| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۸۸: از انجمن بریلی ۴جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انجمن اسلامیہ بریلی نے ایک یتیمیہ کا نکاح کیا، بعد نکاح کے معلوم ہُوا کہ یتیمیہ عورت نہیں اس وجہ سے شوہر نے نہیں رکھااور سامانِ جہیز جو انجمن سے یتیمیہ کو دیا گیا تھا وہ واپس آیا، آیا وُہ جہیز حق انجمن کا ہے یا یتیمیہ کا ہے یا یتیمیہ کو ملنا چاہئے؟ الجواب بیان تفصیلی سوال آرندہ سے معلوم ہُوا کہ یتیمہ عورت تو ضرور ہے مگر مرد کے قابل نہی، عورت نہ ہونے سے سائل کی یہ یہی مراد ہے، صورتِ مستفسرہ میں وُہ جہیز خاص مِلک یتیمہ ہے انجمن کا اُس میں کچھ حق نہیں کہ جہیز ان بلاد بلکہ عامہ امصار کے عرفِ عام میں تملیکاً دیا جاتا ہے اور عورت اس کی مالک مستقل ہوتی ہے،مرد کے قابل نہ ہونا کچھ مانع مِلک نہیں۔
فی ردالمحتار کل احد یعلم ان الجھاز ملک المرأ ۃ ۱؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملک ہوتاہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۶۸)
اقول تحقیق مقام یہ ہے کہ انجمنوں میں جو روپیہ چندے سے جمع ہوتا ہے اگر چہ ملک چندہ ہندگان سے خارج نہیں ہوتا کما حققناہ بتوفیق اﷲفی کتاب الوقف من فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے اﷲتعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی کی کتاب الوقف میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) مگرصدر انجمن جس کے حکم سے یہ سب کام ہوتے ہیں تمام تصرفات جائز وانجمن میں چندہ دینے والوں کا وکیل مجاز ہے اسبابِ جہیز کہ اس نے خرید ااگرچہ یہاں کسی شئے معین کی خریداری پر توکیل نہیں، نہ وقت شرایہ نیت ظاہر کہ چندہ دینے والوں کے لئے خریدا اگر چہ یہاں کسی شئے معین کی خریداری پر توکیل نہیں، نہ وقت شرایہ نیت ظاہر کہ چندہ دینے والوں کے لئے خریدتا ہوں مگر زرِ چندہ نیت للموکلین ہے کہ انجمن اُن کی ہیئت مجموعی سے عبارت ہے۔
فی الدرالمختار لووکلہ لشراء شیئ بغیر عینہ فالشراء للوکیل الّا اذانواہ للموکل وقت الشراء اوشراء بمال الموکل اھ ملتقطا فالشراء للوکیل الّا اذانواہ للموکل وقت الشراء اوشراء بمال الموکل ۱ اھ، ملتقطا
درمختار میں ہے کہ اگر کسی کو غیر معین شیئ کی خریداری کے لئے وکیل بنایا تو خریداری وکیل کے لئے ہوگی مگر جب کہ وکیل نے بوقت خریداری موکل کے لئے خریداری کی نیت کرلی ہو ۔ یا موکل کے مال سے خریداری ہو اھ ملتقطا
(۱؎ درمختار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۵)
اب جس طرح وُہ وکیل بالشراتھا بالہبہ بھی ہے تو یہ ایک ہبہ ہے کہ جماعت کی طرف سے بنام یتیمہ واقع ہوا اور ایسا ہبہ مطلق جائز ہے اگرچہ شے موہوب قابل قسمت بھی ہو ۔
لان القابض واحد فلاشیوع فی الدرالمختار وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع۲ ؎۔
کیونکہ قابض ایک ہے تو شیوع نہ ہُوا۔ درمختار میں ہے کہ دو شخصوں نے ایک شخص کو گھر ہبہ کیا توتصحیح ہے کیونکہ شیوع نہیں ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الہبۃ باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱)
یہ اس صورت میں ہے کہ یتیمات کا نکاح کرنا اُنہیں مالِ انجمن سے جہیز دینا اغراضِ مشتہرہ معلومہ انجمن میں داخل ہو جس سے اس امر میں بھی ملکانِ چندہ کی طرف سے توکیل صدر حاصل ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ بلا اذن مالکین یہ تجہیز صدر نے بطور خود کی تو اب وُہ اس شرائے سامان میں فضول ہوگا اور شراء جب تک نفاذ پائے مشتری پر نافذ ہوتا ہے اور اس صورت میں وقت شراء چندہ دہندوں کی طرف اضافت نہ ہونا خود ظاہر، تو تمام سامان مِلکِ صدر ہوا اور اس کی طرف سے یتیمہ کے لئے ہبہ تامہ ہوگیا، یُوں بھی صورت مذکورہ میں مال مِلک یتیمہ ہوگا حق انجمن سے اصلاً علاقہ نہیں، ہاں انجمن کے روپے کا تاوان صدر پر آئے گا لخلافہ واتلافہ فیما لم یوذن بہ(اس کی مخالفت اور اس چیز کو تلف کرنے کی وجہ سے جس کا اذن اس کو نہیں دیاگیا تھا۔ت)
درمختار میں ہے :
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلو اضاف بان قال بع ھذالفلانٍ فقال بعتہ لفلان توقف بزازیۃ وغیرہا باختصار، ۳ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
اگر کسی نے دوسرے کے لئے کچھ خریدا تو شراء مشتری پر نافذ ہوگی جبکہ اُسے دُوسرے کی طرف مضاف نہ کیا ہو۔ اور اگر دوسرے کی طرف اس کی اضافت کی اور یُوں کہا کہ یہ شیئ فلاں کے لئے بیچ، اس پر بائع نے کہا کہ میں نے فلاں کے لئے بیچی تو یہ شراء موقوف ہوگی، بزازیہ وغیرہ اھ اختصار۔ اور اﷲ سبحٰانہ، وتعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت)
(۳؎ درمختار باب البیع الفاسد فضل فی الفضول مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱)