Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
48 - 155
بابُ المُعَاشِرَۃ

(زوجین کے باہمی برتاؤکابیان)
مسئلہ۱۰۱تا۱۰۲: از مسجد جامع میرام پور ضلع ہوگلی مرسلہ سراج الحق صاحب امام جامع مذکور وشیخ بدّو ودربان چٹکل ۲۷ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ماقولکم رحمکم اﷲفی ھذہ المسألۃ ھل یجوز لزید عند الاختلاط ان یقبل خدمنکوحتہ وثد یھاوان یمص ثدیھا اوان یدخل ثدیھا فی فمہ شھوۃ و تلذذ ا سواءکانت ذات لبن ام لا، وسواءکانت مراھقۃ ام بالغۃ، فبینواحکم کل شق منھا بالادلۃ و التفاصیل ۔

کیا ارشاد ہے آپ کا اﷲ تعالٰی  آپ پر رحم فرمائے اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیازید کے لئے بوقتِ صحبت اپنی بیوی کے رخسار اور پستان کا بوسہ لینا یا پستان کو مُنہ میں دبانا یا شہوت وتلذّذ کے طور پرپستان کو مُنہ میں داخل کرناجائز ہے؟ چاہے اس کی بیوی دُودھ والی ہو یا نہ ہو، چاہے قریب البلوغ ہو یانابالغہ، ہر شق کا جواب دلائل وتفصیلات کے ساتھ بیان فرمائیں۔(ت)
الجواب 

یجوز للرجل التمتع بعرسہ کیف ماشاء من رأسھا الٰی قدمھا الامانھی اﷲتعالٰی عنہ، وکل ماذکر فی السؤال لانھی عنہ، اماالتقبیل فمسنون مستحب یؤجر علیہ ان کان بنیۃ صالحۃ واما مص ثدیھا فکذٰلک ان لم تکن ذات لبن، وان کانت واحترس من دخول اللبن حلقہ فلاباس بہ، وان شرب شیئا منہ قصداً فھو حرام وان کانت غزیرۃ اللبن وخشی ان لومص ثدیھا یدخل اللبن فی حلقہ فالمص مکروۃ قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن رتع حول الحمٰی اوشک ان یقع فیہ۱؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مرد کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیوی کے سر سے لے کر پاؤں تک جیسے چاہے لُطف اندوز ہو سوائے اس کے جس سے اﷲتعالٰی  نے منع فرمایا ہے، اور سوال مذکور امور میں سے کسی سے منع نہیں کیا گیا۔ بوسہ تومسنون ومستحب ہےاور اگرت بنیّت صالحہ ہو تو باعثِ اجروثواب ہے۔ رہا پستان کو مُنہ میں دبانا، تو اس کا حکم بھی ایسا ہی ہے جب کہ بیوی دُودھ والی نہ ہوِ اور اگر وُہ دُودھ والی ہے اور مرد اس بات کا لحاظ رکھے کہ دودھ کا کوئی قطرہ اس کے حلق میں داخل نہ ہونے پائے تو بھی حرج نہیں، اور اگر اُس دُودھ میں سے جان بُوجھ کر کچھ پیا تو یہ پینا حرام ہے۔ اور اگر وُہ زیادہ دُودھ والی ہے اور اُسے ڈر ہے کہ پستان منہ میں لے گا تودُودھ حلق میں داخل ہوگا تو اس صورت میں پستان کو منہ میں لینا مکروہ ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چراگاہ کے ارد گرد(جانور) چرائے تو قریب ہے کہ وہ (جانور) چراگاہ  میں جاپڑے۔اوراﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  خُوب جانتا ہے۔
 (۱؎ شرح السنۃ للامام البغوی         باب مضاجعۃ الحائض    الملک الاسلامی بیروت     ۲ /۱۳۰)
السوال الثانی

وکم مدۃ یجوزلہ السفر حال کونہ مجرداً عنھا۔
دوسرا سوال 

بیوی کو چھوڑکرسفر پرجانے والے کے لئے کتنی مدّت تک سفر میں رہنا جائز ہے :
الجواب 

السفر ان کان بضرورۃ تقدر بقدرہا ولایعین لہ حد وقدامر صلّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بتعجیل القفول بعد قضاء الحاجۃ والسفر قطعۃ من العذاب یمنع احدکم طعامہ وشرابہ ونومہ فاذا قضی احدکم نھبہ فلیعجل الٰی اھلہ۱؎اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امااذاکان بلاضرورۃ ولم یستصحبھا معہ فلایمسکن اکثر من اربعۃ اشھر بذٰلک امر امیر المؤمنین عمر الفاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ وفی الحدیث قصّۃ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
سفر اگر ضرورت کی وجہ سے ہوتو بقدر ضرورت ہوگا اس کی کوئی حد مقرر نہیں۔ تحقیق حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے ضرورت پُوری ہوجانے کے بعد جلدی واپسی کاحکم دیا ہے اور سفر عذاب کا ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی ایک کو اس کھانے پینے اور سونے سے روک  دیتا ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی اپنی حاجت پُوری کرلے تو جلدی گھرلوٹے، یا جیسا کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا۔ لیکن اگر سفر بلاضرورت ہو اور بیوی کو ساتھ نہ لے کر جائے تو چار ۴ماہ سے زیادہ سفر میں نہ ٹھہرے۔ امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی  عنہ نے اسی کاحکم فرمایا،حدیث میں قصّہ مذکور ہے۔ اور اﷲ سُبحانہ وتعالٰی  خُوب جانتا ہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری         کتاب الاطعمہ    باب ذکر الطعام    ۲ /۸۱۶)

(صحیح بخاری      کتاب الجہاد         باب الشرعۃفی السیر   باب ذکر الطعام   ۱ /۴۲۱)
Flag Counter