| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
نظیر۴: قریش نے جب زمانہ جاہلیت میں کعبہ از سرِ نو بنایا کچھ تنگی خرچ اپنی اغراضِ فاسدہ سے نبائے خلیل صلی اﷲتعالٰی علٰی ابنہ وعلیہ وبارک وسلم میں بہت تغیرات کردیں، دو۲ روازہ غربی شرقی سے صرف ایک در شرقی رکھا اور اُسے بھی زمین سے بہت بلندی پر نکالا کہ جسے چاہیں میں خرچ زیادہ درکار تھا بآنکہ یہ صریح بدعتِ جاہلیت وتغییر سنّت ابراہیمی علیہ الصّلوٰۃ والتسلیم تھی مگرحضور سیّد المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے محض بغرضِ حفظ دینِ نومسلمین اُسے قائم وبرقرار رکھا کہ تغییر بے ہدم عمارت موجودہ نہ ہوتی خداجانے ان کے دلوں میں کیا وسوسہ گزرے۔
صحیحین میں ہے :
عن عائشۃ رضی اﷲتعالٰی عنہا قالت سألت النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم عن الجدار من البیت ھو، قال نعم، قلت فما لھم لم یدخلوہ فی البیت قال ان قومک قصرت بھم النفقۃ قلت فماشأن بابہ مرتفعا قال فعل ذٰلک قومک لیدخلوا من شاءوا ویمنعوا من شاءوا ولولا ان قومک حدیث عھدھم الجاھلیۃ فاخاف ان تنکر قلوبھم ان ادخل الجدر فی البیت وان الصق بابہ بالارض ۱ وفی الاخری ان النّبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قال لھا یا عائشۃ لولا ان قومک حدیث عھد بجاھلیۃ لامرت بالبیت فھدم فادخلت فیہ ما اخرج منہ و الزقتہ بالارضی وجعلت لہ بابین با با شرقیا وبابا غربیا فبلغت بہ اساس ابراھیم۲؎ الخ۔
ام المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے حطیم کی دیوار کے بارے میں پوچھا کہ کیا بیت اﷲ کا حصّہ ہے، حضور انور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، میں نے دریافت کیا اس کو قریش نے بیت اﷲمیں کیوں داخل نہیں کیا، آپ نے فرمایا: تمہاری قوم کے پاس خرچ کم ہوگیا ہے، میں نے پوچھا پھر اس کا دروازہ اتنا بلند کیوں ہے، تو آپ نے فرمایا کہ تمہاری قوم نے یہ اس لئے کیاتا کہ وُہ جس کو چاہیں بیت اﷲمیں داخل کریں اور جس کو چاہیں روک دیں، اگر تمہاری قوم نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا اور مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ ان کو دلوں کو بُرا لگے گا تو میں حطیم کی دیواروں کو بیت اﷲ میں داخل کردیتا اور دروازے کو زمین سے ملادیتا۔ اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ نبی انور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت کے زمانہ کے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرانے کا حکم دیتا اور اس میں سے جو خارج کردیا گیا ہے میں اس کو اس میں داخل کردیتا اور اس کو زمین کے برابر کرکے دو۲ دروازے بناتا ایک دروازہ مشرقی اور ایک دروازہ مغربی، اور میں اس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا۔(ت)
(۱؎ و ۲؎ صحیح بخاری باب فضل المکۃ وبنیانہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۱۵)
