Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
69 - 155
فان قلت ماالجواب عن فرع الھندیۃ عن الخلاصۃ لوقالت طلقنی فضربھا وقال لھا اینک طلاق لایقع ولو قال اینک طلاق یقع۲؎اھ فقد کانت الاضافۃ موجودۃ فی السوال وھو لم یزد فی الجواب شیئا حتی یجعل کلاماً مبتدأ۔
اس پر اگر تیرا اعتراض ہو کہ ہندیہ میں خلاصہ سے منقول مسئلہ کے بارے میں کیاجواب ہوگا جس میں عورت نے کہامجھے طلاق دے تو خاوند نے اس کو مارا اور کہا یہ طلاق ہے، تو طلاق نہ ہوگی، اور اگر یُوں کہا یہ تجھے طلاق ہے، طلاق ہوجائے گی اھ، تو اس مسئلہ میں عورت کے سوال میں اضافت موجود ہے اور خاوند نے جواب میں کوئی زائد حرف ذکر نہیں کی، جس کو نیا مستقل کلام تصور کیا جائے۔(ت)
 (۲؎ الفتاوی الہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۲)
قلت لما اخذیضربھا بعد قولھاطلقنی اورث ذٰلک احمتالاً فی کونہ جواباً وقال اینک طلاق می خواہی بل الظاہر من الضرب ھوالرد دون الجواب فان الجواب الجواب بمعنی قولھم یحتمل المسؤل وقبول المامول وھذا معنی قولھم یحتمل جواباً وسبّاً اوجواباً وردّاً  او جواباً محضاً۔ فاذا وقع الاحتمال لم یتیقن بکونہ جوابا حتی یحکم بسرایۃ اضافۃ السوال الیہ فمعنی قولہ لایقع ای مالم ینووقولہ یقع ای وان لم ینولوجود الاضافۃ حِ فی نفس الکلام۔
قلت(میں کہتا ہوں) جب خاوند نے طلاق کے مطالبہ پر بیوی کو مارنا شروع کیا تو اس وجہ سے یہ احتمال پیدا ہوگیا کہ یہ جواب ہے یا جواب میں رد کی کاروائی ہے۔ تو بیوی کے سوال پر مارناناراضگی کے طور پر مارکر کہا تو یہ طلاق چاہتی ہے بلکہ ظاہر یہی ہے کہ مارنا ردّ ہے جواب نہیں ہے کیونکہ جواب کامعنی مسئول کا جواب دینا، اور سائل کی امید کو پورا کرنا، دونوں میں استعمال ہوتا ہے، فقہاء کے قول کہ''یہاں جواب اور گالی، یا جواب اور رَد یا محض جواب کا احتمال ہے'' کا یہی مطلب ہے (یعنی جواب کے طور پر گالی یارَد یا محض جواب(سائل کی امید کو پور ا کرنا ہے) تو جب خاوند کی طرف سے کارروائی میں احتمال پیدا ہوگیا تو اب محض جواب ہونے کا یقین نہ رہا تاکہ سوال میں مذکور اضافت، جواب میں پائی جائے، تو مسئلہ میں''اینک طلاق'' کے ساتھ خلاصہ میں ''لایقع''(طلاق واقع نہ ہوگی) کا معنٰی یہ ہے یعنی جب تک نیتِ طلاق نہیں ہے اور ''اینک طلاق'' کے ساتھ ''یقع'' (طلاق ہوجائےگی) کا معنٰی یہ یعنی اگر چہ نیت نہ بھی ہو کیونکہ لفظوں میں اب اضافت موجود ہے۔(ت)
الثالث ان لایشتمل کلامہ علی الاضافۃ ولایکون خرج مخرج الجواب لکن یکون اللفظ خصّہ العرف بتطلیق امرأۃ فحیث یطلق یفھم منہ ایقاع الطلاق علی المرأۃ کقولھم الطلاق یلزمنی والحرام یلزمنی وعلی الطلاق وعلی الحرام فانہ کما قال فی ردالمحتار صارفاشیا فی العرف فی استعمالہ فی الطلاق لایعرفون من صیغ الطلاق غیرہ ولایحلف بہ الا الرجل فھھناوان لم تذکر الاضافۃ لفظا لکنھا ثابتۃ عرفا ولامعھود عرفا کالموجود لفظا فمن ھٰھنا وجدت الاضافۃ فی اللفظ وحکم بالوقوع من دون نیۃ فھذہ صورتحقق الاضافۃ فی اللفظ، اما اذخلاعنھا بوجوھھا الثلثۃ فح لابد من وجودھا فی النیۃ فان نوی وقع والالا و ھذا ماقال فی الھندیۃ عن المحیط لایقع فی جنس الاضافۃ اذا لم ینولعدم الاضافۃ الیھا۱؎اھ ھذافیما بینہ وبین ربہ تعالٰی۔
