Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
50 - 155
باب القسم

(بیویوں میں باری مقرر کرنا اور حقوق میں مساوات رکھنا)
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم ط
مسئلہ۱۰۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوجہ کو بے وجہ شرعی ایذادینا اورعاریت مساوات دو۲ زوجہ میں نہ کرنا اور دونوں کومکانِ واحد میں جبراً رکھنا جائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب

ہر چند اﷲ تعالٰی  نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی،
الرجال قوامون علی النساء بمافضل بعضھم علٰی بعض وبما انفقوامن اموالھم۱؎۔
مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اﷲتعالٰی  نے ان میں ایک دوسرے پر فضیلت دی اوراس لئے کہ مردوں نے ان پر مال خرچ کئے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۴ /۳۴)
یہاں تک کہ حدیث میں آیا اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم کرتا عورت کو حکم دیتا کہ مرد کو سجدہ کرے مگر عورتوں کو بے وجہ شرعی ایذادینا ہرگز جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ نرمی اور خوش خلقی اور اُن کی بدخوئی پر صبر اور 

اُن کی دلجوئی اورجن باتوں میں مخالفتِ شرع نہیں اُن کی مراعات شارع کو پسند ہے جناب رسالت مآب صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم ازواجِ مطہر ات کی دلجوئی کرتے اور فرماتے :
ان من اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا والطفھم باھلہٖ۱؎۔
بیشک مومنوں میں سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے جو ان میں سے زیادہ حسن اخلاقی والا اور اپنی اہل کے ساتھ زیادہ مہر بان ہے۔(ت)
 (۱؎ شعب الایمان     حدیث ۸۷۱۹    دارالکتب العلمیۃ بیروت         ۶ /۴۱۵)
اور فرماتے ہیں :
خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی۲؎۔
تم میں سب سے بہتر وُہ ہے جو اپنی اہل کے ساتھ زیادہ اچھا برتاؤکرنے والا ہے اور میں اپنی اہل کے ساتھ حسنِ سلوک میں تم سب سے بہتر ہوں۔(ت)
 (۲؎ شعب الایمان ۸۷۱۸         دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۶ /۴۱۵)
اور اﷲتعالٰی  فرماتا ہے : وعاشروھن بالمعروف۳؎۔(اور ان (اپنی بیویوں) کے ساتھ اچّھا برتاؤ کرو۔ت)
 (۳؎ القرآن الکریم      ۴ /۱۹)
امام غزالی احیاء العلوم میں لکھتے ہیں :
واعلم انہ لیس من حسن الخلق معھا کف الاذی عنھا بل احتمال الاذی منھا والحلم عند طیشھا وغضبھا اقتداءً برسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۴؎۔الخ
اور تُوجان لے کہ عورت کے ساتھ حُسنِ خلق یہ ہی نہیں کہ اس کو ایذانہ دے بلکہ اس کی طرف سے اذیتیں برداشت کرنا ہے اور رسولِ اقدس صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اُس (عورت) کے طیش وغضب کے وقت تحمل اختیار کرنا ہے۔(ت)
 (۴؎ احیاء العلوم     الباب الثالث فی آداب المعاشرۃ     المکتبۃ المشہد الحسینی ایران       ۲ /۴۳)
اور جس طرح اﷲتعالٰی  نے مردوں کے حق اُن پر مقرر فرمائے اُن کے حق بھی مردوں پر مقرر کئے
ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف۵؎
 (اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق۔ت)
(۵؎ القرآن الکریم     ۲ /۲۲۸)
ازانجملہ کھلانے پہنانے وغیرہما امور اختیار یہ میں اُنہیں برابر ر رکھنا واجب ہے۔
فی الدرالمختار یجب وظاہر الآیۃ انہ فرض نھران یعدل ای ان لایجوز فیہ ای فی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ وفی الملبوس والماکول والصحبۃ۱؎۔
درمختارمیں ہے واجب ہے اور آیت کا ظاہر یہ ہے کہ عدل کرنا فرض ہے(نہر) یعنی قسم ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی، لباس، کھانے اور صحبت میں برابری قائم رکھے۔(ت)
 (۱؎ درمختار   باب القسم   مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۱۱)
یہاں تک کہ اگر فرق  کرے گا قیامت میں ایک طرف جھکا اٹھے گا، رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:

