مسئلہ۱۱۹تا۱۲۰ : از چھاؤنی فیروز پور مرسلہ عبد العزیز خاں پنشنر یکم جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
بخدمت اقدس حامی شرعِ رسول، حاوی معقول ومنقول حضرت مجددمائۃحاضرہ جناب مولانا صاحب دامت فیوضہم، مؤدبانہ السلام علیکم کے بعد گزارش ہے کہ طلاق بہر نہج کے باشد عورتوں کو اس کا علم ہویا نہ ہو واقع ہوجاتی ہے مگر اس کا ایقاع بلاوجہ ملجیہ شرعیہ نادرست اور حرام ہے۔
درمختار میں ہے :
وایقاعہ مباح عند العامۃ لاطلاق الاٰیات اکمل، وقیل قائلہ الکمال الاصح حظرہ الالحاجۃ۱؎الخ۔
طلاق دینا جمہوری فقہاء کے نزدیک مباح ہے کیونکہ طلاق والی آیاتِ کریمہ مطلق ہیں کما ذکرہ اکمل اور بعض نےکہا یعنی کمال الدین ابن ہمام نے کہ قولِ اصح یہ ہے کہ طلاق ممنوع ہے مگر حاجت ہوتو مباح ہے الخ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۵)
معاشرتِ نساء کے بارے میں جو آیات اور احادیث وارد ہیں اُن میں بھی جانب عدم ایقاع اور حرمت مرجح معلوم ہوتی ہے، بعد نکاح ایقاع وعدم کل مختار ہے اور عدمِ ایقاع زیادہ مختار اور پسندیدہ نظراً الی الاٰیات والاحادیث التی وردت فی المعاشرت بالنساء(اُن آیات واحادیث کے پیشِ نظر جو عورتوں سے معاشرت کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔ت) اور بعد چند سال کے اگر آپس شقاق واقع ہوتو پنچایت مطابق آیت
والّٰتی تخافون نشوزھن۲؎
(اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو۔ ت)
(۲؎ القرآن ۴ /۳۴)
مصالحت کی راہ سے اختیار کریں بنابریں قرار پایا کہ میں اس عورت کو ہرگز طلاق نہ دوں گا تا زندگی، اور اقرار نامہ لکھ دیا اور اپنے اختیار ایقاع طلاق کو اس معاہدہ سے باطل کردیا ہے اور بروئے اقرار نامہ کے طلاق نہیں دے سکتا کہ اسے نقضِ معاہدہ لازم آتا ہے نقض معاہدہ عام ہے
واوفوابالعھدان العھد کان مسئولا۳؎
(وعدہ وفا کرو یقینا عہد کے متعلق سوال ہوگا۔ت)
(۳؎ القرآن ۱۷ /۳۴)
واقع ہوا بدیں لحاظ ایقاعِ طلاق بلاوجوہ موجہ شرعیہ حرام اور محظور ہوگا لہذا سوال کے جواب میں طلاق دینا بلحاظ اقرار نامہ محظور وممنوع لکھنا درست اور استفتاء ثانی میں عدمِ وقوع طلاق عبارت عالمگیریہ سے بظاہر ثابت ہوتا ہے وہ بھی صحیح ہے کیونکہ حبیب خاتون کے خاوند نے طلاق نامہ اس بنا پر لکھوایا ہے کہ اسے خرچ نہ دینا پڑے لہذا اس کا طلاق نامہ لکھوانا قابلِ سماعت نہ ہونا چاہئے کیونکہ اس کا بیان ہے کہ میں نفقہ نہیں دُوں گا میں اُس کوطلاق نامہ رجسٹری بذریعہ ڈاک بھیج چکا ہوں، مسمّاۃ حبیب خاتون نے واپس کردیا مسماۃخاتون انکاری ہے اور کہتی ہے کہ مجھے خبر تک بھی نہیں کہ مجھے طلاق دیا گیا اور طلاق نامہ میرے پاس نہیں بھیجا گیا، لہذا ملتمس ہوں کہ براہِ عنایت ونوازش قدیمانہ کے دست بستہ عرض ہے کہ آپ ہردو۲ استفتاء کو بعد ملاحظہ کے حقیقت مسئلہ سے آگاہ فرمائیں کیونکہ اس مسئلہ کی اشد ضرورت ہے اور جناب کی ذات والا صفات پر کمال بھروسا ہے۔
