اقول وباﷲالتوفیق بقی بعد اشیاء فانک ان تتبعت فروع ترک الاضافۃ وجدتھم، ربما یقولون لایقع مالم یقل اردتھا فھذا یدل علی ان الوقوع مشروط بالقول، وربما قالوایقع مالم یقل اردت غیرھا اولم اردطلاقھا فھذا یدل علی ان عدم الوقوع ھوالموقوف حتی لولم یقل ذٰلک وقع وان لم یقل اردت طلاقھا، وربما تراھم یحکمون بالوقوع من دون حاجۃ الی النیۃ مع ترک الاضافۃ حیث وجدت فی کلام الخاطب کالمرأۃ وغیرھا وواخری تراھم ینوون مع وجودالاضافۃ فی کلام المخاطب، وربماتسمعھم یحکمون بالوقوع مطلقا من دون نیۃ مع عدم الاضافۃ لافی قولہ ولافی قول غیرہ، وربما ینوون فی ھذہ الصورۃ فھذہ اختلافات یتحیرلدیھا من لم یتأمل ولم ینزل کل فرع علٰی ماینبغی ان ینزل۔
اقول وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالٰی سے ہی حاصل ہے۔ت) کچھ امور باقی ہیں، کیونکہ جب آپ فقہاء کرام کی عبارات کو ترکِ اضافت کے مسائل میں غور سے تلاش کریں تو آپ ان کو کبھی یُوں پائیں گے کہ وُہ کہہ رہے ہیں کہ طلاق واقع نہ ہوگی جب تک خاوند بیوی مراد لینے کا قول نہ کرے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کا وقوع خاوند کے اس قول سے مشروط ہ، اور کبھی وُہ کہتے ہیں کہ طلاق واقع ہوگی جب تک یہ نہ کہہ دے کہ کسی اورعورت کا ارادہ کیا ہے یا میں نے بیوی کی طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر اضافت طلاق کا عدمِ وقوع اس کی مذکور وضاحت پر موقوف ہے، اگر وضاحت نہ کرے تو طالق ہوجائے گی اگرچہ بیوی کی طلاق کا ارادہ نہ بھی ظاہر کرے۔
اور کبھی تم دیکھو گے کہ فقہاء کرام ایسی صورت میں طلاق کا حکم دیتے ہیں اور نیت کی حاجت محسوس نہیں کرتے اور اضافت بھی متروک ہوتی ہے جہاں پر کوئی بیوی یا کسی غیر سے خطاب کررہا ہو اور کبھی ان کو اضافت کے باوجود نیت کا متلاشی پاؤگے، جبکہ مخاطب کے کلام میں اضافت پائی جائے اور کبھی آپ سُنیں گے کہ وہ اضافت نہ ہونے کے باوجود نیت نہ ہونے پر وقوعِ طلاق کا حکم لگاتے ہیں حالانکہ خاوند یا غیر کے کلام میں اضافت کاکوئی ذکر نہیں ہوتا، اور بعینہٖ اسی صورت میں کبھی وُہ نیّت کی بات کرتے ہیں، تو فقہاء کرام کی عبارات میں یہ اختلافات ہیں جو غور کرنے والے اور ہر مسئلہ کو مناسب محمل پر محمول نہ کرنے والے کے لئے حیرت کا باعث بنتے ہیں۔(ت)
والذی تحصل للعبد الضعیف بتوفیق المولی اللطیف جل وعلا، ان الاضافۃ لابد منھا ام فی اللفظ وامافی النیۃ اذلاطلاق الابالایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ، ولیس ذٰلک الابالاضافۃ وھذا ضروری لاشک فیہ اذ لولاہ لزم الطلاق عل کل من تلفظ بلفظ طلاق او طالق ونحوھما وان لم یردعلی ھذاشیئا اولم یرد طلاق امرأتہ وھو باطل قطعًا فاشتراط الاضافۃ حق لامریۃ فیہ، نعم قد توجد الاضافۃ فی اللفظ فلایحتاج فی الحکم الی النیۃ وقد لاتوجد فی اللفظ فیحتاج الٰی ظھورالنیۃ۔
اور عبد ضعیف کو اﷲتعالٰی لطف فرمانے والے جلّ وعلا کی توفیق سے جو حاصل ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کو طلاق دینے دینے میں اضافت ضروری ہے لفظوں میں ہو خواہ وُہ نیت میں ہو، کیونکہ طلاق کا وقوع، ایقاع پر موقوف ہے اور ایقاع کا وجود نہیں ہوتا تاوقتیکہ طلاق کو عورت سے متعلق نہ کای جائے، اور یہ چیز ہے جس میں شک نہیں ہوسکتا،کیونکہ اگرطلاق کو عورت کی طرف منسوب کرنا اور اس کی طرف اضافت کرناضروری نہ ہوتو پھر طلاق یا طالق کا تلفظ کرنے والے ہر شخص کی بیوی کو طلاق لازم ہوجائے اگرچہ وُہ اس پر کسی چیز کا ارادہ نہ کرے یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا لہذا طلاق کے وقوع کے لئے نسبت اور اضافت کے شرط ہونے میں کوئی شک نہیں، ہاں اضافت کبھی لفظوں میں موجود ہوتی ہے تو اس وقت حکم کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی اور کبھی لفظوں میں اضافت نہیں ہوتی اس وقت نیت کو ظاہر کی حاجت ہوتی ہے۔(ت)
