مسئلہ ۱۲۱: از بنارس محلہ پترکنڈہ مکان ببوائن صاحبہ مرسلہ مولوی ابوالخیر سید حسن صاحب ۱۳جمادی الاخری ۱۳۲۰ھ
سیّدی مولائی وماوائی مدظلہ اﷲ تعالٰی بعد السلام علیکم کے خدمت میں عرض یہ ہے کہ حضور معتمد علیہ کلی ہیں لہذا یہ استفتاء بھیجا جاتا ہے حضور ہی کے مہر پر جواز وعدمِ جواز ہے اگر چہ اکثر علماء نے دستخظ کیا ہے، صورت سوال یہ ہے :
چہ می فرمایند دین اندریں صورت کہ زید بحضور خالد بعدم موجودگی عدم تسمیہ ہندہ یعنی زوجہ خود گنت یک طلاق، دوطلاق، سہ طلاق، میدہم یانمی دہم ہیچک نہ گفتہ وبکر کہ بردر حقیقی زید ست می گوید کہ رُوبروئے من بلا تسمیہ وبلا حضور ہندہ می گفت طلاق میدہم طلاق میدہم طلاق عمرومیگوید کہ صباح زید زپر سیدم کہ شب گزشتہ درمکان شما شوروغل بچ سبب بود گفت من طلاق دادہ ام(بلاحضورہندہ وبلاتسمیہ واضافت) وہندہ لفظ طلاق از جائے دیگر شنیدہ می گوید کہ زید یعنی شوہرم مرا طلاق دادہ است زید ازو انکار می سازد۔ دریں صورت ہندہ مطلقہ خواہد شد یا نہ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے خالد کے ہاں اپنی بیوی ہندہ کا نام لئے بغیر، بغیر اسکی موجودگی کے لئے''ایک طلاق، دو۲طلاق، تین طلاق''۔اس نے ''دیتا ہوں''یا''نہیں دیتاہوں'' کچھ نہ کہا۔ زید کا حقیقی بھائی بکر کہتا ہے کہ میرے سامنے زید نے اپنی بیوی ہندہ کی غیرموجودگی اور اس کانام ذکر کئے بغیر کہا:''طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں''۔ عمرو کہتا ہے صبح جب میں نے زید سے پوچھا کہ تمہارے گھر گزشتہ رات کیا شوروغل ہورہاتھا، اس نے کہ میں نے طلاق دی ہے۔(یہ ہندہ کا نام اور اسکی طرف نسبت کئے بغیر اس کی غیر موجودگی میں کہا ہے) اور ہندہ نے طلاق کے متعلق کسی سے سن کر کہا کہ زید یعنی میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے، جبکہ زید اس سے انکار کرتا ہے، تو اس صورت میں ہندہ کو طلاق ہوئی یا نہ۔(ت)
حضور والا راسخ المحققین ہیں گوکہ کبھی اس حقیر کو حضور وملازمت حاصل نہ ہوئی لیکن فیوضات نا متنا ہی سے مستفیض ہوتا ہے، اکثر فتوے حضور کے اس شہرمیں آتے رہتے ہیں، یہ واقعہ اس خاکساری کے بالمواجہ ہوا ہے، زید نے بلاتسمیہ وخطاب واضافت بحالت عدم موجودگی ہندہ لفظ''طلاق'' و''طلاق دیتا ہوں'' کہا ہے
اور صبح کو بوقتِ دریافت عمرو زید نے کہا کہ میں نے جو کہا کہ میں نے طلاق دیا ہے بلاتسمیہ وبلا اضافت بطرف زوجہ اس کہنے سے زید کی مراد وہی لفظ طلاق ہے جو شب کوکہا تھا انشا نہیں خبردے رہا ہے طلاق شب کی۔زیادہ حدِادب!
الجواب
حکم ہر دو گونہ است حکم دیانت وحکم قضاء، دیانت آنکہ فیما بین العبدوربہ با شد ایں جا دیگراں را دخل نیست او داند وخدائے او۔ دریں سخن اضافت بسوئے زن نیست، اگر دردل ہم قصد اضافت نہ کردہ باشد قطعاًطلاق نیست وذٰلک لان الطلاق لاوقوع لہ الابالا یقاع ولا ایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولایتاتی ذلک الابالاضافۃ ولو فی النیۃ، فاذا خلیا عنہ لم یکن احداث تعلق اذلاتعلق الا بمتعلق فلم یکن ایقاعا فلم یورث وقوعا وھذاضروری لایرتاب فیہ،مجرد تلفظ بلفظ طلاق ہی بے اضافت بزن نہ درلفظ ونہ درقصد اگر موجب تطلیق شود ہر کسے کہ لفظ طلقت یا طلاق دادم یامی دہم برزبان آرد زن او مطلقہ شود اگر چہ ہمیں قصد حکایت دارد ولازم آید طلبہ درکتاب الطلاق ازیں گونہ صدہا الفاط می خوانند ودربحث وتکرار باربار زبان رانند زنان ہمہ سہ ۳ طلاقہ مانند ھل ھذا الابھت بحت۔
حکم دو۲ طرح ہوتا ہے ایک دیانۃً اور دوسرا قضاءً۔ دیانۃً حکم کا معنٰی یہ ہے کہ بندے اور اﷲتعالٰی کے درمیان معاملہ ہے یہاں کسی دوسرے کا کوئی دخل نہیں، بندہ جانےاور اس کا خداجانے اور مسئولہ صورت میں بیوی کی طرف طلاق کی اضافت کا قصد نہ کیا ہو تو قطعاً طلاق نہ ہوئی، کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع) کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو، تو طلاق جب اضافت لفظی یا قلبی سے خالی ہو تو طلاق کا تعلق پیدا نہ ہوگا کیونکہ تعلق بغیر متعلق نہیں ہوسکتا، اس لئے ایقاع نہ ہوگا، تو وقوع بھی نہ ہوگا، اتنی بات واضح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ اگر زبان پر لفظ طلاق نسبتِ لفظی یا ارادی کے بغیر ہی طلاق دینے کا موجب قرار پائے تولازم آئے گا کہ جو شخص بھی کسی صورت میں اپنی زبان سے لفظ طلاق استعمال کرے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے خواہ حکایت کرتے ہوئے ہی استعمال کرے، نیز دینی طلباء کتاب الطلاق میں اس قسم کے صدہا الفاظ پڑھنے، تکرار اور بحث کرنے میں بار بار زبان پر لاتے ہیں تو لازم کہ آئیگا کہ ان سب کی بیویوں کو تین طلاق پڑجائیں۔ جبکہ یہ خالص جھوٹ ہے۔
درمحیط وہندیہ وغیرہما است لایقع فی جنس الاضافۃ اذا لم ینولعدم الاضافۃ الیھا۱؎زیدبہ نیت خود عالم ہست وعالم الضمائر والسرائر جل جلالہ، از وعالم تراست اگر ارادہ طلاق ہندہ نہ کردہ بود ہندہ ہمچناں زن اوست و فہم وقول دیگراں ہیچ زیاں نیارد آنچناں کہ محبان قصد طلاق فتوائے مفتی بعدم سود نہ دارد،واﷲعلیم بذات الصدور والیہ سبحانہ ترجع الامور،
محیط اور ہندیہ وغیرہما میں ہے کہ اضافت نہ ہونے پر طلاق نہ ہوگی تو موجودہ صورت میں زید اپنی نیت کو اس سے زیادہ جاننے والا ہے، اگر ہندہ بدستور اس کی بیوی ہے۔ دوسروں کا فہم یا ان کی بات اس معاملہ میں مضر نہیں ہے، جو لوگ طلاق کے خواہاں ہیں ان کوکسی مفتی کا فتوٰی عدمِ طلاق کار آمد نہیں ہوگا، اﷲتعالٰی دل کی باتوں کو جانتا اور امور کافیصلہ آخر اس کے پاس ہوگا۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۲)
