Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
45 - 155
مسئلہ۹۲تا ۹۳: مسئولہ عبد الرحیم خاں     یکم رجب ۱۳۲۹ھ 

(۱) شادی کے قبل جس کو چھڑھاواکہتے ہیں جو کہ دُلہن کو کُچھ زیورات وکپڑا وغیرہ پہنایا جاتا ہے وہ کیسا ہے؟

(۲) جس کو لگن کہتے ہیں ایک پیتل کی تھالی ہوتی جس میں کچھ روپیہ کپڑا وغیرہ دُلہن کی طرف سے رکھ کر دُولہا کے مکان پر آتا ہے یہ جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس کامالک کون ہے؟

الجواب

(۱) جائز ہے پھر اگر اس سے مقصود دُلہن کومالک کردینا ہوتا ہو تو بعد قبضہ دُلہن مالک ہوجائے گی ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملک رہے گا۔ واﷲتعالٰی  اعلم

(۲) جائز ہے اور دُولہا بعد قبضہ اس کا مالک ہوجاتا ہے کہ اس میں یہی عرف عام ہے اور گہنے میں رواج مختلف ۔ واﷲتعالٰی  اعلم
مسئلہ ۹۴: از بلہاری احاطہ مدراس مرسلہ محمد نصیرالدین صاحب قادری حنفی ۲۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

زید بچپن سے اپنے باپ کے ساتھ ایک ہی دکان میں بیوپار کرتا رہا(یعنی اپنے باپ کے ماتحت تھا اور کام بھی کرتا تھا) اور اپنے باپ ہی کے گھر میں تھا مذکور زید کی شادی باپ عمرو نے ہی کیا اب زید نے انتقال کیا مرحوم زید کی عورت اپنا جہیز اورا پنا مال وزر  اور وُہ مال جو نسبت کے وقت اس کو دئے ہیں (عرف میں جسکوچڑھاواکہتے ہیں) اوراپنامہر اپنے خسر سے طلب کرسکتی ہے یا نہیں اور اس کی عدّت میں نان و نفقہ کس کے ذمّہ ہے؟بینواتوجروا
الجواب

جہیز تو سب عورت کا ہے اس میں کسی کا حق نہیں۔
ردالمحتار میں ہے :
کُل احد یعلم ان الجھاز ملک المرأۃ لاحق لاحدٍ فیہ۱ ؎۔
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا (ت)

اور چڑھاوے کا اگر عورت کو مالک کردیا گیا تھا خواہ صراحۃً کہہ دی تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالک کیا ی وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیک ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وُہ بھی عورت ہی کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی مِلک ہے باقی مال ورزجو اپنے باپ کے یہاں سے لائی یا شوہر یاشوہرکے باپ نے بطور تملیک اُس کو دیا یعنی ہبہ کرکے قبضہ دے دیا وہ بھی عورت ہی کی مِلک ہے اور اگر گھر کے خرچ کے لئے دیا اور مالک اس کا ذاتی مال ہو  اُس سے وصول کرے شوہر کے باپ پر دعوٰی نہیں کرسکتی جب تک اُس نے کفالت نہ کرلی ہو عدّتِ طلاق کا نفقہ ہوتا ہے عدتِ موت کا نفقہ ہی نہیں جس کا وُہ کسی سے مطالبہ کرسکے اپنے پاس سے کھائے، واﷲ تعالٰی  اعلم ۔
 (۱؎ ردالمحتار     باب المہر     داراحیاء التراث العربی بیروت      ۲ /۳۶۸ و ۶۵۳)
Flag Counter