لفظی اضافت کی تیسری صورت یہ ہے کہ خاوند کے کلام میں اضافت کی تیسری مذکور نہ ہو، اور نہ ہی اس کا کلام جواب کے طور پر ہو، لیکن عرف میں اس لفظ کو بیوی کو طلاق دینے کے لئے مختص کردیا گیا ہو کہ جب دینا ہی سمجھا جائے۔ مثلاً کوئی کہے''طلاق مجھ پرلازم ہوگی''یا ''حرام مجھ پر لازم ہوگا'' یا ''مجھ پر طلاق ہے'' یا ''مجھ پر حرام ہے'' جیسا کہ ردالمحتار میں بیان ہے کہ یہ الفاظ عرف میں طلاق دینے کے لئے استعمال میں مشہور ہوچکے ہیں حتی کہ عرف والے طلاق کے لئے دوسرے الفاظ سے واقف نہیں، اور ان الفاظ کو صرف مرد ہی طلاق کی قسم کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یہاں پر اگر اگرچہ لفظوں میں اضافت مذکور نہیں، لیکن عرفاً اضافت ثابت ہے، اور عرفاً جو چیز معلوم ہو وہ ایسے ہی معتبر ہے جیسے لفظوں میں مذکور چیز ہوتی ہے تو یہاں اضافت پائی گئی تو وقوع طلاق کا حکم نیت کے بغیر کردیا جائےگا، یہ لفظوں میں اضافت پائے جانے کی صورتیں ہیں، لیکن جب کوئی کلام ان تین صورتوں کی اضافت سے خالی ہوتو پھر اضافت کا نیت میں پایاجانا ضروری ہے۔ اگر نیت کرے تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں۔ ہندیہ نے محیط سے نقل میں جو یہ کہا کہ اضافت نہ پائی جائے گی اھ کا مطلب یہی ہے۔ یہ نیت کا معاملہ خاوند اور اس کے رب تعالٰی کےدرمیان  ہے۔ یعنی دیانۃً یہ حکم ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاویہ ہندیہ     فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۲)
اماقضاء فتنقسم ھذا الصورۃ الٰی قسمین الاوّل ان توجد ھٰھنا قرینۃ یستأنس بھا علی تحقق النیۃ ویکون ھوالاظھرفی المقام فح یحکم بالوقوع مالم یقل انی لم اردھا فان قالہ فلا یصدق الابالیمین فان حلف صدق لکونہ امینا فی الاخبار عمافی نفسہ وقداتی بمایحتملہ کلامہ وھذاماقال فی الھندیۃ عن خلاصۃ الفتاوٰی رجل قال لامرأتہ اگر تو زن منی سہ طلاق مع حذف الیاءلایقع اذاقال لم انوالطلاق لانہ لما حذف لم یکن مضیفا الیھا۱؎اھ فان الاضافۃ وان عدمت بوجوھھا الثلثۃ لکن التعلیق علٰی قولہ''اگر تو زن منی''یفید تبادر ارادۃ طلاق المرأۃ فیتوقف انتفاء الوقوع علی نفیہ النیۃ ولایتوقف الوقوع علی اقرارہ بھا،
