| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۲۲:از رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ۲۷ شعبان ۱۳۳۹ھ شمس العلماء رئیس الفضلائے خان خاناں جناب احمد رضاخاں صاحب دام لطفہ، السلام علیکم! اگر بے اضافت طلاق دے جائے تو کیا حکم ہوگا واقع ہوگی یا نہ؟ قاضی خاں مجتہدالمسائل سے ہے اور شامی ناقلوں سے ہے ان کے مابین اختلاف ہوتو کس پر حکم دیا جائے؟
الجواب طلاق بے اضافت میں جبکہ ایقاع مفاد ہو اُ س کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے، اگر بحلف کہہ دے گا کہ زوجہ کو طلاق مقصود نہ تھی مان لیں گے، یہی مفادِ قاضی خاں ہے اور یہی شامی نے تحقیق کیا، ان میں تخالف نہیں، خانیہ میں فالقول قولہ صراحۃ(خاوند کی بات معتبر ہوگی۔ت) اسی پر دال ہے وتمام تحقیقہ فی رسالتنا فی الباب(اس کی مکمل تحقیق اس مسئلہ سے متعلق ہمارے ایک رسالہ میں ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳: (سوال منقول نہیں) (۱) اجمالی جواب بذریعہ تاربرقی اگر طلاق کی نیّت تھی تین طلاقیں ہوگئیں۔ (۲) تفصیلی جواب بذریعہ ڈاک جبکہ زید کے کلام میں عورت کی طرف طلاق کی نسبت اصلاً نہ تھی کہ تجھ کو یا فلاں عورت یا اپنی زوجہ یا دختر فلان کو طلاق ایک، دو تین، نہ دینے ہی کا کوئی ذکر زبان پر آیا کہ طلاق ایک دوتین دی یا ہُوئی جس کے باعث بحسب ظاہر زوجہ ہی کو طلاق دینا مفہوم ہوتا، نہ عورت ہی کے کلام میں ایسے الفاظ تھے جن کے جواب میں زید کے یہ لفظ بظاہر اس پر ایقاع سمجھے جاتے، مثلاً وہ کہتی میں طلاق چاہتی ہوں مجھے طلاق دے، بلکہ عورت کی طرف سے سکوت محض تھا، تو جس طرح خود یہ الفاظ محض نا وصف ومحتمل ہیں ممکن کہ یہ مراد ہو کہ طلاق ایک دو تین میں نے تجھے دیں، ممکن کہ یہ مقصود ہو کہ طلاق ایک دو تین کتنی چاہتی ہے جس کے باعث عنداﷲیہاں مدارنیّت شوہر پر ہوا، اگر ان الفاظ کے کہنے میں طلاق کی نیت تھی تین طلاقیں ہوگئیں ورنہ کچھ نہیں، اسی طرح بوجہ عدم ظہور مراد عند الناس بھی بیان شوہر کی طرف رجوع ضرور، اگر وہ اقرار کرے کہ یہ لفظ میںنے بقصد طالق کہے تھے تین طلاقوں کا حکم دیا جائے گا اور بے حلالہ اس سے نکاح نہ کرسکے گا۔ اس صورت میں عورت کو عدّت گزرنے پر اختیار ہوگا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے وُہ بدستور شوہر کی زوجیت میں سمجھی جائے گی فان الیقین لایزول بالشک(کیونکہ یقین، شک سے زائل نہیں ہوتا۔ت) اگر واقع میں اس نے نیّت کی اور اس نے ظاہر نہ کی تو اس کا وبال اور اپنے اور عورت دونوں کے زنا کا عذاب شوہر پر ہوگا عورت پر الزام نہیں کہ دلوں کا مالک اﷲ ہے جلا وعلا۔
لاتزر وازرۃ وزراخری۱؎
(کوئی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ت)
(۱؎ القرآن ۶ /۱۶۴)
عورت اپنے آپ کو مطلقہ نہیں سمجھ سکتی اگر دوسرے سے نکاح کرے گی حرامکار ٹھہرے گی فانھا مکلفۃ بالظاہر واﷲتعالٰی یتولی السرائر(کیونکہ وہ عورت ظاہر حکم کی مکلّف ہے رازوں کا اﷲتعالٰی ہی حاکم ہے۔ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے :
لایقع فی جنس الاضافۃ اذالم ینولعدم الاضافۃ الیھا۔۲؎
اضافت والے معاملہ میں طلاق نہ ہوگی جب تک اضافت کی نیّت نہ کی ہو کیونکہ بیوی کی طرف اضافت نہ ہوئی۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۲)
اسی میں خلاصہ سے ہے :
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفربھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقع۔۳؎
نشے والے کی بیوی بھاگی تو اس نے تعاقب کیا، ناکامی پر کہا، تین طلاق پر۔ اگر خاوند نے کہاکہ میری مراد میری بیوی ہے۔ تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر کچھ نہ بتایا تو نہ ہوگی۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۲)
انقرویہ میں بزازیہ سے ہے :
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والا لا۔۱؎
بیوی بھاگی تو خاوند نے ناکامی پر کہا: تین طلاق،اگر خاوند نے کہا کہ میری مراد میری بیوی تھی تو طلاق ورنہ نہیں۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی انقرویہ الفصل مایقع بہ الطلاق وما لایقع بہ دارالاشاعت قندھا افغانستان ۱ /۷۴)
