Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
40 - 155
بالجملہ جب حقیقی دادی نانی،حقیقی دادا، حقیقی ماں میں علمائے کرام نے تردّد فرمایا تو سوتیلی ماں کہ محض اجنبیہ ہے کیونکر اس حکمِ پدر میں شریک ہوسکتی ہیں، اجنبی کے لئے صورتِ مستفسرہ میں یہی حکم لکھتے ہیں کہ اُس کا دعوٰی  لے گواہانِ مسموع نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے:
الام وولی الصغیرہ کالاب فیما ذکر وفیما یدّعیہ الاجنبی بعد الموت لایقبل الاببینۃ شرح وھبانیۃ۱؎۔
ماں اور ولی صغیرہ حکمِ مذکورہ میں باپ کی طرح ہیں اور جہاں اجنبی کے بعد دعوٰی کرے تو گواہوں کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا، شرح وہبانیہ۔(ت)
(۱؎ درمختار    کتاب العاریۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۱۵۷)
اور یہاں گواہوں سے اثبات عاریت کے دو۲طریقے ہیں :

ایک یہ کہ باپ ماں یا اجنبی جس کے ذمے اقامت بینہ کا حکم ہوگواہان عادل شرعی سے شہادت دلائے کہ میں نے یہ جہیز عروس کو دیتے وقت شرط کرلی تھی کہ عاریۃًدیتا ہوں ۔

دوسرے یہ کہ دُلہن کا اقرارنامہ بتصدیق شہود عدل پیش کرے جس میں اس نے اقرار کیا ہو کہ یہ یہ جہیز مجھے فلاں نے اپنی ملک سے عاریۃً دیا ہے۔  بحرالرائق میں ہے :
قال فی التجنیس والولوالجیۃ والذخیرۃ والبینۃ الصحیحۃ ان یشھد عند التسلیم الی المرأۃ انی انما سلمت ھذہ الاشیاء بطریق العاریۃ او یکتب نسخۃ معلومۃ ویشھد الاب علی اقرار ھا ان جمیع مافی ھذی النسخۃ ملک والدی عاریۃ فی یدی منہ۱؎الخq
تجنیس، ولوالجیہ اور ذخیرہ میں فرمایا بینہ صحیحہ یہ ہے کہ عورت کو یہ اشیاء دیتے وقت گواہ قائم کرے کہ بے شک میں نے یہ اشیاء بطور عاریت دی ہیں یا یہ کہ ایک معین تحریر تیار کرکے باپ کو لڑکی کے اس اقرار پر گواہ قائم کرے کہ وُہ تمام اشیاء جو اس تحریر میں مرقوم ہیں میرے والد کی ملکیت ہیں اور میرے پاس اس کی طرف سے بطور عاریت ہیں الخ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق        باب المہر         ایچ ایم سعید کپنی کراچی     ۳ /۱۸۷)
اقول وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہُوں اور اﷲتعالٰی  سے توفیق ہے۔ت) یہاں دو۲مرحلے ہیں :اول اس کا اثبات کہ یہ جہیز میں نے مال سے دیا، ان بلاد میں باپ اس ثابت کرنے میں گواہوں کا محتاج نہیں لما تقدم من جریان العرف فی ذٰلک کذٰلک (جیسا کہ پہلے گزرا کہ اس میں عرف ایسا ہی جاری ہے۔ت) بلکہ دُلہن یا اس کے ورثہ میں اسکے منکر ہوں تووہ گواہ دیں کہ یہ جہیز باپ نے اپنے مال سے نہ دیا دُلہن کی مِلک سے بنایا بخلاف اجنبی کہ اُسے اوّلاً یہی ثابت کرنا ضرور ہوگا،
لعدم ظاہر یشھد لہ فی ذٰلک وانما البینۃ علی کل من یدعی خلاف الظاہر۔
کیونکہ اس معاملہ میں ظاہر اس کے لئے شاہد نہیں اور ہر اس شخص پر گواہ لازم ہوتے ہیں جو خلاف ظاہر دعوٰی  کرے۔ (ت)