لیکن نیّت میں اضافت کا قضاءً حکم دو۲قسم پر ہے:اوّل یہ ہے کہ ایسی صورت کہ جہاں کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جس سے محسوس کیا جائے کہ خاوند نے اضافت کی نیت کی ہے، اور یہ مقام کے لحاظ سے واضح ہوسکے، تو ایسے مقام پر طلاق کے وقوع کاحکم کیا جائے گا جب تک خاوند یہ نہ کہہ دے کہ میں نے بیوی کا ارادہ نہیں کیا اور اگر اس نے ایسا کہہ دیا تو اس سے قسم لی جائے گی اور قسم کے بغیر اس کی تصدیق نہ کی جائے گی، اگر اس نے قسم دے دی تو پھر اس کی تصدیق کردی جائے گی اورطلاق نہ ہوگی، کیونکہ اپنی نیت کے متعلق خبر دینے میں سے امین تصوّر کیا جائے گا جبکہ اس نے کلام بھی ایسی کی ہے جس میں گنجائش ہے، یہی وُہ صورت ہے جس کوہندیہ میں خلاصۃ الفتاوٰی سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا اگر تومیری بیوی ہے تین طلاق، نسبت کی یاء کو طلاق سے حذف کرکے کہا تو اس وقت طلاق نہ ہوگی جب وہ یہ کہےکہ میں نےبیوی کی طلاق کی نیت نہیں کی ہے،کیونکہ جب اضافت حذف ہے تو طلاق کی اضافت عورت کی طرف نہ ہوئی اھ، کیونکہ اگر چہ اضافت تینوں لفظی طریقوں سے نہ پائی گئی لیکن خاوند نے''اگر تُومیری بیوی ہے'' سے تعلیق کی ہے جس سے فہم میں یہی آتا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلا ق کہی ہے، اس لئے طلاق کا عدمِ وقوع خاوند کی وضاحت پر موقوف ہوگاکہ میںنے نیّت نہیں کی، لیکن اس مسئلہ میں طلاق کا وقوع خاوند کے اقرار نیت پر موقوف ہوجائے گی نہ ہوگا (بلکہ نفی نہ ہونے پر خود بخود طلاق واقع ہوجائے گی)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۲)
وعلم منھا الفرعان الماران عن الامام نجم الدین وعن شیخ الاسلام ابی نصرفانھا وان خرجا عن تحقق الاضافۃ لخروج الکلام عن الاجابۃ لکن الذی جری بینھما مع قولہ فی الشرط''چوں تو روئے''واگر تو زن منی یفید ماذکرنا فلذاتوقف عدم الوقوع علٰی ادعائہ عدم النیۃ ومنہ فرع البزازیہ والخانیۃ قال لھا لاتخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ۱؎اھ وذٰلک کما افادالشامی ان العادۃ ان من لہ امرأۃ انما یحلف بطلاقھا لابطلاق غیرھا فقولہ انی حلفت بالطلاق ینصرف الیھا مالم یرد غیرھا لانہ یحتملہ کلامہ۲؎اھ ومنہ فرع القنیۃ عن الامام برھان الدین محمود صاحب المحیط، رجل دعتہ جماعتہ الی شرب الخمر فقال انی حلفت بالطلاق انی لااشرب وکان کاذبا فیہ ثم شرب طلقت وقال صاحب التحفۃ لایطلق۳؎اھ فقول البزازیۃ لایقع دیانۃ ان لم ینوقضاءً ایضا ان قال لم انو بدلیل قول قولہ فالقول لہ، وقول البرھان طلقت ای قضاءً مالم یقل انی لم اردھاکما قال الشامی انہ یمکن حملہ علی ما اذالم یقل انی اردت الحلف بطلاق غیرھا فلایخاف فی البزازیۃ۴؎اھ وقول صاحب التحفۃ لایطلق دیانۃ ظاہر لان الاخبار انما کان کاذباً اما قولی انما یصدقہ بالیمین فلما صرحوابہ من انہ حیث یکون القول لہ فانما یصدق بالیمین کماصرح بہ فی التبیین وغیرہ ۱؂۔
