اور شک نہیں کہ اب عامہ بلاد وعجم کاعرف غالب وظاہر وفاش ومشتہر مطلقاً یہی ہے کہ جہیز جو دلہن کو دیاجاتا ہے دلہن ہی کی ملک سمجھا جاتا ہے بلکہ جہیز کہتے ہی اُسے ہیں جو اُس وقت بطور تملیک دلہن کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔
کمافی سبق من قول الدروالبحر والفتح والتجنیس والذخیرۃ ان الاب یدفع مثلہ جھاز الاعاریۃ۱؎۔
جیسا کہ در، بحر، فتح، تجنیس اورذخیرہ کے قول سے گزرا کہ بیشک باپ اس کی مثل بطور جہیز دیتا ہے نہ کہ بطور عاریت۔(ت)
(۱؎ بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۱۸۷)
ہمارے بلاد میں عموماً شراء واوساط وعامہ اراذل سب کا یہی عرف ہے جہیز واپس لینے یا بیٹی کے قرض میں محسوب کرنے کوسخت عیب وموجبِ طعن سمجھیں گے تو یہاں علی العموم تملیک ہی مفہوم اور سماع دعوٰی عاریت بے بینہ معدوم۔
ردالمحتار میں ہے :
ھذا العرف غیر معروف فی زماننا بل کل احد یعلم ان الجھاز ملک المرأۃ وانہ اذا طلقھا تأخذہ کلہ واذاماتت یورث عنھا ۲؎اھ ملخصا وفیہ عن حاشیۃ الاشباہ للسید محمد ابی السعود عن حاشیۃ العلامۃ الشرف الغزی قال قال الشیخ الامام الاجل الشہید المختار للفتوی ان یحکم بکون الجھاز ملکا لاعاریۃ لانہ الظاہر الغالب ۱؎الخ
یہ عرف ہمارے زمانے میں معروف نہیں کیونکہ ہرکوئی جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے، جب شوہر اس کو طلاق دے دے تو وہ تمام لے لیتی ہے اور اگر وُہ عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثو ں کو ملتا ہے، اھ ملخصاً، اور اسی میں سیّد محمد ابوالسعود کے حاشیہ اشباء سے بحوالہ حاشیہ علامہ شرف غزی مذکور ہے کہ شیخ امام اجل شہید نے فرمایا فتوٰی کے لئے مختار یہ ہے کہ جہیز کے مِلک ہونے کا فیصلہ دیاجائے نہ کہ عاریت ہونے کا، کیونکہ یہی ظاہر غالب ہے الخ(ت)
(۲؎ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۶۸)
(۱؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۶۷)
ملک مدراس میں کہ واپس لینے کا رواج ہے اگر مثل عامہ بلادِ دُنیا وہاں بھی جہیز تملیکاً ہی دیتے اور تملیک ہی اس سے قصد کرتے ہیں اور یہ واپسی بعد موتِ عروس اس بنا پر ہوتی ہے کہ اُسے ہبہ تاحینِ حیات سمجھتے ہیں جب تو وہ مثل دیگر بلاد ہبہ کاملہ ہوجاتا ہے اور حینِ حیات کی شرط لغوو باطل بعد موت عروس ترکہ عروس قرار پاکر وارثانِ عروس پر منقسم ہوگا۔
درمختار میں ہے :
جاز العمری للمعمرلہ لو ورثتہ بعدہ لبطلان الشرط۲؎۔
ہبہ تاحینِ حیات جائز ہے معمولہ، کی ذندگی میں اس کے لئے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کے لئے ہوگا کیونکہ حین حیات کی شرط باطل ہے(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الہبہ فصال فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۵)