پھر اگر یہ امر بینہ یا اقرار عروس یا تسلیم ورثہ سے ثابت ہوتو دوسرا درجہ ثبوت عاریت کا ہے یہاں اگر عرف عام یا مشترک سے عاریۃًدینا ثابت یا محتمل ہوتو ظاہراً اجنبی بھی مثل پدر اور اس ثبوت دوم میں محتاج اقامت بینہ نہیں کہ جب اباء عاریۃً دیتے ہیں تو اجنبی کا قصدِ عاریت ہرگز خلافِ ظاہر نہیں بلکہ بلحاظ اجنبیت ,   وہی اظہر ہے
ولا بینۃ علی من شھد لہ الظاہر مع انہ قد ثبت انہ الدافع فھو ادری بجھۃ الدفع مع ماتقدم من ان الاقل ھو المتعین فی ما احتمل۔
اس پر گوا ہ لانا لازم نہیں جس کے لئے ظاہر شاہد ہو باوجود اس کے کہ ثابت ہوچکا ہے کہ وُہ دینے والاہے پس وُہ دینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے باوجود اس کے جو گزرا کہ محتمل میں اقل ہی متعین ہوتا ہے۔(ت)

تو جب تک صراحۃً کوئی دلیلِ تملیک نہ پائی جائے بحالِ عموم یا اشتراک عرف عاریت اجنبی کا اس فعل پر اقدام خواہی نخواہی قصدِ تملیک پر محمول نہ ہونا چاہئے اور اگر عرف عام تملیک ہو کہ جہیز دینا مالک کرنا ہی سمجھا جاتا ہو

جیسا کہ ہمارے بلاد میں ہے کہ اقارب اجانب جو تجہیز کریں تملیک ہی کرتے ہیں، اگر کوئی کسی لڑکی کو پالیتا یا ویسے ہی کسی یتیمیہ کا نکاح کرتا ہے تو جو کچھ جہیز میں دیتا ہے یقینا تملیک ہی کا ارادہ کرتا ہے چند روزہ عاریت دے کرواپسی لینے کا اصلاً وہم بھی نہیں گزرتا تو ایسی حالت میں اس ثبوت دوم یعنی دعوی عاریت میں اجنبی بھی آپ ہی محتارج گواہان ہوگا کما علمت ان المعھود عرفا کالمشروط نصا(کیونکہ تُوجان چکا ہے کہ جو بطور عرف کے معہود ہو وہ ایسے ہی ہے جیسے بطور نص کے مشروط ہو۔ت) اسی طرح اگر جہیز دئے ایک زمانہ ممتد گزرجائے دلہن برتتی استعمال کرتی رہے اور اسکی جانب سے بے مانع غیبوبت وغیرہ سکوتِ مطلق رہے طلب واپسی ظاہر نہ ہو پھر ایک مدّت مدیدہ خصوصاً موتِ عروس کے بعد دعوٰی  کرے کہ میں نے توعاریۃً دیا تھا مجھے واپس ملے تو اب بھی اس کا یہ دعوٰی  خلافِ ظاہر ومحتاج بینہ ہے والدین واولاد کا معاملہ دوسرا ہے ان میں ایک دوسرے کے مال سے مدۃالعمر ممتع رہے تو باہم گوارا ہوتا ہے عرفا اجانب سے متوقع نہیں کہ اتنی مدت تک اپنا مال دوسرے کے ایسے تصرف واستعمال میں چھوڑے رہیں اور اپنی ملک ہونا زبان پر نہ لائیں۔
وھذاکماقال فی البحر قال فی المبتغی من زفت الیہ امرأتہ بلاجھاز فلہ مطالبۃ الاب بمابعث الیہ من الدنانیر والدراھم ولو سکت بعد الزفاف طویلا لیس لہ ان یخاصمہ بعدہ ۱؎اھ مختصرا
ایسا ہی ہے جیسا کہ بحر میں فرمایا کہ مبتغی میں کہا جس شخص کی بیوی جہیز کے بغیر رخصت ہو کر اس کی طرف آئی ہوتو بیوی کے باپ ان ونانیر ودراہم کا مطالبہ کرسکتا ہے جو اس نے اس کی طرف بھیجے تھے اور اگر زفاف کے بعد زمانہ  دراز تک خاموش رہا تو اس کے بعد اس سے مخاصمہ نہیں کرسکتا اھ مختصراً۔
 (۱؎ بحرالرائق         باب المہر         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۳ /۱۸۶،۱۸۷)
وفی ردالمحتار قال الشارح فی کتاب الوقف ولو سکت بعد الزفاف زمانا یعرف بذلک رضاہ لم یکن لہ ان یخاصم بعد ذٰلک وان لم یتخذ لہ شیئ اھ ح واشار بقولہ یعرف الی ان المعتبر فی الطول والقصر العرف ۱؎ اھ وفیہ عن البزازیۃ لانہ لما کان محتملا وسکت زمانا یصلح للاختیار دل ان الغرض لم یکن الجھاز۲؎اھ قلت وقد نصواان من رأی احدا یتصرف فی شیئ زمانا ثم ادعی انہ ولم یکن ثم مانع من دعواہ لم تسمع قطعا للحیل وقد بینا ہ فی الدعاوی من فتاوٰنا۔
دراز اور مختصر ہونے کا اعتبار عرف پر ہے اھ اور اسی میں بزازیہ سے ہے، اسلئے کہ جب محتمل تھا اور وہ اتنا زمانہ اور ردالمحتار میں ہے کہ شارح نے کتاب الوقف میں فرمایا کہ اگر زفاف کے بعد اتنا زمانہ خاموش رہا جس سے اس کی رضا سمجھی گئی تو اب اس کے بعد اُس کو مخاصمت کا حق نہیں اگر چہ اُ س کے لئے کچھ بھی نہ بنایا ہو الخ اس عبارت میں شارح نے اپنے قول''یعرف''سے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ زمانہ کے خاموش رہا جس میں وُہ مطالبہ کو اختیار کرسکتا تھا تو اس بات کی دلیہل ہے کہ اس کی غرج جہیز لینا نہ تھا الخ قلت (میں کہتا ہوں) اس پر انہوں نے نص کی کہ جو شخص ایک زمانہ تک کسی کوکسی شیئ میںتصرف کرتے ہوئے دیکھتا رہا، پھر دعوٰی کیا کہ یہ شیئ اس کی ہے حالانکہ اس سے پہلے بھی دعوٰی  سے کوئی مانع نہ تھا تو اس کا یہ دعوٰی  اس کے حیلوں کی بنیاد پر مسموع نہ ہوگا۔ تحقیق ہم نے اس کو اپنے فتاوٰی کے دعاوی میں بیان کیا ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب المہر         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۳۶۷)

