| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۹۸: از نذر محمد خاں صاحب امام جامع مسجد مُلّاجی صاحب ڈاکخانہ خاص لگانہ ضلع رہتک۔ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کسی ہندوکی لڑکی نابالغ بغیر اجازت والی کے کہیں سے لے آوے اور بغیر مسلمان کئے نکاح پڑھادیوے جائز ہے یاکہ نہیں، اور اسی طرح مسلمان نابالغ لڑکی سے بغیراجازت والی کے دُوسرا کوئی نکاح پڑھادیوے تو پھر والی اس کو توڑ سکتا ہے یا کہ نہیں اور پڑھانے والے پرکیا الزام ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب نابالغہ کانکاح بے اجازت ولی نافذ نہیں ہوسکتا، ولی اس کو فسخ کرسکتا ہے، اور ہندو کی لڑکی سمجھ وال کہ اسلام وکفر جانتی ہے اگر کُفر اختیارکرے تو خود مشرک ہے، اور سمجھ وال نہ ہو تو اپنے باپ کے اتباع سے مشرک ہے، بہر حال اس سے نکاح باطل ہے اگرچہ باجازت ولی ہو، ہاں اگر سمجھ دارہونے کی حالت میں ایمان لے آئے اس کے بعد باجازت اُس کے کسی ولی مسلم ورنہ اذنِ حاکمِ اسلام سے نکاح کیا جائے تو صحیح ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۹: ازلکھنؤ محلہ گڈ ھیا کمال جمال مسئولہ مولوی عابد حسین صاحب عباسوی ۱۴محرم ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رافضیہ عورت سے نکاح شرعا جائز ہے یا ناجائز، نیز اگر دھوکہ سے کوئی شخص کسی رافضیہ عورت سے نکاح کرے مثلاً زیدکو یہ نہیں معلوم ہے کہ عورت کا مذہب سُنّی یا شیعہ، اور زید سے پوشیدہ بھی رکھا جائے اور بعد کومعلوم ہوجائے اور منکوحہ توبہ بھی نہ کرے تو ایسی میں کیا کرنا چاہئے۔بینواتوجروا
الجواب رافضیہ سے نکاح باطل محض ہے اس وقت معلوم ہو یا نہ ہو بہرحال اس پر فرض ہے کہ اُس سے جُدا ہوجائے وہ محض اجنبیہ ہے اصلاً قابلیت نکاح نہیں رکھتی جب تک اسلام نہ لائے۔
عالمگیریہ میں ہے :
وکذٰلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد۱؎۔واﷲتعالی اعلم۔
اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح کسی سے جائز نہیں۔اوراﷲسبحٰنہ وتعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ باب المحرمات بالشر ک نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۸۲)
مسئلہ ۱۰۰: از بنارس کچی باغ مسئولہ مولوی محمد ابراہیم صاحب شب ۵ذی القعدہ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک ہندوقوم کھٹک نے اپنی عورت کو مذہب کے موافق طلاق دے دی، تخمیناً چار ماہ کے بعد عورت مذکورہ مسلمان ہوئے اپنی خوشی ورضامندی سے، اور جس جلسے میں مسلمان ہوئی اسی جلسہ میں نکاح بھی ہُوا، نکاح کیسا ہُوا اور ا س میں عدّت کی ضرورت ہے یانہیں ؟بینواتوجروا
الجواب صورت مستفسرہ میں نکاح صحیح ہوگیا، کافر کے لئے عدّت تو اصلاً نہیں۔
ردالمحتار میں ہے :
لاعدۃ من الکافر عند الامام اصلا فلاتثبت الرجعۃ للزوج بمجردطلاقھا وقیل تجب والا صح الاول کما فی القھستانی عن الکرمانی ومثلہ فی العنایۃ وذکر فی الفتح انہ ولی۲؎۔
امام صاحب رضی اﷲتعالٰی عنہ کے نزدیک کافر کے لئے اصلاً عدّت نہیں۔ محض اُس عورت طلاق دینے سے شوہر کے لئے رجوع ثابت نہ ہوگا، اور کہا گیا ہے کہ عدّت واجب ہے اور اصح قول اوّل ہے جیسا کہ قہستانی میں کرمانی سے ہے اور اسی کی مثل عنایہ میں ہے، فتح میں مذکور ہے کہ یہی اولٰی ہے۔(ت)
اورجب وُہ طلاق دے چُکا اسے عورت سے کُچھ علاقہ نہ رہا کہ بعد اسلامِ زن اُس کے اسلامی انکار کا انتظار کیا جائے اور یہاں بوجہ عد م حکومت اسلام تین حیض گزرنے تک اُس کے اسلام نہ لانے کو قائم مقام انکار ٹھرا کر حکمِ فرقت دیاجائے،
(۲؎ ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۸۶)
درمختار و ردالمحتار میں ہے :
لواسلم احد المجوسیین فی دارالحرب وملحق لھا لم تبن حتی تحیض ثلاثا قبل اسلام الاخر اقامۃ لشرط الفرقۃ(وھو مضی ھذہ المدۃ ش مقام السبب وھوالاباء لان الاباء لایعرف الا بالعرض وقد عدم العرض لانعدام الولایۃ ومست الحاجۃ الی التفریق لان المشرک لایصلح للمسلم واقامۃ الشرط عند تعذرالعلۃ جائز، فاذا مضت ھذہ المدۃ صار مضیہا بمنزلۃ تفریق القاضی بدائع ش) ولیست بعدۃ لدخول غیر المدخول بھا۱؎۔
اگر مجوسی زوجین میں سے کوئی ایک دارالحرب میں یا ایسی جگہ مسلمان ہوجائے جو دارالحرب کے ساتھ ملحق ہے تو بیوی نکاح سے خارج نہ ہوگی جب کہ دوسرے کے اسلام قبول کرنے سے پہلے اس کو تین حیض نہ آجائیں شرط فرقت یعنی اس مدّت کے گزرنے کوسبب فرقت یعنی انکار اسلام کا پتا تو عرضِ اسلام (اسلام پیش کرنے) سے چلے گا اور دارالحرب میں عدمِ ولایت کی وجہ سے عرض اسلام معدوم ہے حالانکہ تفریق کی ضرورت ہے کیونکہ مشرک ومسلم کانکاح برقرار نہیں رہ سکتا اور تعذرعلّت کے وقت شرط کو اس کے قائم مقام رکھنا جائز ہے، چنانچہ جب یہ مدّت گزرجائے تو اس کا گزرنا تفریق قاضی کے قائم مقام ہوجائے گابدائع ش) اور یہ مدّت عدّت نہیں کیونکہ غیر مدخولہ عورت بھی اس حکم میں داخل ہے (حالانکہ غیرمدخولہ پر عدّت نہیں) ۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۔۲۰۸) ( ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۹۰)
یہاں نفسِ طلاق سے فرقت پہلے ہی ہوچکی اور عدت ہے نہیں لہذا انتظار کی اصلاً حاجت نہیں، عورت اگر چہ طلاق ہوتے ہی فوراً مسلمان ہوجائے مسلمان ہوتے ہیں فوراً نکاح کرسکتی ہے۔
ہدایہ میں ہے:
لابی حنیفۃ انھا ای العدہ اثر النکاح المتقدم وجبت اظہار ا لخطرہ ولاخطر لملک الحربیّ ولھذا لاتجب علی المسبّیۃ۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کی دلیل یہ ہے کہ عدّت پہلے نکاح کا اثر ہے جواس کے احترام کے اظہار کے لئے واجب ہوئی اور حربی کی ملک کاکوئی احترام نہیں اور اسی لئے اُس عورت پرعدت واجب نہیں جو گرفتار کرکے لائی گئی ہو۔اور اﷲتعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت)
(۲؎ ہدایہ باب نکاح اہل الشرک المکتبۃ العربیہ، کراچی ۲ /۳۲۸)