تو اس بحث سے امام نجم الدین اور شیخ الاسلام ابونصر کے مذکور ہ دونوں مسئلے واضح معلوم ہوگئے، کیونکہ یہ دونوں مسئلے اگر چہ اضافت سے خالی ہیں اس لئے کہ یہ دونوں جواب میں نہیں ہیں، لیکن خاوند بیوی میں جو گفتگو ہے اس میں خاوند نے شرط کے الفاظ کہے ''تیری منہ جیسی کو'' اور دوسرے میں''اگر تو میری بیوی ہے'' یہ گفتگو ہمارے بیان کے مطابق فائدہ دے رہی ہے، اس لئے ان میں طلاق نہ ہونا خاوند کی طرف سے نیت نہ ہونے کے بیان پر موقوف ہوگا، اور اسی قبیل سے بزازیہ اور خانیہ کے بیان کردہ دونوں مسئلے ہیں کہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ''میری اجازت کے بغیر مت جانا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے '' بیوی باہر نکل گئی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ خاوند نے قسم میں بیوی کی طلاق کوذکر نہ کیا جس کی وجہ سے کسی اور عورت کی طلاق کا احتمال ہوسکتا ہے تو اس لئے خاوند کی بات قابل قبول ہوگی اھ اس کو علامہ شامی نے یوں بیان کیا ہے کہ عادت یہ ہے کہ جس کی بیوی ہو وہ ا پنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا ہے نہ کہ غیر کی طلاق کے لئے، اس لئے خاوند کا کہنا کہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے، بیوی کی طرف ہی منسوب ہوگی تاوقتیکہ غیر بیوی کو مراد لینا بیان نہ کرے،کیونکہ بیوی کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے غیر کا بھی احتمال ہے اھ اسی ضابطہ کے تحت قنیہ میں ذکر کردہ امام برہان الدین محمود صاحب محیط کا بیان کردہ مسئلہ ہے کہ ایک شخص کو چند لوگوں نے شراب پینے کی دعوت دی تو اس نے جواب میں کہا کہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے اس لئے میں شراب نہیں پیوں گا تحفہ نے کہا کہ دیانۃً طلاق نہ ہوگی اھ۔ ان مذکورہ تینوں حضرات کے مسائل میں بزازیہ کا یہ کہنا کہ ''نہ واقع ہوگی'' اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نیّت نہ کی ہو تو دیانۃً نہ ہوگی،اور اس نے اپنے بیان میں کہہ دیا کہ میں نے اپنی بیوی کا ارادہ نہیں کیا۔علامہ شامی نے فرمایا کہ اس بات کو اس صورت پر محمول کیاجائے گا کہ جب تک خاوند یہ نہ کہہ دے کہ میں نے کسی دوسری عورت کی طلاق کی قسم کھائی ہے، لہذا یہ صورت خاوند کی قسم والی خبر جُھوٹی ہے، باقی میرا یہ کہنا کہ خاوند کی تصدیق اس کے حلف پر کی جائے گی کیونکہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے جہاں وُہ کہتے ہیں کہ خاوند کی تصدیق کی جائے گی وہاں وہ قسم لے کر تصدیق مرادلیتے ہیں جس کی تصریح کی ہے جہاں وُہ کہتے ہیں کہ خاوند کی تصدیق کی جائے گی وہاں وہ قسم لے کر تصدیق مراد لیتے ہیں جس کی تصریح تبیین وغیرہا میں موجود ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی حاشیۃ الفتاوی الھندیۃ    کتاب الایمان     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۲۷۰)

(۲؎ ردالمحتار     باب الصریح      کتاب الطلاق     داراحیاء التراث العربی بیروت         ۲ /۴۳۰)

(۳؎ القنیۃ      کتاب الایمان     المطبعۃ المشہرۃ النہانندیۃ             ص۱۱۵) 

