| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۸۹: ۲۵ربیع الآخر شریف۱۳۲۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی جس وقت شادی ہُوئی توا س کے والدین حسبِ دستور جوڑے زیور وغیرہ چڑھایا اور بعد نکاح ہونے کے لڑکی کے والدین نے کچھ زیور اور جوڑے وغیرہ جہیز میں دیا بعدہ، کُچھ زیور نکاح کے بعد بنوادیا زید نے، اور کچھ کپڑا وغیرہ بھی علاوہ معمولی کپڑے کے، اور اس عورت نے وقت مرنے اپنے شوہر کے اور اب تک مہر بھی معاف نہیں کیا بلکہ مرتے وقت اُس کے پاس بھی نہیں گئی اور زید کے نام کچھ جائداد وغیرہ نہیں ہے، اس صورت میں اُس مال کا مالک کون ہوگا اور مہر کا ادا کرنا کسی کے ذمّے عائد ہوگا یا نہیں، اگر عائد ہوگا تو کس کے ذمّے ہوگا؟
الجواب جو کُچھ زیور، کپڑا، برتن وغیرہ عورت کو جہیز میں ملاتھا اس کی مالک خاص عورت ہے اور جو کچھ چڑھاوا شوہر کے یہاں سے گیا تھا اس میں رواج کو دیکھا جائے گا، اگر رواج یہ ہوکہ عورت ہی اس کی مالک سمجھی جاتی ہے تو وُہ بھی عورت کی مِلک ہوگیا، اور اگر عورت مالک نہیں سمجھی جاتی ہے تو وہ جس نے چڑھایا تھا اُسی کی مِلک ہے خواہ والدِ شوہر ہو یا والدہ یا خود شوہر۔ اور جو زیور زید نے بعد نکاح بنوایا اگر عورت کو تملیک کردی تھی یعنی یہ کہہ دیا تھا کہ میں نے یہ زیور تجھے دے ڈالا تجھے اس کا مالک کردیا اور قبضہ عورت کا ہوگیا تو یہ زیور بھی مِلکِ زن ہوگیا، اور اگر کہا کہ تجھے پہننے کو دیا تو شوہر کی مِلک رہا۔ اور اگر کچھ نہ کہا تو رواج دیکھا جائے گا، اسی طرح زیور بنادینے کو اگرعورت کی تملیک سمجھتے ہیں تو بعد قبضہ عورت مالک ہوگی ورنہ مِلکِ شوہر پر رہا،عورت کا مہر ذمہ شوہر ہے، اگر شوہر کاکچھ مال مثلاً یہی زیور کہ اس نے بنادیا تھا اور عورت کی مِلک اس میں ثابت نہ ہوئی تھی، یا اور جو چیز مِلکِ شوہر پالے اُس سے وصول کرلے، اگر مِلک شوہر کُچھ نہ ملے تو شوہر کے والدین وغیرہما سے کچھ مطالبہ کسی وقت نہیں کرسکتی جبکہ انہوں نے مہرکی ضمانت نہ کرلی ہو اُس کامعاملہ عاقبت پر رہا اورافضل یہ ہے کہ شوہر کو معاف کردے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۹۰: از ملک برہما شہر اکیاب تھانہ منگڈوچ پوسٹ آفس ناکپورابازار موضع رامپور بیل مسئولہ ناظرعلی صاحب دادوستد معتادومعروف کہ در مصالح انتظام مناکحت ومصاہرت مروج ومعروف ست ازروئے شرع شریف جائز است یا نہ، اگر چیزے ونقدے بنا بر عرف دیار خود از خاطب وناکح گرفتہ مع شود خواہ بشرط باشد بغیر چنانکہ دردیار بنگالہ وبرہمااز قدیم الایام دستور است کہ از خطاب وناکح قبل عقد نکاح بطور ساچق لوازمہ شادی ونکاح کہ مراد ازبرگ تنبول وپوپل وجغرات وشکر وغیر ذلک باشد وخرچہ ضیافت احباب طرفین می گویند کہ باہں طور گرفتین جائز نیست زیر اکہ رشوت ست ودراقسام رشوت داخل پس قولِ ایشاں صحیح ست یانہ۔ بینوابسند الکتاب توجروامن اﷲالوہاب فی یوم الجزاء والحساب۔
