مسئلہ ۹۵: از شاہجہان پور محلہ بارہ دری مرسلہ عبداﷲخاں صاحب ۵رجب المرجب ۱۳۳۶ھ زید نے قادیانی مذہب اختیار کرلیا اور اس کی عورت بدستور اپنے اصلی مذہب حنفی پر رہی گو زید نے مذہب قادیانی گواراکرنے میں اپنی عورت کر مجبور نہیں کیا لہذا ایسی حالت میں کہ جب مابین زن وشوہر کے اختلاف مذہب ہوگیا ازرُوئے حکم شرع شریف کے بحالت طرزِ معاشرت درمیان زن وشوہر جائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب صورتِ مستفسرہ میں عورت فوراًنکاح سے نکل گئی اُن میں باہم کوئی علاقہ نہ رہا مرد محض بیگانہ ہوگیا اب اس قربت زنائے خالص ہوگی۔ تنویر الابصار میں ہے : وارتد اداحدھما فسخ عاجل۱؎۔ وا ﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ خاوند بیوی میں سے کسی ایک کے مرتد ہوجانے سے اُسی وقت نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۰)
مسئلہ۹۶: از ریاست بھوپال کچھ بنگلہ چیف سکریٹری صاحب مرسلہ مجتبٰی علی خاں صاحب ۱۰رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ ایک عورت قوم نصارٰی یامجوس ہے اور وُہ عورت مسلمان نہیں ہُوئی ہے وُہ اپنے مذہب پر قائم ہے، ایک شخص کہ وہ مسلمان ہے اور وہ شخص اس کے ساتھ عقد کرنا چاہتا ہے، اوروُہ عورت مسلمان نہیں ہوئی، تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے یامسلمان ہووے تو جائزہے؟ بینواتوجروا
الجواب عورت مجوسیہ سے مسلمان نکاح نہیں کرسکتا، اگر کرے گا باطل، یوں ہی نصرانیہ سے ایک قول پر اور دوسرے قول پر نصرانیہ سے نکاح اگر چہ ہوجائے گا مگر ممنوع وگناہ ہے، پہلے قول پر اس سے بچنا فرض ہے اور دوسرے قول پرواجب ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۷: از خیر آباد ڈاکخانہ خاص محلہ شیخ سرائے ضلع سیتاپور مرسلہ امتیاز علی صاحب ۹شوال۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ دونوں مسلمان حنفی المذہب زن وشوہر ہیں ہندہ سیّدہ ہے مگر جاہل بیوقوف تند مزاج ہے اور زید شیخ کچھ لکھا پڑھا اور سخت مزاج غصّہ ور ہے اور ہر دو معزز اور ایسے خاندان کے ہیں جو اپنے مذہب کے پابند ومطیع اور مسائل شریعت سے واقف ہیں جس میں ایک دوسرے کے حقوق کے بھی مسائل شامل ہیں، زید چاہتا ہے کہ ہندہ پر ورشِ اطفال وخدمتِ خود وخاطر مدارات اعزا واحباب وامورِ خانہ داری ومہمان نوازی تابہ مقدور کرے، اگر کوئی کام زید کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے تو زید ہندہ سے سختی سے پیش آتا ہے اور اکثرسخت مگرمہذّب الفاظ کہتا ہے ایسے کاموں میں وسط رمضان المبارک میں زید ہندہ سے خفاہوا اور ہندہ سےکہا کہ میں نے تم کو بارہا نصیحت کی اور پھر اپنے اور تمہارے گھر والوں میں فضیحت کی مگر کُچھ سُود مند نہ ہُوا اب صرف اذیت کا درجہ باقی ہے جس کو اگر میں چاہوں تو مجھ کو پہنچانے کاحق ہے اور یہ شرعی احکام ہیں مگر میں بوجہ شرافت اس کو پسند نہیں کرتا ہوں اگر تم کو یہ پسند نہیں ہے اور نباہ ہونا مشکل ہے تو مجھ سے کہہ دو کہ میں تم کو آزاد کردُوں یعنی طلاق دے دوں کیونکہ شریعت کی یہ تعلیم ہے بعد کو تم اپنا کرلینا جیسا تم کو اچھا معلوم ہو میں اپنا کرلوں گا اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ اس پر ہندہ نے غصّہ میں آکر کہا کہ''چُولہے میں جائے ایسی شریعت''یا ''مَری پڑے