(ردالمحتار بحوالہ القنیۃ     کتاب الطلاق     باب الصریح      داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۲۹)

(۴؎ ردالمحتار بحوالہ القنیۃ     کتاب الطلاق     باب الصریح       داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۴۳۰)

(۱؎ ردالمحتار     کتاب الطلاق     باب الصریح     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲/۴۳۰)
الثانی ان لاتکون ھنا قرینۃ ذٰلک وحٍ یتوقف الوقوع علی اخبار بالنیۃ فان اقرَّوقع والا لا اذلا سبیل الی الحکم بالوقوع بالشک وھذا ماقال فی الھندیۃ عن الخلاصۃ سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفر بھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لا یقع اھ ا؎ وفی مجموعۃ انقروی عن البزازیۃ فرت ولم یظفربھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والالا۲؎اھ
دوسری قسم یہ ہے کہ وہاں یہ قرینہ پایا جائے، تو وہاں طلاق کا واقع ہونا خاوند کے اس بیان پر موقوف ہوگا کہ میں نے بیوی کی نیت کی ہے لہذا وہاں نیت میں بیوی مراد لینے کا اقرار ہوتو طلاق ہوگی ورنہ نہیں، کیونکہ محض شک کی بنا پر طلاق کے حکم کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس قسم کی صورت وُہ ہے جس کو ہندیہ نے خلاصہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ کسی نشے والے بیوی بھاگ گئی تو اس نے تعاقب کیا اور وُہ کامیاب نہ ہوا تو اس نے کہا فارسی میں ''بسہ طلاق'' (تین طلاق کے ساتھ) تو اس صورت میں اگر وہ نشے والا کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی مراد لے کر کہا ہے تو طلاق ہوگی اور اگر کچھ بھی بیان نہ کیا تو طلاق نہ ہوگی اور اگر کچھ بھی بیان نہ کیا تو طلاق نہ وگی اھ اور یوں ہی مجموعہ انقرویہ میں بزازیہ سے منقول ہے کہ بیوی بھاگی اور وُہ کامیاب نہ ہوا تو کہہ دیا ''تین طلاق''۔ اس پر خاوند نشے والا یہ کہے کہ میں نے بیوی کے ارادے سے کہا ہے تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں اھ۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۲)

(۲؎ فتاوی انقروی     مایقع الطلاق وما لا یقع بہ         دارالاشاعت العربیہ قندھار      ۱ /۷۴)
وقال فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ۳؎اھ فقد الوقوع علی اقرارہ انہ عنی امرأتہ۔

اور بحر میں ہے کہ ایک شخص نے ''طالق'' کہا، پُوچھا تو نے کس کو کہا ہے؟ تو اس نے کہا اپنی بیوی کو، تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی، یہاں پر انہوں نے طلاق کے وقوع کو اقرار سے معلّق کیا ہے کہ وُہ یہ کہے کہ میں نے بیوی مراد لی ہے۔ (ت)
 (۳؎؎ بحرالرائق         باب الطلاق             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۳ /۲۵۳)
فان قلت ماالفرق بین ھذہ الفروع وبین قولہ حلفت بالطلاق فان الرجل کما لایحلف عادۃ الا بطلاق امرأتھا کذٰلک لایقول سہ طلاق او طالق الالھا فکان ینبغی الوقوع مالم یقل لم اعنھا ۔
