بابُ النّکاح الثّانی
رسالہ
اطائبُ التّھانی فی النّکاح الثّانی(۱۳۱۲ھ)
(بیوہ کے نکاح ثانی کے مفصّل احکام)
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم ط
مسئلہ ۱۱۲: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۹ صفر ۱۳۱۲ھ
حمد کے لائق ہے وُہ اک پاک ذات جس نے پیدا کی یہ ساری ممکنات
اور حبیب اپنے کو بس پیدا کیا جس سے عالم میں ہوئے نوروضیا
محمد یعقوب علی خاں خلف پیر محمد خاں مرحوم نظامی چشتی قادری خدمت فیض موہب میں عرض پرواز ہے کہ یہ فتوی نوشتہ مولوی عبد الرحیم دہلوی نظرِ احقر سے گزرا، اس کے مضمون سے اکثر ساکنانِ ہند اہلِ اسلام پرگناہ درکنار کفر عائد ہوتا ہے، اس واسطے عبارتِ فتوٰی خدمت شریف میں روانہ کرکے طالبِ جواب ہُوں کہ تسکین خاطر کی جائے
"ان اﷲ لایضیع اجرالمحسنین"۱؎
(بیشک اﷲتعالٰی احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹ /۱۲۰)
خلاصہ فتوٰی یہ ہے جانو اے مسلمانو! نکاح بیوہ کا ثابت ہےقرآن مجید وحدیث شریف سے،فرمایا اﷲتعالٰی نے :
وانکحواالایامٰی منکم۱؎
یعنی نکاح کردو بیوہ عورتوں کا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۴ /۳۲)
اور فرمایا حضرت رسولِ خدا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے :
النکاح سنّتی فمن رغب عن سنتی فلیس منّی۲؎۔
نکاح کرنا میری سنّت ہے اور جس نے منہ پھیرا میرے طریقہ سے یعنی انکار کیا سو وہ مُجھ سے نہیں۔
(۲؎ صحیح بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۵۷)
(صحیح مسلم کتاب النکاح باب استحباب النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۹)
(سُنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴)
پس جو لوگ اس سے انکار کریں یا عیب اور بُرا جانیں یا کرنے والوں پر طعن کریں حقیر جانیں ذات سے نکالیں یا نکاح کرنے والوں کو روک دیں نہ کرنے دیں یا ایسی فساد کی بات اٹھائیں جس سے حکمِ خدا اور سنت رسول جاری نہ ہو اورکافروں کی رسم قائم رہے یا جاہلوں کے کہنے سننے کا خیال کرکے خدا اور رسول کا حکم قبول نہ کریں،سو یہ سب قسم کے لوگ کافر ہیں، عورتیں اُنکی نکاح سے باہر ہوجاتی ہیں،نماز روزہ کچھ قبول نہیں، کھانا پینا ان لوگوں کے ساتھ ہرگز درست نہیں جب تک توبہ نہ کریں اس واسطے کہ ان سب صورتو ں میں انکارِ حکم خدا اور تحقیر سنت لازم آتی ہے اور یہ ظاہر کفر ہے جیسا کہ تمام کتابوں میں لکھا اور آیت مذکور کی تفسیر میں آیا ہے کہ جو کوئی عیب جانے دوسرے نکاح کو وہ بے ایمان ہے، پس سب مسلمانوں کو واجب ہے کہ جن لوگوں کے گھر میں بیوہ عورت لائق نکاح کے ہو ان کو سمجھا دیں اور نصیحت کردیں، اور جو نہ مانیں تو تعزیر دیں، اور جو تعزیر کا قابُوں نہ چلے تو اُن کے گھر کا کھانا پینا بولنا سلام علیک کرنا سب چھوڑدیں اور اپنی شادی غمی میں اُن کونہ بُلائیں اور نہ اُن کے جنازے پرجائیں،اگر ایسا نہ کریں گے تو یہ بھی ان کے ساتھ دنیا وعاقبت کے وبال میں گرفتا ہوں گے، سوائے بھائیوں! نکاح رانڈوں کا کردو، اور جونہ مانے اس سے ملنا چھوڑدو اور ذات سے ڈال دو نہیں تو تمہارے بھی ایمان جانے کاخوف ہے، مکّہ کے سو اسوبزرگوں نے یہ فتوٰی بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ اب بھی جو لوگ نہ مانیں گے دنیا میں بے عزّت اور تباہ ہوجائیں گے اور آخر کو بے ایمان مریں گے۔ اور یہ بھی معلوم ہو اکہ اسی سال ۱۲۸۸ھ میں عشاء کے وقت ہزار آدمیوں نے دیکھا کہ ایک سُرخی بڑی شدت کی مدینہ مبارک کی طرف نمودار ہُوئی اور بڑی دیر تک رہی پھر تمام آسمان میں پھیل گئی اس ہیبت کی تھی کہ ا س کی طرف دیکھا نہ جاتا تھا،مکّہ شریف میں تمام بزرگوں نے فرمایا کہ بڑا بھاری غضب نازل ہونے والا ہے،سو ایک بزرگ کو خواب میں الہام ہُوا کہ یہ سُرخی ہندوستان کی بیوہ عورتوں کا خون جمع ہوکر جناب رسولِ خدا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے فریاد کرنے آیا تھا، سو عنقریب ان مسلمانوں پر غضب آنے والاہے جلد نکاح کردیں ورنہ بھاری وبا آئے گی اور قحط پڑے گا کہ اکثر یزید کی طرح غارت ہوجائیں گے۔ الٰہی! سب مسلمانوں کو ہدایت کر اور غضب سے بچا، آمین یارب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
الجواب
