلع رائے پور مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد بچناتھ باڑہ ۱۳ذیقعدہ ۱۳۱۳ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنی عورت کے نان نفقہ سے بے خبر تھا کہ عورت کے وارثوں میں سے کسی نے آن کر اس سے کہا کہ اگر نان نفقہ نہیں دے سکتا تو طلاق دے دے۔ چنانچہ اسی وقت اس آدمی کے رُوبرو طلاق دے دی تو یہ طلاق ہوئی یا نہیں کیونکہ عورت وہاں نہ تھی۔ بینو اتوجروا۔

الجواب 

طلاق ہوگئی، طلاق کے لئے عورت کا وہاں حاضر ہونا کچھ شرط نہیں فان ازالۃ لاعقد کما لایخفی (کیونکہ یہ ازلہ نکاح ہے نکاح نہیں ہے(تاکہ حاضری ضروری ہوتی)جیسا کہ مخفی نہیں۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔

مسئلہ۱۲۸: از پیلی بھیت مرسلہ شیخ فیض محمد صاحب ۶ ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ 

زید اپنے مکان میں تنہا مقیم تھا اس نے اپنی زوجہ کو طلاق دی لیکن زوجہ نے نہ سُنی نہ دوسرے آدمی نے، اس وجہ سے کہ اور آدمی دوسرے مکان میں تھے، پس طلاق ہوئی یا نہیں؟ بینو اتوجروا

الجواب 

طلاق کے لئے زوجہ خواہ کسی دوسرے کا سُننا ضرور نہیں بلکہ جبکہ شوہر اپنی زبان سے الفاظ طلاق ایسی آواز سے کہے جو اس کے کان تک پہنچے کے قابل تھے( اگر چہ کسی غل شور یا ثقل سماعت کے سبب نہ پہنچی عند اﷲطلاق ہوگئی، عورت کو خبرہوتو وہ بھی اپنے آپ کو مطلقہ جانے، ہاں اگر صرف دل میں طلاق دے لی تو بالاجماع نہ ہوگی، یا زبان سے لفظ تو کہے مگر ایسے کہ زبان کو صرف جنبش ہوئی آواز اپنے کان تک آنے کے بھی قابل نہ تھی تو مذہب اصح میں یُوں بھی نہ ہوگی۔
فی الدرالمختار ادنی الجھرا اسماع غیرہ ادنی المخافتۃ اسماع نفسہ ویجری ذٰلک فی کل مایتعلق بالنطق کتسمیۃ علی ذبیحۃ ووجوب سجدۃ تلاوۃ، وعتاق وطلاق واستثناء فلوطلق او استثنٰی ولم یسمع نفسہ لم یصح فی الاصح۱؎اھ بالاختصار۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کم از کم جہریہ ہے کہ دوسرا سُنے اور کم از کم خفاء یہ ہے کہ خود سُن سکے۔ یہ ضابطہ ہر ایسے مقام کے لئے ہے جس کا تعلق نطق سے ہو، جیسے ذبیحہ پر بسم اﷲ، سجدہ تلاوت پر سجدہ کا وجوب، غلام کو آزاد کرنا، طلاق دینا، اور کلام میں کوئی استثناء کرنا، لہذا اگر طلاق دی یا استثناء کیا اور خود نہ سنا تواصح مذہب پر طلاق اور استثناء صحیح ہوگا اھ اختصاراً واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ درمختار     فصل ویجہر الامام     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۸۰۔۷۹)
مسئلہ ۱۲۹: از بدایوں فرشولی ٹولہ     شیخ وہاب الدین احمد صاحب     ۲۷رجب ۱۳۲۷ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ اپنی زوجہ سے یہ الفاظ کہے کہ تو عمرو یا بکر سے نکاح کرلے اور زید اپنے والد کو مخاطب کرکے بموجودگی والدین ہندہ یہ کہا میری بیوی کا نکاح ولید سے کرادو۔ اس واقعہ سے دوتین مہینہ کے بعد زید نے ہندہ کے مکان پر آن کر ہندہ اور اس کے والدین کی عدم موجودگی میں ایک غیر مخاطب کرکے کہا میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتاہوں اگر اس وقت میرے ساتھ نہ بھیجیں۔ وہ شخص ان الفاظ کو سُن کر چلنے لگا تو زید نے پھر انہی الفاظ کا اعادہ کیا اور ہندہ اس کے ساتھ نہ بھیجی گئی، ہندہ حاملہ تھی، اور اسی زیدنے اسی روز ہندہ کے گھر کو چھوڑنے کے بعد یہ کہا کہ میں نے یہ الفاظ دھمکانے کو کہے تھے تاکہ میری بیوی میرے ساتھ کردیں اور میں اپنے الفاظ اب واپس لیتا ہوں، واپس لیتا ہوں واپس لیتا ہُوں۔ یہ واقعہ ۱۰جمادی الثانی ۱۳۲۷ھ ہجری نبوی کا ہے۔ زید عرصہ زائد از سال سے بعارضہ مراق علیل ہے آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور تجدید نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں؟
الجواب 

