Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
61 - 155
حدیث۳: ماحدث احدکم قوما بحدیث لا یفہمونہ الاکان فتنۃ علیھم۱؎۔ رواہ العقیل وابن السنی وابونعیم فی الریاضۃ وغیرہم عنہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۔
تم میں سے کوئی شخص کسی قوم سے کوئی ایسی حدیث کہ ان کی سمجھ سے ورا ہو بیان نہ کرے گا مگر یہ کہ وُہ حدیث ان پر فتنہ ہوجائے گی(اس کو عقیلی، ان سنی اور ابونعیم نے الریاضۃ میں اور دیگر محدثین نے حضرت عبداﷲابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے اور انہوں نے بنی اکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ اتحاف السادۃ بحوالہ العقیلی فی الضعفاء     بیان ما بدل من الفاظ العلو م        مطبع دارالفکر بیروت     ۱ /۲۵۳)
دوسری روایت میں ہے :
لاتحدثوا امتی من احادیثی الاماتحتملہ عقولھم فیکون فتنۃ علیھم۲؎۔ رواہ عنہ ابونعیم ومن طریقہ الدیلمی وفیہ فکان ابن عباس یخفی اشیاء من حدیثہ ویفشیھا الٰی اھل العلم۔
میری اُمّت سے میری حدیثیں نہ بیان کرو مگر وہ جوان کی عقلیں اُٹھالیں کہ وُہ حدیث فتنہ ہوجائے گی۔ اس کو حضرت عبداﷲ ابن عبا س رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ابونعیم نے اور ان کے طریق سے دیلمی نے روایت کیا اور اس میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نبی کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی حدیث سے کُچھ اشیاء مخفی رکھتے اور انہیں اہلِ علم پر ظاہرفرماتے ۔ت)
 (۲؎ الفردوس بما ثور الخطاب     حدیث۷۳۱۲        مطبع دارالباز مکۃ المکرمۃ     ۵ /۱۷)
تیسری روایت میں ہے : یاابن عباس لاتحدث قوما حدیثالاتحتملہ عقولھم۳؎۔ رواہ عنہ فی مسند الفردوس۔

اے ابن عباس ! لوگوں سے وہ حدیث بیا ن نہ کرو جو اُن کی عقل میں نہ آئے۔ (اس کی مسند الفردوس میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت فرمایا۔ت)
 (۳؎ الفردوس بما ثور الخطاب      حدیث ۸۴۳۴            مطبع دارالباز مکۃ المکرمۃ  ۵ /۳۵۹)
حدیث ۴: حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ فرماتے ہیں :

ما انت بمحدث قوما حدیثا لاتبلغہ عقولھم الاکان لبعضھم فتنۃ۱؎۔ رواہ مسلم فی مقدمۃ صحیحہ۔
تو جب کسی قوم سے وُہ حدیث بیان کرے گا جس تک ان کی عقل نہ پہنچے وُہ ضرور اُن میں کسی پر فتنہ ہوجائے گی۔
 (۱؎ الصحیح المسلم         باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۹)
قلت ومن ھذالباب ماکان الامام احمد رضی اﷲتعالٰی عنہ یخفی فی بعض مجالسہ القول برویۃ النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ربہ لیلۃ المعراج ذکرہ الزرقانی وقد صح عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ انہ قال حفظت عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وعائین اماحدھما فبثثتہ واما الاٰخرفلو بثثتہ قطع ھذا البلعوم۲؎۔ رواہ البخاری۔
قلت(میں کہتا ہوں) اپنی بعض مجالس میں حضرت امام احمد رضی اﷲتعالٰی عنہ کاشبِ معراج نبی اقدس صلی اﷲتعالٰی عنہ وسلم کے رؤیت باری تعالٰی کے قول پر چھپانا اسی باب سے ہے جیساکہ زرقانی نے ذکر کیا، اورحضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے حدیث صحیح مروی ہے کہ میں نبی انور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے علم کی دو۲ نوعیں یاد کیں، ان میں سے ایک کو تو میں نے لوگوں میں پھیلایا، اور رہی دوسری تو اس کو اگر پھیلاؤں تو گلا کاٹ دیا جائے۔ اس کو بخاری نے روایت فرمایا۔(ت)
