الجواب : درصورتِ مستفسرہ طلاق باجماع درست ومباح ست زیرا کہ دراباحت طلاق علماء راسہ۳قول ست: یکے آنکہ مطلقاً مباح ست گو بے سبب محض باشد مشی علیہ العلامۃ الغزی فی متن التنویروزعم شارحہ العلامۃ العلائی انہ ھو قول العلامہ وادعی العلامۃ المذھب۔دوم آنکہ جزبوجہ پیروی زن یا آوارگی وبدوضعی او اباحت نہ دارد وھو قول ضعیف کما فی ردالمحتارسوم آنکہ حاجتے باشد مباح ست ورنہ ممنوع ہمیں صحیح ومؤید بدلائل ست صححہ العلامۃ المحقق علی الاطلاق فی الفتح وانتصرلہ خاتم المحققین العلامۃ الشامی بمایتعین استفادتہ ایں جاکہ آوارگی زناں متحقق ست ہرسہ قول براباحت طلاق متفق آمد بلکہ چوں فسق وارتکاب چیزے از محرمات ثابت شود طلاق مستحب گردد فی الدرالمختار بل یستحب لوموذیۃ اوتارکۃ صلٰوۃ کذافی الغایۃ۱؎وفی ردالمحتار الظاھران ترک الفرائض غیر الصلوۃ کالصلوۃ۲؎اما واجب نیست اگر شوئے دادن نخواہد ند ہدفی الدرالمختار لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ۳؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
صورتِ مستفسرہ میں بالاجماع طلاق درست اور مباح ہے کیونکہ طلاق کے مباح ہونے میں علماء کے تین قول ہیں: ایک(۱)یہ کہ طلاق مطلقاً مباح ہے اگر چہ بلاوجہ دی جائے۔ علامہ غزی نے تنویر کے متن میں اس کو بیان کیا ہے جس کے متعلق اس کے شارح علّامہ علائی کا خیال ہے کہ علامہ غزی کایہی مؤقف ہے اور علامہ بحر نے اپنی کتاب بحر میں دعوٰی کیا ہے کہ یہی حق اور یہی مذہب ہے۔ دوسرا(۲) یہ کہ بیوی کے بڑھاپے یا اس کی آوارگی یا بدوضعی کے بغیر شوہر کے لئے طلاق دینا مباح نہیں ہے، یہ ضعیف قول ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے۔تیسرا(۳) قول یہ ہے کہ اگر شوہر کو طلاق کی کوئی حاجت ہے تو مباح ہے ورنہ ممنوع ہے، یہی قول صحیح اور دلائل سے مؤید ہے۔ علامہ محقق نے فتح القدیر میں اس کو صحیح قرار دیا ہے اور علّامہ خاتمۃ المحققین شامی نے اس کا دفاع کیا ہے جس سے اس کی صحت مستفاد ہوتی ہے، مسئولہ صورت میں جب آوارگی پائی جاتی ہے تو تینوں اقوال پر طلاق کا مباح ہونا محقق ہے بلکہ عورت کا فسق اور کسی حرام فعل کا ارتکاب ثابت ہے تو طلاق مستحب ہے۔ درمختار میں ہے: بلکہ عورت اگر موذی ہے یا نماز کو ترک کرنے کی عادی ہے تو مستحب ہے غایہ میں اسی طرح ہے، اور ردالمحتار میں ہے کہ نمازکے علاوہ دیگر فرائض کا ترک بھی نماز کی طرح ہے، تاہم اس صورت میں طلاق دینا واجب نہیں ہے اگر خاوند طلاق نہ دینا چاہے تو نہ دے۔ درمختار میں ہے کہ فاسقہ عورت کا طلاق دینا خاوند پرواجب نہیں ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۵)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۶)
(۳؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۰)
مسئلہ ۱۱۴: از کسر اٹون پر گنہ شکن آباد ڈاک خانہ سر ساگنج مرسلہ تصدق حسین صاحب زمیندار ورئیس موضع مذکور ۶رجب ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک نابالغہ کی شادی ایک شخص سے ہوئی جو آنکھوں سے معذور ہے، عورت کی عمر اب دس۱۰ برس کی ہے، اس کے سسرال والے چاہتے ہیں کہ اسے شوہر سے طلاق دلواکر شوہر کے چھوٹے بھائی سے اُس کا عقد کردیں اور عورت کی بڑی بہن بیوہ کا اس نابینا سے نکاح کریں، اس صورت میں چھوٹی بہن کہ بے خطا ہے کوئی شرعی جرم اس کے ذمہ نہیں، طلاق دینا جائز ہے یانہیں، اگرجائز ہے تو اس کا مہر ادا کرنا پڑے گا یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب
بلاوجہ شرعی طلاق دینا اﷲتعالٰی کو سخت ناپسند ومبغوض و مکروہ ہے،
ابغض الحلال الی اﷲتعالٰی الطلاق۱؎۔
حلال چیزوں میں سے طلاق دینا اﷲتعالٰی کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔(ت)
(۱؎ سُنن ابوداؤد باب فی کراہیۃ الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۶)
مگر وہ اس کا اختیار ضرور رکھتا ہے،اگر دے گا ہوجائے گی، پھر اگر زوجہ سے ابھی خلوت یعنی بغیر کسی مانع کے تنہائی یکجائی نہ کی یا زوجہ کی ابھی دہ۱۰سالہ ہے قابلیتِ جماع اصلاً نہ رکھتی ہو جب تو نصف مہر دینا ہوگا اگر بندھا ہو، اور کچھ نہ بندھا ہوتوایک پورا جوڑا جس میں دوپٹہ، پاجامہ اور عورتوں کے چھوٹے کپڑے اور جوتا سب کچھ ہو، اور مرد عورت دونوں کے حال کے لحاظ سے عمدہ نفیس یا کم درجہ یا متوسط ہو دینا آئے گا جس کی قیمت نہ پانچ درہم سے کم ہو نہ عورت کے نصف مہر مثل سے زیادہ ہو، اگر مرد عورت دونوں غنی ہیں تو نفیس اور دونوں فقیر تو ادنٰی اور ایک فقیر دُوسرا غنی تو اوسط اور اگر یہ دس۱۰ سالہ لڑکی قابلِ جماع ہے اور خلوت ہوچکی تو پُورا مہر لازم ہوگا___
تنویر الابصار ودرمختار وردالمحتار میں ہے :
تجب متعۃ لمفوضۃ وہی من زوجت بلا مھر طلقت قبل الوطء وھی درع وخمار وملحفۃ (قال فخر الاسلام ھذافی دیارھم اما فی دیارنافیزاد علی انوار و مکعب کذافی الدرایۃ، قلت مقتضی ھذا ان یعبتر عرف کل بلدۃ لا ھلہا فیما تکسٰی بہ المرأۃ عند الخروج اھ ش) لاتزید علٰی نصف مھر المثل لوالزوج غنیا، ولا تنقص عن خمسۃ دراھم لو فقیر او تعتبر المتعۃ حالھما کا لنفقۃ، بہ یفتی (فان کان غنیین فلھا الا علی من الثیاب، اوفقیرین فالادنی، او مختلفین فالوسط، وما ذکرہ قول الخصاف وفی الفتح انہ الاشبہ بالفقۃ قال فی البحر قول الخصاف لان الولوالجی صححہ وقال وعلیہ الفتوی کما افتوا بہ فی النفقاۃ اھ ۱؎ش) الکل ملخص واﷲ تعالٰی اعلم۔
مفوضہ یعنی جس عورت سے مہر کے بغیر نکاح کیا ہوا اور اس کو وطی سے قبل طلاق دے دی ہوتو ایسی عورت کے لئے پُورا جوڑا لباس دینا بطور متعہ واجب ہے، اور وہ قمیص، دوپٹہ اور بڑی چادر ہے(فخر الاسلام نے فرمایا یہ ان کے علاقہ کا رواج ہے، لیکن ہمارے ہاں اس پر تہبند اور جُوتا مزید دیا جائےگا۔ میں کہتا ہوں اس کا مقتضی یہ ہے کہ ہر علاقہ کا رواج وہاں کے لوگوں میں معتبر ہوگا یعنی جو لباس عورت باہر نکلتے وقت پہنتی ہو وہ دیا جائے گا اھ،ش) اور وُہ جوڑا قیمت میں مہر مـثل کے نصف سے زائد نہ ہو اگر خاوند امیر ہو، اور اگر وُہ غریب ہو تو پھر کم از کم پانچ درہم سے کم نہ ہو، اور اس جوڑے میں خاوند بیوی کی حیثیت کا اعتبار ہوگا جیسا کہ نفقہ میں دونوں کا لحاظ کیا جاتا ہے، اسی پر فتوٰی ہے پھر اگر دونوں امیر ہیں تو عورت کو اس کااعلٰی لباس اور اگر دونوں فقیر ہوں تو ادنٰی لباس، اگر دونوں کی حیثیت مختلف ہو تو پھر درمیانہ لباس دیا جائے گا اور یہ جو خصاف کا قول مذکور ہے۔ اور فتح میں اس کو اشبہ بالفقہ کہا ہے۔ بحرالرائق میں کہا ہے کہ خصاف کا قول ارجح ہے کیونکہ ولوالجیہ نے اس کو صحیح بتایا ہے اور کہا کہ اس پر فتوٰی ہے جیسا کہ نفقہ میں فقہاء نے فتوٰی دیا ہے،اھ ش) یہ تمام عبارت ملخص ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار معہ درمختار شرح تنویرالابصار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۳۶)