سائل نے اظہار کیاکہ زید نے ان اخیر الفاظ میں کہ میں طلاق دیتا ہُوں طلاق دیتا ہُوں طلاق دیتاہوں اگر اس وقت میرے ساتھ نہ بھیجیں کوئی لفظ عورت کی طرف اضافت کا نہ کہا تھا، نہ نام نہ نسب،نہ وصف نہ لقب، نہ اشارہ مثلاً فلاں عورت یا فلان کی بیٹی یا اپنی زوجہ کو یا اس کو وغیرہ وغیرہ کوئی لفظ اس قسم کانہ تھا، نہ یہ کلام کسی سوال کے جواب میں تھا جس سے اضافت پیدا ہو، بلکہ ابتداً یہی الفاظ اُس نے مکرر کہے اس صورت میں زید سے قسم لی جائے اگر وُہ حلف کرے کہ ان الفاظ سے اپنی زوجہ مراد نہ تھی تو حکمِ طلاق نہ دیا جائے۔
وذٰلک لان زید اینکرارادۃالطلاق بھا والاضافۃ کما فی السؤال فیکون القول قولہ بیمینہ وان کان الظاہر ارادۃ المرأۃ بذٰلک لانہ نوی محتمل کلامہ فیصدق۔
یہ اس لئے کہ زید طلاق کے ارادے سے انکاری ہے اور اضافت سے بھی انکاری ہے جیسا کہ سوال میں ہے تو قسم لے کر اس کی بات مان لی جائے گی اگر چہ ظاہری طور اس سے بیوی مراد ہوسکتی ہے لیکن کلامِ خاوند میں احتمال پایا جاتا ہے جس کی نیت پر خاوند پر خاوند کی تصدیق کی جائے گی۔(ت)
خانیہ وبزازیہ وغیرہا میں ہے : قال لھا لاتخرجی من الدار الاباذنی فانی حلفت یا لطلاق، فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ۔۱؎اھ۔
خاوند نے بیوی کو کہا گھر سے میری اجازت کے بغیر باہر مت نکلو کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے، تو بیوی نکل گئی، اس صورت میں طلاق نہ ہوگی، کیونکہ قسم میں بیوی کی طلاق کا ذکر نہیں ہے، جبکہ قسم میں کسی اور عورت کی طلاق کا احتمال بھی ہے لہذاخاوند کی بات معتبر ہوگی اھ(ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ     کتاب الایمان     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۲۷۰)
ہندیہ میں محیط سے ہے :
سئل شیخ الاسلام الفقیۃ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدین ان اطلقک فقالت نعم، فقال اگر تو زن منی یک طلاق دو طلاق سہ طلاق قومی واخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۔۲؎
شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال کیاگیا کہ ایک نشہ والے نے اپنی بیوی کو کہا''کیا تو چاہتی ہے کہ میں کھے طلاق دوں؟'' تو بیوی نے کہا ہاں، توخاوند نے کہا''اگر تومیری بیوی ہے ایک طلاق، دوطلاق،تین طلاق، اٹھ جا، نکل میرے پاس سے''۔ اور پھر کہتا ہےکہ میں نے طلاق مراد نہیں لی، تواس کی بات، معتبر ہوگی۔(ت)
 (۲؎ فتاوی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفاریۃ      کتاب الایمان   ۱ /۳۸۳)
یونہی اس کے پہلے لفظ کہ''تو عمرو یا بکر سے نکاح کرلے یا اس کا نکاح ولید سے کرادو'' محتاجِ نیت ہیں، اگر بہ نیتِ طلاق کہے ایک طلاق بائن ہوئی، اور نیتِ طلاق نہ تھی تو کچھ نہیںِ اور اس بارے میں کہ ان الفاظ سے اس نے طلاق کی نیت نہ کی تھی، اس کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر قسم کھالے گا حکمِ طلاق نہ ہوگا، پھر واقع میں نیت کی تھی اور جُھوٹی قسم کھالی تو وبال اُس پر ہے۔
ردالمحتار میں ہے
فی شر ح الجامع الصغیر لقاضی خان لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انوالطلاق لایقع شیئ لان معناہ ان امکنک وفی الذخیرۃ اذھبی وتزوجی لایقع الابالنیۃ وان نوی فھی واحدۃ بائنۃ وان نوی الثلاث فثلاث۱؎
قاضی خان کی شرح وجامع صغیر میں ہے : خاوند نے بیوی وکہا''جاؤ نکاح کرو'' اور پھر کہتا ہے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی، تو طلاق نہ ہوگی، کیونکہ اس کی بات کا مطلب یہ ہے کہ اگر تجھے ممکن ہوتو نکاح کرو۔ اور ذخیرہ میں ہے:اگر خاوند نے کہا''جاؤ نکاح کرو'' تو نیت ایک بائنہ طلاق ہوگی، اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں واقع ہوگی۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     ۤباب الکنایات     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۷۴)
عرض یہاں مدار اس حلف پر ہے اگر ان سب الفاظ کی نسبت قسم کھالے سے انکار کرے تو ایک طلاق بائن پڑے گی کہ برضائے زوجہ عدّت میں خواہ عدّت کے بعد اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی حاجت بے حلالہ اس سے نکاح نہ کر سکے گا، یہ سب اس صورت میں ہے کہ زید کا مراد اس حد کو نہ پہنچا ہو کہ وہ فاسد العقل مختل الحواس ہوگیا ہو کبھی غافلوں کی سی بات کرے، کبھی خاصے پاگلوں کی سی، اور اگر یہ حالت ہے(اور اﷲخوب جانتا ہے) تو اصلاً طلاق نہ ہوگی اگر چہ اس نے وُہ سب الفاظ بہ نیت طلاق کہے ہوں۔
درمختار میں ہے :
لایقع طلاق المجنون والصبی والمعتوہ۲؎ الخ ملخصا۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مجنون، بچّے اور ذہنی مریض کی طلاق واقع نہ ہوگی الخ ملخصًا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ درمختار     کتاب الطلاق     مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۱۷)
Flag Counter