Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
42 - 155
مسئلہ ۸۷: از رائے پور چھتیس گڈھ بیجنا تھ بارہ مرسلہ منشی محمد قاسم صاحب حوالدار پیشی ۱۹ربیع الاول ۱۳۲۶ھ

بسم اﷲالرحمٰن الرحیم، نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مقدمہ ذیل میں، فیض النساء بیگم انجمن نعمانیہ رائے پور میں داد خواہ تھی کہ میں اپنی سوتیلی لڑکی مسماۃ خدیجہ بی بی کی شادی مسمی حسام الدین سے کردی اور لڑکی مذکور نے رحلت کی، اب مجھے حسبِ رواجِ ملک اپنے کے جو کچھ مال متاع بنام جہیز اپنی لڑکی کو دی ہوں حسام الدین سے واپس دلایا جائے چونکہ وقت دینے اسباب جہیز اپنی لڑکی کو مطابق رسم ورواج عادت عالَم کے نہ تو نیت تملیک کی  جاتی ہے نہ ہبہ وعاریت کی بلکہ یُوں ہی بلاکسی نیت کے جو کُچھ دینا ہو وقت رخصت دولہا دُلہن کے ہمراہ اُن کے کردیاکئے جاتاہے غرض جو رواج عام خاص وعام میں پشتہا پُشت سے جاری ہے حسام الدین سے واپس دلاکر داد ر سی فرمائی جائے انتہٰی، اربابِ انجمن فیصلہ  مقد مہ ھذا کا صرف اپنی ہی معلومات پر منحصر نہ فرمایا  علمائے دین سے بھی  فتؤوں کا ا ستدعا  کیا  چنانچہ علمائے دیوبند کا آخری فیصلہ فتوی روایات فقہ اس بارہ میں یہ ثابت ہوتاہے کہ شرفا میں مطلقا تملیک سمجھا جاتا ہے اور بغالب ظن عرف میں یہی ہے کہ کوئی شخص اسباب شادی دے  کر واپس نہیں لیتا لیکن بااینہمہ عرف وہاں کا یہی ہے کہ واپس لیا جاتا ہے اور ہبہ وتملیک نہیں ہوتا فیض النساء بیگم اُس کو واپس لے سکتی ہے انتہٰی، فتوٰی  ندوۃ العماء جس جگہ میں یہ عرف ہو کہ اشیاء جہیز بطور تملیک دیا جاتا ہے جیسا کہ بلادہندوستان میں بھی یہی رواج ہے تو اُس مقام میں اشیاء لڑکی کی مِلک ہوجائیں گی اور لڑکی کے ماں باپ کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ واپس کرلے، ہاں جس مقام میں رواج عاریۃً دینے کا ہے وہاں اشیائے جہیزمِلک لڑکی کی نہ ہوں گی اور ماں باپ کو اختیار ہوگا کہ واپس کرلے فیض النساء بیگم کو چاہئے کہ گواہوں سے اسباب جہیز دینا اپنے مال سے ثابت کردے اُس کے بعد حسبِ رواج کار بند ہوانتہٰی فیض النساء کے اپنے مال سے دینے پر صدہا گواہ موجود ہیں۔ فتوٰی  جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی، سوال انجمن نعمانیہ رائے پور، سوال: شرع میں رواجِ ملک کو بھی مداخلت ہے کیا؟جواب: مولانا صاحب! حکم شرع مطہر کے لئے ہے عرف ورواج وغیرہ کسی و حکم میں کُچھ دخل نہیں، ہاں بعض احکام کو شرع اپنے حکم سےعرف پر دائر فرماتی ہے خواہ یُوں کہ اگر یہ شَے معروف ورائج ہوجائے تو اس کے لئے یہ حکم ہے خواہ یُوں کہ حکم فی نفسہ حاصل، اور یہ اس کی صورت کا بنانے والاہے یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ والدین اپنے مال سے دُلہن کو جہیز دیتے ہیں اور دینا ہبہ وعاریت دونوں کو محتمل'اور ان کا تعیّن عرف پر محمول، جہاں عرف غالب تملیک ہو وہاں دعوٰی  عاریت نامقبول، اور جہیز دینا تملیک ہی پر محمول جب تک گواہانِ شرعی سے اپنا عاریت دینا ثابت نہ کریں، اور جہاں عرف غالب عاریت ہو یا دونوں رواج یکساں ہوں وہاں ان کے قول قسم کے ساتھ معتبر، ایسی جگہ جہیز دینا جہاں تملیک نہ سمجھا جائے گا الخ۔جنابِ من!فتوٰی  جناب کا فائز انجمن نعمانیہ ہوکرکے عرصہ دوسال کا ہوگا اس عرصہ دراز میں اکثر اوقات پیش نظر یعنی جناب رکن اعظم انجمن جناب مولوی حکیم مسمّی ابو سعیدصاحب کے بھی رہا، یقین ہُوا کہ مولوی صاحب اُن فتووں کے مطالب مقاصد ظاہر الروایات کے موافق ومطابق بخوبی سوچ سمجھ گئے ہوں گے، آخر الامر بروز جلسہ مع فتوٰی  جناب کا بھی فتوٰی  مولوی صاحب نے پڑھا اور جملہ اوّل جناب کے فتوٰی کا یہ تھا:''حکم شرع مطہر کے لئے ہے۔'' مولوی صاحب نے جملہ مذکور کا خلاصہ اس طرح بیان فرمایا کہ جو حکم شرع کا ہے وُہ پاک ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ علاوہ بریں مولاناممدوح کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ رواجِ مُلک کو شرع میں کُچھ دخل نہیں ورنہ فیض النساء بیگم موافق دعوٰی  اپنے اشیاءِ جہیز پانے کا کسی طرح حقدار ہوسکتی ہے بلکہ دعوٰی  اس کا شرعاً مردود اور رواجِ مُلک مطرود، کیونکہ رواجِ مُلک بمقابلہ شرع کے ایک بیہودہ بات ہے، غرض اربابِ انجمن نے مولوی صاحب کے لاطائل بیان کو عدمِ واقفیت مسائل فتوٰی  سے بلاغور وتامل مان لیا انتہی، التماس بندہ محمد قاسم ع 				دل صاحبِ انصاف سے انصاف طلب ہے

