ان آیاتِ کریمہ کا جملہ جملہ جوازِ نکاح بیوہ پر نص صریح ہے، پھر حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واہلبیتِ کرام وصحابہ عظام رضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین سے قولاً وفعلاً تقریراً اس کی اباحت متواتر، اُمّ المومنین صدیقہ بنت الصدیق تھیں کما ثبت ذٰلک فی صحیح البخاری من حدیث نفسھا ومن حدیث ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنھم(جیسا کہ صحیح بخاری میں خود ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا اور حضرت عبد اﷲابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے ثابت ہے۔ت) مگر کلام اس میں ہے کہ جاہلانِ ہند جو اُسے ننگ وعار سمجھتے ہیں آیا اس بناء پر ہے کہ اُسے ازرُوئے شریعت ہی حلال نہیں جانتے ایسا ہوتو بیشک کفر ہے مگر انصافاً عامہ ناس سے اس کا اصلاً ثبوت نہیں، جس مسلمان سے پُوچھئے صاف اقرار کرے گا کہ شرعاً بے شک جائز ہم ناجائز وحرام نہیں جانتے بلکہ ازرُوئے رسم لوگوں کے نزدیک ایک ننگ وعار کی بات ہے بخیال طعن وبدنامی اس سے احتراز ہے ایسے خیالات پر ہرگز حکمِ تکفیر نہیں ہوسکتا سلفاًوخلفاً تمام لوگوں میں معاملاتِ دنیویہ میں مصالح دُنیویہ کے لحاظ سے ہی باہم ایک دوسرے پر مباحات میں طعن وسرزنش رائج ہے وہاں کیوں گیا، یہ کیوں کیا، فلاں سے کیوں ملا حالانکہ یہ سب امور مباحات شرعیہ ہیں یہ تو خاص خاص ہر شخص کے اپنے ذاتی معاملات میں ہے اور مصلحاتِ عامہ قوم یا شاملہ ملک میں بھی بہت باتیں مباح شرعی ہیں کہ بوجہ عرف وعادت معیوب ٹھہری ہیں کہ اس احتراز واعتراض میں اکثر یہ حضرات مکفرین بھی شریک مثلاً باپ کے سامنے اپنے زوج یا زوجہ سے ہمکلام ہونا خصوصاً نئے دنوں میں۔ یُوں ہی باپ یا پیر وغیرہما بزرگوں کے حضورحقّہ پینا، دخترو داماد رات کو ایک پلنگ پر ہوں اُن کے پس جانا پاس بیٹھنا بات کرنا اُن کا بدستور لیٹے رہنا۔ ماں بہن بیٹی کا اپنے بیٹے بھائی باپ کے سامنے سینہ وپستان کھولے پھرنا، شریف عورتوں کا برقع اوڑھ کرسرِ بازار سودے خریدنا، اجنبی لوگوں سے باتیں کرنا، ان میں کون سی بات شرعاً ممنوع وناجائز ہے مگر رسم ورواج واصطلاح حادث کی وجہ سے اب تمام اہل حیا انہیں عیب جانتے ہیں جو ایسے امور کا مرتکب ہو اُس پر طعن کریں گے، کیا اس بنا پر معاذاﷲسب مسلمان کافر ٹھہریں گے اسی قبیل کا طعن واعتراض یہاں کے عوام کو نکاحِ ثانی میں ہے تو اس پر بے تکلّف حکمِ کُفر جاری کرنا سخت مجازفت اور کلمہ طیبہ پر بیبا کانہ جرأت ہے والعیاذ باﷲ رب العلمین۔ صحیح حدیث سے ثابت کہ حضرت امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی صاحبزادی حضرت اُمّ المومنین صدّیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کی بہن حضور سیّد المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی سالی حضرت اسماء رضی اﷲتعالٰی عنہا اپنے گھر کاپانی خود بھرکر لاتیں اپنے شوہر حضرت زبیر رضی اﷲتعالٰی عنہ سے گھوڑے کے لئے بیرونِ شہر دو۲ میل پر جاکردانہائے خرمہ جمع فرماتیں اُن کی گھٹری پیادہ پااپنے سر مبار پر اُٹھا کر لاتیں، ایک بار پلٹتے ہوئے راہ میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مع ایک جماعت انصار کرام کے ملے حضور نے اُنہیں بلایا اور اونٹ بیٹھنے کا حکم فرمایا کہ اپنے پیچھے سوار فرمالیں، اُنہوں نے مردوں کے ساتھ چلنے میں حیا کی، اور حضرت زبیر رضی اﷲتعالٰی عنہ کی غیرت کا خیال آیا، نہ مانا۔حضرت زبیر سے حال کہا، فرمایا واﷲتمہارا گھٹلیاں سر پرلے کر چلنا مجھ پر زیادہ سخت تھا اس سے کہ تم حضور کے ساتھ سوار ہولیتیں۔