بحرالرائق میں ہے :
لوقال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ۲؎۔
اگر خاوند نے کہا''طالق''۔ اس سے پوچھا گیا کہ تیری کیا مراد ہے جواب دیا کہ میری بیوی مراد ہے تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق باب الطلاق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۵۳)
عالمگیریہ میں خلاصہ سے ہے :
قالت طلقنی فضربھا وقال لھا اینک طلاق لایقع ولو قال اینکت طلاق یقع۔۳؎
بیوی نے کہا:''مجھے طلاق دے''، تو خاوند نے اس کو پیٹ دیا اور کہا ''یہ طلاق ہے'' تو طلاق نہ ہوگی، اور اگر کہا ''یہ طلاق تجھے طلاق ہے'' تو طلاق ہوجائیگی۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۲)
اس بیان سے واضح ہوگیا کہ دوسرے عالم کا جواب تو محض باطل وناصواب تھا بحالِ نیت تین طلاقیں ہوں گی جن میں رجعت محال، اور بحالِ عدمِ نیّت ایک بھی نہ ہوگی تو رجعت کا خیال محض خیال محال، اور پہلے عالم کا جواب بھی غلط تھا کہ یہاں تین طلاقیں صرف بصورتِ نیّت ہیں، نہ مطلقاً۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: از سیرام پور ضلع ہوگلی مرسلہ شیخ بدو دربان چٹکل ومحمد سراج الحق امامِ مسجد جامع ۲۵ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ محمد ظفر کا پنی والدہ سے جھگڑا ہوریا تھا اس کی والدہ نے کہا کہ اگر اپنی بی بی کو نہ چھوڑو گے تو تم سُورکھاؤ، اسی طرح تین مرتبہ بولی، مظفر نےکہا طلاق دیتے ہیں، پھر اس نے بلاقصد غصہّ کے ساتھ اپنی والدہ کے سامنے کہا طلاق طلاق طلاق، بغیر مخاطب کرنے کسی کو اب شرعاً صورتِ مسئولہ میں ظفر کی بی بی پر طلاق پڑے گی یا نہیں؟
الجواب تین طلاقیں ہوگئیں ، بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ مسئلہ ۱۲۵: از مؤناٹ بھنجن دفتر مدرسہ دارالعلوم ضلع اعظم گڑھ ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ نقل اسٹامپ قیمتی عہ۔ جمن ابن منا، میں ان کو لکھ کردیتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کی اُلفت کا خرچ بھر پورا کروں گا اور بغیر علیم اﷲستار بازکے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کروں گا اگر آپ کی حکم عدولی کروں تو آپ اور سب پنچ جو چاہیں کریں سب منظور ہے کیونکہ ہمارا کوئی ماں اور باپ نہیں ہے آپ لوگ ہمارے ماں اور باپ ہیں تاریخ ۲۰مارچ ۱۹۱۷ء، اور اگر سب خلاف ہوتو اس شرط پر طلاق۔ نشانی انگوٹھا جمن مقر، اسمائے شاہدان(۲) علیم اﷲ ستار باز۔ہماری لڑکی الفت جو ہے اگر ہم قضا کرجائیں تو ہمارے گھر سامان اور جتنا مال ہو اور جتنا ہم پر قرض ہو سب الفت کا قرض بھی وہ سب دے اور مال وغیرہ وہ لے اور دوسرے کا تعلق نہیں، باقی گواہ اوپر گزرے، دستخط عبدالراحمٰن قول اجمیری بقلم خود، محمد ابراہیم ابن محمد اسمٰعیل۔ یہ فتوٰی بمبئی سے آیا ہے مگر سوال نہایت مہمل یعنی اقرار نامہ کا ہے، ای روپیہ کا اسٹامپ پر اقرار نامہ تحریر ہے، اور یہ بھی واضح رہے کہ جمن کا نکاح اس اقرار نامہ کے چار روز بعد ہوا، بعد نکاح جمن مذکور الفت کو لے کر اپنے سسر کے ساتھ رہتا تھا مگر قریب دوبرس کے ہوئے علیم اﷲاپنے سسرال اور بیوی کو بھی چھوڑکر بمبئی میں آوارگی اختیار کیاہے اور بیوی کو نہ روٹی کپڑا دیتا ہے نہ کسی قسم کی خبر گیری کرتا ہے، نوٹس بھی مسماۃ الفت وعلیم اﷲستار باز کے طرف سے دیگئی مگر کچھ جواب نہیں دیتا لہذا اب مسمّاۃ الفت مطلّقہ ہوئی یا نہیں؟ الجواب صورۃ مذکورہ میں طلاق کسی طرح نہیں ہوسکتی، قطع نظر اُس نقص کے جو الفاظ اقرار نامہ میں ہے جس میں عورت کی طرف اضافت طلاق نہیں اور اس میں جمن کو اس انکار کی گنجائش ملتی کہ زوجہ کو طلاق مراد نہ تھی، جب یہ اقرار نامہ نکاح س پہلے لکھا گیا اوراس میں شرط نکاح کا ذکر نہیں تو اگر صاف یُوں لکھا ہوتا کہ میں ایسا کروں تو الفت پر تین طلاقیں، اور ویسا کرتا جب بھی ہرگز طلاق نہ ہوتی اذلاملک حینئذ والا اضافۃ الیہ والیہ الٰی سببہ فلغی(کیونکہ ابھی تک ملکیت نہیں اور نہ ہی ملکیّت کی طرف نسبت اور نہ ملکیت کے کسی سبب کی طرف نسبت ہوئی، تو کلا م لغو ہو۔ت) واﷲتعالٰی اعلم