مسئلہ ۷: از اوجین علاقہ گوالیار مرسلہ محمد یعقوب علی خاں صاحب یکم جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
چہ می فرمایند علمائے شریعت پناہ دریں مسئلہ کہ اگرزن فاسقہ گردد مرد بوجہ فسق او طلاقش دہدمہر ساقط شود یا نہ وبچہ کار تمام مہر عورت دُور میشود وبچہ کار نصف مے ماند۔ بینوابیانا شافیا اجر کماﷲتعالٰی اجرا وافیا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت اس مسئلہ میں کہ اگر بیوی کو فاسقہ ہوجانےکی وجہ سے مرد نے طلاق دے دی ہوتو کیا اس کا مہر ساقط ہوجائے گا یا نہیں، اور کس وجہ سے پورا مہر ختم ہوجاتا ہے اور کس وجہ سے نصف مہر رہ جاتا ہے، مکمل بیان فرمائیں، اﷲتعالٰی آپ کو پُورا اجر عطا فرمائے۔(ت)
الجواب
مہر بنفس عقد زن وشوئی واجب شود بوطی یا خلوت صححیہ یا موت احد الزوجین تاکد و تقرر یا بد کہ بعد وقوع یکے از ینہا بہیچ وجہ پارہ ازاں بے ادا یا ابرا ء ساقط نہ گردد ا گر چہ زن معاذا ﷲ فسق وفجور ور زد، یا عیاذ اً باﷲ مرتدہ شود فی الدرالمختار یتاکد عند وطی او خلوۃ صحت او موت احدھما۲؎
مہر محض نکاح سے لازم ہوجاتا ہے اور وطی یا خلوتِ صحیحہ یا فریقین میں سے کسی کے فوت ہوجانے سے مہر پکّا ہوجاتا ہے اور مذکورہ امورکے بعد مہر میں سے کوئی حصہ بغیر ادائیگی یا بغیر معاف کئے ساقط نہ ہوگا اگرچہ بیوی فاسقہ فاجرہ یا معاذاﷲ مر تدہ بن جائے،
درمختار میں ہے :وطی یا خلوتِ صحیحہ یا زوجین میں سے کسی کے فوت ہو جانے پر مہر پکّا ہوجاتا ہے ،
(۲؎ درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۷)
وفی ردالمحتار، افادان المھر وجب بنفس العقد لکن مع احتمال سقوطہ برد تھا او تقبیلھا ابنہ اوتنصفہ بطلاقھا قبل الدخول، وانما یتأ کد لزوم تمامہ بالوطی ونحوہ( الٰی قولہ) قال فی البدائع واذا تأکد المھر بماذکر لایسقط بعد ذٰلک وان کانت الفرقۃ من قبلھا لان البدل بعد تأکدہ لایحتمل السقوط الا بالابراء کا لثمن اذا تأکد بقبض المبیع ۱؎ اھ
اور ردالمحتار میں ہے کہ اس معلوم ہوا کہ مہر محض نکاح سے واجب ہوجاتا ہے لیکن مرتدہ ہوجانے یاخاوند کے بیٹے کو بوس وکنار کرنے سے ساقط ہو جانے کا احتمال باقی رہتا ہے یا دخول سے قبل طلاق ہوجانے کی بنا پر نصف مہر کا احتمال ہوسکتا ہے، اور وطی وغیرہ سے پُورا مہر پکا ہوجاتا ہے ،یہ بیان انہوں نے یہاں تک فرمایا کہ بدائع میں فرمایا کہ جب مہر مذکور پکا ہوجائے تواس کے بعد ساقط نہ ہوگا اگر چہ بیوی کی طرف سے فرقت ہو، کیونکہ بدل(وطی) حاصل ہوجانے کے بعد اس کا بدل (مہر) ساقط ہونے کا احتمال نہ رکھے گا مگر جب عورت معاف کردے جیسا کہ بیع میں مبیعہ پر قبضہ سے ثمن لازم ہوجاتا ہے اھ
(۱؎ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۳۰)
آرے اگر پیش از وقوع چیزے از مؤکدات ثلثہ مذکور زن معاذاﷲارتداد کند یا باپدر یا پسر شوہر یعنی اصل یا فرعش زنا نماید بشہوت پدر یا پسر شوئے را بو سہ دہد یا دست بذکر آناں رساند یا ذکر شاں را بہ شہوت نظر کند یا ضرّہ صغیرہ خودراشیر دہد یا احد الزوجین بخیار بلوغ فسخ نکاح اختیار کند یا درعقد فاسد پیش از وطی حقیقی متاسر کہ شود دریں صور ہمہ مہر ساقط گردد و اگر شوئے معاذاﷲ مرتد شود یا بامادر یا دختر زن یعنی اصل یا فرعش زنا کند یا بشہوت مادر یا دختر زن رابوسہ آنہا چیند یا مساس کنند یا دربرکشد یا فرج اندرونی آنھا بینند ، درصونیم مہر سقوط پذیرد وغیر ایں صور صور تہائے دیگر نیز ہست کہ اگر درجملہ انہا بتفصیل کلام و تحقیق احکام وتنقیح مرام پردازیم رسالہ مستقلہ مے باید نوشت فی الدرالمختار یجب نصفہ بطلاق قبل وطی او خلوۃ ۲؎۔
ہاں اگر مہر کو پکا کرنے والی مذکورہ تین چیزوں سے قبل عورت معاذ اﷲ مرتد ہوجائے یا خاودند کے باپ یا بیٹے سے یعنی اس کے اصول و فروع میں سے کسی کے ساتھ زنا کیا یا ان میں کسی کا شہوت سے بوسہ لیا یا دیا یا اُن کی شرمگاہ کو چھو لیا یا ان کی شرمگاہ کو شہوت کے ساتھ دیکھا، یا اپنی شیرخوار سوکن کو دُودھ پلایا، یا زوجین میں سے کسی کو خیار بلوغ تھا تو اس اختیار سے نکاح فسخ کردیا،یانکاح فاسد تھا تو حقیقی وطی سے قبل متارکہ ہوگیا، تو ان تمام صورتوں میں پورا مہر ساقط ہوجائے گا، اوراگر خاوند معاذاﷲ مرتد ہوگیا یا اس نے بیوی کی اصل یا فرع یعنی ماں یا بیٹی کوشہوت سے چُھولیا یا ان سے زناکر لیا یا بوس وکنار کرلیا یا دبوچ لیا یا انکی اندرونی فرج کو دیکھ لیا تو ان تمام صورتوں میں نصف مہر ساقط ہوجائےگا، ان مذکورصورتوں کے علاوہ اور بھی ایسے امور ہیں جن سے مہر کُل یا نصف ساقط ہوجاتا ہے، اگر ان تمام امور کی تفصیل اور ان کے احکام کی تحقیق اور مقاصد کی تنقیح کی جائے تواس سے ایک مستقل کتاب بن جائے۔درمختار میں ہے کہ دخول سے قبل یا خلوت سے قبل طلاق دینے سے نصف مہر واجب ہوگا۔
(۲؎ درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۷)
فی ردالمحتار لو قال بکل فرقۃ من قبلہ لشمل مثل ردتہ وزناہ و تقبیلہ ومعانقتہ لام امرأتہ وبنتھا قبل الخلوۃ قھستانی عن النظم ۱؎اھ
اور ردالمحتار میں کہا کہ اگر مصنف طلاق کی بجائے خاوند کی طرف سے فرقت کہ دیتے تو اس میں خاوند کا مرتد ہونا، زنا، بوس کنار، بیوی کی ماں یا بیٹی سے معانقہ، قبل از خلوت تمام کو شامل ہوجاتا (یہ قہستانی نے نظم سے نقل کیا ہے) اھ
(۱؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۳۲)
