| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
ام المومنین (ام سلمہ رضی اﷲعنہا) نے ۶۰ ھ(عہ) یا ۶۱ یا ۶۲ میں وفات پائی، عمر شریف چوراسی ۸۴ برس کی ہوئی قالہ الواقدی وکثیر من العلماء نقلہ عنھم فی الاصابۃ۱؎ وھوالصواب کما فی الزرقانی(واقدی اور کثیر علماء نے یہی کہا ہے جن سے اصابہ میں نقل کیا اور یہی درست ہے جیسا کہ زرقانی میں ہے۔ت) اور حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے آخر شوال ۴ ھجری میں ان سے نکاح فرمایاھوالصحیح کما فی الزرقانی(یہی صحیح ہے جیسا کہ زرقانی میں ہے۔ت) تو جس وقت انہوں نے ترکِ نکاح کے لئے عمر زیادہ ہونے کا عذر عرض کیا ہے تیس۳۰ سال کی نہ تھیں یہی کوئی چھبیس۲۶ستائیس۲۷ برس کی عمر تھی رضی اﷲتعالٰی عنہا۔ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے ابن سعد انہیں ام المومنین رضی اﷲتعالٰی عنہا سے راوی کہ انہوں نے فرمایا: بلغنی انہ لیس امرأۃ یموت زوجھا وھو من اھل الجنۃ وھی من اھل الجنۃ ثم لم تزوج بعدہ الاجمع اﷲ بینھما فی الجنۃ۔ جس عورت کا شوہر مرجائے اور وہ دونوں جنتی ہوں پھر عورت اُس کے بعد نکاح نہ کرے تو اﷲتعالٰی اُن دونوں کو جنت میں جمع فرمائے۔ اسی بنا پر اُنہوں نے حضرت ابوسلمہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے کہا تھا آؤ ہم تم عہد کریں کہ جو پہلے مرجائے دوسرا اس کے بعد نکاح نہ کرے، مگر یہ علمِ الہی میں امہات المومنین میں داخل ہونے والی تھیں، حضرت ابوسلمہ نے قبول نہ فرمایا ۲؎ رواہ من طریق عاصم الاحول عن زیاد بن ابی مریم عنھا رضی اﷲتعالٰی عنہا(اس کو بطریق عاصم احول، زیاد بن ابی مریم سے روایت کیا اور انہوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت فرمایا۔ت)
عہ: صحح الاوّل الیعمری والثانی ابو عمر بن عبدالبر والثالث الحافظ التقریب وھناک تصحیح رابع وھو ۵۹صححہ القسطلانی فی المواھب قال الزرقانی وھو معارض بھذہ التصحیحات ۳؎واﷲتعالٰی اعلم۔(م)
اول کو یعمری، ثانی کو ابوعمر بن عبد البر اور ثالث کو حافظ نے تقریب میں صحیح قرار دیا اور یہاں ایک چوتھی تصحیح ۵۹ھ کی بھی ہے جس کو قسطلانی نے مواہب میں صحیح قرار دیا، زرقانی نے فرمایا کہ وہ ان تصحیحات کے معارض ہے، واﷲتعالٰی اعلم۱۲منہ(ت)
(۱؎ الاصابہ فی تمییزالصحابہ ذکر ام سلمہ نمبر ۱۳۰۹ داراصادر بیروت ۴ /۶۰۔۴۵۹) (۲؎ الطبقات الکبرٰی ذکر من خطب النبی صلی اﷲتعالٰی وسلم من النساء دارصادر بیروت ۸ /۸۸) (۳؎ شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ ذکر ام سلمہ رضی اﷲعنہا دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۲۴)
حضرت سلمٰی بنت جابر رضی اﷲتعالٰی عنہا کے شوہر شہید ہُوئے وہ حضرت عبد اﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ کے پاس آئیں اور کہا میرے شوہر نے شہادت پائی اور لوگ مجھے پیام دے رہے ہیں میں نکاح سے انکار رکھتی ہوں کیا آپ اُمید کرتے ہیں کہ اگر میں اور وہ جمع ہوئے تو میں آخرت میں ان کی زوجہ ہوں(بیوی بنوں) فرمایا:ہاں۔
احمد فی المسند حدثنا ابو احمد ثنا ابان عبداﷲالباجلی عن کریم بن ابی حاز معن جدتہ سلمٰی بنت جابر ان زوجہا استشھد فاتت عبد اﷲبن مسعود فقالت انی امرأۃ استشھدزوجی وقد خطبنی الرجال فابیت ان اتزوج حتی القاہ فترجولی ان اجتمعت اناوھو ان اکون من ازواجہ قال نعم فقال لہ رجل مارأیناک نقلت ھذامذقاعدناک قال انی سمعت رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یقول ان اسرع امتی لی لحوقافی الجنۃ امرأۃ من احمس۱؎۔
