| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۰۳: از حیدر آباد دکن معرفت پوسٹ ماسٹر مرسلہ حسام الدین صاحب ۲۸ربیع الآخر۱۳۳۶ھ عمرو زید کے خالو ہوتے ہیں اور اُن کا وطن قدیم امیٹھی خطّہ اوّدھ ہے، اُن کے تعلقات ملازمت حیدرآباد میں ہُوئے، زید اصل باشندہ کاکوری ضلع لکھنؤ کا ہے اور اس نے خطّہ متوسطہ میں ملازمت انگریزی اختیار کی۔ تعارف وقرابت سابقہ کی وجہ سے زید کا نکاح عمرو کی دختر کے ساتھ حیدر آبادمیں ہُوا اور کوئی شرط کسی قسم کی مہر و آمد ورفت وغیرہ کی نسبت نہیں ہوئی، بعد نکاح عمرو نے اپنی دختر کوزیدکے ساتھ متعدد مرتبہ زید کی جائے ملازمت مختلف اضلاع خطّہ متوسط پر اس کے ہمرا روانہ کردیا حتی کہ زید کی صلب سے ہندہ دختر عمرو کے تین اولادیں ہُوئیں، نکاح کے چھ سال بعد مسمّاۃ ہندہ اور خود والدہندہ کویہ عذر ہُوا کہ زید کے ساتھ سفردُور دراز جائے ملازمت زید پر جانا منظور نہیں کیونکہ اُن کابیان ہے کہ زید کوشرعاً ایسا حق نہیں کہ وُہ ہندہ کو سفر میں اپنے ساتھ لے جائے مطالبہ مہر باعث انکار سفر نہیں قابلِ دریافت یہ امر ہے کہ ایسی حالت میں زید کو اپنی زوجہ ہندہ کو اپنی جائے ملازمت وسکونت پر لے جانے کا شرعاً حق ہے کہ نہیں، اگرہندہ عذر اذیت وتکلیف دہی پر جانے سے انکار کرےاور اس عذر کو ثابت نہ کرسکے یا ثبوت پیش کردہ اگر سمجھا جائے تو زید بعد ادخال ضمانت معتبر ہندہ کو اپنے ساتھ لے جانے کا مجاز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب اصل حکم ہے مرد جہاں رہے اپنی عورت کو اپنے ساتھ رکھے۔
قال اﷲ تعالٰی : واسکنوھن من حیث سکنتم۱ ؎۔
عورتوں کووہیں ٹھہراؤ جہاں تم خود ٹہرو۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶۵ /۶ )
اور ساتھی ہی یہ حکم ہے کہ عورت کو ضرر نہ پہنچائے، اس پر تنگی نہ کرے
قال اﷲتعالٰی : ولاتضارھن لتضیقوا علیھن ۱۔
انہیں ضرر نہ پہنچاؤ کہ تم ان پر تنگی کرو (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۶۵ /۶ )
جبکہ مہر معجل نہ تھا یعنی پیش از رخصت دینا قرار نہ پایا تھا تو عورت کو اپنے نفس کے روکنے کا کوئی اختیار نہیں، نہ اُس کا باپ اُسے شوہر سے جُدا کرسکتا ہے، ہاں اگر شوہر کی طرف سے عورت کو ضرر سانی وبلاوجہ شرعی ایذادہی بروجہ کافی ثابت ہو تو اُس کا بندوبست کیا جائے اگر چہ کچہری کے ذریعہ سے ضمانت داخل کرنے سے ظاہراً یہ سمجھاجاتا ہے کہ زید کوئی ایسا کفیل معتمد پیش کرے گا جو زید کو ایذارسانی سے مانع ہوسکے اور عمرو وہندہ کو اس پراعتبار ہویا یہ معنٰی ہیں کہ کوئی ضامن دیاجائےگا۔ کہ اگر زید ایذا رسانی کرے تو اتنا روپیہ جرمانہ کا بھرے اور وُہ نہ دے تو ضامن دے گا۔ اگرمعنی اوّل مراد ہیں تو صحیح وقابلِ قبول ہیں اور معنی دوم مراد ہیں تو یہ شرعاً ناجائز باطل ہے مالی جرمانہ نہیں ہوسکتالانہ منسوخ والعمل بالمنسوخ حرام(کیونکہ یہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا حرام ہے۔ت) اور اﷲتعالٰی خوب جانتا ہے۔
مسئلہ۱۰۴: ازقادری گنج ضلع بیربھوم ملک بنگالہ مرسلہ ظہورالحسن صاحب ۲۳جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ جماع کے وقت شوہر کا اپنی بی بی کی فرج دیکھنا تاکہ لذّتِ پور ی پوری حاصل ہو یا شوہر کا اپنی بی بی کی شرمگاہ کو مس کرنا اور عورت کا اپنے شوہر کے آلہ تناسل کو مس کرنا تاکہ آلہ تناسل ایستادہ ہوایسا کرنا جائز ہے یانہیں؟q
الجواب زوجین کاوقتِ جماع ایک دُوسرے کی شرمگاہ کو مس کرنا بلاشبہ جائز بلکہ بہ نیتِ حسنہ مستحق وموجب اجر ہے کماروی عن نفس سیّدنا الامام الاعظم رضی تعالٰی عنہ(جیسا کہ خود ہمارے سردارامام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا گیاہے۔ت) مگر اُس وقت رؤیتِ فرج سے حدیث میں ممانعت فرمائی اور فرمایا:فانہ یورث العمی وہ نابینائی کا سبب ہوتاہے۔ علمائے نے فرمایا کہ محتمل ہے کہ اس کے اندھے ہونے کاسبب ہو یا وُہ اولاد اندھی ہوجو اس جماع سے پیدا ہویا معاذاﷲدل کا اندھا ہونا کہ سب سے بدتر ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم