Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
57 - 155
حدیث ۲: ایک بی بی نے دربارِ دُربارسیّد الابرار صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی: میں فلاں دخترِ فلاں ہوں۔ فرمایا: میں نے تجھے پہچانا اپناکام بتا۔ عرض کی: مجھے اپنے چچا کے بیٹے فلاں عابد سے کام ہے۔ فرمایا: میں نے اُسے بھی پہچانا یعنی مطلب کہہ۔ عرض کی؛ اس نے مجھے پیام دیا ہے۔ تو حضور ارشاد فرمائیں کہ شوہر کا حق عورت پر کیا ہے اگر وُہ کوئی چیز قابو کی ہوتو میں اُس سے نکاح کرلوں۔فرمایا:
من حقہ لوسال منخراہ دما او قیحا فلحستہ بلسانہاما ادت حقہ لوکان ینبغی لبشران لیسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا اذادخل علیھا بمافضلہ اﷲعلیھا۔
مرد کے حق کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ اگر اس کے دونوں نتھنے خون یا پیپ سے بہتے ہوں اورعورت اُسے اپنی زبان سے چاٹے تو شوہر کے حق سے ادا نہ ہوئی اگر آدمی کا آدمی کو سجدہ روا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ مرد جب باہر سے آئے اس کے سامنے آئے اسے سجدہ کرے کہ خدا نے مرد کو فضیلت ہی ایسی دی ہے۔

یہ ارشاد سُن کر وُہ بی بی بولیں: والذی بعثک بالحق لااتزوج مابقیت الدنیا۔۱؎رواہ البزاروالحاکم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔

قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں رہتی دنیا تک نکاح کانام نہ لوں گی(اسکو بزار اور حاکم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت فرمایا۔ت)
 (۱؎ مستدرک کتاب النکاح     باب حق الزوج علی ال زوجۃ     دارا لفکر بیروت     ۲ /۱۸۹)

(کشف الاستارعن زوائد البزار      حدیث ۱۴۶۶    موسسۃالرسالہ بیروت    ۲ /۱۷۸)
حدیث ۳: ایک صاحب اپنی صاحبزادی کو لے کر درگاہِ عالم پناہ حضور سیّد العالمین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اورعرض کی: میری یہ بیٹی نکاح کرنے سے انکار رکھتی ہے حضور صلوات اﷲتعالٰی علیہ نے فرمایا:"اطیعی اباک" ا پنے باپ کا حکم مان۔ اُس لڑکی نے عرض کی: قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں نکاح نہ کروں گی جب تک حضور یہ نہ بتائیں کہ خاوند کا حق عورت پر کیا ہے۔فرمایا:
حق الزوج علی زوجتہ لوکانت بہ قرحۃ فلحستھا اور انتثرمنخراہ صدیدا  اودماثم ابتلعتہ ماادت حقہ۔
شوہر کا حق عورت پر یہ ہے اگر اس کے کوئی پھوڑا ہو عورت اسے چاٹ کر صاف کرے یا اس کے نتھنوں سے پیپ یا خون نکلے عورت اسے نگل لے تو مرد کے حق سے ادا نہ ہوئی۔

اس لڑکی نے عرض کی : والذی بعثک بالحق لااتزوج ابدا۔

قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں کبھی شادی نہ کروں گی۔

حضور پُر نور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:لاتنکحوھن الاباذنھن۱؎ رواہ البزار وابن حبان فی صحیحہ عن ابی سعید الخدررضی اﷲتعالٰی عنہ۔ 

"عورتوں کا نکاح نہ کرو جب تک ان کی مرضی نہ ہو"۔اس کو بزار اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
 (۱؎ کشف الاستار عن زوائد البزار     حدیث ۱۴۶۵     موسسۃ الرسالہ بیروت         ۲ /۱۷۸)
امام حافظ زکی الملۃ والدّین عبد العظیم منذری رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ فرماتے ہیں:اس حدیث کی سند جیّد اور اس کے سب راوی ثقات مشہور ین ہیں انتہی، سبحان اﷲاس حدیث جلیل کو دیکھئے دختر ناکتخدا کو نکاح سے انکار، باپ کو اصرار، باپ حضور کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہیں، صاحبزادی عین دربار اقدس میں قسم کھاتی ہیں کہ کبھی نکاح نہ کروں گی۔ اس پر حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نہ اس انکار کرنے والی پر ناراض ہوتے ہیں نہ اعتراض کرتے ہیں بلکہ اولیاء کو ہدایت فرماتے ہیں کہ جب تک ان کی مرضی نہ ہو  ان کا نکاح نہ کرو، کہاں یہ ارشادِ ہدایت بنیاد کہاں وُہ جبروتی حکم زبر دستی کا ظلم کہ اگر چہ ایک بار نکاح ہوچکا اب بیوہ ہوگئی، اور دوبارہ نکاح پر جبر کرو اور پھر بیوہ ہو تو پھر سہ بارہ گلا دباؤ اگر مان لے تو خیر، اور انکار کرے تو کافرہ ہوگئی، اور ساتھ لگے اولیا کی بھی خیر نہیں اگر وُہ خواہ مخواہ نکاح نہ کردیں تو اُن پر بھی معاذاﷲ اﷲ عزوجل کا غضب ٹوٹے عیاذاًباﷲ یزید پلید کی طرح غارت ہوں، مرتے وقت ایمان جانے کا اندیشہ، مزہ یہ کہ ان حضرات کے نزدیک ایک حکم شریعت مطہرہ کا اُنہوں نے چھوڑا دوسرے حکم فرض قطعی کے ترک کی یہ مسلمانوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ مرجائیں تو ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو،حالانکہ حضور سیّد المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :

الصّلوٰۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت براکان  او فاجرا وان ھو عمل الکبائر۱؎۔ اخرجہ ابوداؤد ابویعلی والبیہقی فی سننہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ بسند صحیح علٰی اصولنا معشر الحنفیۃ۔

ہر مسلمان کے جنازہ کی نماز تم پر فرض ہے نیک ہو یا بدچاہے اُس نے کتنے ہی گناہ کبیرہ کئے ہوں (اس کو امام ابوداؤد، ابویعلی اور امام بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ایسی سند کے ساتھ روایت فرمایا جو ہمارے یعنی احناف کے اصول کے مطابق صحیح ہے۔ت)
 (۱؎ سُنن ابوداؤد     کتاب الجہاد         باب فی الغزومع ائمۃ الجور         آفتاب عالم پریس لاہور     ۱ /۳۴۳)

(السنن الکبرٰی         باب الصّلوٰۃ حلف من لایحمد فعلہ             دارصادر بیروت    ۳ /۱۲۱)
دوسری حدیث میں ہے، مولائے دوجہاں سرورِ کون ومکاں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
صلو علی کل میّت۲؎۔ اخرجہ ابن ماجۃ عن واثلۃ والد ابی الطفیل رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
ہر(مسلمان) میت کی نماز جنازہ پڑھو۔ (اس کو ابن ماجہ نے واثلہ والدِ ابی الطفیل رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ سنن ابن ماجہ     ابواب الجنائز         باب فی الصلوٰۃ علٰی اہل القبلہ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۱۱۰)
تیسری حدیث میں ہے حضور سیّد عالم مولائے اکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
صلواعلی من قال لاالٰہ الااﷲ۳؎۔ اخرجہ ابوالقاسم الطبرانی فی معجمہ الکبیر ابونعیم فی حلیۃ الاولیاء عن عبداﷲابن الفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
جس نے لاالٰہ الّا اﷲ پڑھا اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ اس کو ابو القاسم طبرانی نے اپنی معجم کبیر اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں حضر ت عبداﷲابن فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت فرمایا۔(ت)
 (۳؎ المعجم الکبیر     حدیث۱۳۶۲۲ مروی از عبد اﷲابن عمر       المکتبۃ الفیصلیہ بیروت    ۱۲ /۴۴۷)
معاذاﷲ مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے احکام کو پس پشت ڈالنا اور اپنی طرف سے نئی شریعت نکالنا بیوہ کے نکاح کرنے سے لاکھ درجے بدتر ہے۔ جبھی تو کہا تھا کہ یہ حضرات اور کو خندق سے بچائیں اور خود گہرے کنویں میں گرجائیں  ولاحول ولاقوۃ الّا باﷲالعلی العظیم۔

بالجملہ عند التحقیق عامہ زنان خصوصاًزنانِ زمان کے حق میں غایت درجہ حکم اباحت ہے اور مباح سے انکار پر اصلاً مواخذہ نہیں خصوصاً جب اس کے ساتھ اور کوئی مصلحت بھی ترکِ نکاح پر داعی ہو۔ صحیح حدیث میں ہے، حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے حضرت اُمّ ہانی بنت ابی طالب خواہر امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کوپیامِ نکاح دیا، عرض کی : مابی عنک رغبۃ یارسول اﷲ ولکن لا احب ان اتزوج وبنی صغار۔

یارسول اﷲ! کچھ حضور سے مجھے بے رغبتی تو ہے نہیں مگر مجھے یہ نہیں بھاتا کہ میں نکاح کروں اور میرے بچّے چھوٹے چھوٹے ہیں۔

سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : خیر نساء رکبن الابل نساء قریش احناہ علی طفل فی صغرہ وارعاہ علٰی بعل فی ذات یدہ۱؎۔ رواہ الطبرانی عنہا رضی اﷲتعالٰی عنہا برجال ثقات، قالت خطبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فقلت فذکرہ۔

