Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
56 - 155
 (۵) اگر حاجت کی حالت اعتدال پر ہویعنی نہ نکاح سے بالکل بے پروائی نہ اس شدّت کاشوق کہ بے نکاح وقوعِ گناہ کا ظن بالیقین ہو ایسی حالت میں نکاح سنّت ہے مگر بشرطیکہ عورت اپنے نفس پر اطمینان کافی رکھتی ہو کہ مجھ سے ترکِ اطاعت اور حقوقِ شوہر کی اضاعت اصلاً واقع نہ ہوگی۔

(۶) اگر ذرابھی اس کا اندیشہ ہوتو اس کے حق میں نکاح سنّت نہ رہے گا صرف مباح ہوگا بشرطیکہ اندیشہ حدِ ظن تک نہ پہنچے ورنہ اباحت جدا سرے سے ممنوع وناجائز ہوجائے گاکما سبق(جیسا کہ پیچھے گزرا۔ت)
درمختار میں ہے :
یکون سنۃ مؤکدۃ فیاثم بترکہ(مع الاصرار) حال الاعتدال (ای الاعتدال فی التوقان ان لایکون بالمعنی المارّفی الواجب والفرض وھوشدّۃ الاشتیاق وان لایکون فی غایۃ الفتور کالعنین ولذا فسرہ فی شرحہ علی الملتقٰی بان یکون بین الفتور والشوق وفی البحروالمراد حالہ عدم الخوف من الجور وترک الفرائض والسنن فلو خاف فلیس معتدلا فلایکون سنۃ فی حقہ کما افادہ فی البدائع، وترک الشارح قسما سادسا ذکرہ فی البحرعن المجتبٰی وھوالاباحۃ ان خاف العجز عن الایفاء بمواجبہ اھ ای خوفا غیر راجح والاکان مکر وھا تحریما لان عدم الجور من مواجبہ۱؎اھ ملتقطا مزید امن ابن عابدین۔
اور حال اعتدال میں نکاح سنّتِ مؤکدہ ہوتا ہے جس کے(باصرار) ترک پر گناہ لازم ہوتا ہے(اعتدال سے مراد یہ ہے کہ غلبہ شہوت اس حد تک پہنچا ہوا نہ ہو جیسا کہ نکاحِ واجبِ وفرض میں گزرا یعنی جماع کا اشتیاق شدید اور نہ ہی انتہائی طور پر کمزور اور قاصر ہو جیسا کہ عنین۔ اسی واسطے شرح منتقٰی میں اس کی تفسیر یُوں فرمائی کہ وُہ فتور اور شوق کے درمیان ہو۔ بحر میں ہے کہ اس سے مراد آدمی کا وہ حال ہے جس میں اسے ظلم،ترک فرائض اور ترک سُنن کا خوف نہ ہو، اور اگر اسے ان امورکا خوف ہے تو وہ معتدل نہیں، لہذا اس کے لئے نکاح سنت نہیں ہوگا جیسا کہ بدائع میں اس کا افادہ فرمایا، اور شارح نے نکاح کی چھٹی قسم کا ذکرنہیں فرمایا جس کو بحر مجتبٰی سے ذکر کیا اور وُہ ہے نکاح کا مباح ہونا جبکہ لوازمِ نکاح راجح نہ ہو ورنہ مکروہ تحریمی ہوگا کیونکہ عدمِ جور لوازمِ نکاح میں سے ہے اھ ملتقطا__زائد عبارتیں ابن عابدین سے لی گئی ہیں۔(ت)
 (۱؎ درمختار         کتاب النکاح     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۸۵)