فان قلت(اگر اعتراض ہوکہ) ان مذکورہ مسائل جن میں وقوعِ طلاق کے لئے تصریح ضرور ی ہے اور اس مسئلہ میں کہ جب کوئی شخص یہ کہے کہ''میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے'' میں کیا فرق ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا کسی دوسری عورت کے طلاق کی نہیں، یونہی کوئی بھی ''تین طلاق''یا''طالق''بھی اپنی بیوی کے لئے ہی استعمال کرتا ہے مناسب تھا کہ وقوع ہی مراد ہو جب تک وُہ یہ نہ کہے میں نے اپنی بیوی مراد نہیں لی(پھر کیا وجہ کہ حلف والی صورت میںطلاق ہونا ظاہر ہے اور دوسری یعنی سہ طلاق یا صرف طالق والی صورت میں طلاق نہ ہونا ظاہر ہے)
قلت الفرق بین فان ارادۃ الحلف بالطلاق متحققۃ بصریح قولہ حلفت، فیحمل علی الظاہر المعتاد مالم یصرف اماھٰھنا فارادۃ الایقاع غیر متحققۃ ولعل فی نفسہ سہ طلاق دادنش بایرادسہ طلاق راسزا وارست واما ھو جالس فی بیتہ فابتدأیتلفظ بلفظ طالق فکیف یجوز الحکم بانہ ارادبہ ایقاع الطلاق علی امرأتہ ولیس فی حال ولاقال دلیل علیہ فوجب التوقیف علی اجارہ عمافی نفسہ' ھذاکلہ مافاض اجارہ عما فی نفسہ' ھذاکلہ مافاض علی قلب العبدالذلیل من بحار فیوض الرب الجلیل فقد التأمت الفروع جمیعا وارتفع الاضطراب ونزل کل فرع منزلہ من الصواب والحمدﷲرب العالمین۔

قلت(میں کہتا ہوں کہ) فرق واضح ہے کہ کیونکہ پہلی صورت''میں نے قسم کھائی ہے طلاق کی'' میں تصریح ہے، میں نے قسم کھائی، تو اس کو عام فہم معنٰی پر محمول کیا جائے گا جب تک کوئی مخالف وضاحت نہ پائی جائے، اور یہاں یعنی تین طلاق یا''طالق'' کیا صورت میںطالق کو واقع کرنے کا ارادہ متحقق نہیں کیونکہ ہوسکتا ہ کہ اس کو تین طلاق دینے سے اس کی مراد یہ ہو کہ تین طلاق کے قابل ہے، لیکن ایک شخض گھر بیٹھے صرف لفظ ''طالق '' سے بات کی ابتداء کرتا ہے اور طلاق کو واقع کرلے کاکوئی حال یا کوئی بات قرینہ نہ ہو جو دلیل بن سکے تو بلاوجہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کاارادہ کیا ہے اس لئے ایسی صورت میں اپنے دل کی بات واضح کرنے پر حکم موقوف رہے گا۔ یہ تمام بحث بندہ ناچیز کے دل پر رب جلیل کے فیوضات کے سمندر سے وارد ہوئی ہے، تو اس سے تمام صورتیں آپس میں موافق ہوگئیں اور اضطراب ختم ہوگیا، اور ہر مسئلہ اپنے صحیح مقام پر منطبق ہوگیا الحمدﷲرب العالمین۔(ت)

نعم بقی ھھنا فرع فی الھندیۃ عن الخلاصۃ لاقالت گراں بخریدی بعیب بازدہ فقال بعیب بازدادمت ونوی یقع بہ الطلاق ولو قال بہ عیب بازدادم بغیر التاء لایقع وان نوی۱؎اھ فان الفصل الاخیر منہ من القسم الاخیر الذی ذکرنا فکان ینبغی علی ما اصلنا لایقع دیانۃ مالم ینوولاقضاء مالم یخبر عن نیۃ الطلاق لاان لایقع وان نوی فانہ یفید انہ بدون التاء لیس من الفاظ الطلاق اصلا کقولہ لاحاجۃ لی فیک ولارغیۃ اولااشتیک وامثال ذٰلک وھوکما تری مشکل