عرب کی تمام عورتوں میں بہتر زنانِ قریش ہیں اپنے بچّے پر اس کے بچپن میں سب سے زیادہ مہربان اور خاوند کے مال کی سب سے زیادہ نگاہ رکھنے والیاں۔ (اس کو طبرانی نے حضرت اُمّ ہانی رضی اﷲتعالٰی عنہا سے ثقہ راویوں پر مشتمل سند کے ذریعہ روایت کیا، وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے عرض کی، اور آگے حدیث مذکورہ کو ذکر کیا۔ت)
 (۱؎ المعجم الکبیر         حدیث ۱۰۶۷    مروی از امّ ہانی رضی اﷲعنہا         المکتبۃ الفیصلیہ بیروت         ۲۴ /۴۳۷)
دوسری صحیح حدیث میں ہے، جب حضور والا صلوات اﷲتعالٰی وسلامیہ علیہ نے انہیں پیام دیا، یوں عرض کی:

یارسول اﷲلانت احب الی من سمعی وبصری وحق الزوج عظیم فاخشٰی ان اضیع حق الزوج ۲؎ملخصاً۔ اخرجہ ابن سعد بسند صحیح عن الشعبی مرسلا۔

یارسول اﷲ! بیشک حضور مجھے اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں سے زیادہ پیارے ہیں اور شوہر کا حق بڑا ہے میں ڈرتی ہوں کہ حق شوہر مجھ سے فوت نہ ہو، ملخصاً۔ (اس کو ابن سعد نے سند صحیح کے ساتھ شعبی سے مرسلاً روایت فرمایا۔ت)q
 (۲؎ الطبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر من النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من النساء   دارصادر بیروت  ۳ /۱۵۲)
تیسری حدیث میں ہے :
ۤفخطبھا الی  نفسھا فقالت کیف بھذاضجیعا وھذارضیعالولدین بین یدیھا۳؎۔ رواہ عن ابی نوفل بن عقرب ایضامرسلا۔
جب حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ان سے نکاح کے لئے فرمایا اپنے دو۲ بچّوں کی طرف کہ سامنےموجود تھے اشارہ کرکے عرض کی یہ دودھ پینے اور یہ ساتھ سونے کو بہت ہے۔ (اس کو بھی ابن سعد نے ابو نوفل بن عقرب سے مرسلاً روایت کیا۔ت)
 (۲؎ الطبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر من النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من النساء   دارصادر بیروت    ۳ /۱۵۲)
امّ المومنین ام سلمہ رضی اﷲعنہا اپنے شوہر اوّل حضرت ابو سلمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے بیوہ ہُوئیں امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اُنہیں پیغامِ نکاح کردیا، انکار کردیا، پھر فاروق اعظم رضی ا ﷲتعالٰی عنہ نے پیام دیا انکار کردیا، پھر حضور سیّد المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے پیام دیا، عرض کی :

انی امرأۃ غیری وانی امرأۃ مصیبۃ ولیس احد من اولیائی شاھدا۔

میں رشک ناک عورت ہوں(یعنی ازواجِ مطہرات سے شکر رنجی کا خیال ہے) اور عیالدار ہوں اور میرا کوئی ولی حاضر نہیں۔ 

حضور سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ان کے عذروں پر کُچھ عتاب نہ فرمایا نہ یہ ارشاد ہو ا کہ تم سنت سے منکر ہوتی ہو تم پر شرعی الزام ہے، بلکہ عذرسن کر اُن کے علاج وجواب ارشاد فرمادئے کہ تمہارے رشک کے لئے ہم دُعا فرمائیں گے اﷲتعالٰی اسے دور کردے (چنانچہ ایسا ہی ہوا ام المومنین ام سلمہ باقی ازواجِ مطہرات رضی اﷲتعالٰی عنہن کے ساتھ اس طرح رہتی تھیں گویا یہ ازواج ہی نہیں صلی اﷲ تعالٰی علی بعلہن وعلیہن وبارک وسلم اور تمہارے بچّے اﷲ و رسول کے سپرد ہیں اورتمہاراکوئی ولی حاضر غائب میرے ساتھ نکاح کو ناپسند نہ کرے گا۱؎رواہ احمد والنسائی عنھا رضی اﷲتعالٰی عنہا بسند صحیح (اس کو امام احمد اور نسائی وغیرہ نے حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے بسند صحیح روایت کیا۔ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     مروی از ام سلمہ         دار الفکر بیروت     ۶ /۳۱۳)

(سنن النسائی    کتاب النکاح         المکتبۃ السلفیہ لاہور     ۲ /۶۸)
ابن ابی عاصم روایتوں میں ہے منجملہ عذروں کے یہ بھی عرض کی کہ امّا انا فکبیرۃ السن میری عمر زیادہ ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا فانا اکبر منک۲؎میں تم سے بڑاہوں۔ رواہ من طریق عبدالواحد بن ایمن عن ابی بکر بن عبد الرحمن عنھا رضی اﷲتعالٰی عنہا(ابن عاصم نے اس کو عبد الواحدبن ایمن کے طریق سے ابوبکربن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ام المومنین حضر ت ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت فرمایا۔ت)
 (۲؎ طبقات الکبرٰی لابن سعد  باب ذکر فی خطب النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من نساء  دار صادر بیروت       ۸ /۹۱)
Flag Counter