صحیحین میں ہے : عن اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲتعالٰی عنہما قالت تزوجنی الزبیرومالہ فی الارض من مال ولا مملوک ولا شیئ غیر ناضح وغیر فرسہ فکنت اعلف فرسہ واستقی الماء واخرز عربہ واعجن ولم اکن احسن اخبز وکان تخبز جارات لی من الانصار وکن نسوۃ صدیق وکنت انقل النوی من ارض الزبیر التی اقطعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی رأسی وھی منی علی ثلٰثی فرسخ فجئت یوماوالنوی علی رأسی فلقیت رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ومعہ نفرمن الانصار فدعانی ثم قال اخ اخ لیحملنی خلفہ فاستحیت ان اسیر مع الرجال وذکرت الزبیر وغیرتہ وکان اغیرالناس فعرف رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم انی قد استحییت فمضی فجئت الزبیر فقلت لقینی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وعلٰی راسی النوی ومعہ نفرمن اصحابہ فاناخ لارکب فاستحییت منہ وعرفت غیرتک فقال واﷲلحملک النوی کان اشد علی من رکوبک معہ قالت حتی ارسل ابوبکر بعد ذلک بخادم یکفینی سیاسۃ الفرس فکانما اعتقنی۔
حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالٰی عنہما نے کہا مُجھ سے حضرت زبیر رضی اﷲتعالٰی عنہ نے نکاح کیا حالانکہ زمین میں اس کے پاس نہ کوئی مال تھا اور نہ ہی کوئی مملوک، اور ایک اونٹنی اور ایک گھوڑے کے سوا کوئی شیئ اس کے پاس نہ تھی،میں اس کے گھوڑے کو چارہ دیتی اور اس کو پانی پلاتی تھی اور اس کا ڈول سیتی اور آٹا گوندتی تھی اور میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی، ہماری ہمسائی انصار عورتیں تھی جو کہ بہت اچھی عورتیں تھیں وُہ مجھے روٹیاں پکادیتی تھی اور میں حضرت زبیر رضی اﷲتعالٰی عنہ کی زمین سے جو کہ انہیں رسول ا ﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے دی تھی اپنے سر پر گھٹلیاں اٹھا کر لاتی تھی جبکہ وُہ زمین مجھ سے دوتہائی فرسخ(یعنی تقریباً چھ کلومیٹر) دُور تھی، ایک دن میں گھٹلیاں سر پر اٹھا کر آرہی تھی پس میں رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے ملی اور آپ نے مجھے بلایا پھر(اُونٹ کو بٹھانے کے لئے) فرمایا: اخ اخ، تاکہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھالیں، مجھے شرم آئی کہ میں مردوں کے ساتھ چلوں، مجھے زبیر اور اس کی غیرت یا د آئی جبکہ وہ سب لوگوں سے زیادہ غیّور تھے، جناب رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے پہچان لیا کہ میں شرم کررہی ہوں، چنانچہ آپ تشریف لے گئے، پھر میں زبیر کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ مجھے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ملے جبکہ گھٹلیاں میرے سر پر تھیں آپ کے ساتھ چند صحابہ کرام تھے آپ نے اونٹ کو بٹھایا تاکہ اس پر سوار ہوجاؤں مجھے اس سے شرم آئی اور میں نے تمہاری غیرت کو یا د کیا، زبیر نے کہا بخدا تمہارا گھٹلیوں کو سر پر اٹھانا سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ اونٹ سوار ہونے سے مجھ پر زیادت سخت تھا۔ حضرت اسماء نے کہا میرا یہ حال رہا حتی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲتعالٰی عنہ نے اس کے بعد میری طرف ایک خادم بھیجا جو مجھ سے گھوڑے کے انتظام سے کفایت کرتا تھا گویا کہ اس نے مجھے آزاد کردیا۔(ت)