Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
55 - 155
وانا اقول وباﷲالتوفیق(اورمیں کہتا ہوں اور اﷲ تعالٰی ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ت) حق اس مسئلہ میں یہ ہے کہ نکاح ثانی مثل نکاح اول فرض، واجب، سنّت، مباح، مکروہ، حرام سب کچھ ہے صور واحکام کی تفصیل سُنیے:

(۱) جس عورت کو اپنے نفس سے خوف ہو کہ غالباً اس سے شوہر کی اطاعت اور اُ س کے حقوق واجبہ کی ادانہ ہوسکے گی اسے نکاح ممنوع وناجائز ہے اگر کرے گی گنہگار ہوگی، یہ صورت کراہت تحریمی کی ہے۔ 

(۲) اگر یہ خوف مرتبہ ظن سے تجاوز کرکے یقین تک پہنچا جب تو اُسے نکاح حرام قطعی ہے۔

حکم ایسی عورتوں کو نکاح اول خواہ ثانی کی ترغیب ہرگز نہیں دے سکتے بلکہ ترغیب دینی خود خلاف شرع ومعصیت ہے کہ گناہ کا حکم دینا ہوگا یہ عورتیں یا ان کے اولیاء اگر نکاح سے انکار کرتے ہیں انہیں انکار سے پھیرنے والا جاہل ومخالفِ شرع۔ 

(۳) جنہیں اپنے نفس سے ایساخوف نہ ہو انہیں اگرنکاح کی حاجت شدید ہے کہ بے نکاح کے معاذاﷲگناہ میں مبتلا ہونے کا ظن غالب ہے تو ایسی عورتوں کو نکاح کرنا واجب ہے۔ 

(۴) بلکہ بے نکاح معاذاﷲ وقوع حرام کا یقین کُلی ہوتو اُنہیں فرض قطعی یعنی جبکہ اُس کے سوا کثرت روزہ وغیرہ معالجات سے تسکین متوقع نہ ہو ورنہ خاص نکاح فرض وواجب نہ ہوگا بلکہ دفع گناہ جس طریقہ سے ہو۔