اماوجود الاضافۃ فی اللفظ فاقول علی ثلثۃ انحاء، الاوّل تحققھا صریحا فی کلام الزوج وھذاالذی ذکرالحلبی والطحاوی امثلتہ کقولہ انت طالق او طلقتک او ھذہ او زینب اوبنت زید او ام عمرو اواخت بکر او امرأتی طالق، الثانی(۲)تحققھا فیہ لاجل کونہ جوابا کلام تحققت فیہ فتحقق فی الجواب ایضالان السوال معاد فی الجواب وھذامافی الہندیۃ عن الخلاصۃ قالت طلاق بدست تو است، مراطلاق کن فقال الزوج طلاق می کنم وکررثلثا طلقت ثلثا۱؎اھ۔
والی ہے، میں تجھے طلادی،(بیوی کواشارہ کرتے ہوئے) اس کو، نام لےکر، زینب کو، زید بیٹی کو، عمرو کی ماں، بکر کی بہن کو، میری بیوی کو، طلاق دوسری دوسری صورت، یہ کہ طلاق الفاظ کسی ایسی کلام کے جواب میں ذکر کئے جائیں جس میں اضافت مذکورتھی تو اس وجہ سے وہ اضافت جواباً طلاق کے الفاظ میںبھی متحقق ہوگی، کیونکہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے، اس کی مثالیں ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہیں، مثلاً بیوی کہے''طلاق تیرے ہاتھ میں ہے مجھے طلاق دے۔'' تو جواب میں خاوند کہے''میں نے طلاق دی'' تین دفعہ تکرار کیا تو تین طلاقین بیوی کو پڑیں گی اھ(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۴)
وفیھا عن الذخیرۃ سئل شمس الائمۃ الاوزجندی عن امرأۃ قالت لزوجھا لوکان الطلاق بیدی لطقت نفسی الف تطلیقۃ فقال الزوج من نیز ہزار دادم ولم یقل دادم تراقال یقع الطلاق۲؎اھ وفیھا عن العمادیۃزن را گفت ترا طلاق دادم، مردماں ملامت کردند، گفت دیگر دادم نہ گفت ویراونہ گفت طلاق،قال یقع اذاکان فی العدۃ۳؎اھ۔
اور ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ شمس الائمہ اوزجدنی سے سوال ہوا کہ عورت کہے اگر طلاق میرے ہاتھ میں ہوتی تو اپنے ہزار طلاق دے دیتی، اس کے جواب میں خاوند نے کہا میں بھی ہزار دے دیں، یہ نہ کہا کہ تجھے دے دیں، تو شمس الائمہ نے جواب دیا کہ طلاق ہوجائےگی، اور ہندیہ میں عمادیہ سے منقول ہے کہ خاوند نے بیوی کو کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی، اس پر لوگوں نے ملامت کی، توخاوند نے کہا میں نے دوسری دی، اس میں نہ تو بیوی کی طرف نسبت کی اور نہ ہی لفظِ طلاق کہا، تو شمس الائمہ نے فرمایا یہ دوسری بھی ہوگئی اگر بیوی عدّت میں ہواھ،
(۲ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۳)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۴)
وفیھا عن الخانیۃ دخلت علیہ ام امرأتہ فقالت طلقھا ولم تحفظ حق ابیھا وعاتبتہ فی ذلک فقال الزوج ھذہ ثانیۃ او ھذہ ثالثۃ تقی اخری ولوعاتبتہ ولم تذکرالطلاق فقال ھذہ المقالۃ لاتقع الزیادۃ الابالنیۃ۱؎اھ
ہندیہ میں خانیہ سے منقول،کہ خاوند کے پاس بیوی کی ماں داخل ہوئی اور کہا کہہ تونے بیوی کو طلاق دے دی تو