شوہر وغیرہ دیگر ورثہ عروس پر واپسی کاجبر ہرگز نہیں ہوسکتا، نہ اس کا اصلاً استحقاق،فان مواحد العاقدین من موانع الرجوع(کیونکہ بے شک عاقدین میں سے کسی ایک کی موت رجوع کے موانع میں سے ہے۔ت) ہبہ میں واپسی جہاں ہوبھی سکتی ہے تو اُسی وقت تک واہب و موہوب لہ، دونوں زندہ ہوں، جب اُن میں کوئی مرجائے تو اُسی شرح وقایہ وغیرہ تمام کتب میں تصریح ہے کہ اب رجوع نہیں، اور اگر وہاں تملیکاً نہیں دیتے بلکہ عاریت مقصود ہوتی ہے تو بیش یہ واپسی حق وبجا ومطابق شرع مطہر ہے اگر چہ دلہن کی حیات ہی میں واپس لے،
فان علی الید مااخذت حتی تردھا ان اﷲ یأمرکم ان تؤدوالامانات الی اھلھا۳؎۔
اس لئے کہ بے شک جو اس عورت نے لیا وہ بطور احسان وامانت ہے یہاں تک کہ وہ اسے لوٹادے (قرآن پاک میں ہے کہ)بے شک اﷲتعالٰی تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کو ادا کرو۔(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۴ /۵۸)
یہاں تک چار سوال پیشین کا جواب تھا، سائل نے کلیۃً سوال کئے لہذا اُن کے جواب میں ان مسائل کی حاجت ہوئی ورنہ مسئلہ فیض النساء بیگم سے اس بحث کو علاقہ نہیں، یہ حکم کہ بحالت عدم عرف تملیک مدعی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہو کہ میں نے اپنے مال سے عاریۃً جہیز دیا لہذا واپسی کا مستحق ہوں عامہ کتبِ مذہب میں باپ کے لئے مذکور ہے اور بحکم عرف حقیقی ماں کو بھی اس سے لاحق کیا گیا واقعی ماں باپ پانے ہی مال سے اولاد کا جہیز تیار کرتے ہیں تو ان کی طرف سے ہونا بحکم ظاہر خود ثابت رہا دعوٰی عاریت وہ بحال عدم دلیل تملیک اُنہیں اصول پر واجب القبول بخلاف اجنبی کہ اُس کا یہ دعوٰی حدِ دعوٰی سے ہرگز متجاوز نہیں یہاں تک کہ علامہ بحر نے بحر میں حقیقی ماں اور دادا کے لئے بھی اس حکم کے ہونے میں تردّد فرمایا اور جبکہ اُن کے تلمیذ علّامہ غزی نے متنِ تنویر میں ماں کے مثل پدر ہونے پر جزم کیا۔علامہ طحطاوی کوحقیقی نانی دادی کے مثلِ مادر میں تردّد رہا،
فقال تحت قولہ والام کالاب فی تجہیزھا انظر ھل الجدۃ مثلھا۱؎۔
اپنے اس قول کے تحت کہ ماں جہیز دینے میں باپ کی طرح ہے فرمایا دیکھو کیا دادی اور نانی ماں کی مثل ہے؟(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۶۷)
علامہ ابن واہبان نے اپنی رائے سے دیگر اولیاء کو اسی حکم میں شامل کرنے کی بحث کی علامہ ابن الشحنہ نے اُس میں نظر کردی کہ علّامہ شرنبلالی نے نقل فرماکر مقرر رکھی اور شک نہیں کہ یہ الحاق سخت محلِ تامل ہے جب تک والدین کی طرح عرف عام وخاش سے ثابت نہ ہوجائے کہ سب اولیاء بھی اپنے ہی مال سے جہیز دیتے ہیں بلکہ ہمارے بلاد میں تنہاماں کے مال خاص سے بھی تجہیز ہونا ہرگز معروف نہیں جہیز مطلقاً مال پدر سے ہوتا ہے یا بعض اشیاء ماں بھی شامل کردیتی ہے نہ کہ خاص مالِ مادر سے ہو، مگر جبکہ باپ مال نہ رکھتا ہو یا اُس سے جُدا ہو کر ماں نے بطورِ خود تزویج کی وہ تو ان دو۲ صورتوں کے علاوہ ماں کا دعوٰی اختصاص بھی ضرور محتاج بینہ ہونا چاہئے کہ ظاہراً اُس کے لئے شاہد نہیں کما لایخفی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
وھذابحمد اﷲتحقیق شریف فتح بہ المولی القوی اللطیف علی عبدہ الذلیل الضعیف' اتضخ بہ نظر العلامۃ عند البرواتجہ بہ کلام البحر فلنسق لک کلما تھم لیتجلی عندک الامر
