Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
52 - 155
مسئلہ ۱۰۹: از کانپور طلاق محال مطب حکیم نورالدین صاحب     مسئولہ عبید اﷲصاحب ۴شوال ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نابالغہ ۱۲ سال کی جو مجامعت کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے اس کا ولی اُسے شوہر کے یہاں جانے سے روک سکتا ہے یانہیں؟ بینو اتوجروا
الجواب

جب بارہ۱۲ سال کی ہے ضرور متحمل ہوسکتی ہے مگر کسی صورت نادرہ میں کہ بہت کمزور نازک ہوا ور مرد دیوقامت قوی الجثّہ کہ واقعی عدم تحمل مظنون ہو، تو اس صورت میں بیشک روک سکتا ہے،، اور عند الاختلاف اس کا فیصلہ رائے قاضی سے ہوگاوہ دیکھ کر تجویز کرے گا کہ عورت تحمل کرسکتی  یانہیں۔
ردالمحتار میں ہے :
قد صرحواعند نا بان الزوجۃ اذاکانت صغیرۃ لاتطیق الوطی لاتسلم الی الزوج حتی تطیقہ والصحیح انہ غیر مقدر بالسن بل یفوض الی القاضی بالنظرالیھامن سمن اوھزال وقد منا عن التاترخانیۃ ان بالغۃ اذاکانت لاتحمّل لایؤمر بد فعھا الی الزوج ایضا فقولہ لاتتحمل یشمل مالوکان لضعفھا اوھزالھا اولکبراٰلتہ۱؎اھ۔واﷲتعالٰی اعلم۔
تحقیق انہوں نے تصریح فرمائی کہ زوجہ جب صغیرہ ہو اور وطی کی طاقت نہ رکھتی ہوتو اس کو شوہر کے حوالے نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ وطی کے قابل نہ ہوجائے، اور صحیح یہ ہے کہ اس میں عمر کی کوئی حد مقرر نہیں بلکہ قاضی کی رائے پر چھوڑاجائے گاکہ وُہ دیکھے کہ زوجہ قوی ہے یا کمزور۔ اورہم تاتارخانیہ سے سابق میں ذکر کرچکے ہیں کہ حوالے کرنے کا حکم نہیں دیاجائے گا، اور اس کا قول کہ ''وہ وطی کی متحمل نہ ہو'' ان دونوں صورتوں کو شامل ہے کہ وُہ عدمِ تحمل چاہے تو عورت کی کمزوری کی وجہ سے یامرد کے آلہ کی بڑائی کی وجہ سے ہو۔ اوراﷲتعالٰی  خوب جانتا ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب القسم     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۳۹۹)
مسئلہ ۱۱۰: از سوروں ضلع ایٹہ محلہ ملک زاد گان مرسلہ مرزا حامد حسن صاحب ۲۶ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ عمرو ایک شخص جس کی ایک لڑکی جوان ہے اور بہت جگہ سے پیغام نسبت کے اُس کے پاس آئے لیکن اس نے سب کوجواب دیا اور زید کے لڑکے سے اپنی لڑکی کی نسبت کردی، بعد چند عرصہ کے عمر ومذکور نے زید کے لڑکے سے اپنی لڑکی کی نسبت چھڑاکر دوسری جگہ پر یعنی بکر کے لڑکے سے کردی، اب یہ نسبت جو آخر جگہ پر بکر کے لڑکے سے کی گئی ہے درست وجائز ہے یانہیں؟ یا کہ اول عمرو کے لڑکے سے کہ جس کے ساتھ اس نے پہلے نسبت کردی تھی اس کی اجازت اور رضامندی لینا چاہئے، اور اگر عمرو کا لڑکا اجازت نہ دے توبکر کے لڑکی کے نکاح میں تو کوئی نقص شرعی باقی نہیں رہا؟ مفصل طور پر جواب مرحمت فرمائے۔ بینواتوجروا

الجواب

نسبت صرف ایک اقرار ووعدہ ہے، اور ایک جگہ نسبت کرکے چُھڑا لینا خلف وعدہ جس کی تین صورتیں ہیں اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور اُسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے توبے ضرورتِ شرعی وحالتِ مجبوری سخت گناہ وحرام ہے ایسے ہی خلافِ وعدہ کو حدیث میں علاماتِ نفاق سے شمار کیا، 

