| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۱۰۷: از بچھرایوں ضلع مراد آباد مکان حکیم غلام علی صاحب مرسلہ حکیم غلام احمد صاحب ۲۵رمضان مبارک ۱۳۲۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ شرع متین ا س مسئلہ میں کہ (۱) عدل بین الزوجین میں کھانے کی کیا صورت ہے، آیا جو چیز ایک زوجہ کو کھانے کو دی وہی دوسرے کو بھی دے اگر چہ ازقسم مکلفات ہویا فقط معمولی غذا میں، (۲)مثلاً ایک کو دُوسری زوجہ سے خفیہ دُودھ پلایا یا ثمارِ فصل کھلائے تو اُسی قدر دُوسری کو بھی دینا ضرور ہے یا یہ مستحب ہے، اگر دُوسری کو بھی دینا ضرور ہے تو صورتِ ذیل میں کُچھ فرق ہے یانہیں مثلاً(۳) ایک زوجہ نے زوج سے کسی چیز کی فرمائش کی چونکہ اس کی طبیعت اس چیز کے کھانے کو چاہتی تھی بایں وجہ خفیۃً دوسر ی زوجہ سے اسکی فرمائش کی پورا کردیا تو دُوسری کو بھی شیئ مذکور کا کھلانا بذمہ زوج ضرور ہے یانہیں، (۴) اگر ضرور ہے تو اس میں کچھ فرق ہے یانہیں کہ اگر دوسری زوجہ بھی اس شیئ کی فرمائش کرتی تو اس کو بھی پورا کرتا اور اگر (۵) زوج اپنی خواہش طبیعت سے کچھ شیئ ایک زوجہ کو کبھی کوئی شیئ دوسری کو کھلاتا ہے مگر برابری نہیں ہے کہ جس قیمت اور جس لذت کی وُہ شیئ ہے دُوسری کو وُہ نہیں ہے تو یہ جائز ہے یانہیں، (۶)ایک یہ صورت ہے کہ ایک زوجہ کھانا کھاتے وقت زوج کو کھانا پکاکرلاتی ہے دُوسری نہیں آتی ہے خاطر اً اس کو ہر ترکاری سے قدرے قدرے کھلایا تو اس میں زوج گنہگار ہُوا یا نہیں،اور خفیہ میں یہ مصلحت ہے کہ دونوں زوجہ میں بغض نہیں پڑتا ہے اور زوج سے دونوں خوش رہتی ہیں کیونکہ ایک کی دوسری کو خبر نہیں۔جواب مدلّل تحریر فرمائے۔
الجواب کھانا دو۲ قسم ہے ایک اصل نفقہ جوزوجہ کے لئے زوج پر واجب ہے، دُوسرا اس سے زائد مثل فواکہ وپان و الائچی وعطایا وہدایا، قسم اوّل میں برابری صرف اُس صورت میں واجب ہے جب دونوں عورتیں مال حا لت فقروغنا میں یکساں ہوں ورنہ لحاظ حا ل زوج کے ساتھ غنیـہ کے لئے اس کے لائق واجب ہوگا اور فقیرہ کے لئے اس کے لائق مثلاً زوج اور ایک زوجہ دونوں امیر کبیر ہیں کہ اپنے اپنے یہاں اُن کی خوراک باقرخانی ومُرغ پلاؤ ہے، اور دوسری زوجہ فقیرہ ہے کہ جوار باجرے کی روٹی کھاتی ہے اور آپ پیستی پکاتی ہے، ان دونوں کے نفقہ میں مساوات واجب نہیں ہوسکتی، پہلی کے لئے وہی بریانی اور مرغ لازم ہے اور دوسری کے لئے گیہوں کی روٹی اور بکری کا گوشت، پہلی کے لئے خادم بھی ضرور ہوگا دوسری آپ خدمت کرلے گی، پہلی کریب اور زربفت پہنے گی دوسری کوتنزیب اور ساٹھن بہت ہے، پہلی کے لئے مکان بھی عالی شان درکار ہوگا دوسری کے لئے متوسط۔ اور قسم دوم میں مطلقاً برابری چاہئے، جو چیز جتنی اور جیسی ایک کو دے اُتنی ہی اور ویسی ہی دوسری کو بھی دے۔ دُودھ، چائے، میوے، پان، چھالیا، الائچی، برف کی قلفیاں، سُرمہ، مہندی وغیرہ وغیرہ تمام زوائد میں مساوات رکھے کہ وہاں فرق اصل وجوب میں تھا یہ اشیاء واجب نہیں ان میں ایک کو مرجح رکھنا اس کی طرف میل کرنا ہوگا اور میل ممنوع ہے فرمائشوں کا حال بھی یہیں سے واضح ہوگیا اگر اس نے وہ فرمائش اپنے نفقہ کے متعلق کی ہے اور وہ اسکی مستحق ہے اور دوسری مستحق نہیں تو اس پر لازم نہ ہو کہ دوسری کو بھی وہی چیز دے اور نفقہ سے زائدشَے کی تو برابری درکار ہوگی کہ وُہ بعد فرمائش بھی عطیہ کی حد سے خارج نہیں،