اور یہ بحمد اﷲتعالٰی عظیم الشان تحقیق ہے جو قوی ولطیف مالک نے اپنے اس ناقص وضعیف بندے پر منکشف فرمائی، اس سے علامہ عبدالبرکی نظر واضح ہوگئی اور کلامِ بحر وجیہ ہوگیا تو اب ہم تیرے لئے ان کے ارشادات کو ذکر کرتے ہیں تاکہ تیرے نزدیک معاملہ منکشف ہوجائے۔
قال ابن وھبان فی منظورمتہ
ومن فی جھاز البنت قال اعر تہ
یصدق والاشھادیشترط اظہر۱؎
ابن وہبان نے اپنی منظومہ میں فرمایا : اور جو شخص اپنی بیٹی کے جہیز کے بارے میں کہے کہ میں نے بطور عاریت دیا ہے تو اس کی تصدیق کی جائے گی اور اس میں گواہوں کا شرط ہونا اظہر ہے۔
(۱ منظومہ ابن وہبان)
ثم قال فی شرحھا ینبغی ان یکون الحکم فیما تدّعیہ الام و ولی الصغیرۃ اذا زوجھا کما مر لجریان العرف فی ذٰلک کذٰلک ۲؎ الخ ای انھم انما یجھزون من اموالھم فکان الظاہر شاہدا لھم قال الشارح العلامۃ قلت وفی الولی عندی نظر۳ اھ وھکذا انقلہ الشرنبلالی فی تیسیر المقاصد واقرقال فی الدر(الام) وولی الصغیرۃ(کالاب) فیما ذکر۴اھ،
(۲ ردالمحتار بحوالہ شرح منظومہ باب المہر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۷)
(۳ ردالمحتار بحوالہ شرح منظومہ باب المہر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۷)
(۴ درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۷ )
قال ط قولہ فیما ذکر ای فی اعتبار العرف وھذا الحکم فی الام والولی بحث لابن وھبان قال العلامۃ عبدالبروفی الولی عندی نظر ای فان الغالب من حالہ العاریۃ بخلاف الابوین المزید شفقتھما لکن حیث کان العرف مستمر اان الولی یجھز من ھذہ فلانظر۱؎اھ
اور ط نے فرمایا کہ اس کے قول فیما ذکر (مذکور میں) سے مراد یہ ہے کہ اعتبار عرف میں، اور ماں اور صغیرہ کے ولی کے بارے میں یہ حکم ابن وہبان کی بحث ہے۔ علامہ عبد البر نے فرمایا کہ ولی صغیرہ میں میرے نزدیک نظر ہے کیونکہ اس کے حال سے غالب عاریت ہے بخلاف ماں باپ کے کہ ان کی شفقت بیٹی پر زیادہ ہوتی ہے، لیکن عرف رائج یہی ہوکہ ولی اپنے پاس سے جہیز بناتا ہے تو پھر کوئی نظر نہیں اھ
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۹۰)
اقول لیس منشأ النظر بثبوت الحکم بعد تسلیم العرف وانما الشان فی جریان العرف فالایراد علی قول ابن وھبان لجریان العرف فی ذٰلک کذٰلک وبہ ظہرانہ ماکان ینبغی تفسیر قولہ ماذکر باعتبار العرف فان العرف اذا ثبت اینما ثبت فھوالقاضی الماضی القول لاتفرقۃ فی ذٰلک بین اب وام وغیرھما بل المراد فیما ذکر من قبول دعوی العاریۃ من مالہ وکذٰلک لیس تفسیر النظر ماذکر بل النظر انالانسلم ان الغالب من حالہ التجہیز من مالہ، ثم اعلم ان العلامۃ البحر بعد ماافادحکم الاب کما تقدم،قال فی البحر صغیرۃ نسجت جھازا بمال امھا وابیھا وسعیھا حال صغر ھا وکبرھا فماتت امھا فسلم ابوھا جمیع الجھاز الیھا فلیس لاخوتھا دعوی نصیبھم من جھۃ الام ۲؎اھ