(۲؎ ردالمحتار     باب المہر       ۲ /۳۶۸)
قرۃ العیون میں ہے :
لوجھزھا الاجنبی ثم ادعی انہ عاریۃ بعد موتھا لایقبل قولہ الاببینۃ لان الظاہر انہ لا یجھزھا ویترکہ فی یدھا الی الموت الابمالہا بخلاف الاب والام فانھما یجھزانھا بمال انفسھا لکن یکون ذلک تملیکا تارۃ وتارۃ عاریۃ ولذاقال شارح الوھبانیۃ وفی الولی عندی نظر الخ ای فی جعلہ کالاب والام لان الظاھر فی  غیرہما لا یجھز ھا الا بمالھا اھ۱؎
اگر اجنبی نے کسی عورت کو جہیز دیا پھر عورت کے مرنے کے بعد دعوٰی  کی کہ یہ بطور عاریت تھا تو بغیر گواہوں کے اس کا قول قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ عورت کو جہیز دے کر اس کے مرنے تک اس کے قبضہ میں چھوڑ دینا صرف وہیں ہوگا جہاں عورت کے اپنے مال سے ہو بخلاف ماں باپ کے کیونکہ وہ اپنے مال سے بیٹیوں کو جہیز دیتے ہیں تاہم کبھی تو وہ بطور تملیک ہوتا ہے اور کبھی بطور عاریت۔ اسی لئے شارح و ہبانیہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک ولی صغیرہ میں نظر ہے الخ یعنی اس کو ماں باپ کی مثل قرار  دینے میں کیونکہ ماں باپ کے غیر میں ظاہر یہی ہے کہ وہ لڑکی کے مال سے جہیز بناتے ہیں الخ
 (۱؎ قرۃ عیون الاخبار         کتاب العاریۃ    مصطفی البابی مصر    ۲ /۳۱۷)
اقول ھذاکلام قدرزق مت من  الحسن وھو ینحو منحی ما قدمت من التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق ولعلک تفطنت مماالقینا علیک سابقا ولاحقا ان الموت غیر قید وقد احسن السید العلامۃ الطحطاوی حیث قال قد ذکرالمص فی باب المھران الام کالاب وان حکم الموت کحکم الحیات ۲؎اھ ھذاکلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند ربی، والحمد ﷲ رب العالمین۔
اقول (میں کہتا ہوں) اس کلام کو حسن سے وافر حصّہ ملا اور وُہ اسی روش پر چلا جو تحقیق ہم سابق میں کرچکے ہیں اور اﷲ تعالٰی  ہی مالک توفیق ہے، اور ہم نے سابق ولاحق میں جو تجھ پر القاء کیا(یعنی بیان کیا) اُس سے شاید تو نے سمجھ لیا ہوگا کہ حکم مذکور میں موت قید نہیں، اور علّامہ سیّد طحطاوی نے بہت خوب کہا جہاں فرمایا کہ تحقیق مصنّف نے باب المہرمیں کہا کہ بیشک ماں، باپ کی طرح ہے۔ اور موت کاحکم حیات کے حکم کی مثل ہے الخ یہ سب وُہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہُوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے، اور تمام تعریفیں اﷲکے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔(ت)
(۲؎ حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار      باب المہر         دارا لمعرفۃ بیروت     ۲ /۶۷)
بہر حال فیض النساء بیگم میں حکم یہی ہے 

