Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
59 - 155
بلکہ احادیث میں ہے خود حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے اُس بیوہ کی نہایت تعریف فرمائی جواپنے یتیم بچّوں کولئے بیٹھی رہے اور اُن کے خیال سے نکاحِ ثانی نہ کرے،
حدیث۱: سُنن ابوداؤد میں حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
انا وامرأۃ سفعاء الخدین کھاتین یوم القیٰمۃ واومی بیدہ یزید بن زریع السبابۃ والوسطی امرأۃ ایمت من زوجھا ذات منصب وجمال حبست نفسھا علی یتاماھا حتی بانوا اوماتو۱؎۔
میں اور چہرہ کارنگ بدلی ہُوئی عورت روزِ قیامت ان دو۲ انگلیوں کے مثل ہوں گے (راوی نے انگشتِ شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کرکے بتایا یعنی جیسے یہ دو۲انگلیاں پاس پاس ہیں یُونہی اسے  روزِ قیامت میرا قُرب نصیب ہوگا) وہ عورت کہ اپنے شوہر سے بیوہ ہُوئی عزّت والی صورت والی با اینہمہ اُس نے اپنے یتیم بچّوں پر اپنی جان کو روک رکھا سبب بناؤ سنگھار کی حاجت نہیں)۔
 (۱؎ سُنن ابی داؤد کتاب الادب  باب فی فضل من عال الیتامٰی آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۳۴۵)
حدیث۲: ابن شبران انس بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایما امرأۃ قعدت علی بیت اولادھا فھی معی فی الجنۃ۲؎۔
جو عورت اپنی اولاد پر بیٹھی رہے گی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگی۔
 (۲؎ کنز العمال بحوالہ ابن بشر ابن عن انس         حدیث ۴۵۱۳۷    مؤسسۃ الرسالہ بیروت         ۱۶ /۴۰۸)
حدیث ۳: ابویعلٰی حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی، حضور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

انا اول من یفتح باب الجنۃ الاانی اری امرأۃ تبادرنی فاقول لھا مالک ومن انت فتقول انا امرأۃ قعدت علی ایتام لی۔۳؎

سب سے پہلے جو دروازہ جنت کھولے گا وُہ میں ہُوں مگر میں ایک عورت کودیکھوں گا کہ مجھ سے آگے جلدی کریگی میں فرماؤ ں گا تجھے کیا ہے اور تُوکون ہے، وہ عرض کریگی میں وُہ عورت ہوں کہ اپنے یتیموں پر بیٹھی رہی۔
 (۳؎ مسند ابی یعلٰی    حدیث ۶۶۲۱   موسسہ علوم القرآن بیروت    ۶ /۱۲۵)
امام عبد العظیم منذری فرماتے ہیں:اسنادہ حسن ان شاء اﷲتعالٰی(اس کی اسناد ان شاء اﷲتعالٰی حسن ہے۔ت)
تنبیہ : حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا بہشت میں تشریف لے جانا بارہا ہوگا، اولیت مطلقہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے لئے خاص ہے، دروازہ کھلنا ۤحضورِ والا ہی کے لئے ہوگا، رضوان دار روغہ جنت عرض کرے گا مجھے یہی حکم تھا کہ حضور سے پہلے کسی کے لئے نہ کھولوں، حضور پر کوئی نبی مرسل بھی تقدیم نہیں پاسکتا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۔

یہ سب مضامین احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہیں جن کی بعض فقیر نے پانے رسالہ مبارکہ تجلی الیقین بان نبیناسیّد المرسلین میں ذکر کیں۔ حضور کے بعد جو اور بندگانِ خداجائیں گےدروازہ کھلاپائیں گے کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم پہلے سے فتح باب فرماچکے ہوں گے : قال تعالٰی جنّٰت عدن مفتحۃ لھم الابواب۱؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: بسنے کے باغ ان کے لئے سب کے دروازے کھلے ہوئے۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳۸ /۵۰)
یہاں جو اُس عورت کا آگے ہونا ہُوایہ اور بار کے تشریف لے جانے میں ہے، جب اہتمام کار اُمّت میں آمد رفت فرماتے ہوں گے نہ کہ خاص بارِ اوّل میں، وباﷲالتوفیق(اور توفیق اﷲتعالٰی سے ہی ہے۔ت)

ۤالحمدﷲاس تحقیقِ انیق سے مسئلہ کا حکم بھی بنہایت ایضاح منصّہ ظہور پر مرتفع ہُوا اور اہل تشدّد کے وہ متعصبانہ احکام بھی مخذول ومندفع والحمدﷲعلی ماوفق وعلم وصلی اﷲتعالٰی علی سیدنا محمد واٰلہ وسلم(تمام تعریفیں اﷲتعالٰی کے لئے ہیں اس کے توفیق اور علم عطا فرمانے پر، اور اﷲتعالٰی درود وسلام نازل فرمائے ہمارے آقا مصطفی اور آپ کی آل پر ۔ت) یہاں تک نفسِ نکاح اور اس پر اجبار اور عورت یا اولیاء کی جانب سے ترک یا انکار اور ان کے انکار پر زجر وانتہا کا حکم تھا۔ 

اب رہا نکاحِ ثانی پر طعن اقول وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور اﷲہی سے توفیق ہے۔ت) ہماری تحقیق سابق سے روشن ہُوا کہ نکاحِ ثانی مطلقاً فرض یا واجب یا سنت نہیں بلکہ عام زنان کیلئے نہایت درجہ مباح ہی ہے اورمباح پر طعن صرف اُسی صورت میں کفر ہوسکتا ہے کہ اُس کی اباحت ضروریا تِ دین سے ہو اور باوصف اس کے یہ شخص اُسے شرعاً مباح نہ جانے،نکاحِ ثانی کی اباحت توبیشک ضروریاتِ دین سے ہے کہ تمام مسلمین اُس سے آگاہ، قرآن عظیم کی متعدد آیتیں اُس پر گواہ۔
قال اﷲتعالٰی عسٰی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرامنکن(الٰی قولہ تعالٰی) ثیبٰت وابکارا۱؎۔ وقال تعالٰی فلما قضی زید منھاوطر ازوجنکھا۲؎، وقال تعالٰی فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ ۳؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا : ان کے رب قریب ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں کہ انہیں تم سے بہتر بیویاں بدل دے(اﷲتعالٰی کے قول) ثیبٰت وابکاراً(بیاہیاں اور کنواریاں) تک۔ اور اﷲتعالٰی نے فرمایا: پھر زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وُہ (زینب)تمہارے نکاح میں دے دی۔ اور اﷲاتعالٰی نے فرمایا: تو اب وُہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ آئے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۶۶ /۵)     (۲؎ القرآن الکریم     ۳۳/  ۳۷)     (۳؎القرآن الکریم    ۲/ ۲۳۰)
کریمہ وانکحواالایامٰی۴؎(اور نکاح کردواپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہیں۔ت) میں ایم کے نکاح کردینے کو فرمایا،
(۴؎ القرآن الکریم      ۲۴ / ۳۲ )
ایم ہرزنِ بے شوہر کو کہتے ہیں جس کے اطلاق میں کنواری، مطلّقہ، بیوہ سب داخل۔ اگر چہ ایم خاص بیوہ کا نام نہیں بالخصوص بیوہ کے لئے یہ آیتیں ہیں  قال تعالٰی(اﷲتعالٰی نے فرمایا۔ت) :
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا فاذا بلغن اجلھن فلاجناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف واﷲبماتعملون خبیرoولا جناح علیکم فیما عرضتم فی انفسکم علم اﷲ انکم ستذکرونھن ولکن لا تواعدوھن سرا الاان تقولواقولا معروفاo ولاتعزمواعقدۃ النکاح حتی یبلغ الکتب اجلہ۱؎۔
اور جو تم میں مریں اور بیویاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب ان کی عدت پُوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مواخذہ نہیں اس کام میں جوتمہارے کاموں کی خبر ہے، اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم نے عورتوں کے نکاح کا پیام دو یا اپنے دل میں چھپارکھو۔ اﷲتعالٰی جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کروگے۔ ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ رکھو یہ کہ اتنی ہی بات کہو جو شرع میں معروت ہے اور نکاح کی گرہ پکّی نہ کرو جب تک لکھا ہُوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۳۵۔۲۳۴)
وقال اللہ تعالٰی : والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول غیر اخراج فان خرجن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن من معروف واﷲعزیز حکیم۲؎o
اور تم میں مریں اور بیویان چھوڑجائیں وُہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کر جائیں سال بھر نان ونفقہ دینے کی بے نکالے، پھر اگر وُہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مواخذہ نہیں جو انہیں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا، اور اﷲتعالٰی غالب حکمت والا ہے(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۲/ ۲۴۰)
Flag Counter