واماحکم قضاء کہ قاضی وزن بآں کاربند ند پس تحقیق آں ست کہ قضاءً نیز حکم بوقوع طلاق را ازتحقق اضافت باگزیرست،کما فی کتب المذھب لا یحصی عددھا ولاینقطع مددھاومن فقیر درتعلیقات خودم بر ردالمحتار بعد تحقیق آں کہ اضافت در لفظ ہر چند گونہ است تحقیق آں کہ اضافت درلفظ ہر چند گو نہ است تحقیق نمودہ ام کہ چوں لفظ از ہمہ وجوہ اضافت تہی باشد آنگاہ بنگرند اگر ایں جا قرینہ باشد کہ باو راجح تر ارادہ اضافت ست قضاءً حکم بطلاق کنند نظر الی الظاہر واﷲیتولی السرائراگر شوہر بہ قسم انکار ارادہ آں را کند پس اورامصدق دارند وزن را مطلقہ نانگارند لکنونہ امینا فی الاخبار عن نفسہ وقداتی بما یحتملہ کلامہ درہند یہ از فتاوٰی می آرد رجل قال لا مرأتہاگر توزن منی سہ ۳طلاق مع حدف الیاء لایقع اذا قال لم انو الطلاق لانہ لما حذف فلم یکن مضیفا الیھا۱؎۔
حکم قضاء میں قاضی اور عورت کا کردار ہوگا، تو اس کی تحقیق یہ ہے کہ قضاءً بھی طلاق کو واقع کرنے کے حکم کے لئے اضافت کا تحقق ضروری ہے، جیسا کہ مذہب کی کتب میں بے شمار مرتبہ مذکور ہے،اور اس فقیر نے ردالمحتار کی تعلیقات میں بحث کرتے ہوئے پہلے لفظی اضافت کی تحقیق پیش کی کہ وُہ کن کن صورتوں میں ہوسکتی ہے پھر یہ تحقیق کی کہ اگرلفظ ہر طرح اضافت سے خالی ہوں تو وہاں دیکھا جائے گا کہ یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود ہے جس سے اضافت کا ارادہ راجح طور پر معلوم ہوتا ہو تو قضاءً ظاہر قرینہ کی بناء پر طلاق کا حکم کردیا جائے گا، باطنی امور اﷲتعالٰی کے سپرد ہیں ارادے کا انکار کرتا ہو تو اس کی بات مان لی جائے گی اور اس کی بیوی مطلّقہ نہ ہوگی، کیونکہ وہ اپنے بارے میں خبر دینے میں امین متصور ہوگا جبکہ وہ بات بھی ایسی ہی کہتا ہے جس کا کلام میں احتمال موجود ہے۔ ہندیہ میں متعدد فتوو ں میں کہا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا اگر تو میری بیوی،تین طلاق(یائے نسبت کو مخذوف کیا) تو طلاق نہ ہوگی جب یہ بتائے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی، کیونکہ یائے اضافت کو حذف کردینے کی وجہ سے بیوی کی طرف اضافت کا ذکر نہ ہوا،
(۱؎ الفتاوٰی الہندیۃ الفصل السابع فی الطلاق بالا الفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۲)
ہندیہ از محیط می نگارد سئل شیخ الاسلام الفقیۃ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدین ان اطلقک قالت نعم فقال بالفارسیۃ اگرتو زن منی یک طلاق دو طلاق سہ طلاق قومی واخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یردبہ الطلاق فالقول قولہ۲؎ ہمچناں درخانیہ فرمود وزادمعللا لانہ لم یضف الطلاق الیھا۱؎،
ہندی نے محیط سے نقل کرتے ہوئے لکھا کہ شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے کسی نے پوچھا کہ ایک نشے والا اپنی بیوی کو کہتا ہے کہ کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دوں؟ بیوی نے جواب میں ہاں کہا تو نشے والے نے فارسی میں کہا اگر تو میری بیوی، ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق، اٹھ جا، نکل جا۔ اور خاوند کا گمان ہے کہ میں نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا تو اس کی بات ما ن لی جائیگی۔ یوں ہی خانیہ میں ہے لیکن اس پر انہوں نے علّت بیان کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا، کیونکہ اس نے طلاق کی اضافت بیوی کی طرف نہ کی،
(۲؎ الفتاوٰی الہندیۃ الفصل السابع فی الطلاق بالا الفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۳۸۳)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں باب التعلیق مطبوعہ نولکشور ۱ /۲۱۹)
نیز در ہندیہ ازذخیرہ می سپارد سئل نجم الدین عمن قال لامرأتہ چوں تو روی طلاق دادہ شدوقال لم انو الطلاق ھل یصدق قال نعم۲؎ہم در خانیہ وبزازیہ است قال لھا لاتخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لا یقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ۳؎،واگر ہمچو قرینہ نیست آنگاہ حکم طلاق اصلا نہ کنند مگر آنکہ شوہر اقرار ارادہ طلاق نماید۔
نیز ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول لکھا،کہ، نجم الدین سے ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے بیوی کو کہا جب تو گئی تو طلا ق ہوجائے گی، اور کہتا ہے کہ میں نے بیوی کو طلاق کی نیّت نہیں کی، تو کیا اس شخص کی بات مان لی جائیگی۔ تو انہوں نے جواب میں فرمایا ہاں مان لی جائے گی خانیہ اور بزازیہ میں بھی ہے، کسی نے بیوی کو کہاکہ میری اجازت کے بغیر نہ نکلنا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے ، تو اگر عورت نکل جائے طلاق نہ ہوگی، کیونکہ اس نے بیوی کی طلاق کی قسم کو ذکر نہ کیا تو اس میں غیر بیوی کی قسم کا احتمال ہے اس لئے اس کی بات تسلیم کرلی جائے گی،اگر وہاں قرینہ بالکل نہ ہوتو بھی طلاق نہ ہوگی اور قاضی طلاق کا حکم نہ کرے گا، مگر یہ کہ خاوند طلاق کے ارادےکا اقرارکرے۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۵)
(۳؎ فتاوٰی بزازیۃ علی حاشیۃ الفتاوی الہندیۃ کتاب الایمان نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۷۰)
درخلاصہ وہندیہ وجیزوانقروی وغیرہا است سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفر بھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقع۴؎ولفظ مجموعہ چناں ست فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والالا،
خلاصہ، ہندیہ، وجیزاور نقروی وغیرہا میں ہے کہ ایک نشہ والے سے اس کی بیوی فرار ہوگئی، وہ پیچھے بھاگا اور کامیاب نہ ہونے پر اس نے کہا: تین طلاق کے ساتھ ، پس اگر وہ خاوند کہے کہ میں نے اپنی بیوی کی نیت سے کہا، تو طلاق واقع ہوگی، اور اگر اس نے کچھ نہ کہا تو طلاق نہ ہوگی۔اور مجموعہ الفتاوٰی کے الفاظ یہ ہیں: بیوی بھاگ گئی اور کامیاب نہ ہوا تو اس نے کہا، تین طلاق، اگر وہ کہے میں نے بیوی کے ارادے سے یہ الفاظ کہے ہیں تو بیوی کو طلاق ہوگی ورنہ نہیں،
(۴؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق الفصل الاول من جنس اخر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ جزء ۳ /۷۶)
ودر بحرالرائق لو قال طالق فقیل من عنیبت فقال امرأتی طلقت امرأتہ۱؎اھ،فقد علق الوقوع علی اقرارہ انہ عناھا این ست تحقیق انیق وبہ یحصل بتوفیق اﷲتعالٰی التوفیق وتمام الکلام فی غیر المقام مع توضیع المسائل وتنقیح الدلائل مذکورفیما علقنا علی ردالمحتار فعلیک بہ فانک لاتجدہ فی غیرہ والحمدﷲ العزیز الغفار۔
بحرالرائق میں ہے: کسی نے کہا طالق، تو پوچھا گیا کہ تو نے کس کے ارادے سے کہا، اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کے ارادے سے کہا ہے، تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی اھ۔ بحرالرائق نے طلاق واقع ہو نےکو اس کے اقرار سے مشروط کیا ہے کہ اس نے بیوی مرادلی ہے، یہ واضح تحقیق ہے اور اﷲتعالٰی کی توفیق سے عبارات میں موافقت ہوگئی ہے، اس کی مکمل بحث دوسری جگہ مسائل کی وضاحت اور دلائل کی چھان بین کے ساتھ ردالمحتار کے ہمارے حاشیہ میں مذکور ہے، اس کی طرف رجوع تجھ پر لازم ہے کیونکہ دوسری جگہ ایسی تحقیق نہ پائے گا، سب تعریف اﷲتعالٰی غالب اور بخشنے والے کے لئے ہی ہے۔