کہ اس کا یہ دعوٰی  یُوں قابلِ سماعت نہیں، اولاً اس کی بنائے دعوی پر نظر لازم، آیا واپسی بخیال ہبہ تاحینِ حیاتے چاہتی ہے(جس طرح لفظ کپڑے و زیورات وغیرہ متروکہ لڑکی متوفیہ سے اُس کا کچھ پتا چلتا ہے جبکہ عرضی دعوے میں فیض النساء بیگم کے لفظ یہی ہوں کہ عاریت کو مستعیر متوفی کا ترکہ نہیں کہتے) جب تو دعوٰی کہ بعد مرور مدت خصوصاً بعد موت عروس ہوا بہت کیف محتاج شہادت ہے انہیں دو طریقہ مذکورہ سے کسی طریقہ پر گواہان عادل دے کہ یہ جہیز بدی تفصیل خدیجہ بی بی کو میں نے اپنے مال خاص سے عاریۃ دیا اگر گواہ دیدیں فبھا نہ دے سکے تو حاکم یا حاکم شرعی شوہر خدیجہ وغیرہ ورثا ء سے قسم لے کہ واللہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ جہیز  مال فیض النساء بیگم سے خدیجہ بی بی کے پاس عاریۃً تھا اگر وُہ قسم کھالیں تو مقدمہ بحقِ وارثانِ خدیجہ ورنہ بحق فیض النساء بیگم فیصل ہو ۔ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے : قولہ وفیما یدعیہ الاجنبی ای من انہ اعار المتوفی ھذاالشیئ لایصدق الاببینۃ ولہ ان یحلف الوارث ان انکر علی العلم کما ھو الحکم فی نظائرھا۱؎اھ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

اور قول مصنف کہ جس میں اجنبی دعوٰی  کرے یعنی یُون کہے کہ یہ شیئ میں نے متوفی کو بطور عاریت دی تھی تو بغیر گواہوں کے اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور متوفی کاوارث اگرمنکر ہوتو(حاکم) اس سے یُوں قسم لے سکتا ہے کہ ہمیں اس کے عاریت ہونے کاعلم نہیں جیسا کہ اس کے نظائرمیں یہی حکم ہے اھ اور اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  خوب جانتا ہے۔(ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب العاریۃ     دارا لمعرفۃ بیروت     ۳ /۳۹۰)
Flag Counter