وقد قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اکل بنیک نحلت مثل ھذا۱؎قال لاقال لاتشھد نی علی جور۲؎(ملخصاً) فاذاکان التفضیل فی العطایا جورا ومیلافی البنین ففی الازواج اولی واحری۔
حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تُونے پر بیٹے کو اس کی مثل تحفہ دیا۔ صحابی نے عرض کی کہ نہیں، تو حضور نے فرمایا کہ مجھے ظلم پر گواہ مت بنا۔ جب تحائف میں کمی بیشی بیٹوں کے اندر ظلم ومیل قرار پائی تو بیویوں میں بدرجہ اولی ظلم ومیل ہوگی۔(ت)
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث النعمان بن بشیر عن النبی صلی اﷲعلیہ وسلم دارالفکر بیروت ۴ /۲۶۸) (۲؎ سُنن النسائی کتاب النحل المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ /۱۲۶)
اور چھپاکر دینے سے دونوں کی رضا سمجھنی غلطی ہے بلکہ جسے چھپاچھپاکردے گا وہ جان لے گی کہ میری جگہ اس کے قلب میں زائد ہے وُہ دوسری کا دبانے کی جرأت کرے گی اور یہ تخم فساد کا بونا ہوگا۔
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
یجب ان یعدل ای لایجوز فی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ وفی الملبوس والماکول والصحبۃ لافی المجامعۃ کالمحبۃ بل یستحب۱؎۔
بیویوں میں عدل کرنا واجب ہے یعنی قسم میں ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی، لباسِ خوردونوش اور صحبت وموانست میں برابری کرے نہ کہ جماع میں مثل محبت کے بلکہ جما ع میں برابری مستحب ہے۔(ت)
(۱درمختار باب القسم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۱)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر قال فی البدائع یجب علیہ التسویۃ فی الماکول والمشروب والسکنی والبیتوتۃ وھکذا ذکر الولوالجی والحق انہ علی قول من اعتبر حال الرجل وحدہ فی النفقۃ واما علی القول المفتی بہ من اعتبار حالھما فلا، فان احدھما قدتکون غنیۃ والاخری فقیرۃ فلایلزم التسویۃ بینھما مطلقا فی النفقۃ ۲؎اھ
بحرمیں فرمایا کہ بدائع میں کہا ہے کہ کھانے، پینے، لباس، رہائش اور شب باشی میں شوہر پر مساوات واجب ہے ولوالجی نے بھی یُوں ذکرفرمایا اور حق یہ ہے کہ بے شک یہ اس کا قول ہے جس نے نفقہ میں فقط شوہر کے حال کا اعتبار کیا لیکن مفتی بہ قول میں چونکہ دونوں کا حل معتبر ہے تو اس کے مطابق نفقہ میں مطلقاً مساوات واجب نہیں کیونکہ کبھی دو۲ بیویوں میں سے ایک مالدار اور دوسری فقیر ہوتی ہے تو ان میں برابری لازم نہیں۔
( ۲؎ ردالمحتار باب القسم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۹۸)