کما بیناہ فی رسالتنا انباء الحذاق بمسالک النفاق وھو محمل مافی الاشباہ من ان خلف الوعدہ حرام۱؎الخ۔

جیسا کہ ہم نے اس کواپنے رسالہ''انباء الحذاق بمسالک النفاق'' میں بیان کیا ہے، اور وہ جو اشباہ میں ہے وعدہ خلافی حرام ہے اس کا محمل بھی یہی ہے۔الخ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر     باب حظر واباحت     ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۱۰۹)
اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول وسبب معقول پیدا ہواتو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ادنٰی  کراہت بھی نہیں جبکہ اس عذر ومصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی وفضیلت پر ترجیح ہو خصوصاً امر نکاح میں کہ عمر بھر کے ساتھ کا سامان اور سخت نازک معاملہ ہے خصوصاً بے چاری شریف زادیوں کے لئے خصوصاً بلادِ ہندوستان میں، پس اگر نسبت کے بعد کوئی حرج ونقصان ظاہر ہو نسبت چھڑالی جائے ورنہ اپنی زبان پالنے کےلئے ایک بے کس بے زبان کو عمر بھر مضرت میں پھنساناہوگا خصوصاً جبکہ ضرورت دینی ہومثلاً معلوم ہوا کہ جس سے نسبت قرار پائی رافضی وہابی اور کسی قسم کا بد مذہب ہے کہ اس صورت میں نسبت چُھڑالینا شرعاً لازم۔
قال تعالٰی :

وامّاینسینّک الشیطان فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین۱؎، وللعقیلی عن انس عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لاتجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم۲؎۔

اور اگر تجھے شیطان بُھلادے تو یاد آنے کے بعد ظالم قوم کے پاس مت بیٹھ۔اور عقیلی میں ہے کہ حضرت انس رضی اﷲتعالٰی  عنہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ نہ اُن کے ہم مجلس بنو نہ کھانے پینے میں ان سے مشارکت کرو نہ ہی ان سے باہمی نکاح کرو۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)

