Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
41 - 155
جواب سوال پنجم 

بھی تقریباتِ سابقہ سے واضح اس دعوٰی  کے ثبوت میں کہ یہ اشیاء وقت شادی حسام الدین کو فیض النساء بیگم نے اپنے مال سے دیں فیض النساء بیگم محتاج گواہان ہے اگر یہ امر شہادت یا اقرار مدعا علیہ سے ثابت ہوتو دربارہ تملیک و عاریت وہی عرف وغیرہ دلاء پر نظر ہوگی اگر نصاً یا عرفاً کسی طرح دلالتِ تملیک ثابت ہو (جس طرح ہمارے بلاد میں رواج عام ہے کہ دلہن والوں کی طرف سے سلامی وغیرہ جوکچھ کپڑے یا نقد یا دیگر اشیاء دُولہا کر دیتے ہیں اُس سے تملیک ہی کا ارادہ کرتے ہیں بلکہ یہاں عاریت بتانا جہیز دختر کو عاریت کہنے سے زیادہ موجب ننگ وعار سمجھتے ہیں) تو وُہ دینار ہبہ سمجھا جائے گا اور فیض النساء بیگم اگر عاریت کہے گی تو بغیر اُن طرق ثبوت کے مسموع نہ ہوگا اوراگر دلالتِ تملیک متحقق نہیں توفیض النسا ء بیگم کا قول عاریت بہ قسم قابلِ قبول ہوگا، پھر اگر اُس مال کا ہبہ ہونا ثابت ہوتو اُس میں سے کچھ تلف ہوگیا خواہ حسام الدین کے اپنے فعل سے  یا بلا قصد یا اُس نے کسی کو دے دیا یا بیچ ڈالا تو اس کی واپسی ممکن نہیں،
فان ھلاک الموھوب وخروجہ عن ملک الموھولہ کلاھما من موانع الرجوع۔
کیونکہ بے شک موہوب شیئ کا ہلاک ہونا اور اُس کا موہوب کہ کی ملک سے خارج ہونا دونوں ہی رجوع کے موانع میں سے ہیں۔(ت)
اور جو بدستور اُس کے پاس موجود ہے اور کوئی مانع موانع رجوع سے نہیں تو فیض النساء بیگم بتراضی بالقضائے قاضی واپس لے سکتی ہے مگر گنہگار ہوگی کہ ہبہ میں رجوع سخت مکروہ ممنوع ہے بغیر اس کے بطور خودر رجوع نہیں کرسکتی، اور اگر عاریت ہونا ثابت قرار پائے تو جو جہیز موجود ہے اُسے بطورِ خود واپس لے سکتی ہے اگر چہ حسام الدین نے کسی کودے دی یا بیع کردی ہو
فان العواری مردودۃ وتصرف الفضول الفضولی بالردیبطل(کیونکہ بطورِ عاریت دی ہوئی اشیاء واپس کی جاتی ہےں اور فضول کا تصرف رَد سے باطل ہوجاتا۔ت) اور جو تلف ہوگیا اگر بے فعلِ حسام الدین تلف ہُوا مثلاًچوری ہوگیا جل گیا ٹوٹ گیا اور اُس میں حسام الدین کی طرف سے کوئی بے احتیاطی نہ تھی تو اُس کا تاوان نہیں لے سکتی فان العاریۃ امانۃ لاتضمن الابالتعدی (اس لئے کہ عاریت امانت ہے اور بلا تعدی اس میں ضمان لازم نہیں آتا۔ت) اسی طرح جو کُچھ حسام الدین کے پہنے برتنے میں تلف ہوا نقصان ہو اس کا بھی تاوان نہیں جبکہ اُس نے عادت وعرف کے مطابق اُسے برتا استعمال کیا ہوفان کان بتسلیط منھا وما کانت العاریۃالاللاستعمال(کیونکہ وُہ اس عورت کی تسلیط دے اس کے پاس تھا اور عاریت تو ہوتی ہی استعمال کیلئے ہے۔ت) ہاں جو کچھ حسام الدین نے قصداً خراب کیا یا اُس کے بے احتیاطی سے ضائع ہُوا یا عرف و عادت سے زیادت استعمال کرتے میں ہلاک ہوگیا اُس کا تاوان حسام الدین سے لے سکتی ہے لحصول التعدی(تعدی حاصل ہونے کی وجہ سے۔ت) فصول عمادی میں ہے:
اذا انتقص عین المستعارفی حالۃ الاستعمال لایجب الضمان بسبب النقصان اذا استعملہ استعمالامعھودا۱؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔

جب عین مستعار کی حالت میں نقصان ہُوا تو اس نقصان کے سبب سے ضمان واجب نہں ہوگا بشرطیکہ اُس نے عرف وعادت کے مطابق استعمال کیا ہو۔واﷲتعالٰی  اعلم(ت)
 (۱؂ فصول عمادی)
جواب سوال ششم 