اگر چہ یہ  ناچیز حسبِ مقدور انجمن نعمانیہ میں بہت کُچھ رویا مگرنہ رونے کا اثر ہُوا نہ گانے کا، چونکہ تاریخ ملاحظہ فتوٰی  سے تا آخر یہی کہتا رہا کہ مقدمہ مذکور میں جو رواج ملکی کا ذکر ہے ہر فتوٰی  سے ظاہر ہوتا ہے کہ وُہ رواج حکم میں عین شرعِ محمدی ہے اور جس پر حکم شارع علیہ السلام کا موجود، پس فیض النساء بیگم موافق فتوٰی  علمائے دین کے مال واسباب جہیز کا موافق شرع محمدی کے واپس لینے کی مستحق ہے، جیسے مولانا احمد رضاخاں صاحب مدظلہ، اپنے فتوے میں لکھتے ہیں، قولہ ہمارے بلاد میں رواج عام ہے کہ دُلہن والے اپنی طرف سے سلامی وغیرہ جو کچھ کپڑے ونقد دُولہاکو دیتے ہیں اُس سے تملیک ہی کا ارادہ کرتے ہیں وُہ دیناہبہ سمجھا جائے گا۔ غرض بندہ نے جناب کے مسئلہ کا خلاصہ ممبرانِ انجمن کو اس طرح سمجھا و سُمجھا دی کہ ہندوستان میں ہزار ہا بندگانِ خدا اس طرح کے بھی ہیں کہ جنہوں نے عمر خود میں کبھی نام تملیک کا سُنا نہ ہبہ وعاریت کا بلکہ خاص رواج ملک کے بلانیت تملیک وہبہ  کے جو کُچھ دینا ہے بیٹی داماد کو دیاکرتے ہیں مگر اتنا ضرور سمجھتے ہیں کہ یہ جو اسباب شادی ہم بیٹی داماد کو دیتے ہیں وُہ سب خاص مِلک اُنہوں  ہی کی ہے پس اسقدر سمجھنا اُنہوں کا حکم تملیک کا رکھتا ہے پس اسی کا نام شرع محمدی ہے پس اُس رواجِ عام کی تعمیل ہر فرد بشر پر کیا معنی بلکہ حاکم پر بھی واجب ہے پس اسی طرح اہلِ مدراس بھی بلانیت تملیک وہبہ عاریت کے اسباب جہیز دیا کرتے ہیں مگر دینے کے وقت اُن کی نیت یہ ہوا کرتی ہے کہ بعد فوت لڑکی کے وہ سب مال واسباب واپس لیا کریں گے اور دُولہا بھی سمجھ لیا ہے کہ مجھے ضرور ہی واپس دینا ہوگا، پس یہ طرفین کے سمجھ لینے کا نام شرع محمدی میں معاہدہ ٹھرا، پس اُس کے واپس لینے میں کون امر شرعی مانع ہے، پس بموجب رواج شرعی کے ایک بڑے زبردست فاضل وفقیہ مسمٰی صوبیدار شیخ حسین صاحب نے بمجرد فوت ہوتے ہی اپنی بہو کے اُس کا سب مال واسباب جہیز کا واپس کردیا اور اس مال کے استعمال کو واسطے حلال نہ جانا اور اس معاملہ کو ممبرانِ انجمن بخوبی جانتے ہیں بمقابلہ سمجھ اپنے نہ تو خدا کی مانے اور نہ رسولِ خدا کی، تو پھر علماء فضلاء کی کب ماننے لگے غرض اگرکوئی ہندوستانی مدراسی عورات کو شادی کرے بعد موت اُس عورت کے موافق رواج ملک کے اُس کو سب جہیز واپس دینا ہوگا، چونکہ پابندی رواجِ مُلک کی اس پر واجب ہوگی برخلاف رواج مُلک اپنے کے، غرض فیض النساء بیگم کا اسبابِ جہیز دینا لڑکی کو موافق رواج ملک کے طرفین کی رضامندی سے شرعاً معاہدہ ٹھرا جو حقیقت میں نظیر عاریت کی ہوسکتی ہے، غرض فتوے سے علمائے دین کے صرف دو۲بات ہے :

اوّلاً یہ کہ جس ملک میں رواج تملیکاً کا ہے وہاں مِلک لڑکی کی ہوگی اُس میں ماں باپ واپس نہیں لے سکتے اور جہاں رواج عاریۃً دینے کا ہے وہاں ماں باپ واپس لے سکتے ہیں اور ملک مدراس میں موافق رواج قدیم کے بمجرد فوت ہونے لڑکی کے جو کچھ اسباب جہیز میں دیا گیا ہے واپس لیا کرتے ہیں، نہ وہاں کوئی تمیک کو پوچھتا ہے انتہٰی التماس فیض النساء بیگم موافق رواج ملک اپنے کے اور مطابق فتوٰی  علمائے دین کے جوآگے لکھ چکا ہوں اپنے داماد ہندوستانی سے پاسکتی ہے یانہیں۔بینواتوجروا

ثانیاً فیض النساء بیگم کی نسبت جو کچھ مناسب ہو مختصر طور سے دوچار سطر کافی ہے باقی جناب کے فتوے  کا پہلا مسئلہ جو رواج ،اسباب جہیز وغیرہ کی نسبت ہے آگے اس استفتاء کے لکھا ہُوں جس کا پہلا جملہ حکم شرع مطہر کے لئے ہے، اس تمام مسئلہ کا خلاصہ سہل سلیس عبارت موافق عام فہم کے جس میں عربی وفارسی عبارت ولغات نہ ہو، براہِ نوازش تحریر فرمائیں، عین بندہ نوازی ہوگی، اُمید کہ جواب بھی اسی کاغذ میں مرحمت ہو تااعتبار میں بندہ کے فرق نہ ہو۔
الجواب

فتوائے فقیر کا وہ مطلب کہ رکن اعظم انجمن نے بیان کیا محض غلط ہے، نہ اُن الفاظ سے کسی طرح اس کا وہم گزرسکتا ہے، سائل نے ان لفظوں سے سوال کیا تھا کہ''  شرع  میں رواج ملک کو مداخلت ہے کیا  ان کے جواب میں اگر''ہاں'' کہا جاتا تو ایک بُرے معنٰی  کو وموہوم ہوتا کہ شرع کے حکم میں اُن کے غیر کو مداخلت ہے اور اگر ''نہ'' کہا جاتا تو معنی غلط مفہوم ہوتے کہ عرف کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں حالانکہ صدہا احکام شرع مطہر نے عرف پر دائر فرمائے ہیں، لہذا ان لفظوں سے جواب دیا گیا کہ حکم شرع مطہر کے لئے ہے یعنی اصل حاکم شرع شریف ہے عرف ورواج وغیرہ کسی کو حکم میں کچھ دخل نہیں کہ خلافِ شرع یا بے حکم شرع عرف وغیرہ اپنے آپ کوئی حکم لگاسکیں ان الحکم الّا ﷲحکم کامالک بس ایک اﷲ ہے ہاں بعض احکام کو شرع مطہر اپنے حکم سے عرف پر دائر فرماتی ہے کہ جہاں جیسا عرف ہو شرع اس کا لحا ظ فرماکر ویسا ہی حکم دیتی ہے تو اصل حکم شرع ہی کیلئے ہُوا اور اُسی کے معتبر رکھنے سے وہاں عرف کا اعتبار ہُوا یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ شرع نے یہاں عرف ورواجِ ملک پر مدارِ کار رکھا ہے، اگر جہیز دے کر دُلہن کو اس کا مالک سمجھتے ہیں تو تملیک مطلقاً مردود وبے اعتبار ہے، اُسی فتوٰی  میں صراحۃً یہ لفظ موجود تھے، بالجملہ یہاں مدار عرف ورواج پر ہے اور ان سب اقوال وتفاصیل کا یہی منشا، توجدھر عرف لے جائے اسی طرف جانا واجب الخ سائل نے سولات کلّی طور پر کئے تھے کہ شرع میں رواج کو دخل ہے یا نہیں، جہیز جو لڑکی کو دیا جاتا ہے عاریت سمجھا جائےگایا نہیں۔ اس وجہ سے جواب میں اُن تفصیلوں تحقیقوں کا افادہ ضرورہُوا، اب کہ آج کے سوال میں خاص مسئلہ فیض النساء بیگم سے سوال اور تصریحاً بیان کیا ہے کہ یہاں تملیک مقصود نہیں ہوتی اور عموماً واپس لیتے ہیں اور گواہ موجود ہیں کہ فیض النساء بیگم نے یہ جہیز اپنے ہی مال سے دیا، اس کا جواب اسی قدر ہے کہ اس صورت میں ضرور فیض النساء بیگم جہیز واپس لینے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ اس کی طرف سے کوئی دلیلِ تملیک نہ پائی گئی ہو جبکہ وہاں مطلقاً عموماً بعد موت عروس لینے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ اس کی طرف سے کوئی دلیلِ تملیک نہ پائی گئی ہو کہ جبکہ وہاں مطلقاً عموماً بعد موت عروس واپسی جہیز کا رواج ہے تو ظاہراً یہ رواج حقیقی ماں باپ کے سوا اَوروں میں بھی دائر وسائر ہوگا کہ جو شخص اپنے مال سے عروس کو جہیز دے بعد موتِ عروس واپس لے کہ جب حقیقی ماں باپ ہمیشہ واپس لیتے ہیں تو اور لوگ بدرجہ اولی واپس لیتے ہوں گے تو اس عرف واپسی بعد الموت میں فیض النساء بیگم بھی داخل ہُوئی، ہاں غیروں کے لئے یہاں محلِ نظر اتنا امر تھا کہ جہیز اپنے مال سے دینا ثابت ہو اس کی نسبت سائل بیان کرتا ہے کہ صدہا گواہ موجود ہیں تو اب فیض النساء بیگم کو اختیار واپسی ملنے سے کوئی مانع نہ رہا، 

وذٰلک کلہ ظاہر لمن حقق النظر فی فتوٰنا الاولی ھذا اما عندی والعلم بالحق عند ربّی واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

اور یہ تمام اس شخص کے لئے ظاہر ہے جس نے ہمارے فتوٰی سابقہ میں تحقیقی نظر ڈالی۔یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے اور اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  خوب جانتا ہے۔(ت)
Flag Counter