حکم  ایسی عورتوں کو بیشک نکاح پر جبر کیا جائے اگر خود نہ کریں گی وُہ گنہگار ہوں گی، اور اگر ان کے اولیاء اپنے حدِ مقدورتک کوشش میں پہلوتہی کریں گے تو وُہ بھی گنہگار ہوں گے، ایسی جگہ ترک وانکار پر بیشک انکار کیا جائے مگر کتنا، صرف اتنا جو ترِک واجب وفرض پر ہوسکتا ہے، نہ یہ جاہلانہ  جبر وتی حکم کہ جو انکار کرے کافر، جو روک دے کافر، جو نہ کرنے دے کافر، فرائض ادا کرنے یااُنکی ادا سے باز رکھنے پر آدمی کافر نہیں ہوتا جب تک ایسے فرض کی فرضیت کا منکر نہ ہو جس کا فرض ہونا ضروریاتِ دین سے ہے، پھر ترک واجب وفرج پر جس قدر انکار وتشدّدکرسکتے ہیں وہ بھی یہاں اس وقت روا ہوگا جب معلوم ہو کہ اس عورت سے اطاعت وادائے حقوق واجبہ شوہر کا ترک متیقن یا مظنون نہیں کہ ایسی حالت مین تو فرضیت ووجوب درکنار عدمِ  جواز و حرمت کا حکم ہے، پھر یہ بھی ثابت ہو کہ اس عورت کی حالتِ حاجت اس حد تک ہے کہ نکاح نہ کرے گی تو گناہ میں مبتلا ہوجانے کا یقین یا ظن غالب ہے کہ بغیر اس کے وجوب اصلاً نہیں، اور جب کسی خاص عورت کے حق میں یہ امور بروجہ شرعی ثابت نہ ہوں تو مسلمان پر بدگمانی خودحرام، اور محض اپنے خیالات پر تارک فرض و واجب ٹھہرادینا بیباک کا کام، پھر امر حاجت میں عورت کا اپنا بیان مقبول ہوگا کہ حاجت نکاح امر خفی و وجدانی ہے جس پر خود صاحبِ حاجت ہی کو ٹھیک اطلاع ہوتی ہے جب وُہ بیان کرے کہ مجھے ایسی حاجت نہیں تو خواہی نخواہی اس کی تکذیب کی طرف کوئی راہ نہیں ہوسکتی عُمر وغیرہ کا مظنہ سب جگہ ایک سا نہیں ہوتامزاج، عقل، حیا، خوف، اشغال، احوال، ہموم، افکار، صحبت، اطوارصد ہا اختلافوں سے مختلف ہوجاتا ہے جس کی تفصیل اہلِ عقل وتجارب پر خوب روشن ہے،
درمختار میں ہے :
یکون واجبا عند التوقان (المراد شدۃ الاشتیاق کما فی الزیلعی بحیث یخاف الوقوع فی الزنا لولم یتزوج اذلایلزم من الاشتیاق الی الجماع الخوف المذکور، بحر) فان تیقن الزناالابہ فرض ، نھایۃ(ای بان کان لایمکنہ الاحتراز من الزنا الّابہ لان مالایتوصل الی ترک الحرام الابہ یکون فرضابحر، وقولہ لایمکنہ الاحتراز الابہ ظاھر فی فرض المسألۃ فی عدم قدرتہ علی الصوم المانع من الوقوع فی الزنا فلو قدر علی شیئ من ذٰلک لم یبق النکاح فرضا، او واجبا عینا بل ھو أوغیرہ مما یمنعہ من الوقوع فی المحرم) وھذا ان ملک المھر والنفقۃ والافلااثم بترکہ بدائع(ھذاالشرط اثم الی القسمین اعنی الواجب والفرض وزادفی البحر شرطا اٰخر فیھما وھو عدم خوف الجور  ای الظلم قال فان تعارض خوف الوقوع فی الزنا لو لم یتزوج وخوف الجور لو تزوج قدم الثانی افتراض بل یکرہ افادہ الکمال فی الفتح ولعلہ لان الجور معصیۃ متعلقۃ بالعبادوالمنع من الزنا من حقوق اﷲتعالٰی وحق العبد مقدم عند التعارض لاحتیاجہ وغنی المولٰی تعالٰی اھ) ویکون مکروھا(ای تحریما،بحر) لخوف الجور فان تیقنہ (ای الجور) حرم۱؎اھ ملخصا مزید امن ردالمحتار مابین الخطین
اور غلبہ شہوت کے وقت نکاح واجب ہوتا ہے(اس سے مراد بقول امام زیلعی کے ایسا شدید اشتیاقِ جماع ہے کہ اگر نکاح نہ کرے گا تو وقوعِ زنا کا خوف ہے کیونکہ محض اشتیاقِ جماع کو خوف مذکور لازم نہیں،بحر) پس اگر نکاح کے بغیر زنا یقینی ہوتو نکاح فرض ہے، نہایہ(یعنی نکاح کے بغیر زنا سے بچنا ممکن نہ ہو کیونکہ جس کے بغیر ترک حرام رسائی نہ ہو وہ فرض ہوتا احتراز ممکن نہیں، ظاہر ہے کہ مسئلہ کی وُہ صورت فرض کی گئی ہے جس میں ناکح روزے رکھنے پر قادر نہ ہو جو کہ زنا سے مانع ہیں لہذا اگر وہ روزے رکھنے پر قادر ہو تو نکاح فرض یا واجب عین نہ ہوگا بلکہ اسے اختیار ہوگا کہ نکاح کرے یا حرام یعنی زنا سے بچنے کا کوئی اور طریقہ اپنائے) اوریہ وجوب وفرضیتِ نکاح اس صورت میں ہے جب وُہ مہر ونفقہ پر قادر ہو ورنہ ترکِ نکاح میں گناہ نہیں، بدائع(یہ شرط دونوں قسموں یعنی نکاح واجب وفرض کی طرف راجح ہے ۔  بحر میں ان دونوں قسموں میں ایک اور شرط کا اضافہ فرمایا ہے اور وُہ یہ ہے کہ جو رو ظلم کا ڈر نہ ہو، صاحبِ بحر نے فرمایا کہ عدمِ نکاح کی صورت میں خوفِ زنا نکاح کی صورت میں جوروظلم کے خوف سے متعارض ہو تو ثانی کا اعتبار مقدم و راجح ہوگا چنانچہ اس صورت میں نکاح فرض نہیں بلکہ مکروہ ہوگا، کمال نے فتح میں اس کاافادہ فرمایا، شاید خوف جو رکو خوفِ زنا پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہو کہ جَورو ظلم ایسا گناہ ہے جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اور زنا سے باز رہنا حقوق اﷲ سے ہے اورحق عبد بوقت تعارض حق اﷲ پر مقدم ہوتا ہے کیونکہ عبد محتاج ہے اور مولٰی تعالٰی غنی ہے اھ) اور اس صورت میں نکاح مکروہ یعنی مکروہ تحریمی ہوگا جبکہ ظلم کا خوف ہو اور اگر ظلم کا یقین ہوتو حرام ہے۔ قوسین میں زائد عبارتیں ردالمحتار سے لی گئی ہیں،
 (۱؎ درمختار       کتاب النکاح         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۸۵)

( ردالمحتار    کتاب النکاح   داراحیاء التراث العربی بیروت      ۲ /۶۱۔۲۶۰)
اقول ویؤید تعلیل البحر حدیث ابن ابی الدنیا وابی الشیخ عن جابر بن عبداﷲ وابی سعید الخدری رضی اﷲتعالٰی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والغیبۃ فان الغیبۃ اشد من الزنا ان الرجل قدیزنی ویتوب فیتوب اﷲعلیہ وان صاحب الغیبۃ لایغفرلہ حتی یغفرلہ صاحبہ۲؎۔
اقول (میں کہتا ہوں کہ) بحر کی بیان کردہ علت کی تائید کرتی ہے ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ کی وُہ حدیث جس کو حضرت جابر بن عبدا ﷲاور حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲتعالٰی عنہم نے نبی کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمایا کہ غیبت سے بچو کیونکہ غیبت زناء سے سخت تر ہے، اس لئے کہ آدمی زناء کرتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے تو اﷲتعالٰی اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے، اور غیبت کرنے والے کی مغفرت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ وہ معاف نہ کرے جس کی غیبت کی گئی(ت) (۲؎ جامع الاحادیث للسیوطی    قسم
الاقوال  حدیث ۹۳۱۰     دارالفکر بیروت    ۳ /۳۹۰)
Flag Counter