Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
64 - 155
مسئلہ ۱۱۵: از ملک بنگالہ موضع سبیب پور علاقہ کملا مرسلہ انوار الدین بار اول ۱۹شعبان۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طلاق حق اﷲیاحق العباد ہے؟بینواتوجروا۔

الجواب

طلاق کسی کا حق نہیں، حق ہے وہ جس کا مطالبہ پہنچے، اور طلاق کا مطالبہ عورت کو نہیں پہنچتا، بلکہ بنے وجہ شرعی مطالبہ کرے تو گنہگار ہو۔ اور اﷲ عزوجل بھی طلاق طلب نہیں فرماتا بلکہ اسے ناپسند و مبغوض رکھتا ہے، تو نہ وُہ حق اﷲہے نہ حق العبد، ہاں جب مرد عورت کو وجہ شرعی ر نہ رکھ سکے مثلاً نامرد ہوتو اس وقت شرعاً اس پر طلاق دینی لازم ہوجاتی ہے۔
قال اﷲتعالٰی: فامسکوھن بمعروف اوفارقوھن بمعروف۱؎۔
ان کو بھلائی کرتے ہوئے روک لو، یا ان کو بھلائی کے ساتھ رخصت کردو۔(ت)
(۱؎ القرآن    ۲ /۲۳۱)
ایسی حالت میں ضرور وُہ حق العبد وحق اﷲدونوں ہوجائے گی، حق العبد تو یُوں کہ عورت کی خلاصی اسی سے متصور، اور حق اﷲ یُوں کہ ہر حق العبد حق اﷲ بھی ہے جس کے ادا کا وُہ حکم فرماتا ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم 

مسئلہ ۱۱۶تا۱۱۷: ازملک بنگال ضلع سلہٹ ڈاک خانہ ایٹ کہولا موضع نارائن پور مرسلہ مولوی عبد الحکیم صاحب  روز عرفہ ۱۳۲۰ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :

سوال اوّل: کسی نے تین برس کے بعد ایک عورت کے طلاق پر گواہی دی اب شرعاً گواہ مقبول ہے یا مردود؟ اور مدّت فاصلہ جو درمیاں طلاق اور شہادت کے ہے مانع شہادت ہے یا نہیں؟ اور قبل اس شہادت کے تذکرہ طلاق اور عدمِ تذکرہ میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ بینواتوجروامع الدلائل(دلائل کے ساتھ بیان کرو اور اجر پاؤ۔ت)

سوال دوم: طلاق حق اﷲ ہے حق العباد؟ مع برہان قاطع بینو اتوجروا

الجواب 

طلاق بمعنی الایقاع یعنی اُس کا احداث اصلاً منجملہ حقوق نہیں،

حیث لامطالب لامن جھۃ العبد ولامن اﷲتعالٰی بل ابغض الحلال الی اﷲالطلاق۔

کیونکہ یہاں اﷲتعالٰی اور بندے کو طلاق کا کوئی مطالبہ نہیں پہنچتا بلکہ حلال چیزوں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ چیز اﷲتعالٰی کے ہاں  طلاق ہے۔(ت)

البتہ جب ادائے حقِ زوجہ پر قادر نہ ہو جیسے عنین وغیرہ، تو طلاق حق العبد ہے حق زن کے لئے دیانۃً بھی واجب ہے اور ہر واجب دیانۃً حق اﷲسبحٰنہ تواس حالت خاص میں طلاق حق العبد بھی ہے اور حق اﷲبھی ہے
لقولہ تعالٰی:

فامسکوھن بمعروف اوفارقوھن بمعروف۲؎۔
انہیں بھلائی کے ساتھ روک لویا بھلائی سے رخصت کرو۔(ت)
(۲؎  القرآن ۲ /۲۳۱)
اور طلاق بمعنی الوقوع یعنی بعد حدوث اُس کا ثمرہ حالاً ماٰلاً تحریم فرج ہے جو حق اﷲعزوجل ہے ولہذہ اس پر ادائے شہادت کے لئے کسی کا مدعی ہونا ضرور نہیں یہاں تک زن ومرد دونوں منکر ہوں مگر دوشاہد شرعی شہادتِ طلاق دیں حکمِ طلاق دیا جائے گا اور اُن دونوں کے انکار پر اصلاً التفات نہ ہوگا۔