اقول (میں کہتا ہوں) اعتراض کا منشاء عرف کے تسلیم کرنے کے بعد حکم ثبوت نہیں، اصل معاملہ توصرف عرف کے جاری ہونے میں ہے، پس ابن وھبان کے قول پر اعتراض وارد ہے کیونکہ اس (ولی کے عاریۃً دینے) میں عرف اسی طرح ہے اور اسی سے ظاہر ہوگیا کہ ماذکرسے مراد اعبتارِ عرف لینا درست نہیں اس لئے کہ عرف جب بھی ثابت ہو وہی حاکمِ قوی ہوتا ہے اس میں ماں اور باپ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا بلکہ ماذکرسے مراد اُسکے اپنے مال سے دعوٰی عاریت کو قبول کرنا ہے او ریُوں ہی نظر کی بھی وہ تفسیر نہیں جو ذکر کی گئی بلکہ نظر یہ ہے کہ بیشک ہم تسلیم نہیں کرتے کہ اُس کے ولی صغیرہ کے حال سے غالب اس کے اپنے مال سے جہیز بنانا ہے۔ پھر جان کہ علّامہ بحر نے باپ کے حکم کا افادہ فرمانے کے بعد ،جیسا کہ گزرا۔ بحر میں فرمایا کہ صغیرہ نے ماں باپ کے مال اور اپنی دستکاری سے حالتِ صغر اور کبر میں کچھ جہیز بنایا پھر اس کی ماں مرگئی اور باپ نے وُہ ساراسامان اس لڑکی کو جہیز میںدے دیا تو اس کے بھائیوں کو یہ حق نہیں کہ ماں کا ترکہ قرار دے کر اس میں سے اپنے حصّے کا دعوی کریں اھ
(۲؎ بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۱۸۷)
ثم قال وبھذا یعلم ان الاب او الام اذا جھز بنتہ ثم مات فلیس لبقیہ الورثۃ علی الجھاز سبیل لیکن ھل ھذاالحکم لامذکور فی الاب یتأتی فی الام والجد فلو جھز ھا جدھا ثم ماتت وقال ملکی وقال زوجھا ملکھا صارت واقعۃ الفتوی ولم ار فیھا نقلا صریحا۱؎اھ قال فی منحۃ الخالق قال الرملی الذی یظھر ببادی الرأی انھما ای الام والجد کذلک اما الام فلما قدمہ من قول القنیۃ صغیرۃ نسجت جھازامن مال امھا وابیھا الخ واماالجد فلقولھم الجد کالاب الافی مسائل لیست ھذہ منھا تأمل ۲؎اھ
پھر فرمایا اسی سے معلوم ہوگیا کہ جب باپ یاماں بیٹی کوجہیز بناکردیں تو ان کے مرنے کے بعد باقی وارثوں کا جہیز پر کوئی حق نہیں ہوتا لیکن کیا یہ حکم جو باپ کے لئے مذکور ہُوا وہ ماں اور دادا کے لئے حاصل؟ تو اگر لڑکی کو اس کے دادا نے جہیز دیا پھر وہ لڑکی مرگئی اور دادا نے کہا یہ جہیز میری ملکیت ہے اور اس لڑکی کا شوہر کہتا ہے کہ یہ لڑکی کی ملکیت ہے یہ فتوے سے متعلق ایک واقعہ پیش آگیا ہے اور میں نے اس میں کوئی صریح نقل نہیں دیکھی۔ منحۃ الخالق میں فرمایا کہ رملی نے کہا ہے بنظر ظاہر وُہ دونوں یعنی ماں اور دادا، باپ کی طرح ہی ہیں، ماں تو اس وجہ سے جس کا بحوالہ قنیہ پہلے ذکر کیا ہے کہ لڑکی نے اپنے باپ اور ماں کے مال سے جہیز بنایا الخ اور دادا اس لئے کہ ان (فقہاء) کا قول ہے کہ دادا مثل باپ کے ہے سوائے چند مسائل کے جن میں جہیز نہیں ہے۔ غور کرالخ۔
(۱؎ بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/۱۸۷)
(۲؎ منحۃ الخالق حاشیۃ البحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۱۸۷)
اقول ماکان ھذاالبحر الطام الحبر التام لیذکر فرع القنیۃ فی ھذہ الاسطر العدیدۃ ویفرع علیہ بنفسہ ان الاب او الام اذجھزبنتہ فلیس لوارث علی الجھاز سبیل ثمّ یترددمتصلا بہ فی التحاق الام بالاب فی کون التجھیز منھا ظاہرافی التملیک حتی یرد علیہ بماقدم من قول القنیۃ وھل یتأتی مثلہ الاممن لایکاد یفھم مایخرج من رأسہ فکیف یجعل علی مثلہ کلام مثل ھذا الجلیل النبیل، ولذا لمالم یتضح الامرعند العلامۃ السیّدالطحطاوی اسقط لفظ الام من کلام البحر واقتصر علی قولہ ھل ھذا الحکم المذکورفی الاب یتأتی فی الجد۱؎الخ لکن العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ لم یستبعدہ فقال قال صاحب البحر ھل ھذ االحکم المذکور فی الاب یتأتری فی الام والجد صارت واقعۃ الفتوی ولم ارفیھما نقلا صریحا۲؎ اھ
اقول (میں کہتا ہوں) ایسے عظیم سمندر اور کامل وماہر عالم کے لائق یہ نہیں کہ وُہ ان چند سطروں میں قنیہ کی فرع ذکر کرے اور بذاتِ خود اس پر یہ تصریح ذکر کرے کہ بیشک ماں یا باپ جب بیٹی کو جہیز دیں تو کسی وارث کا جہیز میں کوئی حق نہیں پھر اس کے متعلق ہی اس بات میں تردّد کرے کہ ماں اس حکم میں باپ کے ساتھ ملحق ہے کہ ماں کی طرف سے جہیز دینا تملیک میں ظاہر ہے۔ یہاں تک اس پر وارد ہو وُہ قنیہ کے قول سے مقدم گزرا۔ اور نہیں حاصل ہوتا اس کی مثل مگر صرف اس شخص سے جو یہ نہ سمجھتا ہوکہ اس کے سر سے کیا خارج ہورہا ہے، تو ایسے عظیم الشان عالم نبیل کے کلام کو اس قسم کے بیہودہ مؤقف پر کیسے محمول کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب علّامہ سیّد طحطاوی پر یہ امر واضح نہ ہوسکا تو انہوں نے کلام بحر سے لفظ ام کو حذف کرتے ہوئے اس قول پر اکتفاء فرمایا کہ کیا یہ حکم جو باپ کے بارے میں مذکور ہے دادا کے لئے حاصل ہوگا الخ لیکن علامہ شرنبلالی نے اس کو مستبعد نہ جانتے ہوئے غنیـہ میں فرمایا کہ صاحب بحرنے کہا کیا یہ حکم جو باپ کے بارے میں مذکور ہے ماں اور دادا کے لئے حاصل ہوگا؟ یہ فتوٰی سے متعلق ایک واقعہ پیش آگیا ہے اور میں نے اس میں کوئی صریح نقل نہیں دیکھی۔
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب المہر دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۶۷)
(۲؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ الدررالاحکام باب المہر مطبعۃ احمد کامل دارسعادت بیروت ۱/۳۴۸)
وقال العلامۃ الشامی تردد فی البحر فی الام والجد ۳؎الخ وقال الرملی ماسمعت فانماالامرمافتح المولٰی سبحانہ وتعالٰی ان لاتردد فی الحاق الام بالاب فی کون التجھیز منھا تملیکا لمکان العرف وانما تردّد رحمہ اﷲتعالٰی فی قبول دعوی التجھیز من مال نفسھا عاریۃ فان الاکثر ان الجھاز انما یکون من مال الاب وح لامساس لفرع القنیۃ بماھو فیہ ولاماقدمہ من قولہ بھذا یعلم ان الاب اوالام الخ ینا فیہ وکذا لانظر ھھنا الی کون الجد کالاب الافی مسائل فان ھذا امر لایؤخذ الامن العرف وانما قبلنا دعوی الاب لما علمنا من العرف الفاشی ان الجھاز یکون من مالہ فکان الظاھر شاھدا لہ فان ثبت مثلہ فی الجد فذاک والا فلا الحاق ولااشتراک ھکذاینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق واغرب من ھذاماذکر بعدہ فی منحۃ الخالق من قولہ قلت وجزم فی متن التنویر ان الام کا لاب فی تجہیزھا وعزاہ فی شرح المنح الی فتاوی قاری الھدایۃ وفی شرحہ الدرالمختار معزیا الی شرح الوھبانیۃ وکذا ولی الصغیرۃ ولایخفی شمولہ الجد وغیرہ اھ ۱؎۔