وفیہ عن البحر عن القنیہ طلقھا قبل الدخول اوجاءت الفرقۃ من قبلھا یعود نصف المھر فی الاول ولکل فی الثانی الی ملک الزوج۲؎ الخ وفی التنویر للموطوءۃ کل مھر ھا ولغیرھا نصفہ لو ارتد ولاشیئی لوارتدت ۳؎ اھ وفی الدرالمختار لو ارضعت الکبیرۃ ضرتھا الصغیرۃ حرمتا ولامھر للکبیرۃ ان لم توط لمجی الفرقۃ منھاوللصغیرۃ نصفہ لعدم الدخول ۴؎ اھ ملخصا،
اوراس میں بحر سے اس نے قنیہ سے نقل کیا ہے کہ اگر خاوند نے قبل از دخول طلاق دی تو نصف مہر، اور اگر عورت کی طرف سے فرقت کی وجہ پائی جائے تو پُورا مہر خاوند کی ملکیت میں آجائے گا الخ، تنویرالابصار میں ہے : وطی سے پورا اور بغیر وطی نصف مہر دینا ہوگا اگر خاوند مرتد ہوجائے، اور اگر وطی سے قبل عورت مرتد ہوجائے تو اس پرکچھ مہر نہ ملے گا اھ،درمختار میں ہے : اگر بڑی بیوی نے شیرِ خوار سوکن کو دُودھ پلایا تو دونوں حرام ہو جائیں گی اور بڑی سے اگر وطی نہ ہوئی تو اسکا پُورا مہر ساقط ہوجائے گا کیونکہ فرقت کی وجہ اس نے پیدا کی ہے اور چھوٹی کو نصف مہر ملے گا کیونکہ اس سے دخول نہیں کیا گیا، ملخصاً
(۲؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۳۲)
(۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۰)
(۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۳)
وفی ردالمحتار فی النکاح الفاسد بعدم الشھود مثلا، مھر المثل ان یکن دخل اما اذالم یدخل لایجب شئی ۱ ؎ اھ ملتقطا
ردالمحتار میں ہے : نکاح فاسد مثلاً بغیرگواہوں کے نکاح ہوا اگردخول کیا گیا ہو تو مہر مثل لازم ہوگا اور دخول نہ کیا ہوتو کوئی مہر نہ ہوگا اھ ملتقطاً،
(۱ ؎ رد المحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۵۲)
وفی الدرالمختار لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ بشرط القضاء للفسخ فیتوارثان فیہ ویلزم کل المھر ۲؎ الخ
درمختار میں ہے: بالغ لڑکے یا لڑلی کو خیار فسخ بالبلوغ ہو تو یہ فسخ قاضی کی قضاء کی شرط سے مؤثر ہوگا(پھر اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی فسخ سے قبل فوت ہوگیا) تو ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور پورا مہر بھی لازم ہوگا الخ،
(۲؎درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۰۱)
وفی الشامیۃ قولہ ویلزم کل المھر لان المھر کما یلزم جمیعہ بالدخول ولو حکما کا لخلوۃ الصحیحۃ کذٰلک یلزم بموت احدھما قبل الدخول اما بدون ذٰلک فیسقط ولو الخیارمنہ لان الفرقۃ بالخیار فسخ للعقد والعقداذا انفسخ یجعل کانہ لم یکن کما فی النھر۳؎اھ ھذا۔(یعنی فاحفظ ھذا)
شامی میں ہے کہ مصنف کا قول کہ کل مہر لازم ہوگا اس لئے کہ کل مہر دخول حقیقی یا حکمی مثلاً خلوتِ صحیحہ کے ساتھ لازم ہوجاتا ہے یونہی دخول سے قبل کسی کے مرجانے سے کل مہر لازم ہوتا ہے اور اس دخول یا موت کے بغیر مہر ساقط ہوجائے اگر چہ یہ فرقت لڑکے کے خیار بلوغ کی وجہ سے ہوکیونکہ فرقت خیار کی وجہ سے نکاح فسخ ہوتا ہے اور جب نکاح فسخ ہوتو کالعدم ہوجاتا ہے جیسا کہ نہر میں ہے۔ اسکو محفوظ کرلو۔
(۳؎درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۰۱)
واعلم ان من العلماء من قررلہ ضابطۃ وھی ان کل فرقۃ جاء ت من قبل الزوج قبل الدخول فانھا تنصف المھر، وکل فرقۃ اتت من قبلھا تسقط وھوالذی یبتنی علیہ ماذکر الشامی من استثنٰی منھا خیارالبلوغ لما مرانہ وان کان منہ لاینصف بل یسقط وھوالذی اختارہ فی الدرالمختار ولکن ردھما فی الذخیرۃ بما اذاملک الزوجۃ قبل الدخول بشراء مثلاحیث ینفسخ االنکاح ویسقط المھر کلہ مع انھا فرقۃ جاء ت من قبلہ وحقق الضابطۃ بان کل فرقۃ جاء ت من قبلہ وھی طلاق فانھا تنصف و کل ما جاءت وھی فسخ فانھا تسقط وردہ فی البحربردۃ الزوج حیث تنصف کما علمت مع انہا فسخ جاء من قبلہ ثم قال فالحق ان لایجعل لھذہ المسألۃ ضابط بل یحکم فی کل فرد بما افادہ الدلیل اھ ۱؎ھذا ھوالذی حمل العبد الضعیف علی الاقتصار علی ذکر بعض الصور وعدم التعرض لضابط۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
واضح رہے کہ بعض علماء نے اس مسئلہ میں ضابطہ بنایا کہ اگر دخول سے قبل فرقت کی وجہ عورت کی طرف سے ہوتو پورا مہر ساقط ہوگا اور خاوند کی طرف سے ہوتو مہر نصف ہوگا۔ اسی ضابطہ کی بنأپر علامہ شامی نے نظم سے منقول علامہ قہستانی کا قول بیان کیا ہے، اور بعض نے اس ضابطہ سے لڑکے کے خیار ِ بلوغ کی صورت کو مستثنٰی قرار دیا کہ اگر یہ خیار بلوغ لڑکے کی طرف سے ہوتو نصف مہر نہ ہوگا بلکہ ساقط ہوگا، اسی کو دُرمختار میں اختیار کیا، لیکن ذخیرہ میں اس کو ردکیا ہے مثلاً اگر کسی نے (لونڈی) بیوی کو دخول سے قبل خرید لیا اور اس کا مالک بن گیا تو یہ نکاح فسخ ہوگیا اور پورا مہر ساقط ہوا، حالانکہ وجہ فرقت خاوند کی طرف سے ہے، اس کے بعد انہوں نے نیا ضابطہ یہ بتایا کہ اگر خاوند کی طرف سے فرقت کی وجہ ہو اور وُہ وجہِ طلاق بنے تو مہر نصف ہوگا اور جو فرقت فسق بنے تو مہر ساقط ہوجائے گا، پھر اس ضابطہ کو بحر میں رَد کیا کہ جب خاوند مرتد ہوجائے تو قبل دخول مہر نصف ہوگا حالانکہ یہ فرقت مرد کی طرف سے فسخ ہے طلاق نہیں ہے، جیسا کہ تمہیں معلوم ہے، پھر بحر نے کہا کہ حق یہ ہے کہ اس مسئلہ کے لئے کوئی ضابطہ نہ بنایا جائے بلکہ ہر جزئیہ کا جواب اس کی دلیل کے مطابق علیحدہ دیا جائے اھ، اسی بناء پر اس عبد ضعیف نے بعض جزئیات کے ذکر پر اکتفاء کیا اور کسی ضابطہ کو بیان نہیں کیا ہے۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ مجدہ اتم واحکم(ت)
(۱؎ بحرالرائق باب الاولیاء والاکفیاء ایچ ایم سعید کراچی ۳ /۱۲۱)