عرف وعادت کے مطابق دینا اور لینا جو کہ شادی بیاہ کے انتظامی مصالح کے لئے مروج ومانوس ہے شرع شریف کی رُو سے جائز ہے یا نہیں، اگرکوئی چیز یا نقدی اپنے علاقے کے رواج کے مطابق خاطب(پیغامِ نکاح دینے والا) اور ناکح سے لی جائے چاہے مشروط ہو یا غیر مشروط، جیسا کہ بنگال اور برہما کے علاقوں میں زمانہ قدیم سے دستور چلاآرہا ہے کہ عقد نکاح سے پہلے خاطب وناکح سے شادی اور نکاح کے لئے ضروری سامان کے طور پر لیتے ہین جس سے ان کے مراد پان کے پتّے، سپاری، چھالیہ، دہی، شکّر، اورفریقین کے احباب کی دعوت کاخرچہ ہوتا ہے، کیا یہ جائز ہے یا ناجائز، بنگال وبرہما کے بعض علماء کہتے ہیں کہ اس طرح لینا جائز نہیں کیونکہ یہ رشوت ہے اور رشوت کی رقموں میں داخل ہے، کیا ان کا قول صحیح ہے یا نہیں؟ بحوالہ کتا ب بیان فرمائیں جزاء وحساب کے روز بہت عطا فرمانے والے معبود سے اجر پائیں۔ (ت)
الجواب رشوت آنست کہ دربعض اقوام اراذل شائع ست کہ دختر وخواہر خودرا بزنی ند ہند تا چیزے بمعاوضہ از خاطب برائے خود نگیرندونیز آنست کہ کسے مولیہ خود را بزنی دادہ باشد بشوئی نسپرد تا چیزے برائے خود نگیر وفی البزازیۃ الاخ ابٰی ان یزوج الاخت الا ان یدفع الیہ کذا فدفع لہ ان یاخذہ قائما او ھا لکا لانہ رشوۃ ۱؎اھ
رشوت وُہ ہے جو بعض قوموں میں رائج ہے کہ اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ کسی سے اس وقت تک نہیں کرتے جب تک خاطب سے اپنے لئے کوئی چیز حاصل نہ کرلیں، نیز رشوت وُہ ہے کہ کوئی شخص اپنے زیر ولایت لڑکی کا رشتہ تو کردے مگر اپنے لئے کچھ لئے بغیر وہ لڑکی شوہر کے حوالے نہ کرے۔ بزازیہ میں ہے کہ بھائی نے اپنی بہن کی شادی کرنے سے اس وقت تک انکارکیا جب تک کہ اس کو کُچھ دیا نہ جائے چنانچہ اس کو کُچھ دے دیا گیا تو دینے والے کو یہ حق حاصل ہے کہ وُہ اس بھائی سے واپس لے چاہے وُہ دی گئی شے اُس کے پاس موجود ہو یا ہلاک ہوچکی ہو کیونکہ وُہ رشوت ہے الخ (۱ فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی
ہندیۃ باب المہر نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۳۶)
وفی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار اخذ اھل المرأۃ شیئا عند التسلیم بان ابی ان یسلمھا اخوھا اونحوہ حتی یا خذ شیئا فللزوج ان یستردہ لانہ رشوۃ۱؎اما انچہ بروجہ صلہ وہدیہ ومعونۃ متعارف شدہ است تادرضیافات وامثالہا صرف کردہ شود زنہار نہ رشوت ست نہ حرام فی الخیریۃ رجل خطب من اٰخرتہ ودفع لھا شیئا یسمٰی ملا کا ودراھم وایضامن عادۃ اھل الزوجۃ اتخاذالطعام بھا ان اذن لھم باتخاذہ واطعامہ للناس صار کانہ اطعم الناس بنفسہ طعاما لہ وفیہ لایرجح۲؎۔تمام تحقیق ایں مسئلہ درفتاوٰی فقیر مذکور ست۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔
تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتارمیں ہے کہ عورت والوں نے رخصتی کے وقت کوئی شَے وصول کی بایں طور کہ عورت کے بھائی وغیرہ نے کچھ لئے بغیر وہ عورت شوہر کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تو شوہر وہ شیئ واپس لے سکتا ہے کیونکہ وُہ رشوت ہے،مگر وُہ جو تحفہ، ہدیہ اور امدادکے طور پر متعارف ہے کہ اسکو دعوت وغیرہ میں خرچ کریں وُہ ہرگز رشوت وحرام نہیں ہے۔ خیریہ میں ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو اس کی بہن سے نکاح کا پیغام دیا اور اُس کوکوئی شیئ دی جس کو ملاک کہا جاتا ہے اور کچھ درہم بھی دئے کہ عورت والوں کی عادت اُس سے کھانا تیار کرنے کی ہے، اگر اُس نے ان کو کھانا تیار کرنے اور لوگوں کو کھلانے کی اجازت دی ہے تو ایسا ہی ہے جیسے اس نے بذاتِ خود اپنی طرف سے لوگوں کو کھانا کھلایا ہو لہذا اس میں رجوع نہیں کرسکتا۔ اس مسئلہ کی پُوری تحقیق فقیر کے فتاوٰی میں مذکور ہے۔اور اﷲسبحٰنہ وتعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۳) ( ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۶۶) (۲؎ فتاوٰی خیریۃ باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۶۷)
مسئلہ ۹۱: از کھاتہ نگریا مرسلہ سیّد ضیاء الدین صاحب ۹محرم شریف ۱۳۲۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محمد نعیم خاں نے اپنے بست سالہ لڑکے عبدالرحیم خاں کا نکاح ایک لڑکی سے اور قبل عقد حسبِ رواج کچھ زیور طلائی ونقرئی اس لڑکی کوچھڑھایا،رخصت نہ ہونے پائی تھی کہ عبدالرحیم خاں انتقال کرگیا، لڑکی اپنے والدین کے گھر رہی، شوہر کو بالکل دیکھا بھی نہیں، ایسی حالت میں وُہ زیور والد متوفی کو قابلِ واپسی ہے یا نہیں، اور یہ امر بھی قابلِ اظہار ہے کہ ایسے موقع پراکثر زیور عاریت لے کر بھی چڑھادیتے ہیں اور بعد رخصت واپس لے کر دے دیتے ہیں یہ شخص بہت قلیل المعاش اور معمولی شخص تھا اس کے والدین اس قدر حیثیت نہیں رکھتے کہ اس قدر کثیر مال کے زیور کو اپنے پسر کی زوجہ کو بعد رخصت بھی بخشیدہ اور موہوبہ سمجھ لیتے اور اُن کے یہاں رواج عام بھی خانگی ایسا ہی ہورہا ہے کہ اگر ایسا چڑھاوا چڑھایا تو بعد رخصت واپس لے لیا، اگرذی مقدور ہوئے اور حاجت نہ ہُوئی تو چھوڑدیا، فقط۔
الجواب صورتِ مستفسرہ میں اُس کی واپسی ضروری ہے، لانہ لاھبۃ نصاولادلالۃ ولواشترک العرف لم یدل علی التملیک وکان الدافع ادری بجھۃالدفع۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ اس لئے کہ یہ نہ تو صراحۃً ہبہ ہے اور نہ ہی دلالۃً، اور اگر عرف مشترک ہوتو تملیک پر دلالت نہیں کرتا اور دینے والا دینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)