اس کے باپ کے حق کا بھی پاس نہ کیا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے خاوند کو ملامت کررہی تھی تو خاوند نے کہا یہ دوسری یا یہ تیسری ہے، تویہ بھی واقع ہوجائیگی اور ملامت کرتے ہوئے اگر لفظ طلاق کو ذکر نہ کیا ہو اور خاوند واقع نہ ہوگی اھ۔
وفی جامع الفصولین برمزفشین لفوائد شیخ الاسلام برھان الدین قال تربیک طلاق فلاموہگفت دیگر دادم یقع آخر لانہ جواب لذٰلک وبناء علیہ ۲؎اھ قلت یعنی اذاذکروافی الملامۃ طلاق المرأۃ کی یکون معادافی الجواب والالم یقع بدون نیۃ کما سمعت من الخانیۃ وانمالم یذکرہ فشین لان العادۃ ذکرمالیم علیہ فی الملامۃ کمالایخفی۔
اور جامع الفصولین میں فشین کی رمز سے بیان کیا، فشین کا اشارہ فوائد شیخ الاسلام بُرہان الدین کی طرف ہے، خاوند نے بیوی کو کہا تجھے ایک طلاق، لوگوں نے اس کو ملامت کی، اس نے کہا اور میں نے دوسری دی، دوسری واقع ہوجائےگی، کیونکہ یہ جواب کے طور اور پہلی طلاق پر مبنی ہے اھ قلت (میں کہتا ہوں) یعنی یہ تب ہے جب لوگوں نے ملامت میں عورت کی طلاق ذکر کی ہوتا کہ جواب میں اس کا اعادہ ہو ورنہ نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی، جیسا کہ آپ نے خانیہ سے سُنا ہے، اس بات کو فشین نے اس لئے ذکر نہ کیا کہ عادۃً جس چیز ملامت کی جاتی وُہ ملامت میں مذکور ہوتی ہے، جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔(ت)
(۲؎ جامع الفصولین الفصل الثانی والعشرون فی مسائل الخلع الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۹۰)
فان قلت! لیس فی الھندیہ عن الذخیرۃ سئل نجم الدین عمن قالت لہ امرأتہ مرا برگ باتو باشیدن نیست مراطلاق دہ فقال الزوج چوں تو روئے طلاق دادہ شد وقال لم انوالطلاق ھل یصدق قال نعم ووافقہ فی ھذالجواب بعض الائمۃ۳؎اھ
اگر تو اعتراض کرے کہ کیا ہندیہ میں ذخیرہ سے یہ نہیں ہے کہ نجم الدین سے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس کو اس کی بیوی نے کہا کہ میرا تیرے ساتھ گزارہ نہیں ہے مجھے طلاق دے، تو اس کے خاوند نے کہا تیرے منہ جیسی کو طلاق دی ہوئی ہے۔ اور پھرکہتا ہے میں نے طلاق کی نیت نہیں کی، تو کیا اس شخص کی تصدیق کی جائے گی، تونجم الدین نے فرمایا ہاں۔ اور بعض ائمہ نے اس بات میں نجم الدین کی موافقت کی ہے اھ
(۳؎ فتاوی ہندیہ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۷)
وفیھا عن المحیط سئل نجم الاسلام الفقیہ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ أتریدین ان اطلقک قالت نعم فقال بالفارسیۃ اگرتو زن منی یک طلاق دوطلاق سہ طلاق قومی اخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۱؎اھ ومثلہ فی الخانیۃ معللاً بانہ لم یضف الطلاق الیھا۲؎اھ فلم یحکموابالوقوع مع وجود الاضافۃ فی کلامھا امافی فرع الامام نجم الدین فظاہر۔ واما فی فرع الفقیہ ابی نصروالخانیۃ فلان قولھا نعم کان جوابا لقولہ اتریدین ان اطلقک فکانھا قالت اریدان تطلقنی،
اوراسی میں محیط سے مروی ہے کہ شیخ الاسلام فیقہ ابونصر سے ایک نشے والے کے بارے میں سوال ہوا جس نے بیوی کو کہا کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں؟ بیوی نے کہا ہاں چاہتی ہوں۔ تو اس خاوند نے بالفاظ فارسی یوں کہا اگر تو میری بیوی ہے ایک طلاق، دو۲طلاق، تین طلاق، میرے پاس سے اُٹھ اور نکل جا۔ اب خاوند کا خیال ہے کہ میں نے اس بات سے طلاق مراد نہیں لی، تو خاوند کی بات مقبول ہوگی اھ کہا اس لئے کہ خاوند نے طلاق کو بیوی کی طرف منسوب نہیں کیااھ تو ان مذکورہ واقعات میں ان حضرات نے طلاق واقع ہونے کا حکم نہیں کیاحالانکہ تمام میں بیوی کے کلام میں اضافت موجود ہے۔ نجم الدین کے مسئلہ میں توظاہر ہے لیکن فقیہ ابونصر اور خانیہ کے مسئلہ میں تو ظاہر ہے لیکن فقیہ ابو نصر اور خانیہ کے مسئلوں میں اس لئے کہ بیوی نے جب ہاں کہا تو یہ خاوندکی بات''کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں'' کا جواب ہے تو گویا بیوی نے کہا میں چاہتی ہوں کہ تو مجھے طلاق دے،(لہذا ان مسائل میں بیوی کے کلام میں اضافت مذکور ہوئی اس کے باوجود کہ خاوند کے جواب میں اضافت معتبر ہے ان حضرات نے طلاق واقع ہونے کا حکم نہ دیا)
(۱؎ الفتاوی الھندیۃ الفصل السابع الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۳)
(۲؎ الفتاوی القاضیخان باب التعلیق نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱۹)
قلت وباﷲالتوفیق المخاطب اذا اتی فی کلامہ بکلام اجنبی عن الجواب یخرج عن کونہ جواباً ویصیرکلاماً مبتداء ففی المسئلتین انما کان جواب قولھا ان یقول طلاق دادہ شد اویک طلاق ودو طلاق وسہ طلاق ولواقتصر علی ھذاالحکم بالوقوع من دون الحاجۃ الی نیۃ کماکان فی الفروع المتقدمۃ التی تلونا لکنہ لما زاد قولہ چوں تو روئے اوقولہ اگرتو زن منی،لم یبق جوابا وصار کلاماً مبتدأفلم تسراضافۃ السوال الیہ وقد نص علی ھذاالاصل العلماء کما لایخفی علی من خدم کلماتھم من ذٰلک عن الذخیرۃ قال لہ تغد معی قال واﷲلااتغدّی فذھب الٰی بیتہ وتغدّی مع اھلہ لایحنث لان قولہ خرج جوابالسوال المخاطب وامکن جعلہ جوابالانہ لم یزد علی حرف الجواب بخلاف مالوقال واﷲلااتغدی معک لانہ زاد علی حرف الجواب ومع الزیادۃ علیہ لایمکن ان یجعل جوابا۱؎اھ ملخصاً۔
قلت : وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اﷲتعالٰی کی توفیق سے) کہ مخاطب شخص اپنے کلام میں جواب سے اجنبی کوئی بات کرے تو وُہ جواب نہیں رہتا بلکہ نیا کلام متصور ہوتا ہے، تو مذکورہ دونوں مسئلوں میں جواب صرف اتنا تھا طلاق دی گئی یا ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق، اگر خاوند جواب میں اتنی بات ہی کہتا تو طلاق کے واقع ہونے کا حکم ہوتا اور نیت کی ضرورت نہ ہوتی، جیسا کہ پہلے گزرے مسائل میں اس کو ہم نے بیان کیا ہے۔ لیکن جب ان دونوں مسئلوں میں خاوند نے، پہلے میں''جب توجائے'' اور دوسرے میں ''اگر تُومیری عورت ہو'' جواب سے زائد کردئے تو یہ بیوی کو جواب نہ ہوا بلکہ نیا کلام بن گیا جس سے سوال والی اضافت ختم ہوگئی۔ اس قاعدہ کی علماء نے تصریح کی ہے۔ یہ بات اس شخص پر مخفی نہیں جو علماء کے کلام کا خادم ہے۔ اسی قاعدہ پر ذخیرہ سے منقول ہے، ایک شخص نے دوسرے کو کہا آؤ میرے ساتھ ناشتہ کرو تو دوسرے نے جواب میں کہا خدا کی قسم میں ناشتہ نہیں کروں گا، یہ کہہ کر وُہ اسی شخص کے گھر جا کر اس کے گھر والوں کے ساتھ ناشتہ کرتا ہے، تو قسم سوال کو جواب بنانا بھی ممکن ہے کیونکہ اس نے جواب پر کوئی حرف زیادہ نہیں کیا اس کے برخلاف اگر ہو مستقل زائد کلام کرتے ہوئے یہ کہتا خدا کی قسم میں تجھ سے ناشتہ نہ کروں گا، تو پھرصرف جواب ہونا ممکن نہیں(لیکن یہاں صرف ناشتہ نہ کروں گا، کہا جو کہ صرف جواب کے طور پہر درست ہوسکتا ہے)اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ ذخرہ کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۸۵)