درمختار میں ہے: یجب الاداء بلا طلب لو الشہادۃ فی حقوق اﷲتعالٰی کطلاق امرأۃ ای بائنا وعتق امۃ وتدبیرھا۱؎(ملخصاً)

طلب کئے بغیر ہی شہادت کی ادائیگی حقوق اﷲ میں ضروری ہے جیسا کہ کسی عورت کی بائنہ طلاق اور لونڈی کی آزادی اور اس کے مدبّر کرنے کے بارے شہادت(ملخصاً)۔(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الشہادت     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۹۰)
طحطاوی میں ہے :
وتقبل وان انکر الزوجان۲؎۔
بائنہ طلاق کے متعلق شہادت قبول کرلی جائے گی اگر چہ خاوند بیوی انکار کریں۔(ت)
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الشہادت     دارالمعرفۃ بیروت     ۳ /۲۲۹)
ولہذا اطلاق بائن میں اگر شاہدین جانبین جبکہ زوجین بعد طلاق بھی بروجہ ناجائز معاشرت رکھتے ہوں بلاعذر شرعی شہادت ایک عدّت تک ادانہ کریں فاسق ہوجائیں گے اور اب ان کی گواہی مردود ہوگی۔ قنیہ واشباہ ودرمختار میں ہے:

متی اخرشاھد الحسبۃ شھادتہ بلا عذر فسق فیرد۳؎۔

اگر گواہ نے بلاوجہ حقوق اﷲمیں شہادت دینے میں تاخیر کردی تو وُہ فسق قرار پائےگا اور اس کی شہادت مردودہو جائے گی۔(ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب الشہادت        مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۹۰)
غمزالعیون میں ہے : شاھد الحسبۃ اذا اخرشہادتہ ھل المعتبر خمسۃ ایام او ستۃ اشھر فیہ خلاف ذکرہ فی القنیۃ ولم یذکرہ المصنف رحمہ اﷲتعالٰی قال بعض الفضلاء الذی یظھر ان ذکر خمسۃ ایام کلام القنیۃ لیس بقید، بل المدارعلی التمکن من الشہاداۃ عند القاضی، ویدل علیہ مافی الصیر فیۃ شھدا انھما کان یعیشان عیش الازواج وکان طلقھا منذکذالاتقبل، لانھما صار فاسقین بتاخیرھما الشہادۃ۱؎اھ۔
اگر حقوق اﷲ میں شہادت دینے میں گواہ نے تاخیر کی تو تاخیر میں پانچ دن یا چھ ماہ میں سے کیا معتبر ہے، اس میں اختلاف کو قنیہ نے ذکر کیا ہے اور مصنف نے ذکر نہیں کیا۔ بعض فضلاء نے کہا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ قنیہ کاکم از کم پانچ دن کا ذکر کرنا کوئی قیدنہیں ہے بلکہ قاضی کے ہاں پہنچ کر شہادت دینے کی قدرت کا مدار ہے۔ صیرفیہ کی یہ عبارت اس پر دال ہے کہ دو۲گواہوں نے شہادت دی کہ طلاق دینے کے باوجود یہ دونوں میاں بیوی کی طرح رہ رہے ہیں جبکہ زوج نے طلاق اتنی مدت سے دے لکھی ہے تو ان کی شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ شہادت کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے دونوں گواہ فاسق ہوگئے اھ(ت)
 (۱؎ غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر     کتاب القضاء والشہادت والدعاوی     ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۴۷)
پس صورت مسئولہ میں اگر طلاق مغلظ تھی یا طلاق بائن تھی اور ادائے شہادت سے کوئی عذر صحیح مانع نہ تھا اور شہادت ادا نہ کی تو گواہی مردود ہے اگر چہ ہنوز تین ہی دن ہوئے ہوں نہ کہ تین برس، اور اس سے پہلے تذکرہ وعدم تذکرہ طلاق میں کوئی فرق نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۸: بریلی محلہ نقشبندیاں مسئولہ سیّد والیت حسین صاحب ۲۹ربیع الاول شریف ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس معاملہ میں کہ زید اور اس کی خالہ کے باہم نفاق دلی ہے اور دونوں کے مکان سکنی کا صحن ایک ہ، زید اپنی زوجہہ کو ممانعت کرتا ہے کہ تو میری خالہ کے صحنِ مکان میں مت جایا کر، اور میری خالہ سے مت مل، اور نہ بات کر، نہ کچھ لینے دینے کا رسوم رکھ کہ وہ میری مخالف ہے۔ اور وہ اس کی نہیں مانتی اور اس کی خالہ کے مکان میں جانا اور اس سے بات کرنا اور راہ رسم نہیں چھوڑتی، اور جب زید اس بات پر اس سے سخت کلامی کرتا ہے تو وُہ برابر سخت کلامی کرتی ہے اور اپنے ماں باپ اور خالہ سے زید کو مجبورکراتی ہے یہاں تک کہ زید کو اور اس کی والدہ کو تنگ کرتی ہے، اور بے حرمتی کی باتیں کرتی ہے اور زید اس کی نافرمانی کی وجہ سے اپنی زوجہ کو طلاق شرعی دینا چاہتا ہے، تو ایسی عورت نافرمان کو طلاق دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس حالت میں کہ وہ بارِ حمل سے ہو، جیسا ارشاد ہو عمل کیا جاوے۔
الجواب