فلع المعنی ان اللفظ من الکنایات وھو مع التاء ایضا محتاج الی النیۃ کما لایخفی فاذاعدم التاء احتاج نیتین نیۃ الطلاق ونیۃ الاضافۃ ولاشک ان احدھمالاتکفی، فقولہ قال بعیب بازدامت ونوی،لیس معناہ الیھا لاجل کون اللفظ من الکنایات فھی المرادۃ ایضا من قرینۃ اعنی قولہ فی الفصل الاخیروان نوی ای لوقال بغیر التاء لایقع وان نوی باللفظ الطلاق لخلوہ عن الاٖاضۃ فیحتاج بعد الی شیئ اٰخروھی نیۃ الاضافۃ فافھم وتأمل لعل اﷲیحدث بعد ذٰلک امرا۔
ہاں یہاں ہندیہ کا خلاصہ سے منقول ایک مسئلہ رہ گیا ہے کہ اگر بیوی نے خاوند کی وجہ سے واپس کردے، تو جواب میں خاوند نے کہا عیب کی بناء پر میں نے تجھے واپس کیا، طلاق کی نیّت س کہا تو خاوند کے اس قول سے طلاق ہوجائے گی، اور اگر خاوند نے جواب میں صرف یہ کہا میں نے عیب کی بناپر واپس کیا، بیوی کو خطاب کے بغیر کہا، تو طلاق کی نیت ہوکہ تو بھی طلاق نہ ہوگی اھ یقینا اس مسئلہ میں جواب کی دُوسری صورت ہمارے پہلے ذکر کردہ آخری مسئلہ کی صورت سے متعلق ہے تو ہمارے بیان کردہ ضابطہ کے تحت جب تک نیت نہ کریگا دیانۃً طلاق نہ  ہوگی اور قضاءً بھی اس وقت تک نہ ہوگی جب تک طلاق کی نیت سے مطلع نہ کرے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خطاب کے بغیر نیّت کے باوجود، طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس سے تو لازم آئے گا کہ خطاب کے بغیر ''عیب کی بنا پر واپس کیا'' یہ الفاظ طلاق میں سے ہی نہ ہوا جیسے ''تیری مجھے حاجت نہیں'' اور رغبت نہیں یا تجھ سے شوق نہیں رکھتا وغیرہ الفاظ طلاق کے لئے نہیں ہیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بات مشکل ہے۔ تو اس کا حل یوں ممکن ہے کہ ''تجھے عیب کی بناء پر واپس کیا'' بیوی کے جواب میں خطاب کرکے کہا ہو تو یہ ایسا کنایہ ہے جس مین ایک نیت کی ضرورت ہے، اوراگر بغیر خطاب کہا تو دو نیتوں کی ضرورت ہے، ایک نیتِ طلاق دوسری نیتِ اضافت، اور یہ بات واضح ہے کہ ایسی صورت میں ایک نیت کافی نہیں، تو خاوند کا یہ کہنا''میں نے تجھے عیب کی بنا پر واپس کیا'' اور نیت کی تو وُہ طلاق کی نیت ہوگی جس کی ضرورت تھی کیونکہ یہ لفظ، طلاق سے کنایہ ہے تو نیت سے مراد، طلاق کی نیت ہے نیز اس کا قرینہ یہ بھی ہے کہ مسئلہ کی دوسری صورت یعنی بغیر خطاب کہا ہو تو وہاں یہ کہا گیا ہے طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت کی ہو، کیونکہ خطاب کے بغیر یہ صورت اضافت سے خالی ہے، لہذا اس کے بعد ایک دوسری شیئ کی احتیاجی ہوگی اور وہ اضافت کی نیت ہے(یعنی نیّت اضافت کا محتاج ہوگا) پس سمجھو اور غور کرو، ہوسکتا ہے کہ اﷲتعالٰی اس کے بعد کوئی سبیل پیدا فرمادے، اسے مضبوط رکھو۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۲)