 (۲؎ الصحیح البخاری     کتاب العلم     باب حفظ العلم        قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۲۳)
نظیر۲: عمامہ کا شملہ چھوڑنا یقیناسنّت مگر جہاں جُہّال اس پر ہنستے ہوں وہاں علمائے متاخرین نے غیرحالتِ نماز میں اس سے بچنا اختیار فرمایا جس کا منشاء وہی حفظ دینِ عوام ہے۔ شیخ محقق مولانا عبد الحق محدّثِ دہلوی قدس سرہ القوی رسالہ آدابِ لباس میں فرماتے ہیں:qq
ارسالِ رابر ارسال شملہ براہین قیاسی بسیارست وارسالِ آں سنّتِ مؤکدہ دانندوعلمائے متاخرین سوائے صلوات پنچگانہ را ارسال ندارند برائے طعن ومسخرہ جہّالِ زمانہ ۳؎ اھ ملخصاً۔
فقہاء کے پاس شملہ چھوڑنے پر بہت سے دلائل قیاسیہ موجود ہیں اور وہ اس کو سنت، مؤکدہ سمجھتے ہیں مگر علماء متاخرین جہّال زمانہ کے طعن و تمسخر سے بچنے کے لئے سوائے نماز پنجگانہ کے شملہ نہیں چھوڑتے ہیں اھ ملخصاً(ت)
 (۳؎ رسالہ آدابِ لباس     عبدالحق دہلوی )
نظیر۳: قرآن عظیم کی دسوں۱۰ قرأتیں حق اور دسوی۱۰ منزّل من اﷲ، دسوں طرح حضور عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے پڑھا اور حضور سے صحابہ، صحابہ سے تابعین، تابعین سے ہم تک پہنچا تو ان میں ہر ایک کا پڑھنا بلاشبہہ قرأتِ قرآن ونورِ ایمان ورضائے رحمان ہے۔ بایں ہمہ علماء نے ارشادفرمایا کہ جہاں جو قرأت رائج ہو نماز وغیر نماز میں عوام کے سامنے وہی قرأت پڑھیں، دُوسری قرأت جس سے ان کے کان آشنا نہیں نہ پڑھیں مبادا وہ اس پرہنسنے اور طعن کرنے سے اپنے دین خراب کرلیں۔
ہندیہ میں ہے :
فی الحجۃ قراءۃ القراٰن بالقراءات السبعۃ والروایات کلھا جائزۃ ولکنی اری الصواب ان لایقرء القرأۃ العجبیۃ بالامالات والروایات الغریبۃ کذافی التاتارخانیہ۱؎۔
حجہ میں ہے کہ ساتوں قراء ات اور تمام روایات میں قرآن مجید پڑھنا جائز ہے لیکن اس بات کو درست سمجھتا ہُوں کہ نامانوس قراء ت میں امالات اور روایات غریبہ کے ساتھ قرآن مجید نہ پڑھاجائے، جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     فصل الرابع فی القرا ء ۃ    نورانی لکتب خانہ پشاور    ۱ /۷۹)
ردالمحتار میں ہے :
لان بعض السفھاء یقولون مالایعلمون فیقعون فی الاثم والشقاء ولاینبغی للائمۃ ان یحملوا العوام علی مافیہ نقصان دینھم ولا یقرأعندھم مثل قراءۃ ابی جعفر وابن عامروعلی بن حمزۃ والکسائی صیانۃ لدینھم فلعلھم یستخفون اویضحکون وان کان کل القراءات والروایات صحیحۃ فصیحۃ وومشائخنااختاروا قراءۃ ابی عمر وحفص عن عاصم اھ۲؎ من التتارخانیۃ عن فتاوی الحجۃ۔
اس لئے کہ بعض بیوقوف وُہ کچھ کہیں گے جو وُہ جانتے نہیں ہیں تو گناہ اور بدبختی میں مبتلا ہوجائیں گے، اور ائمہ کے لئے مناسب نہیں کہ وہ عوام کو اس چیز برانگیختہ کریں جس میں ان کے دین کا نقصان ہے اور عوام کے یدن کو بچانے کے لئے  ان کے  پاس ابوجعفر، ابن عامر، علی بن حمزہ اور کسائی کی قراء ۃ میں قرآن مجید نہ پڑھائے کیونکہ ہوسکتا ہےوہ اس کو ہلکا جانیں اور اس پر ہنسیں اگر چہ تمام قراء ات وروایات صحیح اور فصیح ہیں۔ ہمارے مشائخ نے ابوعمر وحفص کی قراء ۃ کو اختیار کیا ہے جو عاصم سے مروی ہے اھ تتارخانیہ از فتاوٰی حجہ۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار         فصل فی القراءۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۶۴)
Flag Counter