(۱؎ بحرالرائق باب الطلاق الصریح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۵۳)
چوں ایں معنی عالی منجلی شد حالا در مسئلہ دائر نظر باید پیدا ست کہ لفظ عاری از اضافت ست وسائل فاضل درنامہ خودش وانمودہ کہ صدور ایں کلام از زید ابتداءً بود بے مکالمہ احدے دربارہ طلاق ہندہ حتی یتوھم وجود الاضافۃ فی سوال صدر ھذاجوبا لہ والسوال معاد فی الجواب بازآغاز اظہار سوال آنست کہ زید ہمیں یک طلاق دو طلاق گفت ومی دہم وغیرہ بادہیچ نیا میخت پس ایں صورت از وجہ دوم اعنی عدم قرینہ مذکورہ باشد کما رأیت النص فی قولہ بعد طلبھا وعدم الظفر بھا سہ۳طلاق او بسہ۳ طلاق پس ایں جا قضاءً نیز حکم طلاق راخود گنجائشے نیست لانہ حٍ یتوقف علی اقرارہ وزید ھٰھنا أب عنہ کماذکرہ فی السوال، واگر رنگ ثبوت گیرد کہ زید طلاق می دہم گفتہ بود چناں کہ بکر بردرش دانمود، آنگاہ غایت آنکہ ایں صورت از صور وجہ اوّل باشد فان قولہ میدہم فان نفی احتمالات اخرکانت لسری الی ماعری عنہ کان یقول سہ طلاق یرید دادنی است او دادن الی غیرذٰلک ممالیس من الایقاع شیئ فلاینفی احتمال ارادۃ غیرھا ولیس باصرح من قولہ لامرأتہ لاتخرجی فانی حلف بالطلاق بل ولامن قولہ لھا اگرتو زن منی یک طلاق دو طلاق سہ طلاق بل الحق ان ھٰذین اللفظین المنصوص علیھما اصرح وقولہ طلاق میدہم من دون ذکر جریی لامرأتہ ہندہ ولامن غیرھا پس ایں جانیز حکم طلاق علی الاطلاق نتواں کرد بلکہ اگر زیدبقسم گوید کہ بایں سخن ارادہ طلاق زنش نہ کردہ بود مصدق دارند وزن را مطلقہ نشمارند کما قدمنا النصوص علیہ ہمچناں قول او بجواب عمرو کہ طلاق دادہ ام نیز از اضافت خالی است درسوال وجواب ہیچ جاذکر زن نیست پس قضاء حکمش ہماں حکم الفاظ سابقہ است ودیانۃً ازاں ہم آسان تراست کہ طلاق دادہ ہم صریح دراخبار است اگر ایں جا اضافت در نیت داشتہ از اضافت منویہ عاری بودلانہ حِ لایکون الا اخبار کاذبا والاخبار الکاذب لایرد بہ طلاق دیانۃ کما نص علیہ فی الخیریۃ وردالمحتار وغیرہما من معتمدات الاسفار،
جب یہ عالی شان بحث روشن ہوگئی تو اب زیرِ نظر مسلہ میں غور کرنا ضروری ہے کہ یہاں لفظ اضافت سے خالی ہیں، اورسائل نے اپنے خط میں خود واضح کیا ہے کہ زید سے یہ کلام ابتداء صادر ہوا ہے جس سے قبل کوئی مذاکرہ طلاق ہندہ کسی نے نہیں کیا، تاکہ یہ شبہہ ہوسکے کہ ہندہ کے بارے میں طلاق کے سوال میں اضافت مذکور ہے جس کے جواب میں یہ کلام ہے اور جواب میں سوال کا اعادہ ہونے کی وجہ سے جواب میں اضافت پائی گئی ہے، پھر سائل نے سوال کی ابتداء میں ذکر کیا کہ زید نے ایک طلاق ، دو طلاق، تین طلاق بغیر ذکر ''دیتا ہوں'' وغیرہ کہے ہیں، تو اس سےقرینہ نہ ہونے کی دوسری وجہ پائی گئی جیسا کہ اسکی نص پہلے''بیوی بھاگ گئی اور کامیاب نہ ہوا'' آپ کو معلوم ہے تو خاوند نے ''تین طلاق'' یا ''تین طلاق کے ساتھ'' کہا تھا (اور قرینہ نہ ہونے کی وجہ سے طلاق نہ ہوئی تھی) لہذا یہاں بحکم قضاء بھی طلاق کی گنجائش نہیں ہے، کہ اب طلاق، زید کی اقرار پر موقوف ہوئی جبکہ زید یہاں انکاری ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ زید نے''میں دیتا ہوں'' کہاہے جیساکہ اس کا بھائی بکر کہہ رہا ہے تو ایسی صورت میں بھی یہ ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ اس کو پہلی صورتوں سے ایک صورت شمار کیا جائیگا کیونکہ زید کا کہنا ''میں دیتا ہوں'' اگر دوسرے احتمالات کی نفی بھی کردے تب بھی ان الفاظ کی طرح ہوگاجو''میدہم یعنی میں دیتاہوں'' سے خالی ہیں، جیسے تین طلاق کہنا کہ اس میں ''میں نے دی''، ''دینا چاہتا ہوں'' یا''یہ تین طلاق کے لئے لائق'' وغیرہ احتمالات ہیں جو کہ طلاق کو واقع کرنیوالے نہیں ہیں، لہذا اس سے دوسرے احتمالات کی نفی نہ ہوگی، اور یہ لفظ بیوی کو کہنا''مت نکل'' کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے بلکہ اس کو یہ کہنا ''تو اگر میری بیوی ہے ایک طلاق، دوطلاق، تین طلاق'' وغیرہ سے زیادہ صریح نہیں ہے بلکہ حق یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ ''طلاق می دہم'' سے زیادہ صریح ہیں، اور زید کا اپنی بیوی ہندہ یاغیر کے ذکر کے بغیر''طلاق می دہم'' کہنے پر بھی علی الاطلاق قاضی طلاق کا حکم نہ کرے گا، بلکہ اگر زید قسم کھا کر کہہ دے میں نے بیوی کی طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا تو قاضی کو اس کی تصدیق کرنی ہوگی، اور بیوی کو مطلقہ نہ قرار دے گا، جیساکہ ہم سابقہ نصوص میں اسے بیان کرآئے ہیں اور یونہی زید کا عمرو کے جواب میں یہ کہنا''طلاق دادہ ام''(میں نے طلاق دی ہے) بھی اضافت سے خالی ہے، لہذاقضاءً اس کا حکم بھی سابقہ الفاظ کی طرح ہوگا، اور دیانۃً یہ لفظ پہلے الفاظ سے آسان ہیں کیونکہ''طلاق دادہ ام'' صریح خبر ہے اس میں یہاں اگر اضافت کی نیت ہو تب بھی طلاق نہ پڑے گی نیز مذکورہ الفاظ نیت میں اضافت سے خالی ہونے کی بناء پر جھوٹی خبریں قرار پائیں گے جبکہ جھوٹی خبر سے طلاق کا ارادہ دیانۃً درست نہیں ہے جیسا کہ اس پر خیریہ اور ردالمحتار وغیرہما معتبر کتب میں تصریح موجود ہے۔
پس در صورت مستفسرہ حکم قضاء آن است کہ اگر ثابت ہماں بمجرد لفظ یک طلاق دوطلاق سہ طلاق بے ضم می دہم است کما مشروح فی اول السوال آنگاہ بازید ہیچ تعرض نہ کنند بعدم ثبوت الطلاق اصلا،واگر بدوشاہد عدل ثبوت نہ پزیرد کہ سہ بار طلاق میدہم گفتہ بود پس زید را سوگند دہند اگر حلف کرد کہ بایں سخن طلاقِ زن نخواستہ ام راہش گزارندوانش دارند واگر نکول کند بارادہ طلاق معترف شود سہ طلاق رنگ ثبوت یا بد۔ واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔
لہذا مسئولہ صورت میں قضاءً حکم یہ ہے کہ اگرصرف یہی الفاظ ہوں ایک طلاق، دوطلاق، تین طلاق، ان کے ساتھ ''میدہم'' نہ ثابت ہو تو یہ زید سےکسی قسم کا تعرض جائز نہ ہوگا کیونکہ طلاق کا اصلاً کوئی ثبوت نہیں، اور اگر زید نے ان الفاظ کے ساتھ''میدہم'' کہا ہوتو پھر اگر دو۲ گواہ عادل ثابت نہ کرسکیں کہ زید نے تین بار ''طلاق میدہم'' کہا ہے توزید سے قسم لی جائے، اگر حلفاً کہہ دے کہ میں نے ان الفاظ سے بیوی کی طلاق مرادنہیں لی، تو زید بری ہے اور اس کوامن ہے اور اگر وُہ قسم سے انکار کرے تو وہ طلاق کے ارادہ کا معترف قرار پائے گا اور اس کی بیوی کی تین طلاق ہوجائیں گی۔ واﷲسبحانہ، وتعالٰی اعلم(ت)