سوال: جو عورت صالحہ نمازی اﷲاور رسول کی تابعداری ہے احکامِ شریعت پابندی خاوندی کی تابعداری ہر ایک حکم میں مع ہذا چار پانچ سال بعد کسی ناچاقی کے وقت میں رُوبرو ئے پنچایت اقرار نامہ بھی لکھ دیا جس میں شرط ہے کہ تازندگی طلاق نہیں دُوں گا، کیا ا سے پانے اس ا قرار نامہ کے رو سے اس عورت کو طلاق دینا جائز اور درست ہے؟ اور شیرخوار لڑکی بھی اس کے پاس ہے۔
سوال متعلق سوال سابق اقرار نامہ
سائل نے یہ بھی تحریر کر دیا ہے اس اقرار نامہ کے ضمن میں نان نفقہ بابت پانچ روپیہ ما ہوردیاکروں گا، خرچ نہ بھیجنے پر عورت نے حاکم کے پاس نالش کی ہے، مدعا علیہ کی طلبی ہوئی، اس پر جواب دعوٰی کے ساتھ وکیل نے طلاق نامہ لکھواکر پیش کردیا ہے، یہ طلاق نامہ نان ونفقہ کے نہ لازم ہونے کے لئے پیش کیا ہے کہ میں اس کو طلاق نامہ دے چکا تھا جس سے عورت انکاری ہے، کیا یہ طلاق نامہ اس کا ایسی صورت میں معتبر ہ اور نان ونفقہ اس پر واجب نہ ہوگا؟
جواب سوالِ اوّل
شَے واحدمیں حل وحظر کا دوجہت سے مجتمع ہونا کچھ بعید نہیں، طلاق فی نفسہٖ حلال ہے، اور ازانجاکہ شرع کو اتفاق محبوب اور افتراق مبغوض ہے، بے حاجت یا ریت محظور ہے، حدیث میں ان دونوں جہتوں کے اجتماع کی طرف صاف اشارہ فرمایا گیا :
ابغض الحلال الی اﷲالطلاق۱؎۔
حلال چیزوں میں سے اﷲتعالٰی کے ہاں طلاق ناپسندیدہ ترین ہے(ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد باب کراہیۃ الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۶)
حلال بھی فرمایا اور مبغوض بھی، آیہ کریمہ میں مطلقاً ارشاد ہوا:
یایھاالنبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن واحصواالعدۃ۲؎۔
اے نبی (صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم)!جب آپ طلاق دیں تو عدت کو پیشِ نظر رکھ کر طلاق دیں اور عدت کو شمار کریں۔(ت)
(۲؎ القران ۶۵/۱)
لعن اﷲالزواقین (ف۱) والزواقات۱؎۔
نکاح کو شغل بنانے والے مرد اور عورت پر اﷲتعالٰی کی لعنت ہے۔(ت)
(۱؎ مجمع الزوائد باب من یکثر الطلاق دارالکتاب بیروت ۴ /۳۳۵)
ف ۱: غالباً حدیث کے الفاظ یُوں ہیں: ان اﷲلایحب الزوقین والزوقات۔ تحقیق کے لئے ملاحظہ ہو معجم اوسط۸/۴۱۳، دُرمنثور ۱/۲۷۸، تفسیر القرطبی ۱۸/۱۴۹، کشف الاستارعن زوائد البزار ۲/۱۹۲ ان سب کتب میں''ان اﷲلا یحب الزواقین ''کے الفاظ ہیں '' لعن اﷲالزواقین'' کے الفاظ نہیں۔ نذیر احمد
اور فرمایا :
ان المختلعات ھن النافقات۲؎۔
خلع طلب کرنے والی عورتیں منافق ہیں(ت)
(۲؎ الترغیب والترتیب باب ترہیب المرأۃ ان تسأل زوجہا مصطفی البابی مصر ۲ /۸۴)
