Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
53 - 155
مسئلہ ۱۱۱: موضع علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاک خانہ کوٹ نجیب اﷲخاں مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب ۲۳رمضان ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نسبت یانکاح کے وقت جو روپیہ لوگ لیتے ہیں حلال ہے یانہیں ؟

الجواب

اگر وُہ روپیہ دینے والا اس لئے دیتا ہے کہ اس کے لالچ سے میرے ساتھ نکاح کردیں جب تو وہ رشوت ہے اس کا دینا لینا سب ناجائز وحرام۔
فی الھندیۃ انفق علی طمع ان یتزوجھا قال الاستاذ قاضی خاں الاصح انہ یرجع علیھا زوجت نفسھا اولم تزوج لانھا رشوۃ ۲؎اھ ملخصا۔
ہندیہ میں ہے کہ مرد نے کسی عورت کو اس طمع پر خرچہ دیا کہ وہ اس سے نکاح کرے گی تو امام استاذ(قاضی خاں) نے فرمایا کہ اصح یہی ہے کہ وُہ اس عورت سے واپس لے سکتا ہے وہ عورت اس سے نکاح کرے یا نہ کرے کیونکہ یہ رشوت ہے اھ ملخصاً(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ      کتاب الھبۃ      الباب الحادی عشرفی المتفرقات    نورانی کتب خانہ کراچی۳ /۴۰۳)
یُوں ہی اگر اولیائے عورت نے کہاکہ اتنا روپیہ ہمیں دے تو تجھ سے نکاح کردیں گے ورنہ نہیں جیسا کہ بعض دہقانی جاہلوں میں کفار ہنود سے سیکھ کر رائج ہے  تو یہ بھی رشوت و حرام ہے،
فی الھندیۃ خطب امرأۃ بیت اخیھا فابی ان یدفعھا حتی یدفع دراھم فدفع وتزوجھا یرجع بمادفع لانھا رشوۃ کذافی القنیۃ۱؎۔
ہندیہ میں ہے کہ مرد نے کسی عورت کو اس کے بھائی کے گھرپیغامِ نکاح بھیجا تو اس کے بھائی نے اس شرط پر نکاح دینے کا اظہار کیا کہ وہ اس عورت کے بھائی کو کچھ درہم دے تو اس شخص نے وہ درہم دے دئے تو اس کے بھائی نے اس کانکاح اس مردسے کردیا اب وہ درہم واپس لے سکتا ہے کیونکہ یہ رشوت ہے۔ ایسے ہی قنیہ میں بھی ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الباب الحادی عشر فی المتفرقات    کتاب الہبۃ     نورانی کتب خانہ کراچی     ۴ /۴۰۳)
اور اگر یہ صورتیں نہیں بلکہ رسم ہے کہ نکاح سے پہلے دُولہا کی طرف سے کچھ روپیہ دُلہن کی طرف جائے جیسے ہمارے بلاد میں گہنا اور جوڑا جاتا ہے جسے چڑھاوا کہتے ہیں، اگر نکاح ہوجائے تو ہوجائے ورنہ وُہ مال واپس دیاجائے تو اس میں کچھ حرج نہیں، اور اس کا وہی حکم ہے کہ اگر نکاح ٹھہرے گا تو واپس دیاجائے گا۔
فی الھندیۃ سئل من علی بن احمد عمن ارسل الٰی اھل خطیبتہ دنانیر ثم اتخذوالہ ثیابا کما ھو العادۃ،ثم بعد ذلک یقول ھو نقد تھا من المھر ھل یکون القول قولہ فقال القول قول الباعث، قیل لہ لودفع الیھم دنانیر فقال انفقوا البعض الی اجرۃ الحائک والبعض الٰی ثمن الشاۃ للشراء والبعض الی الجوزقۃ کما ھو العادۃ، ثم فعلواذلک فزفت الیہ ثم بعد ذلک یدّعی انی بعثت الدنانیر لاجل المھر یقبل قولہ قال اذا صرح بالقول لایقبل قولہ فی التعیین، وسئل ابوحامد عن رجل خطب لابنہ خطیبۃ وبعث الیھا دراھم ثم مات الاب وطلب سائر الورثۃ لامیراث من ھذا المال المبعوث، فقال ان تمت