(۲؎ الضعفاء الکبیرللعقیلی     ترجمہ احمد بن عمران     نمبر ۱۵۳     دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۱ /۱۲۶)
لڑکی والوں کو تولحاظ مصالح واحتراز مفاسد زیادہ اہم ہے لڑکے والے بھی اگرترک میں مصلحت سمجھیں ترک کردیں، حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے ضباعہ بنت عامر بن قرط رضی اﷲتعالٰی  عنہا کو نکاح کا پیغام دیا انہوں نے قبول کیا پھر حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کو مصلحت پیش آئی ترک فرمایا۔
فی المواہب وشرحھا للعلامۃ الزرقانی السادسۃ ضباعۃ اسلمت قدیما بمکۃ وھا جرت وکانت من اجمل نساء العرب خطبھا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلّم الی ابنھا سلمۃ بن ھشام فقال یا رسول اﷲتعالٰی علیک وسلم ماعنک مدفع افاستأمرھا قال نعم فاتاھا فقالت اﷲافی رسول صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم تستأمرنی انی ابتغی ان احشر مع ازواجہ ارجع الیہ فقل لہ نعم قبل ان یبدولہ فقیل للنبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم انھا کبرت فلما عادابنھاوقد اذنت لہ سکت عنھا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فلم ینکحھا رضی اﷲتعالٰی عنہا۱؎ملخصا۔
مواہب اور اس کی شرح زرقانی میں ہے کہ(جن عورتوں کو نبی کریم صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے پیغامِ نکاح بھیجا مگر نکاح نہ فرمایا ان میں سے) چھٹی حضرت ضباعہ رضی اﷲتعالٰی  عنہا ہیں وہ ابتداً ہی مکرمہ میں ایمان لے آئی تھیں پھر انہوں نے ہجرت کی وہ عرب کی حسین ترین عورتوں میں سے تھیں، حضور انور صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے ان کے بیٹے سلمہ بن ہشام کو ان کے لئے پیغام نکاح دیا تواس (سلمہ) نے کہ یا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم!آپ سے کوئی مانع نہیں، کہا میں اس(ضباعہ) سے مشورہ کرلوں؟ حضور اکرم صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں(مشورہ کرلو) چنانچہ وُہ ضباعہ کے پاس آیا تو انہوں(ضباعہ) نے کہا کہ اﷲسے ڈر، کیا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیتا ہے، میں ان کی ازواجِ مطہرات کے ساتھ قیامت میں اٹھنا چاہتی ہوں آپ کی طرف واپس جااور قبل اس کے آپ کے لئے کوئی نئی بات ظاہر ہو ہاں کہہ دے، تو نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ (ضباعہ) عمر رسیدہ ہیں۔ چنانچہ جب ان کا بیٹا واپس آیا اس حال میں کہ انہوں نے نکاح کی اجازت دے دی تو نبی کریم صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے سکوت فرمایا ا ور ان سے نکاح نہ فرمایا اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎ شرح زرقانی علی المواہب اللدنیہ     ذکر صفیہ ام المومنین     دارالمعرفۃ بیروت    ۳ /۲۷۰)
اور اگر کوئی عذر ومصلحت نہیں بلاوجہ نسبت چھڑائی جاتی ہے تویہ صورت مکروہ تنزیہی ہے،
وھو محمل مافی ردالمحتار من ھنا تعلم ان خلف الوعد مکروہ لاحرام وفی الذخیرۃ یکرہ تنزیھا لانہ خلف الوعد ویستحب الوفاء بالعھد۲؎۔
اور یہی محمل ہے اس کا جو ردالمحتار میں ہے، یہاں سے توجان جائے گا کہ وعدہ خلافی مکروہ  نہ کہ حرام، اور ذخیرہ میں ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ یہ خلف وعد ہے اور وفاءِ عہد مستحب ہے(ت)
 (۲؎ ردالمحتار             کتاب العاریۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۰۲)
یہ بات اس تقدیر پربے جاوخلافِ مروّت ہے مگر حرام وگناہ نہیں، حضور پُرنور سیّدالعالمین صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعدالرجل ومن نیتہ ان لایفی۳؎۔ رواہ ابو یعلی فی مسند عن زید بن ارقم رضی اﷲتعالٰی عنہ بسند حسن۔
وعدہ خلافی یہ نہیں کہ مرد وعدہ کرے در انحالیکہ اس کی نیّت وعدہ کو پورا کرنے کی ہو، لیکن وعدہ خلافی یہ ہے کہ مردوعدہ کرے درانحالیکہ اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔ اس کو ابویعلی نے اپنے مسند میں حضرت زید ارقم رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے بسندِ حسن روایت فرمایا۔(ت)
 (۳؎ کنز العمال بحوالہ ع عن زید بن ارقم     حدیث ۶۸۷۱    مؤسسۃالرسالۃ بیروت     ۳ /۳۴۷)
اس صورت میں یہ کراہت ہی دفع ہوگی کہ پہلے جہاں نسبت کی تھی وُہ بخوشی اجازت دے دیں، یہ تو نسبت چھڑانے کا حکم تھا، رہادوسری جگہ نکاح کرنا اس میں کسی طرح کوئی خلل نہیں خواہ یہاں تینوں صور مذکورہ سے کوئی صورت واقع ہوکہ نسبت بہر حال صرف وعدہ ہی وعدہ تھی کوئی عقد نہ تھی کہ اب بے موت یا طلاق دوسری جگہ نکاح نہ ہوسکے ہاں جب تک وہاں سے نسبت چُھوٹ نہ جائے دوسروں کو پیام دینے کی ممانعت ہے،

رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ حتی ینکح اویترک۱؎۔ اخرجہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔

کوئی مرد اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ دے یہاں تک کہ وہ نکاح کرلے یا چھوڑدے۔ شیخین نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت فرمایا۔(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری         باب لایخطب علی خطبہ اخیہ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۷۲)
یہ جُدا بات ہے مگر نکاح بے نسبت چُھڑائے بھی کردیاجائے گا تو نکاح میں کچھ نقص نہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت) واﷲسبحٰنہ وتعالٰی  اعلم۔
Flag Counter