امام احمد نے اپنی مسند میں یُوں بیان فرمایا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو احمد نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابان بن عبداﷲ بجلی نے، انہوں نے کریم بن ابی حازم سے، اور انہوں نے اپنی دادی سلمی بنت جابر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ ان (حضرت سلمی رضی اﷲتعالٰی عنہا) کے شوہر شہید ہوئے تو وہ حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ کے پاس آئیں اور کہاکہ میں وہ عورت ہوں جس کے شوہر شہید ہوگئے ہیں اور بہت سے مردوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا مگر میں نے نکاح سے انکار کیا تا وقتیکہ میں اپنے شوہر سے ملوں، کیا آپ میرے متعلق امید کرتے ہیں کہ اگر میں اورمیرا شوہر جمع ہُوئے توان کی بیوی بنوں گی؟ حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ نے فرمایا: ہاں۔ ایک شخص نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے کہا کہ جب سے ہم آپ کے پاس بیٹھ رہے ہیں آپ کویہ نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، تو آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے ہُوئے سُنا کہ بیشک جنت میں سب سے جلد مجھ ملنے والی عورت احمس (قریشی)سے(ت) حضر ت سید سعید شہید سیّدنا امام حسین صلی اﷲتعالٰی تعالٰی علٰی جدّہ الکریم وعلیہ وبارک وسلم کی زوجہ مطہرہ رباب بنت امرئ القیس کہ حضرت اصغر وحضرت سکینہ رضی اﷲتعالٰی عنہما کی والدہ ماجدہ ہیں بعد شہادت امامِ مظلوم رضی اﷲتعالٰی عنہ بہت شرفائے قریشی نے انہیں پیامِ نکاح دیا، فرمایا:
(۱؎ مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲبن مسعود دارا لفکر بیروت ۱ /۴۰۳)
ماکنت لاتخذنی حموا بعد رسول صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۱؎۔
میں وُہ نہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے بعد کسی کو اپنا خسر بناؤں۔(ت)جب تک زندہ رہیں نہ کیاذکرہ ابن الاثیر فی الکامل(ابن اثیر نے اسے کامل میں ذکر کیا ہے۔ت) مرثیہ حضرت امام انام رضی اﷲتعالٰی عنہ میں فرماتی ہیں: ؎
واﷲلاابتغی صھرابصھر کم حتی اغیب بین الرملی والطین۲؎
خداکی قسم تمہارے رشتہ کے بعد کسی سے رشتہ نہ چاہوں گی یہاں تک کہ ریت اور مٹی میں دفن کردی جاؤں ذکرہ ھشام بن الکلبی(اس کو ہشام بن کلبی نے ذکر کیا۔ت)
(۱ ؎ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ذکر مقتل حسین رضی اﷲتعالٰی عنہ دارصادر بیروت ۴ /۸۸) (۲ ؎ الکامل فی التاریخ لابن اثیر ذکر مقتل حسین رضی اﷲتعالٰی عنہ دارصادر بیروت ۴ /۸۸)
بلکہ علّامہ ابوالقاسم عماد الدین محمود ابن فریابی کتاب خالصۃ الحقائق لمافیہ من اسالیب الدقائق میں صحابیات حضور پُر نور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے ایک بی بی رباب نامی رضی اﷲتعالٰی عنہا کا ذکر کرتے ہیں :
انہاکانت زوجھا لرجل یقال لہ عمر وفتعاھدا أیھما مات قبل الاخر لایتزوج الذی یبقٰی حتی یموت فمات فاقامت مدۃ فزوجھا ابوھا فرأت فی تلک اللیلۃ عمرا انشدھا ابیاتا فاصبحت مذعورۃ وقصت علی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم القصۃ فامرھا ان تستأنس بالوحدۃ حتی تموت وامرزوجھا بفراقھا ففعل ذٰلک۔
یعنی وُہ ایک شخص عمر و نامی کی زوجہ تھیں اُن کے آپس میں عہد ہولیا تھا کہ جو پہلے مرے دوسرا تادمِ مرگ نکاح نہ کرے، عمر کا انتقال ہوا، رباب ایک مدّت تک بیوہ رہیں پھر ان کے باپ نے اُن کا نکاح کردیا، اُسی رات اپنے پہلے شوہر کو خواب میں دیکھا اُنہوں نے کچھ شعر اس معاملے کی شکایت میں پڑھے یہ صبح کو خائف وترساں اُٹھیں، حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے حال عرض کیا، حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مرتے دم تک تنہائی میں جی بہلائیں اوراس شوہر کو حکم دیاکہ انہیں چھوڑدے، انہوں نے چھوڑدیا۔(ت) نقلہ الحافظ فی الاصابۃ وقال ھی حکایۃ مشہورۃ لغیرھذین ۳؎الخ (اس کو حافظ نے الاصابہ میں نقل کیا اور فرمایا کہ یہ حکایت ان دونوں کے غیر کے لئے مشہور ہے الخ۔ت)
(۳؎ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحولہ محمود بن احمد فریانی الرباب غیر منسوبہ دارصادر بیروت ۴ /۳۰۰)