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ یقول العبد الضعیف غفرلہ بقی لہ مجملان اخران الاول ان تستوی المرأتان یسار او اعسار ا وح لامحل للتفاضل بینھما بل تجب التسویۃ فی الماکول والمشروب والملبوس والسکنی ایضا کالبیوتۃ مطلقا، والیہ(ف) الاشارۃ بقولہ فلایلزم التسویۃ بینھما مطلقا فی النفقۃ، علی ان مطلقا ناظر الی المنفی دون النفی فیکون محصلہ سلب الاطلاق لا اطلاق السلب فانہ غیرسدید، والثانی ان یراد مایزاد علی النفقۃ من الھدایا والعطایا فلامانع من ایجاب التسویۃ بینھما بل ھو الظاہر نفیا للمیل المنھی عنہ اھ۱؎ماکتبتہ وارجوان یکون صواباان شاء اﷲتعالٰی۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یُوں ہے بندہ ضعیف کہتا ہے کہ اس کے دو محمل اور بھی ہیں ایک یہ کہ دونوں عورتیں امیری اور فقیری میں برابر ہوں تو اس صورت میں ان دونوں کے درمیان نفقہ میں مطلقاً برابری لازم ہے اسی کی طرف اشارہ ہے اس کے اس قول میں کہ ان دونوں کے درمیان نفقہ میں مطلقاً برابری لازم نہیں اس بنیاد پر کہ ''مطلقا'' منفی کی طرف ناظر ہے نہ کہ نفی کی طرف، پس اس کا ثمر سلب اطلاق ہوگانہ کہ اطلاق سلب کیونکہ وہ درست نہیں۔ دوسرایہ کہ مراد وُہ اشیاء ہوں جو اصل نفقہ سے زائد ہیں یعنی تحفے اور ہدیے وغیرہ، تو اب دونوں کے درمیان برابری کو واجب ٹھرانے سے کوئی مانع نہیں بلکہ یہی ظاہر ہے اس میل کی نفی کے لئے جس سے رد کا گیا ہے، میرے حاشیہ کی عبارت ختم ہُوئی اور مجھے امید ہے ان شاء اﷲتعالٰی وہ درست ہوگا۔ اور اﷲسُبحانہ، وتعالٰی خُوب جانتا ہے۔(ت)
(۱؎ جدالممتار حاشیہ ردالمحتار باب القسم حاشیہ نمبر۸۲۱ المجمع السلامی مبارکپور انڈیا ۲ /۴۵۰)
ف: جدالممتارمطبوعہ میں عبارت مختصر ہے خط کشیدہ عبارت مطبوعہ نسخہ میں نہیں ہے۔ نذیراحمد
مسئلہ ۱۰۸: از شہر محلہ ربڑی ٹولہ مسئولہ احسان علی صاحب زردوز ۱۲ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت ہندہ کی چند اولاد یں ہُوئیں ان میں سے صرف ایک بچّہ چند سال کا دائم المریض حیات ہے اس ہندہ کو مرض ایسا سخت لاحق ہے کہ ہر بار سخت تکلیف اور مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے اور مس ہر بار وقت ولادت یہی تجویز کرتی ہے کہ یہ عورت ضرور مرجائے گی مگر شافی مطلق برحق ہربار بعد تکلیف بسیار وخرچ کثیر کے اچھا کردیتا ہے چنانچہ حال میں بعد ولادت وصحت کے ہندہ نے اپنی جان بچانے اور ہر بار غم وصدمہ سے بچنے کے لئے عہد کیا کہ اب میں اپنے زوج سے جماع نہ کروں گی تاکہ اسبابِ نطفہ نہ واقع ہو، اور اپنے زوج سے کہا کہ تم کو صبر نہ آوے تو دوسری شادی کرلو اور جو مقدرت نہ ہوتو مجھے نان و نفقہ بھی نہ دو۔ پس شوہر نے کہا کہ اگر شرع شریف تجھ کو اس امرکی اجازت دے تو مضائقہ نہیں میں صبر کرلُوں اور جو شرع اس عہد کی اجازت نہ دے تومیں اپنے حقوق اور منافع اور تیرے حقوق کو تلف ہرگز نہیں کرسکتا لہذاتحریر فرمائیں کہ شرعاً کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب ایسی صورت میں شوہر ہندہ کے کہنے پر عمل کرسکتا ہے اور دُوسری شادی کرلے اور ہندہ سے جُدا رہے جب تک ہندہ راضی ہو، اور نان نفقہ ہندہ کو بھی ضرور دے اگر ہندہ اس کے یہاں رہے، اور اگر ہندہ اپنا نفقہ ساقط کرے تو اختیار کہ نہ دے جب تک ہندہ پھر از سرِ نو مطالبہ پر نہ آئے، اور اگر ہندہ اپنے والدین کے یہاں چلی جائے اور شوہر کے بُلانے پر نہ آئے تو آپ ہی اس کا نفقہ ساقط ہے جب تک واپس نہ آئے۔ واﷲتعالٰی اعلم