(جا مع الترمذی ابواب الطلاق امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۱ /۱۴۲)
اور فرمایا :
ماحلف بالطلاق مومن ولا استحلف بہ الامنافق۳؎۔
طلاق کی قسم دینے والا مومن نہیں، اور طلاق کی قسم لینے والا صرف منافق ہے ۔(ت)
(۳؎ کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۴۶۳۴۰ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ /۶۸۹)
آیت کا وہ حکم اور احادیث کے یہ ارشادات انہی وجہین حل وبغض پر ہیں، اگرعورت پر کوئی شُبہ ہویا وُہ عاصیہ ہو یا نماز نہ پڑھتی ہو یا بُوڑھی ہوگئی ہو اور اُسے قسم بین النساء سے بچنا ہوتو ان سب صورتوں میں طلاق بلاکراہت جائز ومباح ہے بلکہ بعض صورتوں میں مستحب،علماء فرماتے ہیں کہ اگر عورت نماز نہ پڑھے اور یہ ادائے مہر پر قادرنہ بھی ہو جب بھی طلاق دے دینی چاہئے کہ
لان (ف۱)یلقی اﷲ ومھرھا فی عنقہ خیر لہ من ان یعاشر امرأۃ لاتصلّی کما فی الخانیۃ والغنیۃ وغیرھما۴؎۔
اﷲتعالٰی کے ہاں پیشی میں بیوہ کا ہر شوہر کے گلے میں پڑا ہو یہ اس سے بہتر ہے کہ بے نماز عورت سے معاشرت جاری رکھے، جیسا کہ خانیہ،غنیـہ وغیرہما میں ہے۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۶)
ف۲: یہ عبارت عبد اﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منقول ہے اصل الفاظ یوں ہیں:''لان القی اﷲوصد اقھا بذمتی خیر من ان اعاشرامرأۃ لا تصلی''۔ ملاحظہ ہو ردالمحتار کا صفحہ مذکور ۲/ ۴۱۶۔ نذیراحمد
بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہوتی ہے، جیسے اس کو اس کے ماں باپ کو طلاق دینے کا حکم دیں اور نہ دینے میں ان کی ایذا وناراضی ہو واجب ہے کہ طلاق دے دے اگر چہ عورت کا کچھ قصور نہ ہو "لان العقوق حرام والا جتناب عن الحرام واجب"(کیونکہ نافرمانی حرام ہے اور حرام سے بچنا واجب ہے۔ت)
حدیث میں فرمایا:
وان امراک ان تخرج من اھلک ومالک فاخرج۱؎۔
اگر والدین بیوی اورمال سے علیحدگی کا حکم دیں تو ایسا ہی کرو۔(ت)
(۱؎ الترغیب والترھیب من ترک الصّلوٰۃ تعمداً مصطفی البابی مصر ۱ /۳۸۳)
(السنن الکبرٰی کتاب القسم والنشور دارصادبیروت ۷ /۳۰۴ )
(کنز العمال حدیث ۴۴۰۰۱۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۹)
اں بے حاجت بلا عذر شرعی طلاق دینا مکروہ و ممنوع ہے مگر دے گا تو پڑضرور جائے گی کہ وہ اس کی زبان پر رکھی گئی''بیدہ عقدۃ النکاح''( نکاح کی گرہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ت) اس کا مرتکب مکروہ وہ بلکہ گنہگار ہونا بھی اس کے وقوع کو نہیں روکتا جیسے حالتِ حیض میں طلاق دینا حرام ہے کہ حکمِ
فطلقوھن لعدتھن۲؎
(عدّت کو پیشِ نظر رکھ کر طلاق دو۔ت)
(۲؎ القرآن ۶۵/۱)