(ردالمحتار       کتاب النکاح    داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۶۱)
حکم بحالت سنیت بیشک نکاح کی ترغیب بتاکید کی جائے اور اس سے انکار پرسخت اعتراض پہنچتا ہے اسی قدر جتنا ترکِ سنت پر چاہئے اور درصورت اباحت نہ نکاح پراصلا جبر کا اختیار نہ اس سے انکار پر کچھ اعتراض وانکار کہ مباح وشرع مطہر نے مکلّف کی مرضی پر چھوڑا ہے چاہے کرے یانہ کرے، پھر انصاف کی میزان ہاتھ میں لیجئے تو عورتوں کے حق میں سنیت نکاح بھی بہت ندرت سے ثابت ہوگی، ہزار میں ایک ہی ایسی نکلے گی جس کے لئے سنت کہہ سکیں،کیا کسی عورت کی نسبت خود وُہ یا اس کے اولیاء یا یہ تشدد والے حضرات پورے طور پر ضامن ہوجائیں گے کہ اس سے نافرمانی شوہر یا اس کے کسی حق میں ادنٰی تقصیر واقع ہونے کا اصلاً اندیشہ نہیں، ایسی بے معنی ضمانت وہی کرسکتا ہے جسے نہ مردوں کے حقوق عظیمہ پر اطلاع، نہ عورات کی عادات ونقصان عقل ودین پر وقوف کیا، حدیث صحیح میں حضور پُر نورسیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد سُنا کہ:
رأیت النار فلم ارکالیوم منظراقط افظع ورأیت اکثر اھلھا النساء
میں نے دوزخ ملاحظہ فرمائی تو آج کی برابر کوئی چیز سخت وشنیع نہ دیکھی اور میں نے اہلِ دوزخ میں عورتیں زیادہ دیکھیں۔

فقالو!یارسول اﷲصحابہ نے عرض کی یارسول اﷲیعنی حضور! اس کا کیا سبب ہے؟ قال بکفر ھن فرمایا ان کے کفر کے باعث۔ قیل یکفرن باﷲعرض کی گئی کیا اﷲعزّوجل سے کفر کرتی ہیں؟قال یکفرن العشیر ویکفرن الاحسان فرمایا شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتی ہیں لو احسنت الی احدٰھن الدھرثم رأت منک شیئاً قالت مارأیت منک خیراقط۱؎ اگرتو ان میں سے کسی کے ساتھ عمر بھر احسان کرے پھر ذرا سی بات خلافِ مزاج تجھ سے دیکھے تو کہے میں نے کبھی تجھ سے کوئی بھلائی نہ دیکھی رواہ الشیخان عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما(اس کو شیخین نے حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ صحیح بخاری         باب صلوٰۃ الکسوف    قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱۴۴)

(صحیح مسلم         باب صلوٰۃ الکسوف    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲ /۷۸۳)
حدیث۲: فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسم:
ان المرأۃ خلقت من ضلع اعوج لن تستقیم لک علی طریقۃ فان استمتعت بھا وبھا عوج وان ذھبت تقیمھا کسرتھا وکسرھا طلاقھا۲؎۔رواہ مسلم والترمذی عن ابی ھریرہ ونحوہ احمد ابن حبان والحاکم عن سمرۃ بن جبدب رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
عورت ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے ہرگز سی راہ پر تیرے لئے سیدھی نہ ہوگی، اگر تُو اس سے نفع لے تو اس کی کجی کے ساتھ نفع لے اور سیدھا کرنے چلے تو توڑدے، اور اس کا توڑنا طلاق دینا ہے(اس کو امام مسلم وترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور اس کی مچل کو امام احمد، ابن حبان اور حاکم نے حضرت سمرۃ بن جندب رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم        باب الوصیۃ بالنساء      قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۹۸)
حاصل یہ کہ پسلی ٹوٹ جائے گی مگر سیدھی نہ ہوگی، عورت بھی بائیں پسلی سے بنی ہے نہ نبھے تو طلاق دے دے مگر ہر طرح موافق آئے یہ مشکل ہے۔
حدیث۳: ایک بی بی نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی: یارسول اﷲ! میں عورتوں کی فرستادہ ہوں، حضور کی بارگاہ میں جن عورتوں کوخبر ہے اور جنہیں خبر نہیں سب میری اس حاضری کی خوہاں ہیں، اﷲ عزوجل مردوں عورتوں سب کا پردگار ہے اور حضور مردوں عورتوں سب کی طرف اس کے رسول، اﷲ عزوجل نے مردوں پر جہاد فرض کیا کہ فتح پائیں تو دولتمند ہوجائیں اور شہید ہوں تو اپنے رب کے پاس زندہ رہیں رزق پائیں اور ہم عورتیں اُن کے کاموں کا انتظام کرنے والیاں ہیں تو ہمارے لئے وُہ وہ کون سی طاعت ہے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ فرمایا:

طاعۃ ازواجھن بحقوقھم  وقلیل منکن من یفعلہ۱؎۔ رواہ البزاروالطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما۔

شوہروں کی اطاعت اور اُن کے حق پہچاننا اور اس کی کرنے والیاں تم میں تھوڑی ہیں(اس کو بزار اور طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی        حق المرأۃ علی الزوج     دارالکتاب بیروت     ۴ /۳۰۶)