علامہ شامی نے فرمایا کہ بحر میں ماں اور دادا کے بارے میں تردّد کیا، رملی نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا، بے شک معاملہ جو مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی نے منکشف فرمایا وُہ یہ ہے کہ صاحبِ بحر نے ماں کو باپ کے ساتھ اس حکم میں ملحق ماننے میں تردّد نہیں فرمایا کہ ماں کی طرف سے دیا جانے والاجہیز عرفاً تملیک ہے البتہ صاحبِ بحر رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ نے ماں کے اس دعوٰی کو قبول کرنے میں تردّد فرمایا کہ جو جہیز اس نے مال سے دیا ہے وُہ عاریت ہے کیونکہ اکثر طور پر جہیز باپ کے مال سے دیا جاتا ہے، تودریں صورت قنیہ کی فرع کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں جس میں صاحبِ بحر گفتگو کررہے ہیں نیز ان کا قول سابق کہ اسی سے معلوم ہوگیا کہ بیشک باپ اور ماں الخ اس کے منافی نہیں، اور نہ ہی یہاں اس بات کی طرف نظر ہے کہ دادا سوائے چند مسائل کے باپ ہے اس لئے کہ یہ امر تو صرف عرف سے ماخوذ ہے اور بلاشبہ ہم نے باپ کا دعوٰی اس لئے قبول کیا کہ ہم نے عرف مشہور سے جان لیا کہ جہیز وُہ اپنے مال سے دیتا ہے لہذا ظاہر اس کے لئے شاہد ہوا، تو اگر کسی کی مثل دادامیں ثابت ہوجائے تو اس کا حکم بھی یہی ہوگا وگرنا نہ الحاق ہے نہ اشتراک، یوں ہی تحقیق چاہئے، اور اﷲتعالٰی ہی مالکِ توفیق ہے، اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب ہے وہ جو اس کے بعد منحۃالخالق میں اس کے اس قول کے ساتھ مذکور ہُوا، میں کہتا ہوں کہ متنِ تنویر میں اس پر جزم فرمایا کہ تجہیز میں ماں، باپ کی طرح ہے۔ اور شرح منحہ میں اس کی نسبت فتاوٰی قاری ہدایہ کی طرف کی، اور درمختار کی شرح میں شرح وہبانیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ہے کہا یونہی ولی صغیرہ بھی ہے اور اس کاشمول دادا وغیرہ کو مخفی نہیں ہے اھ
(۳؎ ردالمحتار باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۶۷)
(۱؎ منحۃ الخالق حاشیۃ البحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۱۸۷)
اقول نعم لایخفی ولکن البحر انما یقول لم ارفیھا نقلا صریحا وبحث ابن وھبان لیس من النقل فی شیئ والعبد الضعیف فی عجب من سوق الدرالمسألۃ مساق المنقول مع علمہ بانہ بحث منہ وقد بحث فیہ الشارحون وقد علمت مماقد منا ان بحثھم حسن وجیہ فالحمد ﷲعلی حسن التنبیہ۔
اقول (میں کہتا ہُوں ہاں مخفی نہیں لیکن بے شک بحر میں فرماتے ہین کہ میں نے اس میں صریح نقل نہیں دیکھی اور ابن وہبان کی بحث کوئی نقل نہیں اور بندہ ضعیف کو اس بات پر حیرت ہے کہ درنے مسئلہ بطور منقول چلایا حالانکہ وُہ جانتے ہیں کہ یہ ابن وہبان کی بحث ہے اور تحقیق شارحین نے اس میںبحث کی ہے اور تحقیق ہمارے بیان سابق سے تو جان چکا ہے کہ ان کی بحث حسن و وجیہ ہے پس حُسنِ تنبیہ پر اﷲتعالٰی ہی کے لئے حمد ہے۔(ت)