یہ تقریر اگر چہ دعوٰی ممانعت کے اثبات سے قاصر یا سراسر غلط ہی سہی مگر شک نہیں کہ اب تکفیر قطعاً محال کہ اس میں نفس اباحت کا کہ ضروریاتِ دین سے تھی انکار نہ ہُوا بلکہ اس میں کسی ایسی چیز کا بھی انکار نہیں جس کی وجہی سے تکفیر درکنار تضلیل ہوسکے غایت یہ کہ خطا وغلط کہئے وُہ بھی بلحاظ دعوٰی ممانعت ورنہ شبہہ نہیں کہ نظائر مذکورہ ان بلاد میں نکاحِ ثانی سے مصلحۃً احتراز کی وجہ موجہ ہوسکتی ہیں جبکہ نوبت تا وجوب وافتراض نہ ہو کما یخفی علی اولی النھٰی واﷲ الھادی الی صراط سوی(جیساکہ عقلمندوں پر مخفی نہیں ہے اور اﷲتعالٰی ہی سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔ت) بالجملہ تکفیر اہل قبلہ واصحاب کلمہ طیّبہ میں جرأت وحبارت محض جہالت بلکہ سخت آفت جس میں وبال عظیم ونکال کا صریخ اندیشہ والعیاذباﷲ رب العالمین، فرض قطعی ہے کہ اہل کلمہ کے ہر قول وفعل کو اگر چہ بظاہر کیسا ہی شنیع وفظیع ہوحتی الامکان کفر سے بچائیں اگر کوئی ضعیف سے ضعیف، نحیف سے نحیف تاویل پیدا ہو جس کی رُو سے حکمِ اسلام نکل سکتا ہوتو اس کی طرف جائیں، اور اس کے سوا اگر ہزار احتمال جانبِ کفر جاتے ہوں خیال میں نہ لائیں۔
حدیث میں ہے حضور سیّد العالمین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الاسلام یعلوولایعلی۱؎۔ اخرجہ الرؤیانی والدارقطنی والبیہقی والضیاء فی المختار ۃ والخلیل کلھم عن عائذ بن عمر والمزفی رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔ اس کو رؤیانی، دار قطنی، بیہقی، مختارہ میں ضیاء اور خلیل نے عائذ بن عمرو مزنی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۱؎ سنن ادارقطنی باب المہر نشر السنۃ ملتان ۳ /۲۵۲)
احتمال اسلام چھوڑکر احتمالاتِ کفر کی طرف جانے والے اسلام کو مغلوب اور کفر کو غالب کرتے ہیں والعیاذباﷲ رب العالمین۔ حدیث۲: فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
کفوا من اھل لاالٰہ الااﷲلا تکفروھم بذنب فمن اکفر اھل لاالٰہ الااﷲفھو الی الکفر اقرب۱؎۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
کسی گناہ پر کافر نہ کہو، لاالٰہ الااﷲکہنے والوں کوکافر کہے وُہ خود کفر سے نزدیک تر ہے۔(اس کو طبرانی نے کبیر میں سندِ حسن کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ المعجم الکبیر ترجمہ ۱۳۰۸۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۲ /۲۷۲)
حدیث۳: فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم:
ثلاث من اصل الایمان الکف عمن قال لاالٰہ الااﷲ ولاتکفر بذنب ولاتخرجہ من الاسلام بعمل۲؎۔ رواہ ابودواؤد عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
تین باتیں اصل ایمان میں داخل ہیں، لاالٰہ الااﷲکہنے والے سے باز رہنا اور اسے گناہ کے سبب کافر نہ کہاجائے اور کسی عمل پر اسلام سے خارج نہ کہیں۔(اس کو ابوداؤد نے حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت فرمایا۔ت)
(۲؎ سنن ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الغزومع ایمۃ الجور آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۳)
حدیث۴:فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
لاتکفروا احدامن اھل القبلۃ۳؎۔رواہ العقیلی عن ابی الدرداء رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