اس مسئلہ میں جاہلانِ ہنددو۲ فرقے ہوگئے ہیں: (۱) اہلِ تفریط کہ نکاح بیوہ کو ہنود کی طرح سخت ننگ وعار جانتے اورمعاذاﷲحرام سے بھی زائد اس سے پرہیز کرتے ہیں نوجوان لڑکی بیوہ ہوگئی اگر چہ شوہر کا منہ بھی نہ دیکھا ہو اب عمربھر یونہی ذبح ہوتی رہے ممکن ہے کہ نکاح کا حرف بھی زبان پر نہ لاسکے، اگر ہزار میں ایک آدھ نے خوفِ خدا وترس روزِ جزا کرکے اپنا دین سنبھالنے کو
(کہ حدیث میں آیا:
من تزوج فقد استکمل نصف دینہ فلیتق اﷲفی نصف الباقی۱؎۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والحاکم والبیہقی عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۔
جس نے نکاح کیا اس نے اپنا آدھادین پُورا کرلیا باقی آدھے میں اﷲ سے ڈرے(اس کو کبیر میں امام طبرانی نے اور امام حاکم وبیہقی نے حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمایا۔(ت)
(۱؎ شعب الایمان عن انس بن مالک حدیث ۵۴۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۸۳۔۳۸۲)
نکاح کرلیا اس پر چار طرف سے طعن تشنیع کی بوچھار ہے، بیچاری کو کسی مجلس میں جانا بلکہ اپنے کُنبے میں مُنہ دکھانا دشوار ہے، کل تک فلاں بیگم یا فلاں بانولقب تھا اب دوخصمی کی پکارہے ولاحول ولاقوۃ الّا باﷲالعلیّ العظیم، یہ بُرا کرتے اور بے شک بہت بُرا کرتے ہیں باتباع کفار ایک بیہودہ رسم ٹھہرا لینی پھر اس کی بناپر مباح شرعی پر اعتراض بلکہ بعض صور میں ادائے واجب سے اعراض کسی جہالت اور نہایت خوفناک حالت ہے، پھر حاجت والی جوان عورتیں اگر روکی گئیں اور معاذاﷲ بشامتِ نفس کسی گناہ میں مُبتلاہُوئیں تو اس کا وبال ان روکنے والوں پر پڑے گا کہ یہ اس گناہ کے باعث ہوئے۔
رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مکتوب فی التوراۃ من بلغت لہ ابنتہ اثنتی عشرۃ سنۃ فلم یزوجھا فرکبت اثما فاثم ذلک علیہ۱؎۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن امیرالمومنین عمر الفاروق وعن انس بن مالک رضی اﷲعنھما بسند صحیح۔
اﷲ عزّوجل توراۃ شریف میں فرماتا ہے جس کی بیٹی بارہ۱۲ برس کی عمر کو پہنچے اور وہ اس کا نکاح نہ کردے اور یہ دختر گناہ میں مبتلا ہو تو اس کا گناہ اس شخص پر ہے(اس کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت امیرالمومنین عمر فاروق اور حضرت انس بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہما بسندِ صحیح روایت فرمایا۔ت)
(۱؎ شعب الایمان حدیث ۸۶۷۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ /۴۰۲)
جب کنواری لڑکیوں کے بارہ میں یہ حکم ہے تو بیاہیوں کا معاملہ تو اور بھی سخت کہ دختر انِ دوشیزہ کو حیاء بھی زائد ہوتی ہے اور گناہ میں تفضیح کا خوف بھی زائد اورخود ابھی اس لذّت سے آگاہ نہیں صرف ایک طبعی طور پر ناواقفانہ خطرات دل میں گزرتے ہیں، اور جب آدمی کسی خواہش کا لطف ایک بارپا چُکا تو اب اس کا تقاضارنگِ دگر پر ہوتا ہے اور ادھر نہ ویسی حیا نہ وُہ خوف واندیشہ۔ اﷲ عزوجل مسلمانوں کو ہدایت بخشے،آمین۔
(۲) دوسرے اہلِ افراط کہ اکثر واعظین وہابیہ وغیرہم جُہّال مُشدّدین ہیں، ان حضرات کی اکثر عادت ہے کہ ایک بیجا کے اٹھانے کو دس۱۰ بیجا اس سے بڑھ کر آپ کریں، دوسرے کو خندق سے بچانا چاہیں اور آپ عمیق کنویں میں گری، مسلمانوں کو وجہ بے وجہ کافر مشرک بے ایمان ٹھہرادینا تو کوئی بات ہی نہیں، ان صاحبوں نے نکاحِ بیوہ کو گویا علی الاطلاق واجب قطعی وفرض حتمی قرار دے رکھا ہے کہ ضرورت ہو یا نہ بلکہ شرعاً اجازت ہو یا نہ ہوبے نکاح کئے ہرگز نہ رہے اور نہ صرف فرض بلکہ گویا عین ایمان ہے کہ ذرا کسی بناء پر انکار کیا اور ایمان گیا اور ساتھ لگے آئے گئے پاس پڑوسی سب ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے کہ کیوں پیچھے پڑکر نکاح نہ کردیا اور اگر بس نہ تھا تو پاس کیوں گئے، بات کیوں کی، سلام کیوں لیا،بات بات پر عورتیں نکاح سے باہر جنازہ کی نماز حرام، تمام کفر کے احکام، ولاحول ولا قوۃ الّا باﷲالعلی العظیم۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ھلک المتنطعون۲؎۔رواہ الائمۃ احمد ومسلم وابوداؤد عن ابن مسعود رضی ا ﷲتعالٰی عنہ۔
ہلاک ہوئے بے جا تشدّد کرنے والے(اس کو امام احمد، امام مسلم اور امام ابوداؤد نے حضرت عبد اﷲابن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت فرمایا۔ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب العلم باب النہی اتباع متشابہ القرآن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۹)