من کان لہ امرأتان فمال الی احدٰھمادون الاخر ی جاء یوم القیٰمۃ واحد شقیہ مائل۲؎۔
جس کی دو۲ عورتیں ہوں وُہ ان میں سے ایک کی طرف میلان کرے اور دوسری کو نظر انداز کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اُٹھے گا کہ اس کی ایک جانب جھکی ہوگی(ت)
 (۲؎ سُنن ابن کاجہ     باب القسمۃ بین النساء     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱ /۱۲۳)
اور اُنہیں مکانِ واحد میں جبراً رکھنا جائز نہیں بلکہ ہرایک کو مکان علیحدہ کا مطالبہ شوہر سے پہنچتا ہے،
فی الدرالمختار فلکل من زوجتہ مطالبتہ ببیت من دار علٰحدۃ۳؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ دو۲ بیویوں میں سے ہرایک اپنے شوہر سے گھر کا علیحدہ مکان طلب کرسکتی ہے۔واﷲتعالٰی  اعلم۔(ت)
 (۳؎ درمختار         باب النفقۃ        مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۷۱)
مسئلہ  ۱۰۶: کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کی رعایت مساوات دو۲زوجہ میں مرد پر واجب ہے یا نہیں؟ اور اگر ان میں قومِ طوائف میں سے ہوتو کچھ فرق کیا جائے یانہیں؟ بینواتوجروا

الجواب

مرد اپنی دو۲ زوجہ حرّہ کو کھلانے اور پہنانے اور پاس رہنے وغیرہا امور اختیار میں برابر رکھنا واجب ہے اور اس امر میں طوائف وغیر طوائف شریف و رذیل میں کچھ فرق نہیں کہ آیت قسم مطلق ہے۔
فی الدرالمختار یجب وظاہر الاٰیۃ انہ فرض "نہر" ان یعدل ای ان لایجور فیہ ای فی القسم بالسویۃ فی البیتوتۃو فی الملبوس والماکول والصحبۃ۱؎۔
درمختارمیں ہے واجب ہے اورآیت کاظاہر یہ ہے کہ عدل کرنا فرض ہے(نہر) یعنی قسم میں ظلم نہ کرے، بایں صورت کہ شب باشی، لباس، کھانے اور صحبت میں برابر قائم رکھے (ت)
 (۱؎ درمختار         باب القسم        مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۱۱)
یہاں تک کہ اگر فرق کرے گا قیمت کو ایک طرف جھکائے اٹھے گا۔رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کان لہ امرأتان فمال الٰی احدٰھما دُون الاخری جاء یوم القیٰمۃ واحد شقیہ مائل۲؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
جس کی دو۲ بیویاں ہوں ان میں سے ایک کو نظر انداز کرتے ہُوئے دُوسری کی طرف میلان کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اُٹھے گا کہ اس کی ایک جانب جُھکی ہوگی۔اور اُنہیں مکانِ واحد میں جبراً رکھنا جائز نہیں بلکہ ہرایک کو مکان علیحدہ کا مطالبہ شوہر سے پہنچتا ہے،

فی الدرالمختار فلکل من زوجتیہ مطالبتہ ببیت من دار علیحدۃ۳؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔

درمختار میں ہے کہ دو۲ بیویوں میں سے ہرایک اپنے شوہر سے گھر کا علیحدہ مکان طلب کرسکتی ہے





واﷲتعالٰی  اعلم(ت)
 (۲؎ سُنن ابن کاجہ     باب القسمۃ بین النساء     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱ /۱۲۳)
Flag Counter