الوصلۃ بینھما فھو ملک لابنہ وان لم تتم فھو میراث، وان کان الاب حیایرجع الی بیانہ، وسئل والدی عمن بعث الی الخطیبۃ سکرا وجوزاوتمراً وغیرھا ثم بدالھم فترکو ا المعاقدۃ ھل لھذا الخاطب ان یرجع علیھم باسترداد مادفع فقال ان فرق ذلک علی الناس باذن الدافع لیس لہ حق الرجوع وان لم یأذن لہ فی ذٰلک فلہ ذٰلک کذافی التتارخانیۃ۱؎اھ قولہ فھو ملک لابنہ اقول انت تعلم ان ھذا یرادعلی العرف فان کان العرف ان یراد بذلک تملیک العروس فھو ملکھا لاملک الزوج کما لایخفی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں ہے کہ علی بن احمد سے ایسے شخص کے بارے میں پُوچھا گیا جس نے اپنی منگیتر والوں کو کچھ دینار بھیجے پھر انہوں نے حسبِ عادت اس شخص کے لئے کپڑے بنادئے، اب وہ کہتا ہے کہ میں نے دینار مہر میں دئے تھے تو کیا اس کاقول معتبر ہوگا، تو انہوں نے کہا کہ بھیجنے والے کی بات معتبر ہوگی، عرض کی گئی کہ اگر وہ منگیتر والوں کو دینار دے کر کہے کہ اس میں سے کچھ جولا ہے کی مزدوری میں خرچ کردوکچھ بکری خرید لو اسکی قیمت میں خرچ کردو اور دیگر رسم ورواج میں حسبِ عادت خرچ کردو، پھر اہلِ مخطوبہ نے ایسا ہی کیا اور وُہ عورت اس کے پاس بھیج دی گئی اب وُہ کہتا ہے کہ میں نے وہ دینار مہرمیں بھیجے تھے تو کیا اس کا قول تسلیم کیا جائے گا، آپ نے فرمایا کہ جب اس نے قول کے ساتھ تصریح کردی ہے تو اب تعیین میں اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔ امام ابوحامد سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنے لڑکےکے لئے کسی لڑکی سے منگنی کی اور اس لڑکی کوکچھ درہم بھیجے پھر یہ باپ مرگیا تو اس کے وارثوں نے اس مال سے میراث طلب کی جو لڑکی کو بھیجی گئی تھی، توامام ابو حامد نے فرمایا کہ اگر ان دونوں میں تعلق تام ہوگیا ہے تو وُہ مال اس کے بیٹے کی ملک ہوگا، اور اگر تعلق تام نہیں ہوا تو وُہ میراث ہوگا اور اگر باپ زندہ ہوتو اس کے بیان کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اور میرے والد سے پُوچھا گی اکہ ایک مرد نے اپنی منگیتر کی طرف شکر، اخروٹ، بادام اور چھوہارے وغیرہ بھیجے پھر مرد والوں کی رائے میں آیا تو انہوں نے عقد ترک کردیا تو اکی اب اس مرد(خاطب) کے لئے جائز ہے کہ وُہ یہ بھیجی ہوئی چیزیں واپس لے، تو انہوں نے فرمایا کہ اگر لڑکی والوں نے یہ چیز اس مرد کے کہنے سے لوگوں میں تقسیم کردی ہیں تو وہ واپس لینے کا حق نہیں رکھتا، اور اگر اس نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی تو واپس لینے کا حق رکھتا ہے، ایسا ہی تاتارخانیہ میں ہے اھ اس کا قول کہ وُہ بیٹے کی ملک ہوگا اقول(میں کہتا ہوں) آپ کو معلوم ہے کہ اس کا دارومدار عرف پر ہے اگر عرف میں اس مراد دلہن کی ملکیت ہوتا ہے توا س کی ملک ہوگا نہ لڑکے کی، جیسا کہ مخفی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     باب اختلاف الزوجین فی المہر     مطبع نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۲۲)
Flag Counter