(مصنف عبد الرزاق         حدیث ۵۹۱۴        حبیب الرحمٰن الاعظمی بیروت۸ /۴۶۳)
حدیث۴: فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم : حاملات والدات مرضعات رحیمات باولادھن لولامایأتین الٰی ازواجھن لدخل مصلیا تھن الجنۃ۲؎۔ اخرجہ الامام احمد وابن ماجۃ والطبرانی فی الکبیر والحاکم فی المستدرک عن ابی امامۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔

حمل کی سختیاں اٹھانے والیاں، دُودھ پلانے والیاں، جننے کی تکلیف جھیلنے والیاں، اپنے بچوں پر مہر بانیں، اگر نہ ہوتی وُہ تقصیر جو اپنے شوہروں کے ساتھ کرتی ہیں تو ان کی نماز والیاں سیدھی جنّت میں جائیں (اس کو امام احمد، ابن ماجہ، کبیر میں طبرانی نے اور مستدرک میں حاکم نے حضرت ابوامام رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت فرمایا۔ت)
 (۲؎ المعجم الکبیر    حدیث ۷۹۸۶    المکتبۃ الفیصلیہ بیروت    ۸ /۳۰۲)

(  مسند امام احمد    دارالفکر بیروت    ۵ /۲۵۲)
تو سنّیّت درکنار اکثر عورتوں کے لئے حدیث اباحت ہی ثابت رہے یہی بڑی بات ہے پھر اُن کے انکار پر اعتراض اور نکاح پر اصرار کی کیا سبیل نہ کہ اعتراض بھی معاذاﷲتاحداکفار اور اصرار بھی ہم پہلوئے اکراہ واجبار، ولہٰذا احادیث میں وارد کہ حقوقِ شوہر اور ان کی شدّت سُن کر متعدد بیبیوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے عمر بھرنکاح نہ کرنے کا عہد کیا اور حضور پُرنورصلّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا مگرجاہل واعظین خصوصاً وہابیہ ہمیشہ خدا و رسول سے بڑھ کر چلاچاہتے ہیں جل جلالہ، وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
حدیث ۱: ایک زن خثعمیہ نے خدمت اقدسِ سرور عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی: یارسول اﷲ! حضور مجھے سُنائیں کہ شوہر کا حق عورت پر کیا ہے کہ میں زنِ بے شوہر ہوں اُس کے اداکی اپنے طاقت دیکھوں تو نکاح کروں ورنہ یوں ہی بیٹھی رہوں، فرمایا :
فان حق الزوج علی الزوجۃ ان سألھا نفسھا وھی علی ظھر بغیران لاتمنعہ نفسھا ومن حق الزوج علی الزوجۃ ان لاتصوم تطوعا الاباذنہ فان فعلت جاعت وعطشت ولایقبل منھا ولاتخرج من بیتھا الاباذنہ فان فعلت لعنتھا ملٰئکۃ السماء وملٰئکۃ الارض وملٰئکۃ الرحمۃ وملٰئکۃ العذاب حتی ترجع۔
تو بیشک شوہر کا حق زوجہ پر یہ ہے کہ عورت کجا وہ پر بیٹھی ہو اور مرد اُسی سواری پر اس سے نزدیکی چاہے تو انکار نہ کرے، اورمرد کا حق عورت پر یہ ہے کہ اس کے بے اجازت کے نفل روزہ نہ رکھے اگر رکھے گی تو عبث بُھوکی پیاسی رہی روزہ قبول نہ وہوگا اور گھر سے بے اذن شوہر کہیں نہ جائے اگر جائے گی تو آسمان کے فرشتے، زمین کے فرشتے، رحمت کے فرشتے، عذات کے فرشتے سب اُس پر لعنت کرینگے جب تک پلٹ کر آئے۔

یہ ارشاد سُن کر بی بی نے عرض کی:لاجرم لاتزوج ابدا۱؎ٹھیک ٹھیک یہ ہے کہ نکاح نہ کرونگی رواہ الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما(اس کو طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ کشف الاستار عن زوائد البزار     باب حق الزوج علی المرأۃ     مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۲ /۱۷۷)

(مجمع الزوائد      باب حق الزوج علی المرأۃ       دارالکتاب بیروت    ۴ /۷۔۳۰۶)
Flag Counter