ایسی شریعت پر'' زید کو فقرہ اوّل یاد ہے کہ ہندہ نے کہا تھا، ہندہ اس سے انکار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ میں نے فقرہ نمبر۲ کہا تھا، اور کہتی ہےکہ مجھ سے غصّہ میں روز مہر کو بول چال کے مطابق یہ الفاظ نکل گئے اس سے میری غرض نیت اسلام سے خارج ہونے کی نہ تھی نہ تحقیر شریعت، لہذا مفصلہ ذیل امور کا جواب برائے خدا و رسول بحوالہ کتب جلد مرحمت فرمائے: (۱)کیا فقرہ مذکورہ بالا سے ہندہ مرتد ہوگئی اور اسلام سے خارج ہوئی؟ (۲) اگر مرتد ہوگئی تو کیا نکاح فسخ ہوگیا اور ہندہ درجہ طلاق میں گئی؟ (۳) کیا اب زید بلا طلاق دئے ہُوئے ہندہ سے تعلق ترک کرسکتا ہے اورکوئی مواخذہ اس سے نہ ہوگا؟ (۴) کیا بحالت مرتد ہونے کے اور نکاح فسخ ہونے پر مہر سابقہ کلیۃً یا اس کا کوئی جُز اس پر جواب الادا ہے یا بالکل سوخت ؟ (۵) کیا ایسی صورت میں ہندہ بعد تجدید ایمان بلا اجازت زید دوسرا نکاح کرسکتی ہے؟ (۶) کیا ہندہ کا نفقہ ایسی صورت میں زید پرواجب الادا ہے؟ (۷) اگر ہندہ نے تجدیدِ ایمان کرلیا تو کیا زید وہندہ باہمدگر تجدید نکاح پر شرعاً مجبور ہیں اور اگر نہ کریں تو کوئی مواخذہ تونہ ہوگا؟ (۸) صورتِ حال میں اگر زید تجدیدِ نکاح پر تیار ہوتو مہر سابقہ تعداد پر معیّن ہوگا یا اب تعداد جدید فریقین کی رضامندی پر معیّن ہوگی۔ (۹) صورت حال میں کیا ہندہ زید کی مرضی کے موافق کم مہر پر مجبور کی جائےگی اورتعداد مہرکم سے کم کیا ہوسکتی ہے؟
الجواب ہندہ نے پہلا فقرہ کہا ہو خواہ دوسرا، ہرطرح اس کاایمان جاتارہا کہ اس نے شرع مطہر کی توہین کیِ مگر ہندہ نکاح سے نہ نکلی، نہ ہرگز اُسے روا ہے کہ بعد اسلام کسی دوسرے سے نکاح کرلے لان الفتوی علٰی روایۃ النوادرلاجل فسادالزمان کما بیّنّاۃ فی فتاوٰنا(کیونکہ فساد زمانہ کی وجہ سے فتوٰی نوادر کی روایت پر ہے جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ت) ہاں بعداسلام زید سے تجدید نکاح پر مجبور کی جائے گی احتیاطا لاصل المذہب(احتیاط کے طور پر واسطے اصل مذہب کے۔ت) زید اگر اُس سے ترکِ تعلق چاہے تو طلاق دے، ہندہ کا نفقہ زید پر نہیں جب تک اسلام نہ لائے کہ وُہ اپنے فعل سے زید پر حرام ہوگئی ہے ولانفقۃ لمرتدۃ(مرتدہ کے لئے کوئی نفقہ نہیں۔ت) مگر مرتدہ ہونے سے مہرِ مدخولہ ساقط نہیں ہوتا تمام وکمال بدستور زید پر واجب ہے، تجدید نکاح میں مہرجدید برضائے فریقین معیّن ہونا یا پہلی تعداد کا لحاظ کچھ ضرور نہیں بلکہ ہندہ سب سے کم مہر پر مجبور کی جاسکتی ہے جس طرح نکاح پر مجبور کی جائےگی۔
درمختار میں ہے :
تجبر علی الاسلام وعلی تجدید النکاح زجرا لھا بمھر یسیر کدینار وعلیہ الفتوٰی۱؎۔
اسلام پر مجبورکی جائے گی اور بطور زجر کمترین مہر مثلاً ایک دینار کے بدلے تجدید نکاح پر مجبور کی جائے گی اور اسی پر فتوٰی ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۰)
ردالمحتار میں ہے :
فلکل قاض ان یجددہ بمھریسیر ولو بدینار رضیت ام لا ۲؎۔
یہ قاضی کو اختیار ہے کہ وہ اس عورت سے کمترین مہر کے عوض تجدیدِ نکاح کرائے اگر چہ ایک دینار ہوچاہے وُہ عورت اس پر راضی ہویانہ ہو۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۹۲)
مہر کی اقل مقدار دس۱۰درم ہے کہ یہاں کے دو۲روپے تیرہ آنے سے کُچھ کم ہے یعنی ۱۲/۹-۳/۵پائی۔واﷲتعالٰی اعلم۔