ھذاوبما تقرر تحرر ان لااعتراض علی الفاضل الشارح ولاعلی العلامۃ البحررحمۃ اﷲعلیہ فانھما اتیابعین مافی الوجیز والخانیۃ فانھما ایضانصا علی عدم الوقوع وعللا بترک الاضافۃ' فکما وجب حمل کلامھما علی ماتقدم کذالک یحمل علیہ کلام ھذین الفاضلین، بیدان الامامین اتیابعدہ بما اوضح المراد من قولھما ان القول قولہ والفاضلین اقتصرا علی ذٰلک فبقی کلامھما علی الایھام، ولیس فی کلامھما ان الاضافۃ الصریحۃ اللفظیۃ شرط للوقوع حتی یتوجہ علیہ بقیۃ کلام الفاضل المحشی رحمہ اﷲتعالٰی نعم علل الفاضلان الشارحان الحلبی والطحاوی بان الاضافۃ شرط حق فی نفسہ کما قررنا ولکن لایصح ح الجزم بعدم الوجد ان فان الشرط مطلق الاضافۃ نصاً اوعرفاً اوجواباً والمفقود جزما ھی الاضافۃ اللفظیۃ المنصوصۃ ولیست بشرط فالاخذان کان فعلی المحشیین دون الفاضلین العلامتین۔ اللّٰھم الافی ترک الایضاح کما علمت، ھکذا ینبغی تحقیق المقام واﷲولی الفضل والانعام۱۲۔
اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ فاضل علامہ بحر رحمہاﷲتعالٰی پر کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ اُنہوں نے وہی کچھ کہا جو وجیز اور خانیہ میں بیان کیا گیا ہے، کیونکہ ان (وجیز و خانیہ) دونوں نے مذکورہ میں یہ طلاق نہ واقع ہونے کی تصریح کی اور اس کی وجہ ترکِ اضافت کو قرار دیا، تو جس طرح وجیز اور خانیہ کی عبارت کو مذکورہ معنٰی پر محمول کرنا ضروری ہوا یونہی ان دونوں فاضل حضرات شارح وبحر کلام کو اسی معنٰی پر محمول کرنا ضروری ہے، صرف اتنا ہوا کہ دونوں اماموں وجیز وخانیہ نے اس کے بعد اپنی مراد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ خاوند کی بات معتبر ہوگی، جبکہ دونوں فاضل حضرات نے عدمِ وقوع طالق کے ذکر پر اکتفاء کیا جس کی بناء پر ان کی کلام میں احتمال کی گنجائش رہ گئی حالانکہ ان دونوں حضرات کے کسی کلام میں یہ تصریح نہیں ہے کہ اضافت کا لفظوں میں صریح طور پر مذکور ہونا وقوعِ طلاق کے لئے ضروری ہے تاکہ بقیدکلامِ فاضل محشی سے اس پر اعتراض ہوسکے ہاں، فاضل حلبی اور فاضل طحاوی دونوں حضرات نے شرح میں یہ وجہ بیان کی ہے کہ اضافت شرط ہے جو یہاں موجود نہیں ہے تو ان دونوں حضرات کا یہ کہنا بجا ہے کہ اضافت شرط ہے، جیسا کہ نے ذکر کیا ہے، لیکن ان کایہر کہنا کہ یقینا یہاں اضافت نہیں پائی گئی، یہ درست نہیں کیونکہ اضافت کا پایا جانا شرط ہے خواہ بطور نص ہو، یا عرف یا جواب کے طور پر ہو، اضافت کے صرف صراحتًالفظی طور پر مفقود ہونے پر شرط کے مفقود ہونے کا قول نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ صرف لفظی طور پر مذکور ہونا شرط نہیں ہے۔ غرضیکہ اگر مواخذہ ہو بھی تو دونوں محشی حضرات پر ہوگا نہ کہ فاضلین شارح وبحر پر۔ ہاں ان پر وضاحت نہ کرنے کا اعتراض ہوگا، جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا، اس مقام کی تحقیق یُوں مناسب ہوگی جبکہ اﷲتعالٰی ہی فضل وانعام کا مالک ہے(ت) [یہاںسے غیر مربوط عبارت کو خارج کردیا گیا ہے]
Flag Counter