حدیث صحیح میں ارشاد ہوا کہ: عورت ٹیڑھی پسلی سے بنائی گئی ہے ٹیڑھی ہی چلے گی اور اگر تو اس سے فائدہ لینا چاہےتو اسی حال پر اس سے نفع اٹھا اور سیدھی کرنا چاہے تو ٹوٹ جائے گی اور اس کا توڑنا اُسے طلاق دینا ہے۱؎۔
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب الرضاع الوصایۃ بالنساء     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۴۷۵)
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا کہ: مسلمان عورت سے اچھا برتاؤ رکھو اگر تُمہیں اس کی ایک عادت ناپسند ہُوئی تو دوسری ہوگی۲؎۔
 (۲؎ ایضاً صحیح مسلم     کتاب الرضاع الوصایۃ بالنساء     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۴۷۵)
اور اﷲعزوجل فرماتا ہے :
عسٰی ان تکرھوا شیئا ویجعل اﷲفیہ خیراکثیرا۔۳؎
قریب ہے کہ تم ایک بات کو مکروہ جانو گے اور اﷲ عزوجل اس میں بہت بھلائی رکھے گا۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۲ /۲۱۶)
اور اگر عورت کو طلاق دے کر پھر کبھی نکاح نہ چاہے تو خیر، ورنہ کیا معلوم کہ دوسری اس سے بھی بُری ملے، اس لئے حتی الامکان عورت کے ساتھ نیک برتاؤ اور اس کی دلجوئی اور اُسے خوش کرکے اپنی اطاعت پر لانا اور اس کی کج خلقی پر صبر کرنا چاہئے، اور اصطلاح ناممکن ہوتو طلاق دے سکتا ہے، مگر ایک طلاق رجعی سے زیادہ دینا گناہ ہے، فقط ایک بار اس سے کہے کہ میں نے تجھےطلاق دی، پھر اگر عدّت کے اندر یعنی حاملہ کے بچّہ پیدا ہونے سے پہلے دل میں اُسے رکھنے کی آئی تو زبان سے کہہ لے میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھر لیا، وہ بدستور اس کے نکاح میں رہے گی ورنہ اس سے الگ رہے، یہاں تک کہ بچّہ پیداہوجائے اس وقت وہ نکاح سے نکل جائے واﷲتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
Flag Counter