جومال حسام الدین نے وقتِ شادی خواہ بعد شادی اپنی بی بی کو دیا اُس کی واپسی سے فیض النساء بیگم کو کُچھ علاقہ نہیں ہوسکتا کہ اگر حسام الدین نے عاریۃً دیا تھا تو وُہ خود اُس کا مالک ہے اور اگر زوجہ کو مالک کردیا تھا تو بعد مرگ زوجہ اُس کے پسر وشوہر کو پہنچ کر پھر حسام الدین کے پاس آیا فیض النساء بیگم کا اُس میں کوئی حق نہ تھا' نہ ہے،وھذا ظاہر جدا (اور یہ خوب ظاہر ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم۔

الجواب سوال ہفتم

(اس سوال کا جواب اُسی تحقیق جوابات سابقہ پر مبنی ہے زیور جہیز  اگر بنظرِ احکام مذکور مِلک خدیجہ بی بی قرار  پائے تو وُہ ایک چیز ہے کہ بحکم مالک رہن رکھی گئی ہے مورثہ مدیونہ ہے اور مرتہن دائن وارث فک رہن کرائیں گے یا بتراضی باہمی وہی شے دین مرتہن میں دے دیں گے یا زیور دین میں بیچا جائے گا کچھ ہوگا یہ ان کا باہمی معاملہ ہے جس سے فیض النساء بیگم کوکوئی تعلق نہیں اور اگر زیوروں کا ملک فیض النساء بیگم اور خدیجہ بی بی کے پاس عاریت ہونا ثابت ہو تو نظر کریں گے کہ  یہ رہن رکھنا بے اجازت فیض النساء بیگم تھا یعنی نہ اُس سے اذن لے کر رہن رکھا نہ اُس نے بعد رہن اس تصرف کو جائز کیا جب اُسے اختیار ہے کہ رہن فسخ کرکے اپنی چیز مرتہن سے واپس لے لے مرتہن اپنا دین ترکہ خدیجہ بی بی سے لیتا رہے،    ردالمحتار میں ہے :
لانہ تصرف فی ملکہ علی وجہ لم یؤذن لہ فیہ فصار غاصبا وللمعیران یاخذہ من المرتھن ویفسخ الرھن جوہرۃ۱؎۔
کیونکہ بیشک اس (راہن) نے دوسرے (معیر) کی مِلک میں اس طور پر تصرف کیا جس کا اذن اس کو نہیں دیا گیا تا تو وُہ غاصب ہوگیا اور عاریت دینے والے کوحق حاصل ہے کے مرتہن سے شیئ مرہون لے لے اور رہن کو فسخ کردے۔ جوہرہ۔ (ت)
 (۱؎ردالمحتار     کتاب الرہن     باب التصرف فی الرہن    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵ /۳۳۱)
اور اگر اُس سے پوچھ کر اس کی مرضی کے مطابق رہن رکھا (اگر چہ صورتِ حاضرہ میں ظاہراً اس کی اُمید نہیں) یا بعد رہن اس نے تصرف کو اپنی اجازت سے نافذ کردیا تو رہن صحیح و نافذ ہوگیا اب فیض النساء بیگم جب تک دین مرتہن ادا نہ ہو شیئ مرہون واپس نہیں لے سکتی، ہاں یہ اختیار رکھتی ہے کہ اگر ورثہ خدیجہ بی بی فک رہن میں دیر لگائیں یہ خود مرتہن کو اُس کا دین دے کر اپنی چیز چُھڑالے اور جو کچھ مرتہن کو دے ترکہ خدیجہ بی  بی سے واپس لے۔    عالمگیریہ میں محیط امام سرخسی سے ہے :
لو ارادالمعیر افتکاکہ لیس للراھن والمرتہن منعہ ویرجع علی الراھن بما قضٰی لانہ مضطر فی قضائہ لاحیاء حقہ وملکہ۲؎۔
اگر معیر مرہون شَے کو چُھڑانا چاہے تو راہن اور مرتہن اس کو منع نہیں کرسکتے اور وُہ جو کچھ مرتہن کو دے راہن سے لے سکتا ہے کیونکہ وُہ اپنے حق وملک کو حاصل کرنے کے لئے اس ادائیگی پر مجبور ہے(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط سرخسی     الباب الحادی عشر     فی التفرقات   نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۴۸۶)
درمختار میں ہے :
لورھن دارغیرہ فاجاز صاحبھا جاز۳؎۔
اگر کوئی کسی کا گھر رہن رکھ دے پھر گھرکامالک اس کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔(ت)
 (۳؎ درمختار    باب التصرف فی الرہن     مطبع مجتبائی دہلی         ۲ /۲۷۴)
ردالمحتار میں ہے :
ویکون بمنزلۃ مالو اعارھالیر ھنھا۱؎ ط۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اور یہ بمنزلہ اس شیئ کے ہوگیا جس کو کسی نے بطور عاریت دیا ہی اس لئے ہے کہ وہ اس کو رہن رکھ دے، ط۔ اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  خوب جانتا ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الرہن     باب التصرف فی الرہن    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵ /۳۳۰)
Flag Counter