گر دے گا تو ضرور ہوجائے گی اور یہ گنہگار ۔ عہد نامہ کا اثر فقط اتنا ہوگا کہ بلاحاجت جوطلاق جو طلاق دینا مکروہ تھا اب سخت مکروہ ہوگا کہ نقضِ عہد بھی ہو گامگر وقوع سے یہ بھی مانع نہیں ہوسکتا، دے گا تو پڑجانے میں شبہہ نہیں اگر چہ مخالفت کا عہد بھی ہوگا مگر وقوع سے یہ بھی مانع نہیں ہوسکتا، دے گا تو پڑجانے میں شبہہ نہیں اگر چہ مخالفت کا عہد بھی اس پر الزام آئے گا۔ اس عہد کا اگر حاصل یہ تھا کہ پانے اختیار طلاق کو سلب کرتا ہے تو وُہ عہد ہی مردود ہے کہ تغیر حکم شرع ہے شرع مطہر نے اس کو مالک کیا ہے اس مِلک کو باطل نہیں کرسکتا۔
حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: مابال اقوام یشترطون شروطالیست فی کتاب اﷲ، من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲفہوردان کانت مائۃ شرط شرط اﷲاحق واوثق۳؎۔
قوموں کا کیا حال ہوگا کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اﷲمیں نہیں ہیں، جوشخص ایسی شرط لگائے جو اﷲتعالٰی کی کتاب میں موجود نہیں یعنی اﷲتعالٰی کی پسندیدہ نہیں، تو وہ شرط مردود ہے اگر چہ ایسی سو۱۰۰ شرطیں ہوں، صرف اﷲتعالٰی کی پسندیدہ شرط قبولیت کے لائق اور باوثوق ہے۔(ت)
(۳؎ صحیح مسلم باب بیان ان الولاء طن اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۹۴)
ردالمحتار میں ہے :
یقع کثیر فی کلام العوام انت طالق تحلی للخنازیر وتحرّمی علیّ وافتی فی الخیریّۃ بأنہ رجعی لان قولہ وتحرمی علیّ ان کان للحال فخلاف المشروع لانھا لاتحرم الابعد انقضاء العدّۃ، وان کان للاستقبال فصحیح ولاینافی الرجعۃ،وکذلک افتی بالرجعی فی قولھم انت طالق لایردک قاضی ولا عالم لانہ لایملک اخراجہ عن موضوعہ الشرعی وایدہ فی حواشیہ علی المنح بمافی الصیرفیۃ لوقال انت طالق ولارجعۃ لی علیک فرجعیۃ۱؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
عوام کے کلام میں کثیر الوقوع ہے کہ''تجھے طلاق ہے تو خنزیروں پر حلال اور مجھ پر حرام ہے''،خیریہ میں فتوٰی دیا ہےکہ یہ طلاق رجعی ہے کیونکہ'' تومجھ پر حرام'' کہنا، اگر اس سے مراد یہ ہے کہ'' فی الحال مجھ پر حرام'' تو یہ خلاف، مشروع ہےکیونکہ طلاق کے بعد بیوی عدت ختم ہونے پر حرام ہوتی ہے اور استقبال کے لئے حرام کیا تو یہ صحیح ہے اور یہ رجوع کرنے کے خلاف نہیں اور یوں ہی فقہاء نے رجعی طلاق کا فتوٰی دیا ہے جب کوئی یہ کہے کہ تجھے ایسی طلاق جس پر تجھے کوئی قاضی اور عالم واپس نہ کرسکے، کیونکہ ایسا کہنے کا وُہ مجاز نہیں کہ جس سے وُہ شرعی حکم کو معطل کردے۔ منح کے حواشی میں اس کی تائید پرصیرفیہ کا یہ بیان ذکر کیا ہے کہ اگر کسی نے بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور تجھے پر رجوع کا حق نہیں ہے، تو یہ طلاق رجعی ہوگی۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الصریح من کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۵۱)