اہلِ قبلہ میں سے کسی کو کافر نہ کہو( اس کو عقیلی نے حضرت ابودرداء رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۳؎ نصب الرایہ بحوالہ العقیلی الضعفاء باب الاحادیث فی الاقتداء المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۲ /۲۸)
الحمدُﷲ کلام اپنی نہایت کو پہنچا اور حکم مسئلہ نے من جمیع الوجوہ رنگِ ایضاح پایا خلاصہ مقصود یہ کہ عوام جو نکاح بیوہ کو باتباع رسم مردودوعنود وننگ وعار سمجھتے ہیں اورکیسی ہی حالت حاجت وضرورتِ شدیدہ ہو معاذاﷲحرام کے مثل اس سے احتراز رکھتے ہیں، برا کرتے ہیں اور بہت برا کرتے ہیں، بیجا پر ہیں اور سخت بیجا پر، خاں صاحب شیخ صاحب مرزا صاحب درکنار وُہ کوئی حضرت میر صاحب ہی ہو ں تو کیا ان کی بیٹیاں نہیں محمد رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی خاص جگر پاروں سیّدۃ النساء بتول زہرا صلی اﷲ تعالٰی علٰی ابیہا وعلیہا وسلم کی بطنی صاحبزادیوں سے زیادہ عزّت والیاں بڑھ کر غیرت والیاں ہیں جن کے دودوتین تین اور اس سے بھی زائد نکاح ہوئے سُبحان اﷲ!ع چہ نسبت خال را باعالمِ پاک (ان خاکی عورتوں کو ان پاکباز عورتوں سے کیا نسبت۔ت) مسلمانو! کلمہ پڑھنے کی شرم کرو اور اپنے آقا اپنے مولا اپنے بادشاہ عرش بارگاہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی شریعت چھوڑ کرنا پاکوں، گندوں، اینٹ پتھر کے بندوں کے قدم پر قدم نہ دھرو، ذرا غور کرو کس کی راہ چھوڑتے اور کس گمراہ کے پیچھے دوڑتے ہو ؎ بقول دشمن پیماں دوست شکستی بہ بیں کہ از کہ بُریدی وباکہ پیوستی (دشمن کے کہنے پر تو دوست کے پیماں(عہد) کو توڑنا ہے، بنظرِ غائر دیکھ تو کس سے قطع تعلق کررہا ہے اور کس سے تعلق جوڑرہا ہے۔ت) نکاح کی چھ۶صورتیں اور ان کے احکام مفصلاً گزرے انہیں بغور دیکھو اور بصدقِ دل عمل میں لاؤ کہ دنیا وآخرت کے منافع پاؤ، اور اس رسمِ نیک کے طعن وتشنیع سے قطعاً باز رہو کہ کہیں اس اندھے کنویں میں گر کر نورایمان کو خیر باد نہ کہو، ادھر ان حضرات اہلِ تکفیر سے التماس کہ شوق سے منکر کو اٹھائیے بُری رسم کو مٹائیے مگر ذرا اپنا بھی نفع ونقصان دیکھے بھالے، اپنا بھی دین وایمان روکے سنبھالے، یہ کیا موقع ہے اور کو نصیحت آپ کو فضیحت، اﷲاکبر، لاالٰہ الااﷲ کی عظمت جانو تو اہلِ لاالٰہ الااﷲ کی تکفیر سخت آفت مانو، یہاں زبان قابُو میں ہے جسے چاہو کافر بتاؤ مشرک کہہ جاؤ مگر اس دن کا بھی کچھ جواب بنا رکھو جب لاالٰہ الااﷲکو اپنے قائلوں کی طرف سے جھگڑتا دیکھو۔ اے لاالٰہ الااﷲ کے سچّے ایمان پر دُنیا سے اٹھا اٰمین اٰمین الٰہ الحق اٰمین والحمدﷲ ربّالعٰلمین وصلی اﷲتعالٰی علٰی سیّد المرسلین محمّد والٰہ وصحبہ اجمعین۔ الحمدﷲکہ یہ شافی جواب خفیف جلسوں میں ۱۵ صفر ۱۳۱۲ھ کو تمام اور بلحاظِ تاریخ اطائب التھانی فی النکاح الثانی۱۳۱۲ھ نام ہوا، امید کرتاہوں کہ یہ سب مباحث رائقہ ودلائل فائقہ حصّہ خاصہ خامہ فقیر اور اس مسئلہ کی توضیع اس مطلب کی تنقیح میں آپ ہی اپنی نظیر ہوں والحمد ﷲ اولاً واٰخراً وباطناً وظاہراً والصّلوٰۃ والسلام علٰی سیّد الانام محمدن الحبیب واٰلہ الکرام ورداوصدراو سراً وجھراًوالحمدﷲ رب العالمین۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